27/08/2026
محمد اکرم — وہ فاسٹ بولر جسے وقت نے وہ مقام نہ دیا جس کا وہ حقدار تھا
سن 1999 میں پاکستان کرکٹ میں رفتار کا چرچا تھا۔ دنیا شعیب اختر کی تیز گیندوں سے حیران ہو رہی تھی، لیکن اسی وقت پاکستان کے ایک اور فاسٹ بولر کا نام بھی لیا جا رہا تھا۔
محمد اکرم۔
یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان کے فاسٹ بولنگ اٹیک میں وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے لیجنڈز موجود تھے۔ پھر شعیب اختر نے اپنی رفتار سے دنیا میں الگ پہچان بنا لی۔ ایسے ماحول میں کسی نئے فاسٹ بولر کے لیے مستقل جگہ حاصل کرنا آسان کام نہیں تھا۔
لیکن محمد اکرم کے اندر ایک ایسی خوبی تھی جو انہیں دوسروں سے الگ کرتی تھی۔ وہ صرف تیز گیند نہیں کرتے تھے بلکہ باؤنس، سیم اور سوئنگ کے ذریعے بلے باز کو پریشان کرنے کا ہنر بھی جانتے تھے۔
کچھ سفر ایسے ہوتے ہیں جن کی منزل چھوٹی نہیں ہوتی،
بس راستے میں آنے والے مسافر زیادہ بڑے ہوتے ہیں۔
10 ستمبر 1974 کو اسلام آباد میں پیدا ہونے والے محمد اکرم دائیں ہاتھ سے فاسٹ میڈیم بولنگ کرتے تھے۔ ان کا انداز شعیب اختر کی طرح جارحانہ شور والا نہیں تھا، بلکہ ان کی طاقت ان کے قد، باؤنس، لائن اور مستقل مزاجی میں تھی۔
15 ستمبر 1995 کو فیصل آباد میں سری لنکا کے خلاف انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں قدم رکھا، اور اسی دورے میں ون ڈے ڈیبیو بھی کر لیا۔
لیکن محمد اکرم کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ان کی صلاحیت نہیں بلکہ پاکستان کا غیر معمولی فاسٹ بولنگ اٹیک تھا۔
وسیم اکرم تھے، وقار یونس تھے، عاقب جاوید تھے، بعد میں شعیب اختر آ گئے۔ عبدالرزاق اور اظہر محمود جیسے آل راؤنڈرز بھی اپنی جگہ بنا چکے تھے۔ چنانچہ محمد اکرم کو ہر مرتبہ ٹیم میں آنے کے لیے صرف مخالف ٹیم کے بلے بازوں سے مقابلہ نہیں کرنا پڑتا تھا، بلکہ پاکستان کے اپنے فاسٹ بولنگ اٹیک میں جگہ حاصل کرنے کی جنگ بھی لڑنی پڑتی تھی۔
پھر 1999 کا دور آیا
ورلڈ کپ کے بعد پاکستان آسٹریلیا کے مشکل دورے پر پہنچا۔ پرتھ میں آسٹریلیا کے خلاف تیسرا ٹیسٹ شروع ہوا۔
پاکستان کی پہلی اننگز صرف 155 رنز پر ختم ہوگئی۔
اس کے بعد جب آسٹریلیا نے بیٹنگ شروع کی تو پاکستانی بولنگ میں ایک بولر نے سب سے زیادہ نمایاں کارکردگی دکھائی۔
محمد اکرم۔
آسٹریلیا نے مجموعی طور پر 451 رنز بنائے۔ جسٹن لینگر نے 144 اور رکی پونٹنگ نے 197 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جبکہ دونوں نے پانچویں وکٹ کے لیے 327 رنز کی بڑی شراکت قائم کی۔
لیکن اتنے بڑے اسکور کے باوجود محمد اکرم نے آسٹریلیا کے بیٹنگ آرڈر کو مسلسل مشکل میں رکھا۔
انہوں نے 27.5 اوورز میں 138 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔
یہ وہ موقع تھا جب محمد اکرم نے ثابت کیا کہ بڑے ناموں کے سامنے بڑے اسٹیج پر کھیلنے کی صلاحیت ان کے اندر موجود تھی۔
عمران خان کی نظر میں محمد اکرم
محمد اکرم کے کیریئر سے جڑی سب سے دلچسپ بات ان کی اپنی کارکردگی نہیں بلکہ عمران خان کا ایک تبصرہ بھی ہے۔
1999 کے ورلڈ کپ کے دوران جب شعیب اختر کی رفتار کا ذکر ہو رہا تھا تو عمران خان نے محمد اکرم کا نام بھی لیا اور انہیں پاکستان کا ایسا فاسٹ بولر قرار دیا جو رفتار کے معاملے میں شعیب اختر کے قریب تھا۔
محمد اکرم نے بعد میں خود بھی بتایا کہ آسٹریلیا کے دورے کے لیے ان کے انتخاب میں عمران خان کا کردار تھا۔
اور یہ صرف عمران خان کی رائے نہیں تھی۔ ویسٹ انڈیز کے عظیم فاسٹ بولر کولن کرافٹ نے بھی محمد اکرم اور محمد زاہد کو شعیب اختر کے برابر رفتار رکھنے والے بولرز میں شمار کیا تھا۔
ذرا تصور کریں۔
ایک طرف دنیا شعیب اختر کی رفتار دیکھ کر حیران تھی، اور دوسری طرف پاکستان کے پاس ایک ایسا بولر بھی موجود تھا جس کی رفتار کی گواہی عمران خان اور کولن کرافٹ جیسے بڑے نام دے رہے تھے۔
کچھ نام تاریخ کے صفحات پر بڑے حروف میں لکھے جاتے ہیں،
اور کچھ انہی صفحات کے کنارے پر رہ جاتے ہیں۔
مواقع اور انجریز کا امتحان
محمد اکرم کے لیے سب کچھ صرف ٹیلنٹ کا معاملہ نہیں تھا۔ انجریز، سلیکشن اور محدود مواقع نے بھی ان کے کیریئر پر گہرا اثر ڈالا۔
پرتھ میں آسٹریلیا کے خلاف پانچ وکٹیں لینے کے باوجود ان کے لیے اگلے میچ میں جگہ مستقل نہیں ہوئی۔
ان کا بین الاقوامی کیریئر مجموعی طور پر:
9 ٹیسٹ، 17 وکٹیں
23 ون ڈے، 19 وکٹیں
کل 32 بین الاقوامی میچ، 36 وکٹیں
ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی بہترین بولنگ 5/138 رہی، جو پرتھ میں آسٹریلیا کے خلاف آئی۔
لیکن اگر صرف ان اعداد و شمار سے محمد اکرم کو جانچا جائے تو شاید ان کی پوری کہانی سامنے نہیں آتی۔
فرسٹ کلاس کرکٹ میں اصل تصویر
فرسٹ کلاس کرکٹ میں محمد اکرم کا ریکارڈ کہیں زیادہ متاثر کن تھا۔
انہوں نے 125 فرسٹ کلاس میچوں میں 415 وکٹیں حاصل کیں۔ اس دوران انہوں نے تقریباً 20 ہزار سے زائد گیندیں کیں۔
ان کے نام:
18 مرتبہ ایک اننگز میں پانچ یا اس سے زیادہ وکٹیں
اور
ایک مرتبہ میچ میں 10 وکٹیں
بھی رہیں۔
ان کی بہترین فرسٹ کلاس بولنگ 8/49 تھی۔
یعنی بین الاقوامی کرکٹ میں محدود مواقع ملنے کے باوجود ڈومیسٹک کرکٹ میں انہوں نے بار بار اپنی صلاحیت ثابت کی۔
کیریئر کا ایک تلخ موڑ
محمد اکرم نے پاکستان کے لیے اپنا آخری ٹیسٹ 2001 میں نیوزی لینڈ کے خلاف ہیملٹن میں کھیلا۔
لیکن ان کے کیریئر کے آخری سال بھی سلیکشن کے عجیب واقعات سے بھرے ہوئے تھے۔
محمد اکرم کے مطابق 2001 میں عاقب جاوید نے انہیں بتایا کہ وسیم اکرم اور وقار یونس دونوں فٹ ہیں، اس لیے ایشین ٹیسٹ چیمپئن شپ کے اسکواڈ میں ان کی ضرورت نہیں۔
محمد اکرم اس وقت انگلینڈ چلے گئے جہاں ان کا کلب معاہدہ تھا۔
پھر اچانک انہیں واپس آنے اور بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ کھیلنے کا کہا گیا۔
مسئلہ یہ تھا کہ اتنے کم وقت میں انگلینڈ سے پاکستان واپس پہنچنا ممکن نہیں تھا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ اس معاملے کے بعد انہیں دو سال کی پابندی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
یہ واقعہ ان کے کیریئر کی ان کہانیوں میں سے ایک ہے جہاں شاید قسمت نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا۔
کبھی کھلاڑی گیند سے نہیں ہارتا،
کبھی حالات اسے کھیلنے ہی نہیں دیتے۔
انگلینڈ میں نئی زندگی
پاکستانی کرکٹ سے دور ہونے کے بعد محمد اکرم نے انگلینڈ میں کاؤنٹی اور کلب کرکٹ کو اپنا میدان بنا لیا۔
بعد کے برسوں میں انہوں نے اپنی رفتار کم کرنے کی کوشش کی تاکہ اپنے کیریئر کو زیادہ عرصے تک جاری رکھ سکیں۔
تقریباً 85 میل فی گھنٹہ کی رفتار کے ساتھ انہوں نے سیم اور سوئنگ کو اپنی بولنگ کا اہم ہتھیار بنایا۔
اور شاید یہی محمد اکرم کی شخصیت کی خوبصورتی تھی کہ انہوں نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کھیل سے رشتہ ختم نہیں کیا۔
کوچ کے روپ میں واپسی
24 اگست 2012 کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں بولنگ کوچ مقرر کیا۔
بعد میں وہ پاکستان سپر لیگ میں پشاور زلمی کے ڈائریکٹر آف کرکٹ کے عہدے تک بھی پہنچے۔
یعنی جس شخص نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ گیند کو سوئنگ کرانے میں گزارا، بعد میں اسی تجربے کو نئی نسل تک منتقل کرنے کا کام بھی کیا۔
جو خود طویل سفر سے گزرا ہو،
وہ دوسروں کو راستے کی مشکلیں بہتر سمجھا سکتا ہے۔
تو پھر محمد اکرم کو اتنا کم کیوں یاد کیا جاتا ہے؟
یہ سوال آج بھی دلچسپ ہے۔
اگر محمد اکرم ایسے دور میں پاکستان کے لیے کھیلتے جہاں وسیم اکرم اور وقار یونس کی موجودگی اتنی مضبوط نہ ہوتی، اور شعیب اختر کی رفتار کا طوفان بھی سامنے نہ آتا، تو شاید ان کا بین الاقوامی کیریئر بالکل مختلف ہوتا۔
لیکن تاریخ میں اگر کا کوئی اسکور بورڈ نہیں ہوتا۔
جو ہمارے سامنے ہے وہ یہ ہے کہ محمد اکرم نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں 415 وکٹیں لیں، پرتھ میں آسٹریلیا کے خلاف 5 وکٹیں حاصل کیں، اور ان کی رفتار کو عمران خان اور کولن کرافٹ جیسے بڑے کرکٹرز نے بھی تسلیم کیا۔
وہ شاید پاکستان کے سب سے زیادہ مشہور فاسٹ بولر نہ بن سکے، لیکن وہ پاکستان کی اس سنہری فاسٹ بولنگ نسل کا ایک اہم حصہ ضرور تھے۔
وسیم اکرم کا جادو، وقار یونس کی ریورس سوئنگ اور شعیب اختر کی رفتار کے شور میں محمد اکرم کا نام شاید دب گیا۔
مگر دب جانا اور بے صلاحیت ہونا، دونوں الگ باتیں ہیں۔
محمد اکرم کی کہانی ایک ایسے فاسٹ بولر کی کہانی ہے
جس کے پاس صلاحیت تھی، رفتار تھی، تجربہ تھا،
مگر شاید اسے وہ مستقل موقع کبھی نہ مل سکا جس کا وہ حقدار تھا۔
کرکٹ کی دنیا میں کچھ کھلاڑی ریکارڈ بنا کر یاد رہتے ہیں، اور کچھ اپنی ادھوری صلاحیت کی وجہ سے۔
محمد اکرم انہی دلچسپ ناموں میں سے ایک ہیں۔
اگر آپ کو کرکٹ کی ایسی کم سنی اور دلچسپ کہانیاں پسند ہیں تو کرکٹ بستی کو فالو کرنا مت بھولیں، کیونکہ یہاں کرکٹ صرف دیکھی نہیں جاتی، یہاں کرکٹ بستی ہے۔
اگلی کہانی کس کرکٹر کی ہونی چاہیے؟ کمنٹ میں ضرور بتائیں۔