S R Media ایس آر میڈیا

S R Media  ایس آر میڈیا news, article, poetry no

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئیچھوٹے پاپا جناب شمیم اختر صاحب کی یاد میں ۔ *تحریر: قمر اعظم صدیقی*زندگی میں کچھ رشت...
09/22/2026

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

چھوٹے پاپا جناب شمیم اختر صاحب کی یاد میں ۔

*تحریر: قمر اعظم صدیقی*

زندگی میں کچھ رشتے صرف خون سے نہیں، محبت، شفقت اور دعاؤں سے بنتے ہیں۔ میرے چھوٹے پاپا جناب شمیم اختر صاحب میرے لیے ایسے ہی ایک سایہ دار شجر کی مانند تھے، جن کی شفقت مجھے بچپن سے حاصل رہی۔ آپ نے مجھے کبھی بھتیجا نہیں بلکہ اپنا بیٹا سمجھا۔ کئی مواقع پر آپ سے میرا اختلاف رائے بھی ہوا، لیکن آپ نے کبھی دل میں کدورت نہیں رکھی۔ یہی آپ کے بڑے ظرف اور اعلیٰ اخلاق کی دلیل تھی۔

* سوانحِ عمری اور خاندانی پس منظر*

آپ کی پیدائش تعلیمی اسناد کے مطابق 2 دسمبر 1974 کو ہوئی۔ آپ کا آبائی وطن بھیرو پور، (بدوپور) ضلع ویشالی، بہار ہے۔

میرے دادا جان جناب عبدالوہاب صاحب مرحوم روزگار کے سلسلے میں کلکتہ میں مقیم تھے۔ اسی دوران انہوں نے محلہ عطردہ، رام دیالو نگر ، مظفر پور میں زمین خرید کر مکان تعمیر کرایا اور بعد میں پورے خاندان کو وہیں مستقل طور پر بسا دیا۔

دادا جان کی عدم موجودگی میں میری دادی جان مرحومہ حسیب النساء صاحبہ نے بڑی ہمت، حوصلہ اور سلیقہ مندی کے ساتھ اپنے چار بیٹوں اور دو بیٹیوں کی تعلیم و تربیت اور پرورش کی ذمہ داری تنِ تنہا بحسن و خوبی نبھائی۔ میرے والد محترم جناب شہاب الرحمن صدیقی صاحب سب سے بڑے ہونے کی وجہ سے والدہ کے دست و بازو بنے رہے اور چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داری بخوبی نبھاتے رہے۔

آپ ( شمیم اختر ) نے ابتدائی تعلیم اپنے بڑے بھائی اور مکتب کے استاد سے حاصل کی۔ عطردہ آنے کے بعد میٹرک تک تعلیم مظفر پور سے مکمل کی، انٹرمیڈیٹ کا امتحان حاجی پور کے معروف کالج سکھدیو مکھ لال سے پاس کیا اور پھر آئی ٹی آئی کالج، غنی پور، مظفر پور سے سرویر کورس میں ڈپلومہ حاصل کر کے عملی زندگی میں قدم رکھا۔

آپ فطرتاً نہایت شریف، ملنسار، مہمان نواز اور خوش مزاج انسان تھے۔ آپ کی مجلس میں کبھی بوریت محسوس نہ ہوتی اور چہرے پر ہر وقت ایک پیاری مسکراہٹ سجی رہتی۔

*عملی زندگی اور زندگی کے نشیب و فراز*

تعلیم سے فراغت کے بعد آپ معاش کی تلاش میں لگ گئے۔ سب سے پہلے آپ کو مظفر پور تا حاجی پور سڑک سروے پروجیکٹ میں ایک نجی کمپنی کے ذریعے ملازمت ملی۔ اس پروجیکٹ کے ختم ہونے پر آپ احمد آباد چلے گئے، جہاں آپ نے ہرش چندرا انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ میں ایک طویل عرصہ تک خدمات انجام دیں۔ بعد کے برسوں میں آپ نے کئی کمپنیاں تبدیل کیں اور ملک کی مختلف ریاستوں میں رہ کر کام کیا۔ آخری دنوں میں آپ بنارس کی ایک کمپنی میں سرویر کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔

شادی سے پہلے تک آپ کی زندگی بڑی آزاد اور خوشگوار گزری، لیکن شادی کے بعد ذمہ داریوں کا بوجھ اور اہلیہ کی طویل بیماری کی وجہ کر آپ پریشان حال رہے ۔ اللہ نے آپ کو تین بیٹیوں کی نعمت سے نوازا۔ آپ نے اپنی باون سالہ زندگی میں بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے، بڑی قربانیاں دیں، لیکن کبھی بھی زبان پر شکوے کا ایک لفظ تک نہ لائے۔

* بیماری کا آغاز اور علاج کی جدوجہد *

مئی 2026 میں بنارس میں کام کے دوران آپ کو بائیں جانب گلے میں گلٹی اور درد کا احساس ہوا۔ وہیں ڈاکٹر سے رابطہ کیا تو ڈاکٹر نے کینسر مرض کی علامت کا اظہار کیا ۔ اور جانچ کے لیے کہا۔ جانچ کے بعد ڈاکٹر کی تشویش سچ ثابت ہوئ اور ان کی تکلیف بھی روز بروز بڑھنے لگی ۔
آپ نے کمپنی میں چھٹی کی درخواست دی، مگر کام زیادہ ہونے کی وجہ سے ہفتوں تک چھٹی نہ مل سکی۔ آخر کار درد کی ناقابلِ برداشت تکلیف کی وجہ سے آپ 18 مئی 2026 کو اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر بغیر اطلاع کے مظفر پور واپس آ گئے۔

اس کے بعد علاج کے لیے آپ کو پٹنہ کے آئی جی ایم ایس، مہاویر کینسر اسپتال اور سویرا کینسر اسپتال لے جایا گیا۔ آخر میں سب کے مشورے سے یہ طے پایا کہ آپ کا علاج ٹاٹا کینسر اسپتال، مظفر پور میں ہی کرایا جائے۔ وہاں ماہر ڈاکٹروں نے بتایا کہ آپ کو گلے کے غدود کا سب سے خطرناک" اینا پلاسٹ تھائریکل گلینڈ کینسر " ہے ۔ جس میں عام طور پر مریض کو تین سے چار ماہ سے زیادہ کی مہلت نہیں ملتی ہے ۔
اور ہوا بھی وہی ۔ تقریباً تین مہینوں تک علاج جاری رہا، اس دوران چھ بار کیمو تھراپی اور شعاؤں کے ذریعہ بھی علاج ہوا۔ کبھی تکلیف میں کمی اور کبھی اضافہ ہوتا رہا۔ آخری دنوں میں سانس لینے میں دشواری، نگلنے میں تکلیف، سینے میں درد اور کھانسی کی شدت بہت بڑھ گئی اور آپ نے آخری کئی دن سخت اذیت میں گزارے۔
اس آزمائش کی گھڑی میں خاندان کے افراد و رشتہ داروں نے بے مثال ہمدردی دکھائی۔ بیٹا نہ ہونے کا خلا بھتیجوں نے اپنی خدمت سے پر کر دیا، دن ہو یا رات اسپتال لانے اور لے جانے میں سب پیش پیش رہے، خاص طور پر فیضان عادل اور راشد احمد کی دن رات کی خدمت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ آپ کی صاحبزادیوں نے اور بالخصوص منجھلی بیٹی حبیبہ تبسم عرف شالو نے جس طرح راتوں کو جاگ کر ، آنسؤں کو چھپا کر ، ہمت باندھ کر اپنے والد کی خدمت کی وہ وفاداری کی ایک روشن مثال ہے۔ اس کٹھن وقت میں تمام بھائیوں، بہنوں، اہلیہ اور رشتہ داروں نے دل سے دعائیں کیں اور آپ کے چھوٹے سالے ببلو صاحب نے جس خاموشی اور فراخدلی سے مالی مدد کی، وہ بھی قابلِ تعریف ہے۔

* زندگی کا آخری سفر *

مگر جب مقررہ وقت آ جاتا ہے تو کوئی تدبیر کام نہیں آتی۔ تمام کوششوں اور دعاؤں کے باوجود 4 ستمبر 2026 بروز جمعہ رات تقریباً ایک بجے آپ اس دنیا کو چھوڑ کر اپنے مالک حقیقی سے جا ملے اور پورے گھر کو غمزدہ کرکے آخری سفر پر روانہ ہو گۓ ۔

اگلے دن جمعہ کی نماز کے بعد عطردہ مظفر پور کے ایک وسیع میدان میں بڑی تعداد میں لوگوں نے قاری جنید احمد صاحب ناظمِ اعلیٰ مدرسہ ام کلثوم راجا پور کی امامت میں نماز جنازہ ادا کی ۔ بعدازاں کچی پکی قبرستان میں سیکڑوں لوگوں نے اپنی اشکبار آنکھوں سے آپ کو سپردخاک کیا ۔

آج آپ ہم لوگوں کے درمیان نہیں ہیں، لیکن آپ کی مسکراہٹ، آپ کی باتیں، آپ کی مہمان نوازی اور آپ کی شفقت کا احساس ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا۔ دعا ہے کہ اللہ آپ کی تمام لغزشوں کو معاف فرمائے، آپ کی نیکیوں، محنتوں اور قربانیوں کو قبول فرمائے، آپ کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے اور آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اور لواحقین کو صبر جمیل کی تو فیق عطا فرمائے ۔ آمین

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے  دھلی کے جنتر منتر پر مجوزہ  احتجاج کی منسوخی پر ملت اسلامیہ میں مایوسی  پُرامن ا...
09/19/2026

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے دھلی کے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کی منسوخی پر ملت اسلامیہ میں مایوسی
پُرامن احتجاج کے بہت سے طریقے ہیں، جن کو اختیار کیا جا سکتا ہے
میرا مطالعہ
( مولانا ڈاکٹر ) ابوالکلام قاسمی شمسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ملک و ملت کا باوقار ادارہ ہے ، اس پر ملت اسلامیہ کے ساتھ حکومت کا بھی بھروسہ اور اعتماد ہے ، اس لئے خراب وقت میں لوگوں کی نظر اس ادارے کی جانب ہوتی ہے ، موجودہ وقت میں بھی اس ادارہ کو ملت اسلامیہ کا بھرپور اعتماد حاصل ہے
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا تعلق مسلم پرسنل لا یعنی مسلم عائلی قوانین سے ہے ، چونکہ عائلی قوانین کا تعلق تمام مسلم سماج سے ہے ، اس طرح اس کے تحفظ کی ذمہ داری تمام مسلمانوں اور تمام مسلم اداروں پر ہے ، اس لئے الگ سے اس کے لئے کوئی جماعت کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ، اور نہ موجودہ وقت میں اس کی ضرورت ہے، کیونکہ تمام مسلمان اور تمام مسلم ادارے اس کے ممبر ہیں ، یہی وجہ رہی کہ اس میں ہر مسلک اور ہر مکتب خیال کے لوگوں کو شامل کیا گیا ، اور ابتداء میں اس کی رعایت بھی دیکھنے میں آئی ، غالبا اس میں کسی سطح پر کمی آگئی کہ اس کی پوری رعایت نہ ہوئی ، اور مسلم سماج کے لوگ منتشر ہونے لگے ، اور الگ الگ مسلم پرسنل لا بورڈ کے نام سے تنظیم قائم کرلی ، اور بورڈ نے اس جانب توجہ نہ دی ، یہ بورڈ کے لئے لمحہ فکریہ ہے ، اور اس کی ضرورت ہے کہ تمام ملی اور مضبوط سماجی تنظیموں کو جوڑا جائے ، تاکہ بورڈ کی طاقت مضبوط ہو ، کیونکہ اس کے ممبران ان ہی تنظیموں سے منسلک لوگ ہیں ، پھر بھی موجودہ وقت میں یہ ادارہ غنیمت ہے ، اور ملت کی بڑی اکثریت کا اس پر اعتماد ہے
ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے ، یہاں آئین کی حکومت ہے ، یہاں آئین کو بالادستی حاصل ہے ، ملک میں عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے کورٹ اور سپریم کورٹ ہے ، ملک کے آئین میں بالخصوص اقلیتوں کے بنیادی حقوق کا ذکر ہے ، جس میں انہیں مذہبی ، لسانی اور ثقافتی آزادی کے حقوق دیئے گئے ہیں ، پھر میں ملک میں مسلم اقلیتی طبقہ کے لوگ پریشان ہیں ، غیر قانونی کہہ کر مساجد پر بلڈوزر چلائے جارہے ہیں ، مدارس بند کئے جارہے ہیں ، ماب لنچنگ کی جارہی ہے ، اوقاف کے خلاف قانون بنادیئے گئے ہیں ، یو سی سی یعنی یونیفارم سول کوڈ کے ذریعے مسلم پرسنل لا میں مداخلت کی جارہی ہے، ان کی مادری زبان کو محدود کرنے کی سازش کی جارہی ہے ، ایسے حالات میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے دہلی کے جنتر منتر پر 17/ ستمبر 2026 کو پر امن ، ملک کے آئین اور ملکی قوانین کے دائرے میں رہ کر احتجاج کا اعلان کیا ، یہ قابل ستائش عمل تھا ،پھر بھی خبر کے مطابق دہلی پولس نے اجازت کے بعد اجازت کو رد کردیا ،جس کی وجہ سے انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے احتجاجی پروگرام نہیں کیا گیا، جبکہ بڑی تعداد میں لوگ دھلی پہنچ چکے تھے ، جس کی وجہ سے ملت میں مایوسی ہے ، اور کچھ لوگوں میں بیزاری بھی ہے ، حالانکہ ملک کے حالات سے ہم سبھی واقف ہیں ، پروگرام کی منسوخی کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے
جہانتک مسلم پرسنل لا یعنی مسلم عائلی قوانین کی بات ہے تو بہت سے مسائل ایسے ہیں ،جن میں حکومت نے مداخلت کی ہے ، ان میں سے بابری مسجد کی شہادت ، تین طلاق کا معاملہ ، اوقاف ترمیمی بل ، مساجد کی شہادت ، مدارس کے خلاف قوانین وغیرہ قابل ذکر ہیں ، اب تو بہت سے اسٹیٹ میں یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کا اعلان کیا جاچکاہے ، یہی نہیں ، بلکہ مآب لنچنگ ، کھلی جگہ میں عبادت ، شعائر اسلام پر حملے وغیرہ عام ہیں ، گرچہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا دائرہ عائلی قوانین تک محدود ہے ، پھر بھی وقت اور حالات کی وجہ سے بورڈ دیگر مسلم مسائل پر بھی غور و فکر کرنے پر مجبور ہے ، عائلی مسائل پر حکومت کی جانب سے مداخلت اور مسلم سماج کے لوگوں پر غلط عناصر کے ذریعہ حملے اور حکومت کی خاموشی پر احتجاج درج کرانا موجودہ وقت کا تقاضہ ہے ،
جمہوری ملک میں آئین کے خلاف حکومت کام کرتی ہے تو متاثرین کو اس کے خلاف آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے پر امن احتجاج کا حق ہے ، ملک کا آئین اس کی اجازت دیتا ہے ، ملک کا آئین قانونی چارہ جوئی کا بھی حق دیتا ہے ،
یہ ایک حقیقت ہے کہ ملک میں جس طرح کے حالات ہیں ، مسئلہ صرف احتجاج کا نہیں ہے ، بلکہ اس کے ساتھ بہت سے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں ، یہی وجہ ہے ملک کے علماء اور دانشوران نے موجودہ وقت میں کھلی جگہ میں احتجاج سے بچنے کا اعلان کیا ہے ، مگر محفوظ مقامات پر آئین اور قوانین کے دائرے میں رہ کر احتجاج کیا جاسکتا ہے ، آج کل فاسٹ میڈیا کا دور ہے ، محفوظ مقامات کے احتجاج کی آواز بھی بڑی تیزی سے پھیلتی ہے ، اس لئے جنتر منتر پر پر امن احتجاج کے لئے کاروائی جاری رکھتے ہوئے محفوظ مقامات میں احتجاج کا پروگرام طے کرنا وقت کا تقاضہ ہے ، احتجاج درج کرانے کی بہت سی شکلیں ہیں ، فوری طور پر ان کا استعمال کرنا چاہئے ، خود مسلم پرسنل لا بورڈ نے ایک مرتبہ رات میں متعین وقت پر لائٹ بند کر کے احتجاج کا اعلان کیا تھا ، جو بہت کامیاب رہا ، اس طرح یا اس کے متبادل کا پروگرام بنایا جاسکتا ہے ،
بہر حال ظلم کے خلاف خاموشی سے ظالم کا حوصلہ بلند ہوتا ہے ، اس لئے ظلم کے خلاف ملک کے آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر پُرامن آواز بلند کرنا اور قانونی چارہ جوئی کرنا یا حکمت عملی طے کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ، موجودہ خراب حالات میں ملی قیادت کو مضبوط کرنا ملت اسلامیہ کا فریضہ ہے ، اللہ تعالیٰ ہماری ملی قیادت کو مضبوطی دے اور ہم سبھی کو ملی قیادت کو مضبوط کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، جزاکم اللہ خیرا

عبدالغفور صاحب کی یاد میں 20 ستمبر کو پٹنہ میں ایک روزہ سیمینارپٹنہ، 18 ستمبر 2026: سابق وزیر اعلیٰ، مجاہدِ آزادی اور سم...
09/18/2026

عبدالغفور صاحب کی یاد میں 20 ستمبر کو پٹنہ میں ایک روزہ سیمینار

پٹنہ، 18 ستمبر 2026: سابق وزیر اعلیٰ، مجاہدِ آزادی اور سماجی و سیاسی رہنما مرحوم عبدالغفور صاحب کی یاد میں عبدالغفور میموریل فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام 20 ستمبر 2026، بروز اتوار پٹنہ میں ایک روزہ سیمینار منعقد کیا جائے گا۔ سیمینار کا موضوع ہے ’’عبدالغفور اور ان کی بے لوث زندگی‘‘۔
فاؤنڈیشن کے سیکریٹری محمد رفیع کے مطابق سیمینار کی صدارت ڈاکٹر احمد اشفاق کریم، سابق ایم پی و چانسلر، الکریم یونیورسٹی، کٹیہار، کریں گے، جبکہ جناب شرون کمار، معزز وزیر، محکمۂ دیہی ترقیات، اطلاعات و تعلقات عامہ، حکومتِ بہار، بطور مہمانِ خصوصی شرکت فرمائیں گے۔
سیمینار کا انعقاد دوپہر 2 بجے سے جگ جیون رام سنسدیہ ادھین و راجنیتک شودھ سنستھان مینگلس روڈ پٹنہ بہار اسمبلی گیٹ نمبر 13 کے سامنے ہوگا۔‌
محمد رفیع کہا کہ عبدالغفور صاحب کی سیاسی، سماجی اور قومی خدمات، ان کی اصول پسندی، دیانت داری، خودداری اور بے لوث زندگی کو نئی نسل تک پہنچانے کے مقصد سے یہ پروگرام منعقد کیا جا رہا ہے۔ فاؤنڈیشن کے صدر محمد منہاج ڈھاکوی نے اہلِ علم، ادیبوں، سماجی کارکنوں، دانشوروں اور عبدالغفور صاحب سے وابستہ، ان سے محبت رکھنے والے افراد سے سیمینار میں شرکت کی اپیل کی ہے۔
محمد منہاج ڈھاکوی، صدر، عبدالغفور میموریل فاؤنڈیشن، اور محمد رفیع، سیکریٹری، عبدالغفور میموریل فاؤنڈیشن، نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ بڑی تعداد میں شرکت کرکے مرحوم عبدالغفور صاحب کی قومی و سماجی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کریں۔ پروگرام میں پورے بہار بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوں گے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟
09/18/2026

آپ کی کیا رائے ہے؟

اردو کونسل کاملی ولسانی مشاورتی اجلاس : ایک تجزیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انوارالحسن وسطوی9430649112      ربع...
09/18/2026

اردو کونسل کاملی ولسانی مشاورتی اجلاس : ایک تجزیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انوارالحسن وسطوی
9430649112
ربع صدی قبل قائم کی گئی اردو کی لسانی تنظیم " اردو کونسل ،ہند کے زیر اہتمام گذشتہ 13/ستمبر کو بمقام بہار اردو اکادمی ,/ پٹنہ کے کانفرنس ہال میں ملی و لسانی تنظیموں کا مشاورتی اجلاس منعقد کرنا ایک مستحسن قدم ہے جس کے لیے اراکین اردو کونسل با لخصوص کونسل ہذا کے صدر جناب اختر الایمان (ایم۔ایل۔اے) اور ناظم اعلیٰ ڈاکٹر اسلم جاوداں مبارکباد کےبھی مستحق ہیں اور شکریہ کےبھی کہ انہوں نے ملی مسائل اور اپنی مادری زبان اردو کے مسائل کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے اس کے حل ڈھونڈنے کےلیے بہار کی ملی ولسانی تنظیموں کا ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ گرچہ یہ اجلاس اردو کونسل کے زیر اہتمام منعقد ہوا لیکن حقیقت میں یہ اجلاس صرف اردو کونسل کا نہیں تھا ںلکہ مختلف ملی اور لسانی تنظیموں کا مشترکہ اجلاس تھا جس میں متعدد ملی اور لسانی تنظیموں کے ذمہ داران نے شرکت فرماکر اس اجلاس کی معنویت کو تقویت بخشنے کا کام کیا ۔ عموماً یہ دستور ہے کہ جس تمظیم کے زیر اہتمام کوئی اجلاس منعقد ہو تاہے یاکوئی میٹنگ ہوتی ہے تو اس کی صدارت ا س تنظیم کے صدرخود فرماتے ہیں لیکن اردو کونسل کے مزکورہ اجلاس کی یہ انفرادیت تھی کہ تنظیم کے صدر جناب اختر الایمان کی موجودگی میں اس کی صدارت کے لیے اردو کونسل کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر اسلم جاوداں نے ریاست بہار کے مشہور ومعروف عالم دین ،معروف دانشور،مورخ و محقق اور اردو تحریک سے گہری وابستگی رکھنے والی شخصیت مولانا ڈاکٹرابوالکلام قاسمی سابق پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمش الہدیٰ ،پٹنہ کانام صدارت کے لیے پیش کیا جس کی حاضرین نے بھر پور تائید کی ۔اردو کونسل کے صدر اور ناظم اعلیٰ کی یہ وسیع القلبی،دیدہ وری اور دانش مندی قابل تعریف بھی ہے اور دیگر تنظیموں کے لیے قاںل تقلید بھی۔
فی الوقت ہمارے ملی مسائل اور ہماری مادری زبان اردو کے مسائل اس قدر سنگین ہوگیے ہیں جن کے تدارک کے لیے ہمیں متحد ہونا اور اپنے حقوق کی حصولیابی کے لیے اجتماعی قیادت تیار کرنا اور مختلف تنظیموں کا متحدہ محاذ بنانا بے حد ضروری ہوگیاہے۔قابل مبارکباد ہیں ارو کونسل کے صدر جناب اختر الایمان اور ناظم اعلیٰ ڈاکٹر اسلم جاوداں جنہوں نے ملی ولسانی مسائل کے حل کے لیے اجتماعی قیادت تیار کرنے کے مقصد سے ملی ولسانی تنظیموں کا مشاورتی اجلاس منعقد کیا ۔اردو کونسل نے یہ محسوس کیا کہ اردو کے مسائل کے حل کے لیے جب خود اردو کونسل نے اور اس کے علاوہ دوسری لسانی تنظیموں کے ذمہ داروں نے بھی وزیر تعلیم ،نائب وزیر اعلٰی ،وزیر اعلیٰ اور گور نر صاحبان سے مل کر انہیں اردو کے مسائل کے تعلق سے متعدد دفعہ میمورنڈم دیے لیکن ابھی تک اردو کے کسی مسئلہ کا حل نہیں نکل سکاہے۔نہ اردو اسکولوں میں مامور غیر اردو داں ہیڈ ماسٹر کو ہٹایا گیا ،نہ ہائ اسکولوں میں اردو کی لازمیت بحال کرنے کا حکم نامہ جاری کیا گیا ،نہ مانک منڈل میں سدھار کرکے اردو ٹیچر کا ایک پوسٹ مختص کیا گیا اور نہ نئے قایم شدہ ڈگری کالجوں میں اردو کے اسسٹنٹ پروفیسروں کے لیے اسامیاں نکال گئیں ۔یعنی کہ اردو کے تعلق سے کوئی بھی مطالبہ ابھی تک پورا نہیں کیا گیاہے۔ لہذا ایسے حالات میں اپنے مطالبات کو مضبوطی کے ساتھ حکومت کے سامنے رکھنے کے لیے مختلف ملی و لسانی تنظیموں کے سر کردہ ذمہ داروں،دانشوروں ،علمائے کرام اور اساتذہ پر مشتمل ایک مشترکہ محاذ کا تشکیل دینا وقت کی ایک اہم ضرورت بن چکاہے ۔ مثال موجود
ہے کہ ہمارے ملک میں جب مختلف نظریات کی مختلف سیاسی پارٹیاں حصول اقتدار کے مقصد سے این۔ڈی۔اے ،یو۔پی۔اے اور انڈیا اتحاد بنا کر اپنامقصد حاصل کرسکتی ہیں ، کاندھےسےکاندھا ملاکر اور ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چل سکتی ہیں تو ہم اردو والے اپنی زبان کے تحفظ اور اپنے حقوق کی حصولیابی کے لیے کوئی متحدہ محاذ کیوں نہیں بنا سکتے ؟ ؟ ؟
اگر ہم ان نا مساعد حالات میں بھی متحد ہوکر اپنے حقوق کی حصولیابی کی کوشش نہیں کر سکتے تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ہم خود متحد ہونا نہیں چاہتے اور ہم ٹکرے ٹکرے اور خانے خانے میں بنٹ کر اپنے وجود کو ختم کرنے کا تہیہ کر چکے ہیں۔ ہمارے حالات جس موڑ پر آچکے ہیں اس سے مقابلہ کرنے کی واحد صورت ہے اجتماعی قیادت تیار کرنا اور مل کر اپنی بقا کا تحفظ کرنا ۔ ورنہ اب ہمارے مذہب ،ہماری تہذیب اور ہماری زبان سب پر خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ہماری رہنمائی کے لیے یہ شعرہما رے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے :
ایک ہو جائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبیں
ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سےکیا بات بنے
مذکورہ مشاورتی اجلاس کے شرکاء حضرات کے ذریعہ پیش کی گئی تجاویز کی روشنی میں اردو زبان کے تحفظ کے لیے منظم تحریک چلائے جانے کا جو فیصلہ لیا گیاہے ،بہار کی اردو ابادی کی جانب سے اس کا خیر مقد م کیا جانا چاہیئے اور ہر اردو داں کو اس تحریک کا حصہ بن کر اردو کے تحفظ کے لیے اپنا عملی تعاون پیش کرنا چاہیے۔
اردو کونسل کے ذمہ داروں سے راقم السطور کی یہ مخلصانہ گذارش ہوگی کہ مشترکہ محاذ کی تشکیل کے لیے9/رکنی سرپرست کمیٹی تشکیل دینے کا جو فیصلہ لیا گیاہے ،اس سلسلے میں یہ کوشش ضرور کی جائے کہ ہر بڑی تنظیم کی نمائندگی کو اس میں یقینی بنایا جائے ۔اگر کمیٹی کو وسعت دینے کے لیے9/کے بجائے 11/نفری کمیٹی تشکیل دینے کی ضرورت ہوتو اسے گوارہ کر لیا جائے ۔دوم یہ کہ13/ستمبر کے اس مشاورتی اجلاس میں جن تنظیموں کی نمائندگی اگر کسی سبب سے نہ ہو سکی ہو تو ان سے پھر رابطہ کر کے انہیں ساتھ لینے کی ہر ممکن کوشش کی جائے ۔ اردو کونسل کے اس قدم سے اگر کسی تنظیم کو کسی طرح کی کوئی غلط فہمی اور بدگمانی ہوتو اسے بھی دور کرنے کی کوشش کی جائے ۔ ملی اتحاد کی خاطر کسی بھی طرح کی قربانی دینے کے لیے عاجزی وانکساری کا مظاہرہ کرنا بڑپن کی پہچا ن ہے۔
راقم السطور کی ایک حقیر دائے یہ بھی ہے کہ اردو کونسل ایک لسانی تنظیم ہے اس لیے اسے خود کو اردو کے لسانی مسائل اور اس کے حل کی جانب ہی اپنے دائرے کو محدود رکھنا چاہیے۔جو ملی اور قومی سطح کے مسائل ہیں اسے ملک کی ملی تنظیموں کے ذمّے چھوڑ دینا چاہیے۔ملک کی ملی تنظیموں کی یہ ذمہ داری ہے کہ تمام ملی تنظیمیں بھی بلا اختلاف مسلک ایک مشترکہ محاذ بنائیں اور حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے متحد ہو جائیں ۔اب صرف بیانات دینے اور قرار دادپاس کرنے سے کام چلنے والا نہیں ہے۔اب پانی سر سے اوپر ہو چکاہے۔اگر ڈوبنے سے بچناہے تو تیرنا سیکھنا ہوگا۔ ہم جمہوری ملک میں رہتے ہیں ،چنانچہ جمہوری طریقے سے ہمیں اپنی لڑائی لڑنی ہوگی۔کسی شاعر نے صحیح کہاہے :
خاموش مزاجی تجھے جینے نہیں دے گی
جینا ہے تو اس دور میں کہرام مچا دو

ادارہ ادب اسلامی ہند مظفرپور کی نئی مجلس عاملہ کا انتخابپروفیسر اقبال حسین صدر اور ایمل ہاشمی مائل سکریٹری منتخب مظفرپور...
09/17/2026

ادارہ ادب اسلامی ہند مظفرپور کی نئی مجلس عاملہ کا انتخاب
پروفیسر اقبال حسین صدر اور ایمل ہاشمی مائل سکریٹری منتخب

مظفرپور 16 ستمبر (پریس ریلیز)

ادارہ ادب اسلامی ہند مظفرپور ضلع کی انتخابی نشست پروفیسر اقبال حسین شعبہ انگریزی بہار یونیورسٹی مظفرپور کی رہائش "دار الامان" فیض کالونی مظفرپور میں ہوئی، جس میں اتفاق رائے سے پروفیسر اقبال حسین کو ادارہ ادب سلامی ہند مظفرپور کا ضلعی صدر، ڈاکٹر حسن رضا صدر شعبئہ اردو آر ڈی ایس کالج مظفرپور کو نائب صدر. ایمل ہاشمی مائل کو سکریٹری، حبان الحق کو جوائنٹ سکریٹری اور ڈاکٹر رفیع اللہ انصاری کو خازن منتخب کیا گیا. اس موقع پر امیر مقامی ڈاکٹر محمود الحسن، ادارہ ادب اسلامی ہند بہار کے ریاستی صدر عزیز انجم، جنرل سیکرٹری کامران غنی صبا، بہار انٹرمیڈیٹ کونسل پٹنہ کے سابق وائس چیئرمین پروفیسر سید ابوذر کمال الدین، قومی اساتذہ تنظیم کے صدر محمد رفیع، ڈاکٹر محمد سراج اللہ تیمی، التمش داؤدی، پروفیسر محمد سلمان، ہشام طارق، محمد احتشام حسین، ڈاکٹر فیضان حسن ضیائی، محمد تاج الدین، ڈاکٹر وسیم رضا، صورت کمار سنگھ، دھرم راج کمار، تتھاگت بنرجی، ڈاکٹر منصور معصوم، مفتی عرفان قاسمی، وسیم غازی، افتخار احمد، ابو طلحہ قاسم، محتشم، آفرین پروین، افسانہ، مہوش ناز، صوفیہ پروین، نہاں افرین، محمد عارف، محتشم،اشرف امام سمیت کثیر تعداد میں معززین شہر موجود تھے.

پٹنہ میں نوجوان سائنس دان کانکلیو ۲۰۲۶، سائنس اور اردو کا حسین سنگمسید آصف امام کاکویکسی قوم کا مستقبل صرف اس کے ایوانوں...
09/11/2026

پٹنہ میں نوجوان سائنس دان کانکلیو ۲۰۲۶، سائنس اور اردو کا حسین سنگم

سید آصف امام کاکوی

کسی قوم کا مستقبل صرف اس کے ایوانوں، اقتدار کے مراکز یا بلند و بالا عمارتوں میں نہیں لکھا جاتا، بلکہ اس کا اصل مستقبل اس کے اسکولوں، مدرسوں، مکتبوں، کتابوں، تجربہ گاہوں اور سب سے بڑھ کر اس کے بچوں کی آنکھوں میں پلنے والے ان خوابوں میں لکھا جاتا ہے، جنہیں دنیا شاید آج معمولی سمجھتی ہو، لیکن وہی خواب آنے والے کل کی تاریخ رقم کرتے ہیں۔ آج کا بچہ جو سوال کرتا ہے، جو چیز جاننے کے لیے بے چین ہوتا ہے، جو کسی تجربے کو دیکھ کر حیرت سے پوچھتا ہے کہ ’’ایسا کیوں ہوتا ہے؟‘‘ دراصل وہی سوال مستقبل کی تحقیق کی پہلی بنیاد بنتا ہے۔ اگر اس سوال کو دبانے کے بجائے اسے علم، تحقیق، تجربے اور تخلیقی فکر کی روشنی مل جائے تو یہی ننھے ذہن کل کے سائنس دان، ڈاکٹر، انجینئر، محقق، موجد، ادیب اور مفکر بن سکتے ہیں۔ ۸ ستمبر ۲۰۲۶ کو پٹنہ کے گاندھی میدان کے قریب واقع شری کرشن سائنس سینٹر میں منعقد ہونے والا ’’نوجوان سائنس دان کانکلیو ۲۰۲۶‘‘ میرے لیے محض ایک تعلیمی پروگرام نہیں تھا۔ یہ میرے لیے ایک ایسا یادگار تجربہ تھا جس نے دل کو یہ یقین دلایا کہ اگر ہماری نئی نسل کو صحیح رہنمائی، مناسب مواقع اور حوصلہ دیا جائے تو ہمارے بچوں میں کسی بھی میدان میں آگے بڑھنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ تقریباً آٹھ گھنٹے تک جاری رہنے والے اس پروگرام میں سائنس، تحقیق، سوال و جواب، عملی تجربات، سائنس نمائش، اردو زبان، ادب، تہذیب اور بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کا ایسا حسین امتزاج دیکھنے کو ملا جسے آسانی سے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ شری کرشن سائنس سینٹر پہنچتے ہی جو منظر سامنے آیا، وہ اپنے اندر ایک پوری کہانی سموئے ہوئے تھا۔ مختلف اضلاع سے آنے والے طلبہ و طالبات، اساتذہ، ماہرینِ سائنس اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی موجودگی نے پورے ماحول کو ایک علمی میلے میں تبدیل کردیا تھا۔ بہار کے ۲۴ اضلاع سے تقریباً ۲۵۰ طلبہ و طالبات نے اس کانکلیو میں شرکت کی، جن میں ۷۴ مدارس کے طلبہ بھی شامل تھے۔ یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک امید ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر مدارس، اسکولوں اور مکتبوں کے بچوں کو مناسب پلیٹ فارم فراہم کیا جائے تو ان کے اندر بھی سائنس، تحقیق اور جدید علوم کے لیے غیر معمولی شوق پیدا کیا جاسکتا ہے۔ بچوں کے چہروں پر تجسس تھا، آنکھوں میں خواب تھے، لبوں پر سوال تھے اور ذہن میں کچھ نیا جاننے کی بے قراری تھی۔ یہی وہ منظر تھا جس نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ اس پروگرام کی خوشی میرے لیے اس لیے بھی دوبالا تھی کہ میرے فرزندان عدیان امام اور ایزان آصف بھی اس کانکلیو میں سائنس دان کے روپ میں شریک تھے۔ ایک والد کے لیے اس سے زیادہ خوشی کی بات کیا ہوسکتی ہے کہ اس کے بچے کتاب، سائنس، تحقیق اور تخلیقی سرگرمیوں کے درمیان کھڑے ہوں؟ میں نے اپنے بچوں کو جب سائنس کے اس ماحول میں دیکھا تو دل میں ایک عجیب سا اطمینان پیدا ہوا۔ خصوصاً ایزان آصف کے سائنسی ماڈل کو شرکا نے جس دلچسپی سے دیکھا اور پسند کیا، وہ میرے لیے ایک یادگار لمحہ تھا۔ ایک بچے کی محنت کو جب دوسرے بچے، اساتذہ اور ماہرینِ سائنس سراہتے ہیں تو اس کے اندر اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ یہی اعتماد آگے چل کر بڑے خوابوں میں تبدیل ہوتا ہے۔ اسی طرح عدیان امام نے سوال و جواب کے سیشن میں جس انداز سے سوال کیا، اس نے بھی میری توجہ اپنی طرف کھینچی۔ اس کے سوال میں محض ایک بچے کی معصوم تجسس نہیں تھا بلکہ یہ احساس بھی تھا کہ نئی نسل جواب سننے کے بجائے سوال پوچھنے کی صلاحیت پیدا کررہی ہے۔ اور یہی تو سائنسی مزاج ہے۔ سوال کرنا گستاخی نہیں، علم کی پہلی سیڑھی ہے۔ تجربہ کرنا ناکامی نہیں، دریافت کا راستہ ہے۔ اور ناکامی اختتام نہیں، کامیابی کی طرف ایک قدم ہے۔ نوجوان سائنس دان کانکلیو کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ یہاں سائنس کو محض نصابی کتاب کے ایک مضمون کے طور پر پیش نہیں کیا گیا بلکہ اسے زندگی، تجربے، سوال، تحقیق اور عملی سرگرمی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ یہ پروگرام قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی، کائنات فاؤنڈیشن، جہان آباد، شری کرشن سائنس سینٹر، وزارتِ ثقافت، حکومتِ ہند اور بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ، حکومتِ بہار کے باہمی اشتراک سے منعقد ہوا۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت شری کرشن سائنس سینٹر کے سینٹر ہیڈ انجینئر سرینواپی کنڈا نے کی، جبکہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ تقریب میں بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چیئرمین سلیم پرویز، بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ کے چیئرمین محمد ارشاداللہ، روبن گروپ آف ہاسپٹلس کے بانی و مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر ستیہ جیت کمار سنگھ، پرائیویٹ اسکول اینڈ چلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے قومی صدر سید شمائل احمد، بہار اسٹیٹ شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین ارشاد علی اور زینب انٹرنیشنل گرلس پبلک اسکول، کٹیہار کے فاؤنڈر چیئرمین ڈاکٹر شکیل احمد خان سمیت متعدد معززین، اساتذہ اور طلبہ موجود تھے۔ صدارتی خطاب میں انجینئر سرینواپی کنڈا نے بچوں کی بڑی تعداد اور سائنس کے تئیں ان کے جوش و خروش کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کسی بھی ملک کا مستقبل ہوتی ہے اور اگر اس کے اندر سوال کرنے، تجربہ کرنے اور نئی چیزیں دریافت کرنے کا جذبہ پیدا کردیا جائے تو وہ ملک کی سائنسی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ ان کی بات میں ایک بنیادی تعلیمی حقیقت پوشیدہ تھی کہ سائنس کو صرف کتابوں میں پڑھا نہیں جاسکتا، اسے تجربہ بھی کرنا پڑتا ہے، اسے محسوس بھی کرنا پڑتا ہے اور اسے زندگی سے جوڑنا بھی پڑتا ہے۔ افتتاحی خطاب میں ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے نہایت اہم اور فکر انگیز بات کہی کہ سائنسی مزاج کے بغیر نہ اچھی تحقیق وجود میں آسکتی ہے اور نہ ہی تنقید و تخلیق کا حق ادا کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل میں سائنٹفک ٹیمپرامنٹ پیدا کرنا محض ایک تدریسی ضرورت نہیں بلکہ اکیسویں صدی کا اہم تعلیمی تقاضا ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ میں بھی سائنسی مزاج، تخلیقی و تنقیدی فکر اور اختراع کے فروغ پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ ان کا یہ پیغام دراصل آج کے والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے لیے ایک آئینہ ہے۔ ہم اپنے بچوں سے اچھے نمبر چاہتے ہیں، کامیابی چاہتے ہیں، بڑے عہدے چاہتے ہیں، لیکن کیا ہم ان سے سوال کرنے کی آزادی بھی چاہتے ہیں؟ کیا ہم انہیں تجربہ کرنے دیتے ہیں؟ کیا ہم انہیں ناکام ہونے دیتے ہیں؟ کیا ہم ان کے ’’کیوں‘‘ کا جواب تلاش کرنے میں ان کا ساتھ دیتے ہیں؟ اگر جواب ہاں ہے تو ہم واقعی ایک سائنسی نسل کی تعمیر کررہے ہیں۔ اس کانکلیو کی سب سے منفرد خصوصیت سائنس اور اردو کا امتزاج تھا۔ ڈاکٹر شمس اقبال نے بجا طور پر اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ اردو محض شاعری، غزل، تنقید اور ادبی اظہار کی زبان نہیں بلکہ اس میں سائنس، ٹیکنالوجی اور جدید علوم کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ یہ بات ہمیں سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم اردو کو نئی نسل کے دلوں میں زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو اسے صرف ماضی کی یادگار بنا کر نہیں رکھا جاسکتا۔ اردو کو مستقبل سے جوڑنا ہوگا۔ اردو میں سائنس کی کتابیں لکھی جائیں۔ اردو میں سائنسی مضامین شائع ہوں۔ اردو میں ٹیکنالوجی کی بات ہو۔ اردو میں ماحولیات، طب اور جدید تحقیق کو سمجھایا جائے۔ تب ہی ہمارا بچہ یہ محسوس کرے گا کہ اردو صرف ماضی کی زبان نہیں، مستقبل کی زبان بھی بن سکتی ہے۔ کانکلیو کے دوران ’’اردو بازگشت‘‘ کے عنوان سے بیت بازی اور طلبہ کا تمثیلی مشاعرہ بھی منعقد ہوا۔ یہ سیشن اس پورے پروگرام میں ایک الگ رنگ لے کر آیا۔ ایک طرف سائنس کے تجربات، سائنسی سوالات اور تحقیق کی گفتگو تھی تو دوسری طرف اردو شعر و ادب، زبان اور تہذیب کی خوشبو۔ یہ منظر دراصل اس حقیقت کی علامت تھا کہ سائنس اور ادب ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ انسانی ذہن کو روشن کرنے والی دو مختلف قوتیں ہیں۔ سائنس ہمیں کائنات کو سمجھنا سکھاتی ہے اور ادب ہمیں انسان کو سمجھنا سکھاتا ہے۔ اس پورے پروگرام کے پیچھے کائنات فاؤنڈیشن کے فاؤنڈر و سکریٹری شکیل احمد کاکوی کی محنت اور فکر نمایاں طور پر محسوس ہوئی۔ کاکو کی سرزمین سے اٹھنے والی یہ علمی آواز پٹنہ کے شری کرشن سائنس سینٹر تک پہنچی۔ یہ ایک چھوٹا قدم نہیں ہے۔ اب ضرورت ہے کہ یہ کوشش پٹنہ تک محدود نہ رہے۔ یہ سلسلہ بہار کے ہر ضلع تک پہنچے۔ ہر اسکول تک پہنچے۔ ہر مدرسے تک پہنچے۔ ہر مکتب تک پہنچے۔ تاکہ کسی دور افتادہ گاؤں کا بچہ بھی یہ محسوس کرسکے کہ اس کے خواب کی بھی کوئی قیمت ہے۔ کانکلیو کے مختلف سیشنز نے بچوں کو براہِ راست ماہرین سے گفتگو کا موقع فراہم کیا۔ سائنس دانوں سے ملاقات: سائنسی گفتگو اور نوجوان ذہنوں سے مکالمہ‘‘ کے سیشن میں طلبہ نے ماہرینِ سائنس سے سوالات کیے اور اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے مختلف سوالات کے جوابات حاصل کیے۔ پروفیسر ڈاکٹر ڈولی سنہا، ڈاکٹر کماری نمیشا اور انجینئر سرینواپی کنڈا نے سائنسی موضوعات پر گفتگو کی، جبکہ ڈاکٹر اظفر احمد نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ اس سیشن کا سب سے خوب صورت پہلو یہی تھا کہ بچوں کو صرف سننے والا نہیں بلکہ سوال کرنے والا بنایا گیا۔ عملی سائنس‘‘ کے سیشن میں مختلف سائنسی اصولوں کو تجربات اور عملی مظاہروں کے ذریعے طلبہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ محمد آفتاب حسین نے سائنسی مظاہرے پیش کیے اور ستیش رنجن نے نظامت کے فرائض انجام دیے، جبکہ سیشن کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر ارون کمار نے کی۔ اس کے ساتھ سائنس نمائش نے بھی بچوں اور شرکا کی توجہ اپنی جانب مبذول کی۔ مختلف ماڈلز، تجربات اور تخلیقی منصوبوں نے یہ ثابت کیا کہ بچوں کے اندر صلاحیت کی کمی نہیں، صرف مواقع کی کمی ہے۔ ایزان آصف کا ماڈل بھی شرکا کی دلچسپی کا مرکز بنا اور اسے جس انداز سے پسند کیا گیا، وہ اس ننھے سائنس داں کے لیے یقیناً ایک حوصلہ افزا تجربہ تھا۔ میرے لیے اس پروگرام کا ایک یادگار لمحہ وہ بھی تھا جب میرے فرزند عدیان امام نے سوال و جواب کے سیشن میں ایک ایسا سوال کیا جس نے مجھے ایک باپ کی حیثیت سے اندر تک خوش کردیا۔ بچے کا سوال صرف ایک سوال نہیں ہوتا، وہ اس کے ذہن کے اندر جاری سوچ کی کھڑکی ہوتا ہے۔ جب بچے سوال پوچھتے ہیں تو ہمیں ان کے سوال کو روکنے کے بجائے اسے آگے بڑھانا چاہیے۔ ہمیں کہنا چاہیے اور پوچھو! مزید سوچو! تجربہ کرو! جواب تلاش کرو! کیونکہ شاید آج کا یہی سوال کل کی کسی بڑی تحقیق کی بنیاد بن جائے۔ اس کانکلیو سے میرے دل میں والدین کے لیے بھی ایک پیغام پیدا ہوا ہے۔ اپنے بچوں کو صرف موبائل کی اسکرین، ٹیوشن اور امتحان کی چار دیواری تک محدود نہ رکھیے۔ انہیں کتابوں کی دنیا دکھائیے۔ سائنس سینٹر لے جائیے۔ میوزیم دکھائیے۔ انہیں تجربات کرنے دیجیے۔ انہیں سوال کرنے دیجیے۔ اور سب سے بڑھ کر ان کے سوالوں کو اہمیت دیجیے۔ کیا معلوم آج سائنس نمائش دیکھنے والا کوئی بچہ کل عظیم سائنس دان بن جائے۔ کیا معلوم آج کسی ماڈل کو بنانے والا بچہ کل ایک نئی ایجاد کردے۔ کیا معلوم آج اردو میں سائنس کی بات سننے والا بچہ کل اردو میں سائنسی کتاب لکھنے والا محقق بن جائے۔ خواب کبھی چھوٹا نہیں ہوتا، خواب دیکھنے والی آنکھ کو حوصلہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف روزگار نہیں ہمیں اپنے بچوں کو صرف ڈاکٹر یا انجینئر بنانے کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔ ہمارا بچہ ڈاکٹر بنے، ضرور بنے۔ انجینئر بنے، ضرور بنے۔ سائنس دان بنے، ضرور بنے۔ حافظ بنے، عالم بنے، ادیب بنے، شاعر بنے، استاد بنے، محقق بنے، صحافی بنے، ہر میدان میں آگے بڑھے۔ لیکن اس کے ساتھ اس کے اندر انسانیت، اخلاق، تحقیق، تخلیق، برداشت، دلیل اور سائنسی فکر بھی پیدا ہو۔ کیونکہ تعلیم صرف روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں، انسان بنانے کا عمل بھی ہے۔ کانکلیو کا آخری سیشن ’’اختتامی تقریب و تقسیمِ انعامات‘‘ پر مشتمل تھا، جس میں مختلف سرگرمیوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کی گئی اور انہیں انعامات سے نوازا گیا۔ اس سیشن کی صدارت شفیع مشہدی، سابق چیئرمین اردو ایڈوائزری کمیٹی، حکومتِ بہار نے کی، جبکہ پروفیسر اعجاز علی ارشد، وائس چانسلر مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسٹی، پٹنہ، پروفیسر ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی، چیئرمین فرحان فاؤنڈیشن، انڈیا اور ڈاکٹر احمد عبدالحئی، چیئرمین حئی فاؤنڈیشن، ایچ ایم آر آئی، پٹنہ بطور مہمانانِ خصوصی موجود تھے۔ یہ اختتام دراصل اختتام نہیں بلکہ ایک نئے سفر کا آغاز تھا۔ اس موقع پر جناب ایس۔ ایم۔ اشرف فرید کا ذکر بھی ضروری ہے۔ اردو صحافت، فکری بصیرت اور تہذیبی شعور کے حوالے سے ان کی خدمات قابلِ احترام ہیں۔ اردو زبان و ادب کے لیے ان کی وابستگی اور فکری خدمات ایک معتبر باب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ایسے لوگوں کی موجودگی اور حوصلہ افزائی اس نوع کے پروگراموں کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ تقریباً آٹھ گھنٹے تک جاری رہنے والے اس پروگرام کے بعد جب میں واپس لوٹا تو میرے ذہن میں صرف ایک سوال نہیں بلکہ ایک پورا احساس تھا کیا ہم اپنی نئی نسل کو وہ مواقع دے رہے ہیں جن کی وہ حقدار ہے؟ میرا جواب تھا: ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ۲۵۰ بچے ایک امید ہیں، لیکن بہار میں بچوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ ۷۴ مدارس کے طلبہ ایک اچھی شروعات ہیں، لیکن ہمیں اس دائرے کو مزید وسیع کرنا ہوگا۔ ایک سائنس نمائش ایک خوب صورت قدم ہے، لیکن ہمیں ہر ضلع میں سائنس نمائش چاہیے۔ ایک کانکلیو ایک روشن مثال ہے، لیکن ہمیں ایسے سینکڑوں پروگراموں کی ضرورت ہے۔ میرے نزدیک نوجوان سائنس دان کانکلیو ۲۰۲۶ کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس میں ۲۵۰ بچے شریک ہوئے، مختلف سیشن منعقد ہوئے یا انعامات تقسیم کیے گئے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ اس پروگرام نے بچوں کے ذہن میں ایک سوال پیدا کیا، ایک خواب جگایا اور یہ احساس دیا کہ وہ بھی کچھ نیا کرسکتے ہیں۔ قومیں صرف عمارتیں تعمیر کرنے سے ترقی نہیں کرتیں۔قومیں ذہن تعمیر کرنے سے ترقی کرتی ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو کتاب دینی ہوگی۔ انہیں سوال دینا ہوگا۔ انہیں تحقیق کا راستہ دینا ہوگا۔ انہیں سائنس دینی ہوگی۔ انہیں تخلیق کا حوصلہ دینا ہوگا۔ اور ساتھ ہی انہیں اپنی زبان، اپنی تہذیب، اپنی ثقافت اور اپنی ادبی شناخت سے بھی جوڑنا ہوگا۔ کاکو سے پٹنہ تک پہنچنے والی یہ کوشش قابلِ تحسین آغاز ہے۔ اب ضرورت ہے کہ یہ سلسلہ یہیں نہ رک جائے۔ بہار کے مختلف اضلاع میں باقاعدگی سے نوجوان سائنس دان کانکلیو ہوں۔ سائنس میلے ہوں۔ سائنسی ورکشاپس ہوں۔ مطالعاتی دورے ہوں۔ سائنس سینٹرز سے بچوں کو جوڑا جائے۔ مدارس،اسکولوں اور مکتبوں کے بچوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر لایا جائے۔ اور انہیں بتایا جائے کہ سائنس کسی ایک طبقے، ایک ادارے یا ایک زبان کی میراث نہیں ہے۔ سائنس ہر اس بچے کے لیے ہے جو سوال پوچھنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ میں نے ۸ ستمبر کو شری کرشن سائنس سینٹر میں بچوں کے چہروں پر جو چمک دیکھی، اسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا آسان نہیں۔ وہ چمک صرف خوشی کی نہیں تھی۔ وہ امید کی چمک تھی۔ وہ تجسس کی چمک تھی۔ وہ مستقبل کی چمک تھی۔ ایزان آصف کو اپنے سائنسی ماڈل کے ساتھ دیکھنا، عدیان امام کو سوال کرتے دیکھنا، مختلف اضلاع سے آئے بچوں کو سائنس نمائش میں دلچسپی لیتے دیکھنا اور ماہرینِ سائنس سے براہِ راست گفتگو کرتے ہوئے ان ننھے ذہنوں کو دیکھنا میرے لیے اس پورے پروگرام کا سب سے قیمتی حاصل تھا۔ ایک صحافی کی حیثیت سے میں نے بہت سے پروگرام دیکھے ہیں، بہت سی تقریبات کا مشاہدہ کیا ہے اور بہت سی خبریں لکھی ہیں، لیکن بعض پروگرام خبر سے کہیں آگے بڑھ جاتے ہیں۔ وہ دل پر اثر چھوڑتے ہیں۔ نوجوان سائنس دان کانکلیو ۲۰۲۶ بھی میرے لیے ایسا ہی پروگرام تھا۔ یہ صرف ایک پروگرام نہیں تھا یہ صرف سائنس کا پروگرام نہیں تھا۔ یہ صرف اردو کا پروگرام نہیں تھا۔ یہ صرف طلبہ کی ایک سرگرمی نہیں تھی۔ یہ علم، سائنس، اردو، ادب، تحقیق، تخلیق اور نئی نسل کے خوابوں کا حسین سنگم تھا۔ شکیل احمد کاکوی اور ان کی پوری ٹیم اس بامقصد، خوب صورت اور مستقبل ساز کوشش کے لیے دل کی گہرائیوں سے مبارک باد کی مستحق ہے۔ میری دعا ہے کہ یہ چراغ روشن رہے۔ اس کی روشنی بڑھتی رہے۔ کاکو سے اٹھنے والی یہ علمی و سائنسی آواز بہار کے ہر گاؤں، ہر شہر، ہر اسکول، ہر مدرسے، ہر مکتب اور ہر گھر تک پہنچے۔ اور ایک دن ایسا آئے کہ ہمارے بچے صرف سائنس کی نمائش دیکھنے والے نہ ہوں، بلکہ سائنس کی نئی تاریخ لکھنے والے ہوں۔ ہمیں بچوں سے کہنا ہوگا کتاب اٹھاؤ! سوال کرو! سائنس سمجھو! تجربہ کرو! تحقیق کرو! اردو پڑھو! اپنی تخلیقی صلاحیت پہچانو! اپنے خوابوں پر یقین کرو! اور اپنے مستقبل کو خود تعمیر کرو! کیونکہ جس نسل کے ہاتھ میں کتاب، ذہن میں سوال، دل میں انسانیت، فکر میں سائنسی مزاج اور زبان میں اردو کی مٹھاس ہو، اس نسل کا مستقبل کبھی تاریک نہیں ہوسکتا۔ یہ نوجوان سائنس دان کانکلیو نہیں تھا، یہ نئی نسل کے خوابوں کا جشن تھا۔ یہ صرف ایک پروگرام نہیں تھا۔ یہ مستقبل کی طرف اٹھتا ہوا ایک روشن قدم تھا۔ سائنس کے نام۔ علم کے نام۔ اردو کے نام۔ نئی نسل کے نام۔ اور ایک روشن مستقبل کے نام۔

Address

Bhairopur
Sacramento, CA

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when S R Media ایس آر میڈیا posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to S R Media ایس آر میڈیا:

Shortcuts

Share