06/29/2026
وہ دوست ہی تھا لیکن ساتھ نبھانے اور حوصلہ دینے والا تھا۔ ابھیشیک گانگولی پوما انڈیا کے منیجنگ ڈائریکٹر تھے۔ انہوں نے وراٹ کوہلی کو پوما کا برانڈ ایمبیسیڈر بنانے کے لیے 110 کروڑ روپے کا معاہدہ کیا تھا۔ یہ پیشہ ورانہ تعلق دھیرے دھیرے حقیقی دوستی میں بدل گیا۔ وراٹ کوہلی بتاتے ہیں 'ایک دن کچھ اپنا بنانے کی خواہش پر بات چیت کے دوران ابھیشیک نےکہا چلو، یہ کر ہی لیتے ہیں' اور یوں One8 کی بنیاد پڑی۔
دنیا کے بڑے کھلاڑیوں اور عام کھلاڑیوں میں فرق میدان سے باہر نکلتے وقت ہوجاتا ہے۔ عام کھلاڑی اپنی کارکردگی کو کیریئر سمجھتا ہے جبکہ یہ غیرمعمولی لوگ اپنی شناخت کو اثاثہ بنا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مائیکل جارڈن، کرسٹیانو رونالڈو اور وراٹ کوہلی جیسے کھلاڑی پیچھے ایسی کاروباری سلطنتیں بنا جاتے ہیں جو ان کی نسلوں کے لیے بھی کافی ہوتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ لوگ سوچتے کیسے ہیں؟ اور ہم اس طرح کیوں نہیں سوچ پاتے؟ آئیے سمجھتے ہیں۔۔۔۔
1984 میں ایک نوجوان باسکٹ بال پلئیر نے ایڈیڈاس سے رابطہ کیا لیکن کمپنی نے اسے یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ وہ اس برانڈ کی نمائندگی کے لیے مناسب نہیں ہے۔ مجبوراً اس پلئیر نے نائیکی کے ساتھ اڑھائی ملین ڈالرز کے عوض پانچ سالہ معاہدے کیا۔۔ یہ اس وقت کسی بھی نو آموز کھلاڑی کے لیے غیرمعمولی رقم تھی۔ یہ کھلاڑی مائیکل جارڈن تھا۔
یہاں دانشمندی ملاحظہ کیجیے کہ اس معاہدے کے عین مطابق ہر بکنے والے جوتے پر جارڈن کو رائلٹی دینے کا پوائنٹ شامل کیا گیا یعنی جارڈن باقاعدہ شراکت دار بن گیا۔ نائیکی کی توقع تھی کہ پہلے تین برسوں میں 3 ملین ڈالرز کی فروخت ہوگی لیکن پہلے ہی سال فروخت کا گراف 126 ملین ڈالرز تک پہنچ گیا۔ یوں چار دہائیوں بعد جارڈن برانڈ نے نائیکی کے لیے 1۔5 ارب ڈالرز کمائے جس میں سے قریباً 256 ملین ڈالرز براہ راست جارڈن کے حصے میں آئے۔ تب تک وہ باسکٹ بال کھیلنا بھی چھوڑ گیا تھا۔ انہوں نے اپنی شناخت کو ایک ایسے ڈھانچے میں پرویا کہ وہ ہمیشہ کے لیے کمائی کا ذریعے بن گیا۔
یوں اب کرسٹیانو رونالڈو کی مثال لے لیجیے۔ 2013 میں رونالڈو نے ڈنمارک کی کمپنی جے بی ایس کے ساتھ مل کر ایک معمولی انڈرویئر سے CR7 برانڈ کی بنیاد رکھی۔ عام طور پر کھلاڑی برانڈز کے ساتھ معاہدہ کرتے ہیں اور ایک مقررہ رقم وصول کر کے اپنا برانڈنگ کر کے بات ختم کر جاتے ہیں لیکن رونالڈو کا ماڈل اس سے مختلف تھا۔ وہ