Shaan Pakistan

Call Website

Shaan Pakistan Shaan Pakistan is an infotainment page. We will share informative, interesting, and humorous videos with you. Stay tuned with us

کمالیہ میں خاتون سے مبینہ بدسلوکی، ایس ایچ او گرفتارکمالیہ میں ریڑھی بان خاتون کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور جوتے سے تشدد کی...
09/28/2026

کمالیہ میں خاتون سے مبینہ بدسلوکی، ایس ایچ او گرفتار

کمالیہ میں ریڑھی بان خاتون کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور جوتے سے تشدد کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد معاملے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق واقعہ مل فتیانہ کے علاقے میں پیش آیا، جہاں چوری کے شبے سے متعلق 15 کی کال پر پولیس پہنچی تھی۔ ایف آئی آر میں الزام ہے کہ اس وقت تھانہ صدر کمالیہ کے ایس ایچ او سب انسپکٹر عمران غفور نے عوام کی موجودگی میں خاتون کو جوتے سے مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم نے نوٹس لیا۔ پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق ایس ڈی پی او سرکل کمالیہ کی مدعیت میں سب انسپکٹر عمران غفور کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کر لیا گیا، جبکہ اسے عہدے سے معطل کرکے محکمانہ انکوائری بھی شروع کردی گئی ہے۔

آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ خواتین سے بدسلوکی اور تشدد کے معاملے میں زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہے اور اختیارات سے تجاوز یا شہریوں سے بدسلوکی کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

نوٹ: واقعے سے متعلق الزامات ایف آئی آر اور سامنے آنے والی رپورٹس کی بنیاد پر بیان کیے گئے ہیں؛ حتمی قانونی ذمہ داری کا تعین متعلقہ تفتیش اور عدالتی کارروائی میں ہوگا۔

پسند کی شادی؛ فیصلہ دو افراد کا، مگر اثر پورے خاندان پرپسند کی شادی کرنے والے ایک نوجوان جوڑے نے میڈیا کے سامنے مؤقف اخت...
09/28/2026

پسند کی شادی؛ فیصلہ دو افراد کا، مگر اثر پورے خاندان پر

پسند کی شادی کرنے والے ایک نوجوان جوڑے نے میڈیا کے سامنے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی اور باہمی رضامندی سے نکاح کیا، تاہم اب انہیں مبینہ طور پر اپنی سلامتی کے حوالے سے خدشات ہیں۔ جوڑے نے متعلقہ اداروں سے قانون کے مطابق تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

اس طرح کے معاملات ایک بڑے سماجی سوال کو بھی جنم دیتے ہیں کہ آخر نوجوانوں اور والدین کے درمیان شادی جیسے اہم فیصلے پر فاصلے کیوں بڑھ رہے ہیں؟ کہیں اولاد اپنی پسند پر قائم رہتی ہے، کہیں والدین خاندانی روایات اور مستقبل کے خدشات کو اہمیت دیتے ہیں، جبکہ بعض اوقات دونوں طرف سے بات چیت اور اعتماد کی کمی معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین اپنی اولاد کی بات سنیں اور نوجوان بھی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ جذبات یا جلد بازی کے بجائے ذمہ داری اور سمجھ داری سے کریں۔ اختلاف کی صورت میں دھمکی، دباؤ یا تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں؛ معاملات کو بات چیت اور قانون کے دائرے میں حل ہونا چاہیے۔

آپ کے نزدیک ایسے معاملات میں سب سے بڑی کمی کہاں رہ جاتی ہے—والدین اور اولاد کے درمیان رابطے میں یا ہمارے معاشرتی رویوں میں؟

09/27/2026

شدید گرمی میں پرندوں اور جنگلی جانوروں کے لیے پانی کا سہارا، 70 سالہ احسان محسن کی بے مثال خدمت

عراق کے علاقے کردستان کے شہر کلار میں شدید گرمی کے دوران جب قدرتی آبی ذخائر خشک ہونے لگتے ہیں تو پرندوں اور چھوٹے جنگلی جانوروں کے لیے پانی کا حصول مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے میں 70 سالہ احسان محسن بے زبان مخلوق کے لیے امید کا سہارا بنے ہوئے ہیں۔

احسان محسن نے 2023ء میں اس خدمت کا آغاز کیا۔ وہ روزانہ اپنے گھر سے پانی کی بوتلیں بھر کر پیدل گرم اور خشک علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ انہوں نے مختلف مقامات پر 17 واٹر پوائنٹس بنا رکھے ہیں، جہاں رکھے برتنوں کو وہ باقاعدگی سے پانی سے بھرتے ہیں۔ ابابیلیں، فاختائیں، خرگوش اور دیگر جنگلی جانور یہاں اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔

شدید گرمی اور اپنی عمر کے باوجود احسان محسن صبح اور شام ان مقامات کا چکر لگاتے ہیں تاکہ پانی کی کمی نہ ہو۔ ان کی یہ خدمت انسانیت، رحم دلی اور بے زبان مخلوق سے محبت کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ ❤️

رشوت کے پیسے نہیں، اس لیے کوئی سنتا نہیں — نوشہرہ میں 45 روز سے لاپتہ بیٹی کے لیے غریب رکشہ ڈرائیور کی فریادایک باپ کے ل...
09/27/2026

رشوت کے پیسے نہیں، اس لیے کوئی سنتا نہیں — نوشہرہ میں 45 روز سے لاپتہ بیٹی کے لیے غریب رکشہ ڈرائیور کی فریاد

ایک باپ کے لیے اس سے بڑی آزمائش شاید ہی کوئی ہو کہ اس کی کمسن بیٹی لاپتہ ہو اور وہ دن رات اسے تلاش کرتا پھرے۔ نوشہرہ سے سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں ایک رکشہ ڈرائیور اپنی بیٹی کی بازیابی کے لیے روتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر مدد کی اپیل کرتا دکھائی دیتا ہے۔

والد کے مطابق اس کی بیٹی گزشتہ 45 روز سے لاپتہ ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل تھانوں اور متعلقہ اداروں کے چکر لگا رہا ہے، مگر تاحال بیٹی کا سراغ نہیں مل سکا۔ ویڈیو میں اس نے یہ شکوہ بھی کیا کہ اس کے پاس رشوت دینے کے پیسے نہیں، اس لیے اس کی فریاد نہیں سنی جا رہی۔ مالی حالات کا ذکر کرتے ہوئے اس کا کہنا تھا کہ وہ کئی ماہ سے گھر کا کرایہ تک ادا نہیں کر سکا۔

روتے ہوئے مجبور باپ نے چیف جسٹس، آئی جی خیبر پختونخوا اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ اس کی بیٹی کو بحفاظت تلاش کرنے میں مدد کی جائے۔

رشوت سے متعلق بات والد کی جانب سے لگایا گیا الزام ہے؛ اس حوالے سے متعلقہ پولیس یا حکام کا مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔

پنجاب پولیس کا مبینہ طور پر منشیات فروش سے تعلق؟ معاملہ کیا ہے؟سوشل میڈیا پر ایک معاملہ زیرِ بحث ہے جس میں ایک مبینہ منش...
09/27/2026

پنجاب پولیس کا مبینہ طور پر منشیات فروش سے تعلق؟ معاملہ کیا ہے؟

سوشل میڈیا پر ایک معاملہ زیرِ بحث ہے جس میں ایک مبینہ منشیات فروش اور مقامی پولیس کے بعض اہلکاروں کے درمیان تعلقات سے متعلق مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں۔ زیرِ گردش مواد میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ متعلقہ شخص کے خلاف کارروائی یا گرفتاری کیوں نہیں ہوئی۔

تاہم اس مخصوص معاملے میں پوسٹر پر کیے گئے تمام دعووں کی کسی سرکاری دستاویز یا معتبر رپورٹ سے آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آ سکی۔ اس لیے کسی پولیس افسر یا دوسرے شخص کو جرم میں ملوث قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ متعلقہ پولیس حکام کا باضابطہ مؤقف سامنے آنے پر ہی صورتحال زیادہ واضح ہو سکے گی۔

واضح رہے کہ پنجاب میں منشیات کے خلاف پولیس کارروائیاں جاری ہیں اور مختلف اضلاع میں گرفتاریوں اور مقدمات کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں۔

مذہب سے بڑھ کر انسانیت — بیمار بچی کے لیے مدد کی خوبصورت مثالنئی دہلی کی تاریخی جامع مسجد کے باہر ایک بیمار بچی کے علاج ...
09/26/2026

مذہب سے بڑھ کر انسانیت — بیمار بچی کے لیے مدد کی خوبصورت مثال

نئی دہلی کی تاریخی جامع مسجد کے باہر ایک بیمار بچی کے علاج کے لیے جاری امدادی مہم سوشل میڈیا پر لوگوں کی توجہ حاصل کر رہی ہے۔ گردش کرنے والی معلومات کے مطابق بچی Spinal Muscular Atrophy (SMA) Type 1 نامی نایاب جینیاتی بیماری میں مبتلا ہے، جس کے علاج کے لیے بہت بڑی رقم درکار بتائی جا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق بچی کی مدد کے لیے کوششوں کا آغاز AIIMS کے باہر ہوا، جہاں رضاکاروں اور سوشل میڈیا کریئیٹرز نے لوگوں سے علاج کے اخراجات پورے کرنے میں تعاون کی اپیل کی۔ بعد ازاں جمعہ کی نماز کے موقع پر جامع مسجد کے باہر بھی متعدد افراد کو اس مہم میں حصہ لیتے اور اپنی استطاعت کے مطابق عطیات دیتے دیکھا گیا۔

سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی معلومات میں بتایا جا رہا ہے کہ بچی کا تعلق ایک ہندو خاندان سے ہے، جبکہ اس کی مدد کے لیے مسلمان نوجوانوں، نمازیوں اور دیگر افراد نے بھی ہاتھ بڑھایا۔ یہی اس واقعے کا سب سے خوبصورت پہلو ہے کہ جب معاملہ کسی انسان کی زندگی اور تکلیف کا ہو تو مذہب اور شناخت سے بالاتر ہو کر مدد کا جذبہ سامنے آتا ہے۔

مہم کے حوالے سے سوشل میڈیا پر 6 کروڑ 30 لاکھ بھارتی روپے جمع ہونے کا دعویٰ بھی گردش کر رہا ہے۔ تاہم اس مخصوص رقم کی آزاد ذرائع سے حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے اسے فی الحال سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا دعویٰ ہی سمجھا جانا چاہیے۔

انسانیت کا اصل حسن شاید یہی ہے کہ مشکل وقت میں کسی اجنبی کے لیے بھی ہاتھ بڑھا دیا جائے۔ دعا ہے کہ بچی کو جلد صحت ملے اور اس کے علاج کے لیے جاری کوششیں کامیاب ہوں۔ 🤲❤️

لڑکے کی خواجہ سرا سے شادی؟ وائرل ویڈیو نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دیسوشل میڈیا پر ایک شادی کی ویڈیو تیزی سے گردش کر ر...
09/26/2026

لڑکے کی خواجہ سرا سے شادی؟ وائرل ویڈیو نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی

سوشل میڈیا پر ایک شادی کی ویڈیو تیزی سے گردش کر رہی ہے جس میں ایک نوجوان کو شادی کی تقریب میں دلہن کے لباس میں موجود ایک شخص کے ساتھ بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ نوجوان نے خواجہ سرا سے شادی کی ہے، تاہم اس دعوے کی مکمل اور آزادانہ تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔

ویڈیو میں موجود بعض جملے بھی سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ انہی الفاظ کو مختلف پیجز پر طنزیہ اور مزاحیہ انداز میں شیئر کیا جا رہا ہے، جس کے باعث ویڈیو پر صارفین کی جانب سے مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔

یہ بات اہم ہے کہ کسی شخص کی صنفی شناخت صرف ظاہری شکل یا ویڈیو دیکھ کر طے نہیں کی جا سکتی۔ اسی طرح شادی سے متعلق وائرل دعوے کو بھی متعلقہ افراد کے واضح مؤقف یا کسی مستند ذریعے کی تصدیق کے بغیر حتمی حقیقت قرار دینا مناسب نہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ہر ویڈیو کے پیچھے مکمل کہانی وہ نہیں ہوتی جو چند سیکنڈ کی کلپ میں دکھائی دیتی ہے۔ آپ کے خیال میں وائرل ویڈیوز کو تصدیق کے بغیر حقیقت سمجھ لینا کتنا درست ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔

نوٹ: پوسٹ میں بیان کردہ شادی اور صنفی شناخت سے متعلق معلومات سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں پر مبنی ہیں؛ آزادانہ تصدیق باقی ہے۔

فنکار اپنی کمائی نشے اور عیاشی میں اُڑا دیتے ہیں، آرٹسٹ حکومتی امداد لے کر بھی تلخ باتیں کرتے ہیں — خواجہ سلیم کی تنقیدس...
09/26/2026

فنکار اپنی کمائی نشے اور عیاشی میں اُڑا دیتے ہیں، آرٹسٹ حکومتی امداد لے کر بھی تلخ باتیں کرتے ہیں — خواجہ سلیم کی تنقید

سینئر فنکار خواجہ سلیم کی ساتھی فنکاروں کے حوالے سے گفتگو سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر رہی ہے۔ انہوں نے شوبز سے وابستہ بعض افراد کے مالی معاملات، طرزِ زندگی اور حکومتی امداد کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا۔

خواجہ سلیم کے مطابق بعض فنکار اپنے اچھے وقت میں کمائی کی مناسب منصوبہ بندی نہیں کرتے اور بعد میں مالی مشکلات کا سامنا ہونے پر حکومتی معاونت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ انہوں نے یہ شکوہ بھی کیا کہ حکومتی امداد حاصل کرنے کے باوجود بعض فنکار حکومت پر تنقید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ نشے، عیاشی اور مالی رویّوں سے متعلق یہ خواجہ سلیم کی جانب سے کیے گئے دعوے اور ان کی ذاتی رائے ہے؛ اسے پوری فنکار برادری سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ متعلقہ فنکاروں کا مؤقف سامنے آنے کی صورت میں اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔

نارتھ ویسٹ ہسپتال پشاور میں چترال سے تعلق رکھنے والی نرس کی موت، تحقیقات کا مطالبہنارتھ ویسٹ ہسپتال پشاور میں ڈیوٹی سے و...
09/25/2026

نارتھ ویسٹ ہسپتال پشاور میں چترال سے تعلق رکھنے والی نرس کی موت، تحقیقات کا مطالبہ

نارتھ ویسٹ ہسپتال پشاور میں ڈیوٹی سے وابستہ چترال کی ایک نوجوان نرس کی موت کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ دستیاب مقامی رپورٹ کے مطابق نوجوان نرس کا تعلق چوئنج گاؤں، چترال سے بتایا گیا ہے اور واقعہ پشاور کے ایک ہسپتال میں پیش آیا۔

واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف دعوے اور سوالات گردش کر رہے ہیں۔ ایک مقامی رپورٹ نے اسے خودکشی قرار دیا ہے، تاہم موت کے حالات، ممکنہ وجہ اور واقعے کی مکمل تفصیلات کے حوالے سے پولیس یا ہسپتال انتظامیہ کا کوئی تفصیلی سرکاری مؤقف مجھے دستیاب ذرائع میں نہیں ملا۔ اسی لیے حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے بجائے تحقیقات مکمل ہونے کا انتظار ضروری ہے۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی اپیلوں میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ آئی جی خیبرپختونخوا، متعلقہ پولیس اور ہسپتال انتظامیہ معاملے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کریں اور اصل حقائق لواحقین کے سامنے لائے جائیں۔ گھر سے دور رہ کر ہسپتالوں میں خدمات انجام دینے والی خواتین اور دیگر طبی عملے کے لیے محفوظ کام کا ماحول یقینی بنانا بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔

نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر حیات آباد، پشاور میں واقع ہے۔ ہسپتال کی اپنی ویب سائٹ پر رابطے اور شکایات کے لیے باقاعدہ ذرائع بھی درج ہیں۔

نوٹ: واقعے کی وجہ سے متعلق غیرمصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں کو حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔ پولیس، لواحقین یا ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے مزید مستند تفصیلات سامنے آنے پر تصویر زیادہ واضح ہوسکے گی۔

اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبر عطا فرمائے۔ آمین۔

تھپڑ کا بدلہ شادی کے دن؟ ایک رشتے کی چونکا دینے والی کہانیایک خوشحال خاندان میں ایک ایسا شخص تھا جسے پورا خاندان اپنا سہ...
09/25/2026

تھپڑ کا بدلہ شادی کے دن؟ ایک رشتے کی چونکا دینے والی کہانی

ایک خوشحال خاندان میں ایک ایسا شخص تھا جسے پورا خاندان اپنا سہارا سمجھتا تھا۔ مالی طور پر مضبوط ہونے کے باوجود اس کی اصل پہچان یہ تھی کہ وہ رشتہ داروں کے دکھ سکھ میں شریک ہوتا، ضرورت کے وقت مدد کرتا اور خاندان کو جوڑ کر رکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ اس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی اس کا اکلوتا بیٹا تھا۔

وقت گزرا اور بیٹا جوان ہوگیا۔ باپ نے اپنی بہن سے اس کی اکلوتی بیٹی کا رشتہ مانگا۔ بہن کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کی بات کیا ہوسکتی تھی کہ اس کی بیٹی ایک ایسے گھر میں جائے جسے وہ برسوں سے جانتی تھی۔ دونوں خاندان راضی ہوئے اور لڑکے لڑکی کی منگنی کردی گئی۔

منگنی کے بعد دونوں کی ملاقاتیں اور ساتھ گھومنا پھرنا بڑھنے لگا۔ کبھی شہر سے باہر، کبھی تفریحی مقامات اور کبھی پہاڑی علاقوں کا سفر۔ باپ کو یہ انداز پسند نہیں آیا۔ اس نے بیٹے کو سمجھایا:

“بیٹا، جب رشتہ طے ہوچکا ہے تو شادی کرلو۔ منگنی کے بعد اس طرح بہت زیادہ گھومنا پھرنا مناسب نہیں۔”

لیکن بیٹے کا جواب تھا کہ شادی بھی ہوجائے گی، پہلے دونوں ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھنا چاہتے ہیں۔

کچھ عرصے بعد لڑکا اپنی منگیتر کو دوستوں کی ایک تقریب میں لے گیا۔ لڑکی روایتی شلوار قمیص اور دوپٹے میں تھی۔ کہانی کے مطابق وہاں بعض دوستوں نے اس کے لباس اور رہن سہن پر باتیں شروع کردیں اور لڑکے کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ لڑکی ان کے “اسٹیٹس” اور ماحول کے مطابق نہیں۔

یہ بات لڑکے کے ذہن میں بیٹھ گئی۔ اس نے اپنی منگیتر سے کہا کہ اگر اسے اس کے ساتھ زندگی گزارنی ہے تو اسے اس کی پسند کے مطابق لباس پہننا ہوگا۔ لڑکی نے رشتہ بچانے کی خاطر اس کی بات مان لی۔

اگلی تقریب میں حالات مزید خراب ہوگئے۔ وہاں مبینہ طور پر کچھ دوستوں نے لڑکی کے ساتھ بے تکلفی اور مذاق شروع کردیا، جبکہ اس کا منگیتر بھی اسے روکنے کے بجائے اسی ماحول کا حصہ بن گیا۔ لڑکی کو یہ رویہ سخت ناگوار گزرا۔ غصے اور جذبات میں اس نے اپنے منگیتر کو تھپڑ مارا اور تقریب چھوڑ کر چلی گئی۔

گھر پہنچ کر اس نے والدین سے صاف کہہ دیا:

“میں اس شخص سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔ میں نے اس کے ساتھ وقت گزار کر اسے سمجھنے کی کوشش کی، لیکن مجھے اس کا طرزِ زندگی اور دوسری لڑکیوں کے ساتھ اس کی بے تکلفی پسند نہیں۔”

معاملہ دونوں خاندانوں تک پہنچا۔ لڑکے نے اپنی خالہ اور منگیتر سے معافی مانگی۔ اس نے یقین دلایا کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہا کہ اس تھپڑ نے اسے احساس دلایا کہ اس کی منگیتر اپنی حدود اور عزت کے معاملے میں کتنی حساس ہے۔ اس نے لڑکی کو منایا، معذرت کی اور احترام کے ساتھ زندگی گزارنے کا وعدہ کیا۔

خاندان نے بھی یہی سوچا کہ غلطی تسلیم کرنے کے بعد شاید اسے ایک موقع ملنا چاہیے۔ لڑکی بالآخر راضی ہوگئی اور شادی کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔

لیکن کہانی کا سب سے حیران کن موڑ ابھی باقی تھا۔

شادی کا دن آیا، خاندان جمع ہوا اور نکاح ہوگیا۔ جس وقت سب ایک نئی زندگی شروع ہونے کی خوشی منا رہے تھے، کہانی کے مطابق لڑکے نے اچانک اپنی نئی نویلی بیوی کو طلاق دے دی۔ وجہ پوچھی گئی تو اس نے مبینہ طور پر کہا کہ یہ اسی تھپڑ کا بدلہ ہے جو اس نے تقریب میں سب کے سامنے اسے مارا تھا۔

اگر یہ واقعہ اسی طرح پیش آیا تو یہاں سوال صرف ایک تھپڑ یا طلاق کا نہیں رہتا۔ سوال یہ بھی بنتا ہے کہ اگر دل میں بدلہ موجود تھا تو معافی کیوں مانگی گئی؟ دوبارہ اعتماد کیوں حاصل کیا گیا؟ اور شادی تک معاملہ کیوں پہنچنے دیا گیا؟

دوسری طرف کسی بھی اختلاف میں جسمانی ردِعمل، تذلیل یا تشدد کو درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔ رشتہ اگر اعتماد کھو چکا ہو تو شادی سے پہلے اسے ختم کرنا ایک الگ فیصلہ ہے، لیکن بظاہر صلح کرکے کسی کو شادی تک لانا اور پھر اسے پرانے واقعے کا بدلہ قرار دینا اخلاقی طور پر ایک بالکل مختلف بحث پیدا کرتا ہے۔

آپ کی رائے کیا ہے؟ کیا لڑکے کو تھپڑ کے واقعے کے بعد ہی رشتہ ختم کردینا چاہیے تھا، یا معافی اور صلح کے بعد اس معاملے کو وہیں ختم سمجھنا چاہیے تھا؟

نوٹ: اگر یہ کسی وائرل/سوشل میڈیا واقعے پر مبنی کہانی ہے تو نام، مقام اور مستند حوالہ سامنے آنے تک اسے تصدیق شدہ حقیقی واقعہ قرار دینے کے بجائے “سوشل میڈیا پر زیرِ گردش کہانی/دعویٰ” کے طور پر شائع کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔

Address

Washington D.C., DC

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shaan Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share