Waqar Younus - Burewala Express

  • Home
  • Waqar Younus - Burewala Express

Waqar Younus - Burewala Express Waqar Younis Maitla Fan Page (Not Official)
(1)

محمد اکرم — وہ فاسٹ بولر جسے وقت نے وہ مقام نہ دیا جس کا وہ حقدار تھاسن 1999 میں پاکستان کرکٹ میں رفتار کا چرچا تھا۔ دنی...
27/08/2026

محمد اکرم — وہ فاسٹ بولر جسے وقت نے وہ مقام نہ دیا جس کا وہ حقدار تھا

سن 1999 میں پاکستان کرکٹ میں رفتار کا چرچا تھا۔ دنیا شعیب اختر کی تیز گیندوں سے حیران ہو رہی تھی، لیکن اسی وقت پاکستان کے ایک اور فاسٹ بولر کا نام بھی لیا جا رہا تھا۔

محمد اکرم۔

یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان کے فاسٹ بولنگ اٹیک میں وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے لیجنڈز موجود تھے۔ پھر شعیب اختر نے اپنی رفتار سے دنیا میں الگ پہچان بنا لی۔ ایسے ماحول میں کسی نئے فاسٹ بولر کے لیے مستقل جگہ حاصل کرنا آسان کام نہیں تھا۔

لیکن محمد اکرم کے اندر ایک ایسی خوبی تھی جو انہیں دوسروں سے الگ کرتی تھی۔ وہ صرف تیز گیند نہیں کرتے تھے بلکہ باؤنس، سیم اور سوئنگ کے ذریعے بلے باز کو پریشان کرنے کا ہنر بھی جانتے تھے۔

کچھ سفر ایسے ہوتے ہیں جن کی منزل چھوٹی نہیں ہوتی،
بس راستے میں آنے والے مسافر زیادہ بڑے ہوتے ہیں۔

10 ستمبر 1974 کو اسلام آباد میں پیدا ہونے والے محمد اکرم دائیں ہاتھ سے فاسٹ میڈیم بولنگ کرتے تھے۔ ان کا انداز شعیب اختر کی طرح جارحانہ شور والا نہیں تھا، بلکہ ان کی طاقت ان کے قد، باؤنس، لائن اور مستقل مزاجی میں تھی۔

15 ستمبر 1995 کو فیصل آباد میں سری لنکا کے خلاف انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں قدم رکھا، اور اسی دورے میں ون ڈے ڈیبیو بھی کر لیا۔

لیکن محمد اکرم کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ان کی صلاحیت نہیں بلکہ پاکستان کا غیر معمولی فاسٹ بولنگ اٹیک تھا۔

وسیم اکرم تھے، وقار یونس تھے، عاقب جاوید تھے، بعد میں شعیب اختر آ گئے۔ عبدالرزاق اور اظہر محمود جیسے آل راؤنڈرز بھی اپنی جگہ بنا چکے تھے۔ چنانچہ محمد اکرم کو ہر مرتبہ ٹیم میں آنے کے لیے صرف مخالف ٹیم کے بلے بازوں سے مقابلہ نہیں کرنا پڑتا تھا، بلکہ پاکستان کے اپنے فاسٹ بولنگ اٹیک میں جگہ حاصل کرنے کی جنگ بھی لڑنی پڑتی تھی۔

پھر 1999 کا دور آیا

ورلڈ کپ کے بعد پاکستان آسٹریلیا کے مشکل دورے پر پہنچا۔ پرتھ میں آسٹریلیا کے خلاف تیسرا ٹیسٹ شروع ہوا۔

پاکستان کی پہلی اننگز صرف 155 رنز پر ختم ہوگئی۔

اس کے بعد جب آسٹریلیا نے بیٹنگ شروع کی تو پاکستانی بولنگ میں ایک بولر نے سب سے زیادہ نمایاں کارکردگی دکھائی۔

محمد اکرم۔

آسٹریلیا نے مجموعی طور پر 451 رنز بنائے۔ جسٹن لینگر نے 144 اور رکی پونٹنگ نے 197 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جبکہ دونوں نے پانچویں وکٹ کے لیے 327 رنز کی بڑی شراکت قائم کی۔

لیکن اتنے بڑے اسکور کے باوجود محمد اکرم نے آسٹریلیا کے بیٹنگ آرڈر کو مسلسل مشکل میں رکھا۔

انہوں نے 27.5 اوورز میں 138 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔

یہ وہ موقع تھا جب محمد اکرم نے ثابت کیا کہ بڑے ناموں کے سامنے بڑے اسٹیج پر کھیلنے کی صلاحیت ان کے اندر موجود تھی۔

عمران خان کی نظر میں محمد اکرم

محمد اکرم کے کیریئر سے جڑی سب سے دلچسپ بات ان کی اپنی کارکردگی نہیں بلکہ عمران خان کا ایک تبصرہ بھی ہے۔

1999 کے ورلڈ کپ کے دوران جب شعیب اختر کی رفتار کا ذکر ہو رہا تھا تو عمران خان نے محمد اکرم کا نام بھی لیا اور انہیں پاکستان کا ایسا فاسٹ بولر قرار دیا جو رفتار کے معاملے میں شعیب اختر کے قریب تھا۔

محمد اکرم نے بعد میں خود بھی بتایا کہ آسٹریلیا کے دورے کے لیے ان کے انتخاب میں عمران خان کا کردار تھا۔

اور یہ صرف عمران خان کی رائے نہیں تھی۔ ویسٹ انڈیز کے عظیم فاسٹ بولر کولن کرافٹ نے بھی محمد اکرم اور محمد زاہد کو شعیب اختر کے برابر رفتار رکھنے والے بولرز میں شمار کیا تھا۔

ذرا تصور کریں۔

ایک طرف دنیا شعیب اختر کی رفتار دیکھ کر حیران تھی، اور دوسری طرف پاکستان کے پاس ایک ایسا بولر بھی موجود تھا جس کی رفتار کی گواہی عمران خان اور کولن کرافٹ جیسے بڑے نام دے رہے تھے۔

کچھ نام تاریخ کے صفحات پر بڑے حروف میں لکھے جاتے ہیں،
اور کچھ انہی صفحات کے کنارے پر رہ جاتے ہیں۔

مواقع اور انجریز کا امتحان

محمد اکرم کے لیے سب کچھ صرف ٹیلنٹ کا معاملہ نہیں تھا۔ انجریز، سلیکشن اور محدود مواقع نے بھی ان کے کیریئر پر گہرا اثر ڈالا۔

پرتھ میں آسٹریلیا کے خلاف پانچ وکٹیں لینے کے باوجود ان کے لیے اگلے میچ میں جگہ مستقل نہیں ہوئی۔

ان کا بین الاقوامی کیریئر مجموعی طور پر:

9 ٹیسٹ، 17 وکٹیں
23 ون ڈے، 19 وکٹیں
کل 32 بین الاقوامی میچ، 36 وکٹیں

ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی بہترین بولنگ 5/138 رہی، جو پرتھ میں آسٹریلیا کے خلاف آئی۔

لیکن اگر صرف ان اعداد و شمار سے محمد اکرم کو جانچا جائے تو شاید ان کی پوری کہانی سامنے نہیں آتی۔

فرسٹ کلاس کرکٹ میں اصل تصویر

فرسٹ کلاس کرکٹ میں محمد اکرم کا ریکارڈ کہیں زیادہ متاثر کن تھا۔

انہوں نے 125 فرسٹ کلاس میچوں میں 415 وکٹیں حاصل کیں۔ اس دوران انہوں نے تقریباً 20 ہزار سے زائد گیندیں کیں۔

ان کے نام:

18 مرتبہ ایک اننگز میں پانچ یا اس سے زیادہ وکٹیں

اور

ایک مرتبہ میچ میں 10 وکٹیں

بھی رہیں۔

ان کی بہترین فرسٹ کلاس بولنگ 8/49 تھی۔

یعنی بین الاقوامی کرکٹ میں محدود مواقع ملنے کے باوجود ڈومیسٹک کرکٹ میں انہوں نے بار بار اپنی صلاحیت ثابت کی۔

کیریئر کا ایک تلخ موڑ

محمد اکرم نے پاکستان کے لیے اپنا آخری ٹیسٹ 2001 میں نیوزی لینڈ کے خلاف ہیملٹن میں کھیلا۔

لیکن ان کے کیریئر کے آخری سال بھی سلیکشن کے عجیب واقعات سے بھرے ہوئے تھے۔

محمد اکرم کے مطابق 2001 میں عاقب جاوید نے انہیں بتایا کہ وسیم اکرم اور وقار یونس دونوں فٹ ہیں، اس لیے ایشین ٹیسٹ چیمپئن شپ کے اسکواڈ میں ان کی ضرورت نہیں۔

محمد اکرم اس وقت انگلینڈ چلے گئے جہاں ان کا کلب معاہدہ تھا۔

پھر اچانک انہیں واپس آنے اور بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ کھیلنے کا کہا گیا۔

مسئلہ یہ تھا کہ اتنے کم وقت میں انگلینڈ سے پاکستان واپس پہنچنا ممکن نہیں تھا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ اس معاملے کے بعد انہیں دو سال کی پابندی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

یہ واقعہ ان کے کیریئر کی ان کہانیوں میں سے ایک ہے جہاں شاید قسمت نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا۔

کبھی کھلاڑی گیند سے نہیں ہارتا،
کبھی حالات اسے کھیلنے ہی نہیں دیتے۔

انگلینڈ میں نئی زندگی

پاکستانی کرکٹ سے دور ہونے کے بعد محمد اکرم نے انگلینڈ میں کاؤنٹی اور کلب کرکٹ کو اپنا میدان بنا لیا۔

بعد کے برسوں میں انہوں نے اپنی رفتار کم کرنے کی کوشش کی تاکہ اپنے کیریئر کو زیادہ عرصے تک جاری رکھ سکیں۔

تقریباً 85 میل فی گھنٹہ کی رفتار کے ساتھ انہوں نے سیم اور سوئنگ کو اپنی بولنگ کا اہم ہتھیار بنایا۔

اور شاید یہی محمد اکرم کی شخصیت کی خوبصورتی تھی کہ انہوں نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کھیل سے رشتہ ختم نہیں کیا۔

کوچ کے روپ میں واپسی

24 اگست 2012 کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں بولنگ کوچ مقرر کیا۔

بعد میں وہ پاکستان سپر لیگ میں پشاور زلمی کے ڈائریکٹر آف کرکٹ کے عہدے تک بھی پہنچے۔

یعنی جس شخص نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ گیند کو سوئنگ کرانے میں گزارا، بعد میں اسی تجربے کو نئی نسل تک منتقل کرنے کا کام بھی کیا۔

جو خود طویل سفر سے گزرا ہو،
وہ دوسروں کو راستے کی مشکلیں بہتر سمجھا سکتا ہے۔

تو پھر محمد اکرم کو اتنا کم کیوں یاد کیا جاتا ہے؟

یہ سوال آج بھی دلچسپ ہے۔

اگر محمد اکرم ایسے دور میں پاکستان کے لیے کھیلتے جہاں وسیم اکرم اور وقار یونس کی موجودگی اتنی مضبوط نہ ہوتی، اور شعیب اختر کی رفتار کا طوفان بھی سامنے نہ آتا، تو شاید ان کا بین الاقوامی کیریئر بالکل مختلف ہوتا۔

لیکن تاریخ میں اگر کا کوئی اسکور بورڈ نہیں ہوتا۔

جو ہمارے سامنے ہے وہ یہ ہے کہ محمد اکرم نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں 415 وکٹیں لیں، پرتھ میں آسٹریلیا کے خلاف 5 وکٹیں حاصل کیں، اور ان کی رفتار کو عمران خان اور کولن کرافٹ جیسے بڑے کرکٹرز نے بھی تسلیم کیا۔

وہ شاید پاکستان کے سب سے زیادہ مشہور فاسٹ بولر نہ بن سکے، لیکن وہ پاکستان کی اس سنہری فاسٹ بولنگ نسل کا ایک اہم حصہ ضرور تھے۔

وسیم اکرم کا جادو، وقار یونس کی ریورس سوئنگ اور شعیب اختر کی رفتار کے شور میں محمد اکرم کا نام شاید دب گیا۔

مگر دب جانا اور بے صلاحیت ہونا، دونوں الگ باتیں ہیں۔

محمد اکرم کی کہانی ایک ایسے فاسٹ بولر کی کہانی ہے
جس کے پاس صلاحیت تھی، رفتار تھی، تجربہ تھا،
مگر شاید اسے وہ مستقل موقع کبھی نہ مل سکا جس کا وہ حقدار تھا۔

کرکٹ کی دنیا میں کچھ کھلاڑی ریکارڈ بنا کر یاد رہتے ہیں، اور کچھ اپنی ادھوری صلاحیت کی وجہ سے۔

محمد اکرم انہی دلچسپ ناموں میں سے ایک ہیں۔

اگر آپ کو کرکٹ کی ایسی کم سنی اور دلچسپ کہانیاں پسند ہیں تو کرکٹ بستی کو فالو کرنا مت بھولیں، کیونکہ یہاں کرکٹ صرف دیکھی نہیں جاتی، یہاں کرکٹ بستی ہے۔

اگلی کہانی کس کرکٹر کی ہونی چاہیے؟ کمنٹ میں ضرور بتائیں۔

 # وسیم اکرم — عمر نہیں، محنت اصل طاقت ہے37 سال کی عمر میں بھی وسیم اکرم کی محنت دیکھ کر آج کے کھلاڑی بہت کچھ سیکھ سکتے ...
26/08/2026

# وسیم اکرم — عمر نہیں، محنت اصل طاقت ہے

37 سال کی عمر میں بھی وسیم اکرم کی محنت دیکھ کر آج کے کھلاڑی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ عام طور پر اس عمر میں ایک فاسٹ باؤلر اپنے کیریئر کے آخری مرحلے میں ہوتا ہے، لیکن وسیم اکرم کے لیے عمر کبھی محنت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنی۔

2002-03 کے دوران جب وسیم اکرم تقریباً 36 سے 37 سال کے تھے، وہ قذافی اسٹیڈیم میں باقاعدگی سے پریکٹس کے لیے آیا کرتے تھے۔ وہ نیشنل بینک کے منیجر سے کہتے کہ جو کھلاڑی میچ نہیں کھیل رہے، انہیں ان کے ساتھ پریکٹس کے لیے بھیج دیا جائے۔

نوجوان کھلاڑی جب ان کے ساتھ نیٹ میں جاتے تو وسیم اکرم پہلے خود بیٹنگ کی مشق کرتے اور پھر گیند ہاتھ میں لے کر باؤلنگ شروع کر دیتے۔ کبھی نئی گیند سے اور کبھی پرانی گیند سے، وہ اپنی باؤلنگ کی تیاری پوری سنجیدگی کے ساتھ کرتے تھے۔

حیرت کی بات یہ تھی کہ اُس وقت تک وسیم اکرم دنیا کے عظیم ترین فاسٹ باؤلرز میں اپنا مقام بنا چکے تھے۔ ان کے پاس شہرت بھی تھی، تجربہ بھی اور بے شمار کامیابیاں بھی، لیکن اس کے باوجود انہوں نے پریکٹس کو کبھی معمولی نہیں سمجھا۔

صحت کے مسائل کے باوجود وہ کئی گھنٹے محنت کرتے اور اپنے کھیل کو بہتر بنانے کی کوشش جاری رکھتے۔ یہی عادت انہیں صرف ایک عظیم کھلاڑی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال بناتی ہے۔

**لیجنڈ بننے کے بعد بھی پریکٹس کیوں؟**

کیونکہ اصل چیمپئن وہ نہیں جو صرف کامیابی حاصل کرے، بلکہ وہ ہے جو کامیابی کے بعد بھی محنت کرنا نہ چھوڑے۔

وسیم اکرم نے نوجوان کھلاڑیوں کو یہ سبق دیا کہ ٹیلنٹ آپ کو اوپر لے جا سکتا ہے، لیکن **محنت، نظم و ضبط اور مسلسل پریکٹس ہی آپ کو وہاں برقرار رکھتی ہے۔**

ان کی زندگی کا یہ پہلو آج کے ہر کھلاڑی کے لیے ایک پیغام ہے:

**عمر بڑھ سکتی ہے، رفتار کم ہو سکتی ہے، حالات بدل سکتے ہیں، لیکن اگر محنت جاری رہے تو انسان اپنی پہچان برقرار رکھ سکتا ہے۔**

وسیم اکرم نے صرف کرکٹ کے میدان میں وکٹیں حاصل نہیں کیں، بلکہ اپنی محنت سے ایک ایسی مثال قائم کی جسے آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔

**لیجنڈ وہ نہیں جو صرف جیتتا ہے، لیجنڈ وہ ہے جو جیتنے کے بعد بھی محنت کرنا نہیں چھوڑتا۔ 🇵🇰🏏**

 # پاکستان کرکٹ کے لیجنڈ: وقار یونسپاکستان کرکٹ کی تاریخ میں اگر تیز رفتار گیند بازی، خطرناک ریورس سوئنگ اور شاندار یارک...
25/08/2026

# پاکستان کرکٹ کے لیجنڈ: وقار یونس

پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں اگر تیز رفتار گیند بازی، خطرناک ریورس سوئنگ اور شاندار یارکر کا ذکر ہو تو ایک نام سب سے پہلے ذہن میں آتا ہے — **وقار یونس**۔

وقار یونس 16 نومبر 1971 کو وہاڑی، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کم عمری ہی میں کرکٹ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا شروع کر دیا۔ ان کی گیند بازی میں رفتار کے ساتھ ایسی سوئنگ تھی جس نے دنیا کے بڑے بڑے بلے بازوں کو پریشان کر دیا۔

وقار یونس نے 1989 میں پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی کرکٹ کا آغاز کیا۔ ان کا ٹیسٹ ڈیبیو بھارت کے خلاف کراچی میں ہوا، جبکہ ون ڈے کرکٹ میں بھی انہوں نے بہت جلد اپنی شناخت بنا لی۔ صرف چند سالوں میں وہ پاکستان کے اہم ترین فاسٹ باؤلرز میں شامل ہوگئے۔

وقار یونس کی سب سے بڑی طاقت ان کی **ریورس سوئنگ اور خطرناک یارکر** تھی۔ پرانی گیند کو تیز رفتاری سے اندر لانا اور بلے باز کے پاؤں کے بالکل قریب گیند گرانا ان کا خاص ہنر تھا۔ ان کی گیند اکثر اتنی تیزی سے وکٹوں سے ٹکراتی کہ بلے باز کو سنبھلنے کا موقع تک نہ ملتا۔

1990 کی دہائی میں وقار یونس اور وسیم اکرم کی جوڑی دنیا کی خطرناک ترین فاسٹ باؤلنگ جوڑیوں میں شمار ہوتی تھی۔ دونوں نے مل کر پاکستانی کرکٹ کو ایک نئی پہچان دی۔ مخالف ٹیمیں ان دونوں کا سامنا کرنے سے پہلے خاص حکمتِ عملی تیار کیا کرتی تھیں۔

1992 کے ورلڈ کپ میں وقار یونس پاکستان کی ٹیم کا حصہ تھے اور پاکستان نے عمران خان کی قیادت میں پہلی مرتبہ ورلڈ کپ جیتا۔ نوجوان وقار کے لیے یہ کامیابی ان کے کیریئر کے اہم ترین لمحات میں سے ایک تھی۔

وقار یونس نے اپنی شاندار گیند بازی سے کئی یادگار کارکردگیاں پیش کیں۔ انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں متعدد مرتبہ پانچ یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں اور ون ڈے کرکٹ میں بھی ان کا شمار خطرناک ترین باؤلرز میں ہوتا رہا۔

1994 میں نیوزی لینڈ کے خلاف انہوں نے صرف 29 رنز دے کر 7 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کے کیریئر کی بہترین ون ڈے باؤلنگ کارکردگیوں میں سے ایک تھی۔

وقار یونس نے 1996 کے ورلڈ کپ میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی۔ ان کی رفتار اور سوئنگ نے کئی اہم مقابلوں میں پاکستان کو فائدہ پہنچایا۔

1999 کے ورلڈ کپ میں وقار یونس پاکستان کے اہم فاسٹ باؤلرز میں شامل تھے۔ پاکستان نے شاندار سفر طے کرتے ہوئے فائنل تک رسائی حاصل کی، اگرچہ فائنل میں آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

وقار یونس کا کیریئر صرف میدان تک محدود نہیں رہا۔ وہ بعد میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے **کوچ** بھی بنے اور مختلف ادوار میں قومی ٹیم کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ انہوں نے نوجوان فاسٹ باؤلرز کی رہنمائی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

ان کا کھیلنے کا انداز جارحانہ تھا، لیکن ان کی باؤلنگ میں ذہانت بھی نمایاں تھی۔ وہ صرف رفتار پر انحصار نہیں کرتے تھے بلکہ گیند کی سمت، سوئنگ اور پچ کے حالات کو سمجھ کر باؤلنگ کرتے تھے۔

وقار یونس نے اپنے بین الاقوامی کیریئر میں **373 ٹیسٹ وکٹیں اور 416 ون ڈے وکٹیں** حاصل کیں۔ وہ پاکستان کے ان چند عظیم باؤلرز میں شامل ہیں جنہوں نے عالمی کرکٹ میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی۔

ان کا کیریئر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ رفتار کے ساتھ مہارت، محنت اور اعتماد شامل ہوجائے تو ایک عام گیند باز بھی دنیا کا عظیم ترین فاسٹ باؤلر بن سکتا ہے۔

**وقار یونس صرف ایک فاسٹ باؤلر نہیں تھے، وہ پاکستان کی فاسٹ باؤلنگ کی ایک پوری داستان تھے۔**

ان کی تیز رفتار گیند، خطرناک یارکر اور ریورس سوئنگ آج بھی کرکٹ کے شائقین کے ذہنوں میں زندہ ہے۔

**پاکستان کرکٹ کے عظیم یارکر اسپیشلسٹ — وقار یونس۔ 🇵🇰🏏**

25/08/2026

Wasim Akram

 # پاکستان کرکٹ کی شان: سعید انورسعید انور پاکستان کرکٹ کے ان عظیم بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی خوبصورت بیٹ...
24/08/2026

# پاکستان کرکٹ کی شان: سعید انور

سعید انور پاکستان کرکٹ کے ان عظیم بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی خوبصورت بیٹنگ، بہترین ٹائمنگ اور منفرد انداز سے دنیا بھر میں اپنی پہچان بنائی۔ ان کا بین الاقوامی کرکٹ کا سفر 1989 میں شروع ہوا اور 2003 میں اختتام پذیر ہوا۔ تقریباً 14 سالہ کیریئر میں انہوں نے پاکستان کے لیے کئی یادگار اننگز کھیلیں اور ایسے ریکارڈ قائم کیے جو آج بھی شائقین کو یاد ہیں۔

سعید انور نے اپنا ون ڈے ڈیبیو 1989 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف پرتھ میں کیا۔ ابتدا ہی سے ان کی بیٹنگ میں ایک خاص کشش نظر آتی تھی اور بہت جلد وہ دنیا کے خطرناک ترین اوپننگ بلے بازوں میں شمار ہونے لگے۔

1990 میں فیصل آباد میں انہوں نے اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کیا، لیکن یہ میچ ان کے لیے اچھا ثابت نہ ہوا اور وہ دونوں اننگز میں صفر پر آؤٹ ہوئے۔ تاہم انہوں نے اس ناکامی کو اپنے راستے کی رکاوٹ نہیں بننے دیا اور محنت کے ساتھ دوبارہ خود کو ثابت کیا۔

1993 سے 2000 تک سعید انور کے کیریئر کا شاندار ترین دور رہا۔ 1993 میں شارجہ کے میدان میں انہوں نے مسلسل تین ون ڈے میچوں میں سنچریاں اسکور کرکے اپنی کلاس کا ثبوت دیا۔

پھر 1997 میں چنئی کے تاریخی میدان میں بھارت کے خلاف سعید انور نے صرف 146 گیندوں پر 194 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ اس وقت یہ ون ڈے کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا انفرادی اسکور تھا۔ ان کی اس اننگز نے انہیں کرکٹ کی دنیا میں مزید بلندیوں تک پہنچا دیا۔

1999 کے کولکتہ ٹیسٹ میں بھی سعید انور نے بھارت کے خلاف ناقابلِ فراموش 188 رنز ناٹ آؤٹ بنائے۔ وہ پوری اننگز کے دوران مضبوطی سے کریز پر موجود رہے اور پاکستانی بیٹنگ کی بنیاد بنے۔

ورلڈ کپ میں بھی سعید انور پاکستان کے اہم ترین اوپنرز میں شامل رہے۔ 1996 اور 1999 کے ورلڈ کپ میں ان کی کارکردگی نمایاں رہی، جبکہ 1999 کے ورلڈ کپ میں ان کی شاندار بیٹنگ نے پاکستان کو فائنل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس دور میں سعید انور کا موازنہ دنیا کے عظیم ترین بلے بازوں میں سے ایک سچن ٹنڈولکر کے ساتھ کیا جاتا تھا۔ دونوں کی اپنی اپنی کلاس تھی، لیکن سعید انور کی خوبصورت ٹائمنگ اور دلکش اسٹروکس انہیں سب سے منفرد بناتے تھے۔

2001 میں سعید انور کی زندگی میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا جب ان کی بیٹی بسمہ کا انتقال ہوگیا۔ اس سانحے کے بعد انہوں نے کرکٹ سے ایک طویل وقفہ لیا اور ان کی زندگی میں دینی رجحان مزید نمایاں ہوگیا۔

2003 کے ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف سعید انور نے ایک بار پھر اپنی کلاس دکھائی اور شاندار سنچری اسکور کی۔ یہ ان کی صلاحیت اور عزم کا ثبوت تھا کہ عمر اور حالات کچھ بھی ہوں، ایک عظیم کھلاڑی اپنی کلاس برقرار رکھ سکتا ہے۔

سعید انور کا آخری بین الاقوامی میچ 4 مارچ 2003 کو زمبابوے کے خلاف تھا۔ بعد ازاں انہوں نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ ان کے الفاظ تھے کہ انہوں نے پاکستان کے لیے ہمیشہ فخر کے ساتھ کرکٹ کھیلی، اگرچہ انہیں افسوس تھا کہ وہ مزید کچھ سال کھیل سکتے تھے، لیکن وہ اللہ کی مرضی کو قبول کرتے تھے۔

سعید انور کی بیٹنگ میں طاقت سے زیادہ **ٹائمنگ** نظر آتی تھی۔ ان کی کور ڈرائیو، خوبصورت کٹ، دلکش فلک اور آف سائیڈ پر کھیلے گئے اسٹروکس ان کی پہچان بن گئے تھے۔

کچھ کھلاڑی صرف رنز بناتے ہیں، کچھ ریکارڈ قائم کرتے ہیں، لیکن کچھ ایسے ہوتے ہیں جو کھیل کو **خوبصورت بنا دیتے ہیں۔**

**سعید انور انہی عظیم کھلاڑیوں میں سے ایک تھے۔** 🇵🇰🏏

Address

Saint Louis Messouri

75850

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Waqar Younus - Burewala Express posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share