01/22/2026
اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ ۙ
اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ
ترجمہ:
قسم ہے زمانے کی،
بے شک انسان گھاٹے (نقصان) میں ہے،
سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک عمل کیے،
ایک دوسرے کو حق کی تلقین کی
اور صبر کی نصیحت کرتے رہے۔
💔
انسان ساری زندگی دوڑ میں لگا رہتا ہے—
مال، رتبہ، لوگ، خواہشات…
مگر وقت خاموشی سے سب چھین لیتا ہے۔
قرآن کہتا ہے: انسان خسارے میں ہے
کیونکہ وہ اصل مقصد بھول جاتا ہے۔
نجات صرف ایمان، نیک عمل، حق اور صبر میں ہے—
ورنہ آخر میں ہاتھ خالی ہی رہتے ہیں۔