S R Media ایس آر میڈیا

S R Media  ایس آر میڈیا news, article, poetry no

11/03/2025

ریلوے بھرتی
11/03/2025

ریلوے بھرتی

*کامریڈ ابوالکلام انصاری (مرحوم کلام ماسٹر) کے لیے تعزیتی و دعائیہ مجلس*پریس : (ریلیز / نیوز بیورو)کانکی و جگتدل حلقے کی...
11/03/2025

*کامریڈ ابوالکلام انصاری (مرحوم کلام ماسٹر) کے لیے تعزیتی و دعائیہ مجلس*

پریس : (ریلیز / نیوز بیورو)

کانکی و جگتدل حلقے کی مشترکہ چہیتی اور معزز شخصیات میں ایک یادگار نام کامریڈ ابوالکلام انصاری (مرحوم کلام ماسٹر) کا بھی ہے۔ ان کی رحلت 19/ستمبر 2025 کو ہوئی تھی۔ اور اب چالیسواں بعد ان کی تعزیت اور مغفرت کی دعائیہ محفل کا اہتمام ان کے دیرینہ دوست جناب غلام ربانی کی صدارت اور خواجہ احمد حسین کی سرپرستی میں 31 / اکتوبر 2025 بروز جمعہ بعد نماز مغرب کانکی نارہ حمایت الغرباء ہائی اسکول میں ہوا۔‌ مجلس کی نظامت علی شاہد دلکش نے کی۔ محفل کا آغاز مفتی و مولانا صدرالدین قاسمی نے قرآن پاک کی تلاوت سے کیا۔ خواجہ احمد حسین ببو نے افتتاحی گفتگو کرنے کے بعد‌ پروگرام کی مکمل ذمہ داری ناظمِ محفل کے حوالے کر دی۔ پھر یکے بعد دیگرے مقررین میں ماسٹر علی انور ، عبدالکریم (اسسٹنٹ ہیڈماسٹر ، اسکول ہذا) ، ماسٹر سلام الرحمٰن، کامریڈ اندر جیت ساؤ ، گوپال دا کی اہلیہ مدھو شری بھٹا چاریہ ، کامریڈ بدیسری راج بھر ، نارائن رائے، ماسٹر امیت باسو (سابق کاؤنسلر وارڈ 6) ، معروف تاجر پرکاش یادو ، منوہر لال گپتا ، شیامل بنرجی ، اکبر زخمی ، ڈاکٹر عبد السبحان ، عبد الودود انصاری ، اور صدرِ محفل نے مرحوم کلام ماسٹر کے تعلق سے جن تاثرات کا اظہار کیا۔ ان میں مشترکہ مندرجہ ذیل باتیں سنی گئیں:
"سیاست سے جُڑے رہنے کے باوجود کلام ماسٹر بالکل سادہ زندگی بسر کرنے والے قدرے شریف و ایماندار شخص رہے۔ وقت کے پابند اور زبان کے اٹل تھے۔ باری باری حمایت الغرباء ہائی اسکول کے سابق صدر اور سکریٹری بھی رہے۔ اسکول ہذا میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ، حکومت ہند کے تعاون سے چلنے والے کمپیوٹر سنٹر کے بانیوں میں اکلوتی اہم‌ شخصیت رہے۔ یہ ان کا یادگار اور ناقابلِ فراموش کارنامہ ہے جہاں سے اب تک ڈیڑھ سو سے زائد اسٹوڈنٹس کمپیوٹر ایپلیکشن کا ڈپلومہ سرٹیفیکیٹ لے کر سرکاری نوکری حاصل کر چکے ہیں۔ حالانکہ وہ بایاں محاذ کی کمیونسٹ پارٹی کے پیرو کار تھے مگر نماز اور روزہ کے پابند بھی تھے۔ بھاٹ پاڑہ میونسپلٹی کی سرکاری ملازمت سے سبکدوشی کے بعد تا آخری سانس پنجگانہ نماز با جماعت ادا کرتے رہے۔ موصوف سماجی بہبود کی سیاست اور ترقی کی سیاست کے قائل تھے۔"
اخیر میں اظہار تشکر کے ساتھ خواجہ احمد حسین نے قرآنی ایات کی تلاوت کرتے ہوئے اجتماعی دعا کر وائی۔ حاضرین میں موجود مسلم و غیر مسلم سبھوں نے ہاتھ اٹھا کر اسلامی روایت کے مطابق مرحوم کلام ماسٹر کے ایصال و ثواب اور مغفرت کے لیے دعائیں کیں۔ ماسٹر غلام ربانی کی صدارتی گفتگو کے ساتھ تعزیتی و دعائیہ نشست مکمل ہوئی۔ واضح ہو کہ سماج کے مختلف مکتب ِ فکر کے اشخاص نے شرکت کر پروگرام کو کامیاب بنانے والوں اہم نام جناب اختر حسین ، کامریڈ شرافت حسین ، کامریڈ غلام محمد ، اسلم خرم ، محمد ادریس ، محمد انیس (راحیل)‌ ، ماسٹر محمد نوشاد ، سعادت علی بیگ، محمد عشرت قریشی ، اختر علی ،خظاب عالم شاد، رستم علی ، محمد بشیر ، محمد صغیر ، شاہینہ پرون ، محمد دلشاد ، فردوس خاتون ، میم عین لاڈلہ ، خورشید خان ، محمد رئیس علیگ، محمد مختار ، مرغوب الحسن ، ریاض احمد ، محمد اختر، غلام محمد سابق کونسلر ، عرفان ربانی اور شمشاد قریشی وغیرہ ہیں ۔

رپورٹ: ف۔ ص۔ انور

ڈاکٹر سید تابش امام صحافتی بصیرت کے علمبردار[تحریر: یوسف شمسی کاکوی]شمسی بلڈنگ کاکو (جہان آباد)بہاررابطہ :-9973701785   ...
11/02/2025

ڈاکٹر سید تابش امام صحافتی بصیرت کے علمبردار
[تحریر: یوسف شمسی کاکوی]
شمسی بلڈنگ کاکو (جہان آباد)بہار
رابطہ :-9973701785

صحافت ہر دور میں معاشرتی شعور بیدار کرنے اور سماجی اصلاح کی ذمہ دار رہی ہے۔ تاہم، ایک زمانہ ایسا بھی آیا جب اردو صحافت کو انگریزی اور دیگر زبانوں کی صحافت کے مقابلے میں "زرد صحافت" کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ اس دور میں غیر جانبداری اور تحقیق پر مبنی خبریں فراہم کرنے کے بجائے سنسنی خیزی، منفی پروپیگنڈے اور محض مقبولیت کی دوڑ کو ترجیح دی گئی۔ نتیجتاً، اہلِ اردو دلیل اور استدلال کے لئے انگریزی اخبارات کی ورق گردانی کرنے پر مجبور تھے۔ یقیناً نظریات کی ترویج غلط نہیں، مگر ہر خبر کو دوسرے رخ پر پیش کرنا صحافتی اصولوں سے انحراف ہے۔
خوش آئند امر یہ ہے کہ وقت کے ساتھ اردو
صحافت نے اپنی سمت درست کی اور اب زیادہ تر خبریں مستند اور معیاری مضامین پر مشتمل ہوتی ہیں۔ اسی بدلتی ہوئی صحافتی فضا میں ڈاکٹر سید تابش امام اور دیگر اہلِ قلم نے اپنے علم و فکر سے اردو صحافت کو وقار بخشا۔ ان کے کالم اور مضامین اس بات کے روشن ثبوت ہیں کہ آج اردو صحافت سنجیدگی، اعتدال اور حقیقت پسندی کے راستے پر گامزن ہے۔ اہلِ نظر نے ان کی خدمات کو دیکھتے ہوئے انہیں مختلف تعریفی القاب سے یاد کیا، اور یہ القاب محض الفاظ نہیں بلکہ ان کی تحریروں کی روشنی اور صحافتی خدمات کے سچے آئینے ہیں۔
جہاں الفاظ کا جادو دلوں کو چھو لیتا ہے اور قلم حقیقت کی عکاسی کرتا ہے، وہاں ایسے افراد کم ہی پیدا ہوتے ہیں جو اپنی بصیرت اور علم سے معاشرت و زندگی میں روشنی پھیلائیں۔ ڈاکٹر سید تابش امام انہی خوش قسمت اہلِ قلم میں شامل ہیں۔ ان کی تحریروں میں فکر کی پختگی، مطالعے کی وسعت اور بیان کی شائستگی یکجا نظر آتی ہے۔ وہ نہ صرف ایک دردمند اور ذمہ دار صحافی ہیں بلکہ سنجیدہ اور باوقار قلمکار بھی ہیں۔ ان کے مضامین صحافت کا علم بلند کرنے کے ساتھ ساتھ قارئین کے دل و دماغ میں فکری ارتعاش بھی پیدا کرتے ہیں۔
ڈاکٹر تابش امام کا تعلق قصبہ کاکو سے ہے، جو ادبی و علمی شخصیات کا گہوارہ رہا ہے۔ قاضی عبد الودود، عطا کاکوی، اختر اورینوی اور پروفیسر سید محمد محسن عظیم آبادی جیسے نام اسی خطے سے وابستہ ہیں۔ اس علمی اور فکری ماحول نے یقیناً ان کی بصیرت کو جلا بخشی اور ان کے قلم کو ایک خاص وقار عطا کیا۔
ان کی شخصیت کا روشن پہلو یہ ہے کہ وہ قلم کو ہمیشہ مثبت سمت میں برتتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں عوامی مسائل کی حقیقی جھلک، سماجی شعور کی بیداری اور اصلاحِ حال کی فکر نمایاں ہے۔ یہی ان کی علمی سنجیدگی اور فکری بلندی کا مظہر ہے۔ مزید برآں، انہوں نے کئی بار میرے والدِ محترم، الما لطیف شمسی، کی ادبی و سیاسی خدمات پر قلم اٹھایا اور قیمتی مضامین کے ذریعے ان کی شخصیت کو زندہ جاوید بنا دیا۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف ان کے علمی قد کا پتہ دیتا ہے بلکہ اس بات کا بھی غماز ہے کہ وہ بزرگوں اور اہلِ علم کے تئیں گہرا احترام رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر تابش امام کی تحریروں میں توازن اور انصاف پسندی کا جذبہ نمایاں ہے۔ وہ مسائل کو باریک بینی اور فہم و فراست سے پیش کرتے ہیں اور حقیقت پسندی و شفافیت کو ہمیشہ مقدم رکھتے ہیں۔ یہی خصوصیات انہیں ایک مثالی صحافی اور معتبر قلمکار کے مرتبے پر فائز کرتی ہیں۔ ان کے مضامین محض اطلاع یا تجزیہ نہیں بلکہ قاری کے ذہن و دل میں روشنی کے چراغ جلا دیتے ہیں۔ وہ معاشرتی اور سیاسی شعور کو بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ نئے زاویۂ فکر بھی عطا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریریں دیرپا اثرات مرتب کرتی ہیں اور نوجوان صحافیوں کے لئے مشعلِ راہ بنتی ہیں۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر سید تابش امام کا قلم نہ صرف آج کی صحافت کا چراغ ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے رہنما روشنی بھی ہے۔ میں انہیں ان کی تمام تر تخلیقات اور علمی و صحافتی خدمات پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ ان کا قلم یوں ہی رواں دواں رہے اور قوم و معاشرے کو روشنی عطا کرتا رہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــ

بہار اسمبلی انتخابات اور گھٹتی مسلم نمائندگی — سیاست کا تشویشناک بحرانتحریر: ڈاکٹر سید تابش امام بہار کی سیاسی فضا ایک ب...
11/01/2025

بہار اسمبلی انتخابات اور گھٹتی مسلم نمائندگی — سیاست کا تشویشناک بحران

تحریر: ڈاکٹر سید تابش امام
بہار کی سیاسی فضا ایک بار پھر انتخابی کَیف و گَرم میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ریاست کی 243 اسمبلی نشستوں کے لیے انتخابی گہما گہمی عروج پر ہے۔ ایک طرف این ڈی اے اتحاد اقتدار میں واپسی کے لیے پورے جوش و خروش کے ساتھ میدان میں ہے، تو دوسری جانب انڈیا محاذ بی جے پی مخالف لہر کو برقرار رکھنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ گو کہ
بہار میں سیاست ہمیشہ سے سماجی طبقات، ذات پات، مذہب اور عددی توازن کے گرد گھومتی رہی ہے۔ یہاں کے انتخابی منظرنامہ میں مذہبی اور طبقاتی پہلو ہمیشہ نمایاں رہے ہیں۔ تاہم، اس سیاسی فضا میں ایک ایسا سوال ابھر کر سامنے آ رہا ہے جو نہ صرف بحث طلب ہے بلکہ جمہوری صحت کے لیے بھی فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے —
کیا بہار کی سیاست میں مسلمانوں کی نمائندگی مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے؟
ریاست کی کل آبادی کا تقریباً 18 فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے، لیکن اسمبلی اور اقتدار کے دائرے میں ان کی موجودگی کبھی ان کے آبادیاتی تناسب کے قریب تک نہیں پہنچی۔ ہر انتخاب کے بعد یہ تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ بہار کا مسلمان ووٹ تو خوب جوش وخروش سے دیتا ہے، مگر اپنی قیادت(سیاسی قوت ) نہیں بنا پاتا۔ انتخابی جلسوں کی گہما گہمی، وعدوں اور دعووں کے شور کے بیچ یہ خاموش بحران شاید ہی کسی سیاسی منشور میں جگہ پاتا ہے۔

نمائندگی کا بحران اور زمینی حقیقت

بہار اسمبلی کے موجودہ انتخابات میں بھی مسلم نمائندگی کا گراف نیچے جانے کے امکان قوی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق، این ڈی اے اتحاد نے 243 نشستوں میں سے صرف 5 مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے، جن میں جنتا دل (یونائیٹڈ) کے چار اور لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس گروپ) کے ایک امیدوار شامل ہیں۔ دوسری جانب انڈیا محاذ نے تقریباً 30 مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے، جن میں آر جے ڈی کے 18، کانگریس کے 10 اور سی پی آئی (ایم ایل) کے 2 شامل ہیں۔اس کے برعکس جن سوراج پارٹی نے 34 مسلم امیدوار اتارے ہیں وہیں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے 32 امیدوار دیے ہیں، جن میں اکثریت مسلمان کی ہے۔ اگرچہ ان دونوں جماعتوں کی جیت کے امکانات محدود ہیں، لیکن ان کا وجود بہار کے سیاسی منظرنامہ میں ایک نئے شعور کی علامت ہے۔ ان جماعتوں کی سرگرمیوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ مسلم ووٹ بینک اب محض ایک سمت میں بند نہیں بلکہ نئے متبادلوں پر غور کر رہا ہے۔یہ صورتحال اس بات کا مظہر ہے کہ بہار کی سب سے بڑی اقلیت اب بھی فیصلہ سازی کے نظام میں حاشیہ پر ہے۔ اسمبلی میں ان کی موجودگی کا تناسب ان کی آبادی کے مقابلہ میں نہایت کم ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب کسی طبقہ کی نمائندگی مسلسل کم ہوتی جائے تو کیا وہ طبقہ اپنی آواز کو موئثرطریقہ سے ایوانوں تک پہنچا پائے گا؟

سیاسی جماعتوں کا رویہ — نمائندگی یا بے رُخی؟

مسلم نمائندگی میں کمی کی بڑی وجہ سیاسی جماعتوں کی غیر منصفانہ حکمت عملی ہے۔ سیاسی جماعتیں بالخصوص سیکولتپارٹیاں اب مسلم ووٹ کو ایک ’’محفوظ ووٹ‘‘ سمجھنے لگی ہیں۔ ان کے نزدیک مسلمان ووٹر پہلے سے طے شدہ سیاسی خیموں میں بند ہیں، لہٰذا مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارنے کا رسک لینے کی ضرورت نہیں۔ یہ سوچ نہ صرف تعصب پر مبنی ہے بلکہ جمہوری اصولوں کے خلاف بھی ہے، کیونکہ سیاسی جماعتیں ووٹ کو تو اہمیت دیتی ہے مگر ووٹر کی قیادت کو اہمیت نہیں دیتی۔دوسری جانب سیکولر جماعتیں مسلمانوں کے ووٹ کا فائدہ ضرور اٹھاتی ہیں، مگر فیصلہ سازی کے حلقہ میں انہیں جگہ دینے سے گریز کرتی ہیں۔ نتیجتاً مسلمانوں کی سیاسی حیثیت ووٹ دینے تک محدود ہو کررہ گئی ہے، جس کانتیجہ یہ ہے کہ اقتدار اور قانون سازی کے مراکز سے ان کا تعلق کمزور ہوتا جا رہا ہے۔

۔تاریخی منظرنامہ — نمائندگی کی مسلسل گراوٹ

گزشتہ بیس برسوں میں مسلم نمائندگی کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو یہ رجحان خاصی مایوسی پیدا کرتا ہے۔ 2010 میں 19 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے تھے، 2015 میں یہ تعداد 13 رہ گئی، اور 2020 میں محض 12 مسلم اراکین اسمبلی منتخب ہو سکے۔ اس گراوٹ کا رجحان اس بار مزید گہرا ہونے کا اندیشہ ہے۔2020 کے انتخابات میں جے ڈی یو نے 11 مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا تھا، مگر ایک بھی کامیاب نہ ہو سکا۔ اس تجربہ کی بنیاد پر اس بار پارٹی نے صرف 4 امیدواروں پر اکتفا کیا۔ بی جے پی نے حسبِ روایت کسی مسلم امیدوار کو موقع نہیں دیا۔ دیگر اتحادی جماعتوں — جیسے ہندوستانی عوام مورچہ، آر ایل ایس پی، وی آئی پی، یا بائیں بازو کی سی پی آئی اور سی پی ایم — کا حال بھی وہی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ تمام بڑی پارٹیاں ایک خاموش اتفاقِ رائے پر پہنچ چکی ہیں کہ مسلمانوں کو نمائندگی کے مقابلہ صرف ووٹ بینک کے طور پر دیکھا جائے۔

سیکولرزم اور حقیقت کا فرق

بہار میں مسلمان ووٹر ہمیشہ سے خود کو سیکولرزم کے محافظ کے طور پر دیکھتا آیا ہے۔ ہر بار اس نے فرقہ پرستی کے خلاف ووٹ دیا، مگر یہ ووٹ اسے فیصلہ سازی میں فعال حصہ نہ دلا سکا۔ دوسری طرف، ریاست کے دیگر سماجی اور ذات پات پر مبنی گروہ اپنی آبادی کے تناسب سے اقتدار میں شراکت حاصل کر نے میں کافی حدتک کامیاب رہے ہیں۔یادو، کشواہا، کرمی ،بھومیہاراور دلت طبقات نے سیاسی طاقت کے توازن میں اپنی جگہ بنائی۔ لیکن مسلمانوں کو اب بھی مظلومیت اور احتجاج کے بیانیہ میں قید رکھا گیا۔ وہ ہمیشہ "کسی کے ساتھ" نظر آئے مگر "اپنے طور پر" نہیں ابھر سکے۔ یہی وہ خلاء ہے جو آج بہار کی سیاست میں سب سے بڑا جمہوری مسئلہ بن چکا ہے۔

۔نئی سیاسی حکمتِ عملی کی ضرورت

وقت کا تقاضہ ہے کہ مسلمان اپنی سیاست کو محض ’’بی جے پی مخالف‘‘ جذبات تک محدود نہ رکھیں بلکہ ایک مثبت اور مقصدی حکمت عملی اپنائیں۔ ان کے لیے ’’اپنی قیادت‘‘ تخلیق کرنا لازمی ہے، لیکن اس کا مطلب ہرگز ہرگزکوئی علیحدہ مسلم پارٹی تعمیر کرنا نہیں، بلکہ موجودہ سیکولر پارٹیوں میں مؤثر شرکت یقینی بنانا ہے۔اگر 18 فیصد آبادی ہونے کے باوجود نمائندگی 5 فیصد سے بھی کم ہے تو یہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری جمہوریت کے توازن کا سوال ہے۔ سیاسی باشعوری کا تقاضہ ہے کہ مسلم ووٹر نعروں اور وعدوں کے بجائے امیدوار کے کردار، کارکردگی اور عوامی خدمت کو معیار بنائے۔ اور اسی بنیاد پر حق رائے دہی کااستعمال کرے۔

جن سوراج اور مجلس — نئی فضا کا اشارہ

جن سوراج پارٹی اور مجلس اتحاد المسلمین کی سرگرمیوں نے بہار کے مسلم ووٹر میں سیاسی بیداری پیدا کی ہے۔ پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی عام لوگوں کو نئی سیاست کا پیغام دے رہی ہے، جب کہ اسد الدین اویسی کی مجلس اتحاد المسلمین نے مشرقی بہار کے مسلم اکثریتی اضلاع میں اپنی موجودگی موئثر طریقہ سے درج کرائی ہے۔یہ دونوں جماعتیں اقتدار حاصل نہ بھی کریں، تو بھی یہ مین اسٹریم سیاست کو یہ پیغام ضرور دے سکتی ہیں کہ مسلمان ووٹر اب یکرخے نہیں رہے۔ اگر مسلمان اجتماعی اتحاد کے ساتھ متبادل قیادت پر اعتماد کریں اور ووٹوں کی تقسیم سے بچیں تو بڑی پارٹیاں بھی مجبور ہوں گی کہ انہیں ان کی آبادی کے تناسب سے نمائندگی دیں۔

نمائندگی کی پالیسیاتی اہمیت

سیاسی نمائندگی محض کسی اسمبلی سیٹ تک محدود مسئلہ نہیں ہے۔ یہ پورے نظامِ حکومت اور پالیسی سازی سے جڑی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ جب کسی طبقہ کی نمائندگی کم ہوتی ہے تو اس کے علاقہ ترقی کے اعتبارسے پسماندہ رہ جاتے ہیں۔ یہی حال ان اضلاع کا ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے، جیسے کشن گنج، ارریہ، پورنیہ، سیوان اور دربھنگہ۔یہ اضلاع تعلیمی، سماجی اور معاشی ترقی میں ریاست کے دیگر حصوں سے پیچھے ہیں۔ اس عدم توازن کی ایک بڑی وجہ وہی سیاسی کمزوری ہے جو اسمبلی میں نمائندگی کے فقدان سے جنم لیتی ہے۔

تعلیم، قیادت اور آگہی

سیاسی طاقت ہمیشہ تعلیم، اجتماعی بیداری اور تنظیم سازی سے پروان چڑھتی ہے۔ لہزامسلم معاشرے کو اب محض جذباتی نعروں کے بجائے عملی تیاری کی ضرورت ہے۔ دیانتدار، تعلیم یافتہ اور زمینی حقیقتوں سے واقف قیادت ہی حقیقی تبدیلی لا سکتی ہے۔یہ قیادت مذہبی وابستگی کے بجائے عوامی خدمت، تعلیمی انقلاب اور معیشتی استحکام کے ذریعہ اپنا تشخص بنائے۔ سیاسی اصلاح اسی وقت ممکن ہے جب سماجی ترقی اس کا لازمی جز بنے۔

فیصلہ — شعور یا روایت؟

اب فیصلہ بہار کے مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے۔ اگر وہ اپنے ووٹ کو زیادہ شعوری، متحد اور دوراندیش حکمتِ عملی سے استعمال کریں تو ریاست میں ایک نیا سیاسی توازن قائم ہو سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر ہر انتخاب کے بعد وہی شکوہ سنائی دے گا — ’’ہم ووٹ دیتے ہیں، مگر نمائندگی نہیں ملتی‘‘۔مسلمانوں کو اب محض ’’سیکولرزم کے محافظ‘‘ بن کر نہیں، بلکہ ’’اپنے سیاسی مستقبل کے معمار‘‘ بننے کی ضرورت ہے۔ جب تک وہ اپنے ووٹ کی قدر کو خود نہیں سمجھیں گے، کوئی جماعت انہیں ان کا حق نہیں دے گی۔

جمہوریت کی تکمیل نمائندگی سے

دنیا کی کوئی بھی جمہوریت تبھی مستحکم ہوتی ہے جب اس میں ہر طبقہ کی آواز شامل ہو۔ کسی بھی اکثریتی یا اقلیتی گروہ کو نظرانداز کرنا جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔ بہار کے مسلمان اگر اپنی اجتماعی طاقت کو سمجھ جائیں اور اسے صحیح سمت میں استعمال کریں تو نہ صرف ان کی سیاسی پوزیشن مضبوط ہوگی بلکہ ریاست کی جمہوریت بھی زیادہ متوازن، مستحکم اور شفاف بنے گی۔اب وقت ہے کہ خوف اور مصلحت کے دائرے سے نکل کر سیاسی آگہی، تعلیم، کردار اور اتحاد کے ذریعہ اپنی حیثیت منوائی جائے۔ کیونکہ جمہوری سفر اس وقت ہی مکمل ہوتا ہے جب ہر شہری کی آواز ایوان تک پہنچے — برابر، باوقار اور موئثر انداز میں۔

رابطہ۔۔۔9934933992

اگر اب بھی نہ سمجھوگے تو ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔                         میرا مطالعہ         ( مولانا ڈاکٹر ) ابوالکلام قاسمی شمسی ش۔...
11/01/2025

اگر اب بھی نہ سمجھوگے تو ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
میرا مطالعہ
( مولانا ڈاکٹر ) ابوالکلام قاسمی شمسی ش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہندوستان میں جب تک آپسی میل و محبت اور قومی یکجہتی کا ماحول رہا ، مسلم اور غیر مسلم آپس میں میل و محبت کے ساتھ رہے ، اس وقت تک الیکشن میں بھی مسلم و غیر مسلم کا امتیاز نہیں ، بلکہ پارٹی کی بنیاد پر الیکشن ہوتا رہا ، چنانچہ ووٹ دینے میں بھی کوئی بھید بھاؤ نہیں دیکھنے میں نہیں آیا ، پارٹی کی جانب سے کوئی امیدوار کھڑا کردیا گیا ، لوگ اس کو کامیاب بنانے کے لئے متحد ہو جاتے تھے ، مگر موجودہ وقت میں ملک میں ایسا ماحول نہیں ہے ، پھر بھی غنیمت ہے ، ابھی بھی ملک میں برادران وطن کی بڑی تعداد ایسی ہے جو آپس میں میل و محبت کو ملک کے حق میں بہتر سمجھتے ہیں ، جب تک آپسی اتحاد اور قومی یکجہتی کا ماحول رہا ، الیکشن میں بڑی تعداد میں مسلمان امیدوار بھی کامیاب ہوتے رہے ، موجودہ وقت میں ملک میں نفرت کا ماحول بنادیا گیا ہے ، اقلیت اور اکثریت کا مسئلہ پیدا کردیا گیا ہے، ذات برادری کی بات ہونے لگی ہے ، سب سے خراب صورت حال یہ ہے کہ مسلم اور غیر مسلم کی آندھی بہا دی گئی ہے، جبکہ یہ سمجھنے کی بات ہے کہ جمہوریت میں تعداد اور سَر گنا جاتا ہے ، زور آزمائی کی کوئی بات نہیں ہوتی ہے۔
بہار میں مسلمانوں کی آبادی تقریبا ۱۷؍ فیصد ہے ، اس میں بھی بعض اسمبلی حلقے میں مسلم آبادی زیادہ ہے، تو بعض حلقے میں بالکل کم ہے ، چند ہی حلقے میں مسلمان اپنے ووٹ سے کسی مسلم امیدوار کو جتا سکتے ہیں ، باقی تمام حلقے ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کے ووٹ کمزور ہیں ، ان کے ووٹ فیصلہ کن نہیں ہیں ، البتہ برادران وطن کے ساتھ مل کر ان کے ووٹ کی قیمت بہت بڑھ جاتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں ان کے ووٹ کو حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
ابھی بہار میں اسمبلی الیکشن کی تاریخوں کا اعلان ہوچکا ہے ، مسلمان سماج کے بہت سے لوگ الیکشن کی اہمیت اور ووٹ کی قدرو قیمت سے ہٹ کر آپسی کردار کشی میں لگے ہوئے ہیں ، موجودہ بہار الیکشن میں تو مسلمانوں کی رہی سہی عزت بھی لٹ گئی ،اچھے شبیہ والے مسلم لیڈر کو بھی داغدار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، ان کے وقار کو مجروح کرنے والے دوسرے نہیں ، بلکہ اپنے ہی ہیں ، جو اختلاف کے حدود کو نہیں سمجھ رہے ہیں ، ایسے لوگ اپنے کے مقابلہ میں چست اور دوسرے کے مقابلے میں سست ہیں ، یہ نہایت ہی افسوس کی بات ہے ۔
بہار کا موجودہ الیکشن عام الیکشن نہیں ، بلکہ یہ ملک کے رخ کو متعین کرنے والا ہے ، ایسے وقت میں ہمیں جوش سے زیادہ ہوش سے کام لینے کی ضرورت ہے ، مگر ہم مسلم سماج کے لوگ انجام سے بے خبر ہیں ، یہ ہمارے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔
بہار کا موجودہ الیکشن بڑی اہمیت کا حامل ہے ،اس لئے اس الیکشن کے موقع پر گزشتہ الیکشن کے مقابلہ میں زیادہ افراتفری ہے ، مسلمانوں کے ذہن کو مسموم کرنے کے لئے طرح طرح کے نعرے دیئے جا رہے ہیں ، کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ برادران وطن کی ہر ذات برادری کے لیڈر ہیں ، مسلمانوں کے لیڈر کون ہیں ؟ یہ نہایت ہی افسوس کی بات ہے ، ایسا نہیں کہ مسلم سماج اس ملک میں بغیر قیادت کے ہے ، بلکہ ملک میں مسلمانوں کی مضبوط قیادت موجود ہے ، البتہ جمہوری نظام میں تعداد پر فیصلہ ہوتا ہے ، اس لئے مسلم قائدین کی جانب سے اسی کے مطابق رہنمائی کی جاتی رہی ہے ، اور موجودہ الیکشن میں بھی کی جارہی ہے ، کبھی طنز کے طور پر اپنے ہی لوگ کہتے ہیں کہ۲؍ فیصد والا نائب وزیر اعلیٰ ،۱۴؍فیصد والا وزیر اعلیٰ اور۱۸؍ فیصد والا دری بچھانے والا ، آخر یہ۱۸؍ فیصد والے مسلمان کب تک دری بچھائیں گے ؟ اس طرح کی باتیں ہوش کی نہیں ، بلکہ جوش کی ہیں ۔اس طرح کے جذباتی نعرے مسلمانوں کے لئے خطرناک ہیں ، اس طرح کی باتیں کرنے والے خود آپس میں ایک دوسرے کا استحصال کرتے ہیں ، وہ یہ نہیں دیکھتے کہ برادران وطن کی ہر ذات برادری متحد ہے، تو اس کی طاقت ہے ،جس کی وجہ سے اس کے لیڈر بھی طاقتور ہیں ، مگر مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ وہ بری طرح منتشر ہیں ،ذات برادریوں میں اور مسلک و عقائد میں ۔ کسی کو اپنا لیڈر ماننے کے لئے تیار نہیں ، آزادی کے تقریباً ۷۵؍ سال ہوگئے ، مگر اقلیت میں رہنے نیز ایک اللہ اور قرآن پر ایمان لانے کے باجود متحد نہیں ہوسکے ،اسی آپسی اختلاف نے مسلمانوں کو بے حیثیت بنادیا ہے۔
جہاں تک مسلمانوں کے لئے جیت کی بات ہے تو چند اضلاع کو چھوڑ کر مسلمانوں کی تعداد اتنی نہیں ہے کہ مسلمان اپنے ووٹ سے کسی امیدوار کو جتا دیں ، اگر چند مسلمان امیدوار جیت بھی گئے توکوئی مضبوط طاقت نہیں بناسکیں گے، جیسا کہ مشاہدہ ہے ، الا ماشاء اللہ ، اب تو وہ حلقے جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں ، وہاں بھی اچھے امیدوار اپنی سیٹ جیتنے میں کمزور دکھائی دے رہے ہیں ۔ میں نے اوپر تحریر کیا کہ چند اضلاع میں مسلمان اکثریت میں ہیں ، اس کے علاوہ تمام حلقوں میں مسلمان اقلیت میں ہیں ، ان کی تعداد ۱۷؍فیصد مان لیں ، پھر بھی بالعموم نصف ووٹ پول ہوتا ہے ، تو ۹؍فیصد مسلم ووٹ پول ہوگا ، اگر تمام مسلمان متحد ہوکر بھی کسی مسلم امیدوار کو ووٹ دے دیں ، جو بالعموم نہیں ہوتا ، پھر بھی وہ کامیاب نہیں ہوں گے ، کیونکہ ہار جیت کا فیصلہ تقریبا ۳۵؍ فیصد ووٹ پر ہوتا ہے ، اس طرح مسلم سیاسی پارٹی یا مسلم حامی سیاسی پارٹیاں حکومت ساز بننے کی پوزیشن میں نہ آج ہیں اور نہ کبھی رہی ہیں، الا ماشاء اللہ۔ اس طرح یہ کہنا کہ کوئی بھی پارٹی صرف مسلمانوں کے ووٹ سے حکومت ساز بن سکتی ہے ، یہ تجزیہ کے مطابق صحیح نہیں ہے ۔
بہار میں مسلم اور غیر مسلم کی سیاست نہایت ہی نقصان دہ ہے۔بہار کا موجودہ الیکشن بہار کے مسلمانوں کے لئے امتحان ہے ، اگر مسلم سماج کے لوگ ابھی بھی نہیں سمجھیں گے تو دوسرے کا نقصان کم ،خود ان کا نقصان زیادہ ہوگا ۔بہار الیکشن کا منظر نامہ یہ اشارہ دے رہا ہے کہ موجودہ الیکشن سیکولر اور غیر سیکولر پارٹیوں کے درمیان ہے ،مسلم اور غیر مسلم کے درمیان نہیں ہے۔ابھی مسلم اور غیر مسلم یا اپنی پارٹی اور اپنی قیادت کا وقت نہیں، اس کے لئے سماج میں فرصت کے اوقات میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح موجودہ وقت متحد ہو کر سیکولر اور اچھے امیدوار کو کامیاب بنانے کا ہے ، اگر مسلمان سیکولر پارٹیوں کے امیدواروں کو جیت دلا کر حکومت بنائیں گے ، تو سیکولر حکومت بنے گی ، بہار میں امن و شانتی کا ماحول قائم ہوگا ، اس کے برعکس اگر مسلمانوں کا ووٹ بکھر گیا اور خدا نخواستہ غیر سیکولر حکومت بن گئی ،تو بہار میں امن و شانتی کے ختم ہو جانے کا اندیشہ ہے ، اس کا بھی اندیشہ ہے کہ اطمینان و سکون ختم ہونے سے باہر کام کاج میں دشواری آجائے ،نیز طرح طرح کے خطرات اور طرح طرح کے قوانین کے ذریعہ حقوق سے محروم کئے جائیں ، جیساکہ ملک کے دوسرے اسٹیٹ میں ہورہا ہے ، یقینا ملک کے سلسلہ میں اچھی فکر رکھنا سب کی ذمہ داری ہے ، صرف مسلمانوں کی ذمہ داری نہیں ، لیکن یہ جذباتی بات ہے ، ہم تو خیر امت ہیں ، ہمیں اپنے بارے میں بھی اچھا سوچنے کا حکم ہے ، اور دوسروں کی خیر خواہی کا بھی حکم دیا گیا ہے ، اس لئے مسلمانوں کو جوش کے بجائے ہوش سے کام لینے کی ضرورت ہے ۔ ہوش کا تقاضہ ہے کہ ہر ووٹر اپنا ووٹ دے ، تاکہ ووٹ کا فیصد بڑھے ، خود اپنا ووٹ دے ، اپنے گھر کے تمام لوگوں سے ووٹ دلائے جو ووٹر ہیں ، ووٹ ڈالنے کے لئے لوگوں کو ترغیب دلائیں ، ائمہ حضرات اپنے مقتدیوں کو ووٹ کی اہمیت بتائیں ،دانشوران اپنے محلہ میں ووٹر بیداری مہم چلائیں، باہر کام کاج کرنے والے وقت نکال کر حتی المقدور ووٹنگ میں حصہ لیں ،اپنے ووٹ کو منتشر ہونے سے بچائیں ، اور متحد ہوکر سیکولر اور اچھے امیدوار کو اپنا قیمتی ووٹ دیں ، تاکہ سیکولر اور اچھی حکومت بن سکے۔ اللہ تعالیٰ بہار میں امن و شانتی کا ماحول قائم و برقرار رکھے

2025  کے چناؤ میں ہمارا مؤقف —-----------------------------سیاست (politics ) اور  اقتدار کی  سیاست  Power )(( (politics ...
11/01/2025

2025 کے چناؤ میں ہمارا مؤقف
—-----------------------------

سیاست (politics ) اور اقتدار کی سیاست Power )(( (politics کی جو اندرونی چال بازیاں Internal Maneuvering/ہیں اس سے بہت سے لوگ واقف نہیں ہیں۔جو چیزیں ہمارے سامنے جس شکل میں آتی ہیں ضروری ۔نہیں وہ اپنی اصل میں وہی ہو ں ورنہ صحیح بات یہ ہے کہ ہیں کواکب کچھ نظر اتے ہیں کچھ ۔
بہار کا 2025کے چناؤ کا عمل شروع ہو چکا ہے ۔بظاہر مقابلہ آن ڈی اے اور انڈیا الاینس کے بیچ ہونا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کیی پار ٹیان ہیں جو آزادانہ چناؤ لڑ رہی ہیں ۔اصل مقابلہ آن دونوں گٹھ بندھن کے بیچ ہے۔۔ کون جیتے گا کون ہارے گا اس کا قیاس لگانا قبل از وقت ہے۔ کبھی کبھی چناؤ میں دوچار دن پہلے ایک ڈرامائی تبدیلی رونما ہوتی ہے جو پورے چناؤ کی ہوا فضا بدل دیتی ہے۔
ابھی جو صورتحال ہے اس میں دونوں گٹھ بندھن میں بے اطمینانی کی کیفیت پائی جاتی ہے ۔ دونوں طرف باغی امیدوار جن کو ٹکٹ نہیں ملی ہے اور جو پہلے سے ویدھایک اور منتری تھے وہ اپنے پارٹی امیدوار کے خلاف کھڑے ہو گیے ہیں۔ لوگوں کے اندر پارٹی بدلنے کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ راتوں رات لوگ زعفرانی سے ہرا اور ترنگا رنگ میں رنگ رہے ہیں اسی طرح کچھ زعفرانی چولا بھی اپنا رہے ہیں۔ سیاست میں اصول اخلاق اور انسانیت کی اتنی اہمیت بھی نہیں ہوتی ہے جتنی جوتے کچھے اور بنیان کی ہے۔لوگ آسانی سے بغیر کسی اخلاقی حس کے اپنی وفاداری بدلتے رہتے ہیں ۔آنہیں اس کی پرواہ نہیں ہوتی کہ لوگ کیا کہیں گے ۔وہ سمجھتے ہیں کہ لوگ ذات دھرم اور پیسے کے بل پر ووٹ دیتے ہیں ۔ سیاست ایک بہت ہی نفع بخش تجارت ہے اگر جیت گیے تو دسوں انگلیاں گھی میں ہونگی اور ہار گیے تو آیندہ جیتنے کی راہ ہموار کرنے گی۔ عوام کا چوالیس بہت محدود ہے۔ اپ کو اختیار ہے اس انتخابی عمل میں حصہ نہ لیں لیکن اس سے کوی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ جتنا ووٹ ڈالا گیا ہے اسی بنیاد پر ہار جیت ہوگی ۔اب دو آپشن اور ہے ایک جس کو جتانا چاہیں ان کے حق میں ووٹ کریں یا اس پورے سسٹم اور تمام پارٹیوں اور کیڈیٹ سے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے نوٹا کا بٹن دبائیں ۔ اس منفی ووٹنگ سے جیت اور ہار پر اثر نہیں پڑے گا ۔اس لیے صحیح بات یہ ہے کہ ووٹ ڈالیں اور اپ کے نقطہ نظر سے جو نسبتاً بہتر پارٹی اور امیدوار ہے اس کو جتانے کی بھرپور کوشش کریں ۔
سیاست کا یہ مزاج نیا نہیں ہے ۔ قدیم ترین زمانے سے دیکھا گیا ہے کہ لوگ اقتدار کی خاطر باپ اور بھائی کو بھی قید قتل اور جلا وطن کرتے رہے ہیں آج بھی سیاست کا یہی مزاج ہے۔یہی وجہ ہے کہ اپ دیکھتے ہیں کہ بھای بھای کی خلاف کھڑاہے ،شوہر بیوی کے درمیان مقابلہ ہو رہاہے باپ بیٹے حریف بنے ہوئے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک ہی خاندان کے کی امیدوار الگ الگ پارٹیوں سے کھڑے ہیں
اس ماحول میں ہماری سیاسی ترجیحات۔ کیا ہونگی یہ غور کرنے کی ضرورت ہے
پہلی بات تو سمجھ لیجئے کے سیاسی پارٹیوں اور سیاست دانوں کا مقصد ملک اور قوم کی خدمت نہیں ہے بلکہ اس کا سیدھا مقصد کسی طرح جیتنا اقتدار حاصل کرنا اور اس کے ذریعے اپنی طاقت اور دولت میں اضافہ کر نا ہےیہی وجہ ہے کہ وہ اقتدار میں آنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوتے ہیں ۔ سیاست میں دوستی دشمنی نہیں ہوتی ہے جو چیز اہمیت رکھتی ہے وہ مفادات ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ شام تک جو ادمی گالی دے رہا تھا اور زہر اگل رہا تھا صبح میں گلے ملتے دیکھا جاتا ہے ۔ اس ماحول میں جو عام آدمی ہے اور سنجیدہ ووٹر ہے وہ ٹھگا‌ہوا محسوس کرتاہے ۔ اس لیے بہت سے لوگ ہیں جو پاور بروکر بن جاتے ہیں اور پیسے لے کر ووٹ دیتے اور دلاتے ہیں۔
لیکن چاہے ہم پسند کریں یا نہ کریں۔ سیاست اقتدار کا کھیل ہے اور ہم اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتے ہیں ۔ ہم نے کمبل چھوڑ دی ہے لیکن کمبل ہم کو نہیں چھوڑے گا۔ اس لیے ہم اس معاملے میں لا تعلق نہیں رہ سکتے ہیں ۔ ہمیں ہر حال میں اپنا سیاسی ‌موقف طے کرنا ہوگا اور جو فیصلہ ہم کریں اس کو زمین پر اتارنے کی جدوجہد بھی کر نی ہوگی ۔
سیاست بنیاد ی طور پر نمایندگی کا کھیل ہے۔ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ چناؤ در چناؤ اسمبلی اور پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی نمائیندگی گھٹتی جا رہی ہے ۔بی جے پی نے تو یہ طے کر لیا ہے کہ بھارت کی سیاست میں مسلمانوں کی حصہ داری ختم کر دینی ہے اس لیے وہ کسی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیتی ہے ۔نام نہاد سیکولر پارٹیاں بھی مسلمانوں کو پوری نمایندگی دینے سے کتراتی ہیں۔ مسلمان جن ہندو ذاتوں اور برادریوں کو تھوک کے بھاؤ ووٹ دیتے ہیں اور ان کو جتانے اور اقتدار میں لانے کے لیے خون پسینا ایک کر دیتے ہیں اسی ذات برادری کے لوگ انہیں پارٹیوں سے کھڑے مسلمان امید وار کو ووٹ نہیں دیتے ہیں ۔ اس طرح سے پوری سیاست ون وے ٹریفک بن گیی ہے۔
بہر حال یہ سیاسی منظر نامہ فی الوقت ہمارے چاہنے سے تو نہیں بدلے گا ۔اس کے لئے لانگ ٹرم اسٹریٹجی بنانے کی ضرورت ہوگی جس کا ابھی کوی وقت ہے اور نہ فائدہ ۔ اس لیے ہمیں موجودہ حالات میں ایک صحیح سیاسی فیصلہ لینا ہے
میرے خیال میں ہمارے پاس چوایس بہت لیمیٹیڈ ہے۔ ہمیں تیںن باتوں پر توجہ دینی چاہیے
پہلی بات یہ ہے کہ جو مسلمان کنڈیڈیٹ جس پارٹی سے کھڑا ہے اور وہ مقابلے میں ہے اور اپ کی معاونت سے جیت سکتا ہے اس کو ضرور ووٹ دیجیے اور اس کے جیت کو یقینی بنانے کی کوشش کیجئے ۔شکوہ شکایت کا ازالہ بعد میں کر لیا جائے گا ۔
سیمانچل میں مسلمان سیاسی قیادت کی کوشش کی جارہی ہے ۔اس کی اپنی کمیاں اور خامیاں ہیں ۔مگر نمایید ہ سیاست میں جب تمام پارٹیاں ایک دوسرے سے ہاتھ ملا رہی ہیں ۔معاہدات کر رہی ہیں جب ان سے کہا گیا کہ ام ای ام سے بھی تال میل کریں اور انہیں بھی انڈیا گٹھ بندھن میں شامل کریں تو ان پارٹیوں نے ان سے معاہدہ کرنے سے انکارکردیا ۔اس صورت میں ہمارا موقف یہ ہے کہ سیمانچل میں ام ای ام امیدوار کو ووٹ دے کر کامیاب بنایا جائے تاکہ ان کے تعاون سے سرکار بنتی ہے تو مؤثر طور پر مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کی جاسکے ۔ یہ بات صرف سیمانچل کے لیے ہے۔سیانچل سے باہر ایسی کوی کوشش مس ایڈونچر کہلاتے گی جس سے بچنے کی ضرورت ہے ۔
اس کے باوجود کے انڈیا گٹھ بندھن میں تال میل صحیح طور پر نہیں ہو سکا ہے اور کی جگہوں پر حلیف پارٹیاں اور ان کے امیدوار آمنے سامنے ہیں۔ اور کی جگہوں پر بھیتر گھات کا بھی اندیشہ ہے ۔ان سب کے باوجود ہمارے سامنے صرف یہ چوایس ہے کہ ہم کانگریس اور آر جے ڈی اور سی پی ای ال ام کو ووٹ دیں اور ان کے امیدواروں کو کامیاب بنائیں ۔تاکہ ملک میں غیر فرقہ پرست قوتیں مضبوط ہوں اور فرقہ پرست قوتیں کمزور ہوں۔
اگر ہم نے سوجھ بوجھ سے کام لیا تو ہم سیاسی پانسہ پلٹ بھی سکتے ہیں بصورت دیگر جو اللہ کو منظور ہوگا وہ ہوکر رہے گا ۔

انوار الحسن وسطوی: شخصیت اور ادبی کارنامے✍️انور آفاقی دربھنگا اردو، جو کبھی ہماری تہذیب و شناخت کی علامت تھی، آج ہمارے ہ...
10/30/2025

انوار الحسن وسطوی: شخصیت اور ادبی کارنامے
✍️انور آفاقی دربھنگا

اردو، جو کبھی ہماری تہذیب و شناخت کی علامت تھی، آج ہمارے ہی معاشرے میں اجنبی بنتی جا رہی ہے۔ یہ وہ زبان ہے جس نے ہمیں محبت، شائستگی اور اظہار کا سلیقہ دیا، مگر افسوس کہ اب ہم ہی اس سے منہ موڑتے نظر آتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں، حتیٰ کہ اردو پڑھانے والے اساتذہ کے گھروں میں بھی، اس زبان کے لیے وہ جذبہ باقی نہیں رہا جو کبھی ان کے دلوں کی دھڑکن ہوا کرتا تھا۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اردو کے اکثر گھروں میں، یہاں تک کہ اردو کے اساتذہ کی میزوں پر بھی، انگریزی اور ہندی کے اخبارات تو ضرور مل جائیں گے، مگر اردو اخبارات ش*ذ و نادر ہی دکھائی دیتے ہیں۔ جب ان سے اس بے توجہی کی وجہ پوچھی جائے تو بے نیازی سے کہہ دیتے ہیں: "اردو اخبارات میں سوائے اشتہارات کے اور ہوتا ہی کیا ہے۔"
درحقیقت اس طرح کی سوچ ہماری ذہنی و فکری دیوالیہ پن کی علامت ہے، بلکہ اردو دشمنی کی پہچان ہے۔ ایسی سوچ ہمیں اور ہماری نسلوں کو اردو زبان سے متنفر کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ مگر اس تاریکی میں بھی کچھ باکمال شخصیات ایسی ہیں جو اردو کے چراغ کو بجھنے نہیں دیتیں۔ انہی شخصیات میں ایک نام جناب انوار الحسن وسطوی کا ہے — ایک ایسے مخلص اور متحرک انسان جو اردو کے نام پر ہمہ وقت سرگرم رہتے ہیں۔ عمر کی ستر بہاروں کے بعد بھی وہ اردو کے لیے نہایت مخلص، تازہ دم اور مستعد نظر آتے ہیں۔ اردو کی ترویج و اشاعت کے لیے وہ مسلسل کوشاں رہتے ہیں۔
زبان و ادب کے اس مجاہد اور ان کے پرخلوص جذبوں کو سلام، جو سچی محنت اور اخلاص سے چراغِ اردو کو روشن رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہتے ہیں۔
میری رائے میں جس طرح جھارکھنڈ میں پروفیسر ابوذر عثمانی کو مجاہدِ اردو کہا جا سکتا ہے، اسی طرح بہار میں انوار الحسن وسطوی کی شخصیت اس لقب کی مستحق ہے۔
انوار الحسن وسطوی صاحب سے میری پہلی ملاقات غالباً 13 جولائی 2018ء کو پٹنہ کے سفر کے دوران حاجی پور میں ہوئی تھی۔ جب ہم (میں اور منصور خوشتر) ان کے دولت کدے پر پہنچے تو وہ سراپا منتظر ملے۔ خلوص و محبت کے اس پیکر نے پہلی ہی ملاقات میں اپنی شخصیت کے سحر اور زبان کی مٹھاس سے مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا۔ اس لیے میں پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ جو شخص ان سے ایک بار مل لے، وہ بار بار ان سے ملنے کی تمنا رکھتا ہے۔
انوار الحسن وسطوی ابن محمد داؤد حسن بن محبوب حسن کی ولادت یکم نومبر 1954ء کو حسن پور وسطی، مہوا ضلع ویشالی میں ہوئی۔
ویشالی وہی قدیم اور تاریخی شہر ہے جس کے تعارف میں ایک ہندی ادیب نے کہا تھا:
"مہاویر کی جنم بھومی، بدھ کی کرم بھومی، جنتنتر کی جننی اور لچھوی راجاؤں کی راجدھانی — ویشالی۔"
اسی ویشالی کی خمیر سے اٹھنے والے جناب انوار الحسن وسطوی کی 280 صفحات پر مشتمل ایک عمدہ کتاب "تاثرات" میری نگاہوں کے سامنے ہے۔
یہ کتاب مختلف ادبا، شعرا اور اہم شخصیات کی تصانیف پر اظہارِ خیال پر مبنی ہے۔ اس میں کل 52 کتابوں پر وسطوی صاحب کے تحریر کردہ تاثراتی و تبصراتی مضامین شامل ہیں، جو مصنف نے خود مطالعہ کے بعد تحریر کیے ہیں۔
یہ بات میں اس لیے واضح کر رہا ہوں کہ ہمارے یہاں ایسے تبصرہ نگاروں کی کمی نہیں جو دوسروں کے لکھے ہوئے تبصروں کو کاٹ چھانٹ کر اپنی تحریر کے طور پر پیش کر دیتے ہیں۔
کتاب کے مشمولات پر نگاہ ڈالنے سے پہلے "پیش لفظ" سامنے آتا ہے، جو خود مصنف نے تحریر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
"میں نے اپنی تحریروں میں حتی الامکان ادبی بددیانتیوں سے بچنے کی پوری کوشش کی ہے۔ مجھے اپنے تبصروں کے متعلق یہ بھی گمان ہے کہ میں کتاب کے تعلق سے مثبت باتیں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں تاکہ قارئین اصل کتاب پڑھنے کی جانب راغب ہوں۔"
یہ باتیں وسطوی صاحب کے خلوص اور دیانتِ فکر کی مظہر ہیں۔
ایک اچھے تبصرہ نگار کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ قارئین کو کتاب کی جانب متوجہ کرے، جبکہ خامیوں کی نشاندہی ناقدین کا کام ہے۔
کتاب میں مختلف "گوشے" شامل کیے گئے ہیں، جیسے:
گوشہ قرآن کریم —
اس میں دو مضامین شامل ہیں: "قرآن پاک کی اردو تفاسیر" اور "قرآن کریم سے مکالمہ"۔
گوشہ نعت پاک —
اس میں چار نعتیہ مجموعوں پر تبصرے شامل ہیں:
"نقشتاب" (قوس صدیقی)، "ازہارِ مدینہ" (پروفیسر فاروق احمد صدیقی)، "نبیوں میں تاج والے" (پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی) اور "چمنستانِ نعت" (پروفیسر فاروق احمد صدیقی)۔
قوس صدیقی کے نعتیہ مجموعے پر وسطوی صاحب فرماتے ہیں:
"قوس صدیقی کی نعتوں کے یہ اشعار جہاں ان کے ایمان و عقیدے کی پختگی کے مظہر ہیں، وہیں عشقِ رسول کے عکاس بھی ہیں۔ ان کی نعتیں اہلِ ایمان پر روحانی و ایمانی کیفیت طاری کرتی ہیں۔"
گوشہ تحقیق و تنقید —
اس میں 15 تبصراتی مضامین شامل ہیں۔
ڈاکٹر عابدی کی کتاب "آزادی کے بعد بہار کے ادبی رسائل" پر وہ لکھتے ہیں:
"ڈاکٹر عابدی کی یہ تحقیقی کاوش قابلِ تعریف ہے۔ ان کی اس بات سے مجھے بھی اتفاق ہے کہ اس کتاب میں آزادی کے بعد بہار کے بیشتر ادبی رسائل کا تذکرہ پہلی بار ہوا ہے۔"
گوشہ مونوگراف و رسائل —
اس میں سات کتابوں پر تبصرے ہیں۔
پروفیسر عبدالمغنی پر ڈاکٹر ریحان غنی کے لکھے مونوگراف کے بارے میں وسطوی صاحب لکھتے ہیں:
"مونوگراف کا اختتام ’کاروانِ اردو کے ٹوٹے ہوئے تارے‘ کے عنوان سے ہوا ہے، جس میں 83 مرحومین کے نام شامل ہیں جنہوں نے اردو کے فروغ کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں۔"
گوشہ شاعری —
اس میں چار شعری مجموعے زیرِ بحث ہیں: "سمندر بانٹتا ہے" (اثر فریدی)، "ہم عصر شعری جہات" (بدر محمدی)، "گلستانِ غزل" (نسرین اظہری)، اور "پئے تفہیم" (مظہر وسطوی)۔
بدر محمدی کی کتاب کے بارے میں وہ لکھتے ہیں:
"بدر محمدی کی تصنیف ’ہم عصر شعری جہات‘ ان کی ناقدانہ بصیرت کا عمدہ نمونہ ہے۔ انہوں نے اپنے عہد کے 24 شعرا کی خدمات پر بڑی کشادہ دلی سے اظہارِ خیال کیا ہے۔"
گوشہ یادِ رفتگاں و قائمہ —
اس میں چھ کتابوں پر تبصرے شامل ہیں، مثلاً:
"مردِ صحافت شمس الہدیٰ استھانوی" (ڈاکٹر اسلم جاویداں)، "ضیائے ولی" (مولانا قمر عالم ندوی)، "نقوشِ حیات" (محمد شکیل استانوی) وغیرہ۔
گوشہ ادبِ اطفال —
اس گوشہ میں چار کتابوں ( بچوں کی کتابیں تعارف و تذکرہ، ڈاکٹر عطا عابدی ، " بچوں کے سنگ" ڈاکٹر احسان عالم ، "بہار میں بچوں کا ادب کل اور آج " ڈاکٹر منصور خوشتر، اور " آؤ بچوں تمہیں بتائیں " ڈاکٹر احسان عالم) کا ذکر ہے، جن میں "آؤ بچوں تمہیں بتائیں" (ڈاکٹر احسان عالم) خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ وسطوی صاحب لکھتے ہیں:
"یہ کتاب گرچہ بچوں کے لیے لکھی گئی ہے، لیکن اسے پہلے ان کے سرپرستوں اور اساتذہ کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔"
گوشہ مصاحبہ —
اس میں تین کتابوں پر گفتگو ہے، مثلاً "انطباق" (نثار احمد صدیقی)، "دو بدو" (انور آفاقی) اور "اکبر رضا جمشید: ایک کثیرالشخصیت انسان" (ڈاکٹر اے کے علوی)۔
آخری کتاب میں اکبر رضا جمشید کا 40 صفحات پر مشتمل طویل انٹرویو شامل ہے۔
گوشہ صحافت —
اس میں سہیل انجم کی کتاب "جدید اردو صحافت کا معمار: قومی آواز" پر تبصرہ شامل ہے۔
گوشہ متفرقات —
اس میں مختلف علمی و فکری کتابوں پر گفتگو کی گئی ہے، مثلاً مفتی محمد ثنااللہ قاسمی کی "آدھی ملاقات", ڈاکٹر منظور احمد اعجازی کی "کھٹی میٹھی یادیں", مولانا شمساد رحمانی کی "جنرل نالج", مولانا صدر عالم ندوی کی "ازدواجی زندگی" اور اشرف عظیم آبادی کی "بیکٹیریا سے ویل تک"۔
آخر میں، میں یہ کہنا چاہوں گا کہ انوار الحسن وسطوی صاحب کی کتاب "تاثرات" نہ صرف موجودہ وقت میں بلکہ مستقبل میں بھی ایک اہم اور قابلِ قدر تصنیف ثابت ہوگی۔ یہ کتاب تحقیق کے طلبہ اور ادب فہم قاری دونوں کے لیے ایک رہنما دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔

Address

Bhairopur
Sacramento, CA

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when S R Media ایس آر میڈیا posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to S R Media ایس آر میڈیا:

Share