Pharma Insight Magazine

  • Home
  • Pharma Insight Magazine

Pharma Insight Magazine A Magazine For Health & Life e

26/08/2026

Misbranding medicine

26/08/2026

اچھا دھندا ہے ۔۔۔۔
دو ایکسپرٹ خریدو ، دو ڈاکٹر خریدو ، دو اینکر خریدو ۔ یہ نعرہ لگائیں کہ فلو ہو رہا ہے ویکسین لگائیں ۔ یہ نعرہ لگائیں کہ سروائیکل کینسر پھیل چکا ۔ سب ویکسین لگوائیں ۔ یہ نعرہ لگائیں کہ ہیپاٹائٹس سی پھیل گیا ہے ، آپ اسکینیگ کرائیں ۔ دوا کھلائیں ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ سب سوچا سمجھا ڈرامہ ہے جہاں بیدردی سے انسانی شعور کی تذلیل اور احساسات کی قیمت لگائ جاتی ہے ۔

آئیے ہمت کیجیے
براہ راست قومی میڈیا پر گفتگو کرتے ہیں ۔

خیراندیش
عبید علی ۔ 18 اگست 2026

فارماسسٹوں کو محدود حد تک نسخہ لکھنے کی اجازت هو گی۔۔۔ہاں لیکن کیا هو گی ؟ PHC Power & Rules   اس کا فیصلہ 29 اگست کو ما...
25/08/2026

فارماسسٹوں کو محدود حد تک نسخہ لکھنے کی اجازت هو گی۔۔۔ہاں لیکن کیا هو گی ؟ PHC Power & Rules اس کا فیصلہ 29 اگست کو ماہرین فارما سسٹ اور گورنمنٹ ادارے پنجاب اور دیگر صوبے کریں گے
Pharmacy Council calls experts to discuss an important agenda of "Rational use of medicines".

While the hospital and clinical pharmacy practices in Pakistan are largely provided by female pharmacists, there is not even a single female pharmacist in this entire panel. On a broader view at this point in time the positions like drug inspectors, urban community pharmacies, academic pharmacists and researchers in pharmacy profession the country, now have a good proportion of female pharmacists.

I, being the pioneer of clinical pharmacy services in public sector in Pakistan through my sevices for the establishment of pharmacy systems at the Childrens Hospital Lahore starting as early as1999 not only pioneered the establishment of pharmacy systems in the the Largest tertiarz care facility of the country for paediatric care but also volunteered for many precious years of my life for training of pharmacy students from the "Punjab University " and LCPS at the Childrens Hospital ( these were the only two degree awarding institutes in lahore in those times )..., I strongly protest on this discrimination and disbalance at policy level and urge that at least 50 percent of panel members should be female pharmacists.

I also bid witness to the fact that with me there were dozens of female pharmacists who supported and strengthened me Afshan Haris Haris Alia Zafar Rao. Success is never a journey made alone. I endorse that from Karachi to Peshawer and in the far flung areas of Kashmir, KPK and Balochistan female pharmacists have played pivotal role in contributing to the medicines management systems in Pakistan. Saima Fuad Roman

This is year 2026.

There should be a commitment from Pharmacy Council to give a sincere thought and make efforts for correcting their practices in future.

I hope the seniors and fraternity guide the Council to correct their practice and understand the principles of gender equity, fairness and justice

May be, I am overwhelmed and there.. really are a few females in the notification attached with this post ..which may be I dont recognize. Readers may help me out!


Obaid Ali Roohi Bano Obaid
Zaheer Babar
Syed Khalid Saeed Bukhari
Awais E Siraj Fahmida Khan Fehmida Khanum Feroza Parveen Saima Qasim
Nadeem Iqbal

Salwa Ahsan
Nadia Bukhari
Haris
Shumaila Zulfi Asif
Kiran Azeem
Aliya Habib
Asma Tarar
Sumaira Khan
Saqib Mahmood
Asma Hanif RPh
Tayyaba Sajid
Fatima Rasool

Copied from Madam Huma Rasheed timeline

یونیورسٹی :  کاروبار یا قومی خدمت؟کیا یونیورسٹی محض کاروباری مراکز کا ایک مجموعہ ہے؟ کیا تعلیم کو بھی اسی پیمانے سے ناپا...
22/08/2026

یونیورسٹی : کاروبار یا قومی خدمت؟

کیا یونیورسٹی محض کاروباری مراکز کا ایک مجموعہ ہے؟ کیا تعلیم کو بھی اسی پیمانے سے ناپا جا سکتا ہے جس پیمانے سے کسی صنعت، کمپنی یا تجارتی ادارے کے منافع اور خسارے کا حساب کیا جاتا ہے؟ یہ سوال محض تعلیمی نہیں بلکہ ایک فلاحی ریاست کے بنیادی فلسفے سے جڑا ہوا سوال ہے ۔

یونیورسٹی کا بنیادی مقصد صرف آمدنی پیدا کرنا نہیں بلکہ علم پیدا کرنا، تحقیق کو فروغ دینا، نئی نسل کی تربیت کرنا، تنقیدی شعور پیدا کرنا اور معاشرے کو ایسے افراد فراہم کرنا ہے جو مستقبل کی قیادت کر سکیں۔
اگر کسی یونیورسٹی کو صرف اس بنیاد پر پرکھا جائے کہ اس نے سال کے اختتام پر کتنا منافع کمایا تو پھر تعلیم کے اصل مقصد ہی کو محدود کر دیا جائے گا ۔

دنیا بھر میں ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں تعلیم، صحت اور رہائش کو خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے۔ ان شعبوں کو محض منافع کمانے کے لیے نہیں بلکہ انسانی فلاح، مساوات اور معاشرتی استحکام کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ایک فلاحی ریاست کا تصور ہی اس اصول پر قائم ہوتا ہے کہ ہر شہری کو زندگی کی بنیادی سہولیات تک مناسب اور باعزت رسائی حاصل ہو، خواہ اس سہولت سے ریاست کو براہِ راست مالی منافع حاصل ہو یا نہ ہو ۔

اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ یونیورسٹی مالی نظم و ضبط سے آزاد ہو جائے ۔ یونیورسٹی کو اپنے وسائل کا درست استعمال کرنا چاہیے، غیر ضروری اخراجات سے بچنا چاہیے، شفافیت برقرار رکھنی چاہیے اور اپنے مالی معاملات کو مضبوط بنانا چاہیے ۔ لیکن مالی پائیداری اور منافع خوری دو مختلف تصورات ہیں ۔ ایک ادارہ مالی طور پر مضبوط ہو سکتا ہے، اپنے اخراجات پورے کر سکتا ہے اور وسائل پیدا کر سکتا ہے مگر اس کا مقصد لازماً منافع کمانا نہیں ہوتا ۔

خصوصاً سرکاری یونیورسٹی کے معاملے میں یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے ۔ اگر ایک سرکاری یونیورسٹی فیس میں مسلسل اضافہ کرے ، ہر شعبے کو آمدنی کا ذریعہ سمجھے طلبہ کو صارف اور اساتذہ کو محض ملازم سمجھنے لگے تو آہستہ آہستہ یونیورسٹی کا کردار ایک علمی ادارے سے تبدیل ہو کر تجارتی ادارے جیسا ہونے لگتا ہے۔ پھر علم ایک خدمت نہیں رہتا بلکہ ایک ایسی شے بن جاتا ہے جسے صرف خریدنے کی استطاعت رکھنے والے افراد حاصل کر سکتے ہیں۔

فلاحی ریاست کا تقاضا یہ ہے کہ تعلیم کو معاشرے کے کمزور اور متوسط طبقات تک بھی پہنچایا جائے ۔ اگر بہترین تعلیم صرف صاحبِ ثروت افراد کے لیے مخصوص ہو جائے تو معاشرے میں طبقاتی خلیج مزید گہری ہوتی چلی جائے گی ۔ اس کے برعکس ایک مضبوط سرکاری تعلیمی نظام غریب اور متوسط طبقے کے ذہین نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا موقع دیتا ہے اور یوں پوری ریاست کی مجموعی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے ۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ یونیورسٹی پر ہونے والا ہر خرچ فوری مالی منافع میں تبدیل نہیں ہوتا۔ ایک طالب علم پر آج ریاست جو سرمایہ خرچ کرتی ہے، اس کا فائدہ ممکن ہے دس، بیس یا تیس سال بعد سامنے آئے ۔ ایک محقق کی تحقیق شاید برسوں تک کسی تجارتی فائدے کا باعث نہ بنے مگر مستقبل میں وہی تحقیق کسی صنعت و ٹیکنالوجی یا قومی پالیسی کی بنیاد بن سکتی ہے ۔ اسی طرح ایک استاد کی تربیت کا اثر صرف اس کے طالب علم تک محدود نہیں رہتا بلکہ کئی نسلوں تک منتقل ہو سکتا ہے ۔

لہٰذا یونیورسٹی کو Profit and Loss Statement کے بجائے ایک وسیع تر سماجی اور قومی پیمانے سے بھی دیکھنا چاہیے ۔ سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ یونیورسٹی نے کتنا کمایا ہے بلکہ سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ اس نے کتنا علم پیدا کیا، کتنے باصلاحیت نوجوانوں کو مواقع فراہم کیے کتنی تحقیق کی نیز معاشرے کو کیا دیا اور ملک کے مستقبل کو کتنا بہتر بنایا ۔

البتہ اس تصور کا مطلب یہ بھی نہیں کہ سرکاری یونیورسٹیوں میں بدانتظامی، غیر ضروری اخراجات یا مالی بے ضابطگی کو برداشت کیا جائے۔ عوام کے ٹیکس سے چلنے والے اداروں میں جواب دہی، شفافیت اور کارکردگی پہلے سے زیادہ ضروری ہے ۔ سرکاری ادارہ غیر منافع بخش ہو سکتا ہے، مگر غیر ذمہ دار نہیں ۔

اصل مسئلہ شاید "منافع" اور "خسارے" کی اصطلاحات سے زیادہ اس بات کا ہے کہ ہم ادارے کے مقصد کو کیا سمجھتے ہیں۔ اگر مقصد کاروبار ہے تو منافع بنیادی پیمانہ ہوگا، لیکن اگر مقصد قومی خدمت اور انسانی فلاح ہے تو کامیابی کے پیمانے بھی مختلف ہوں گے۔

یونیورسٹی دراصل ایک ایسا چراغ ہے جس کا کام صرف اپنے لیے روشنی پیدا کرنا نہیں بلکہ پورے معاشرے کو روشن کرنا ہے۔ اس لیے تعلیم کو صنعت اور طالب علم کو محض گاہک سمجھنے کے بجائے یونیورسٹی کو علم، تحقیق، تربیت اور قومی تعمیر کا ادارہ سمجھنا چاہیے ۔

ایک حقیقی فلاحی ریاست میں تعلیم، صحت اور بنیادی رہائش کو محض منافع بخش صنعتوں میں تبدیل کرنا ریاست کے بنیادی تصور ہی سے متصادم ہو سکتا ہے۔ ریاست کا کام صرف منافع کمانا نہیں؛ بعض اوقات ریاست کا سب سے بڑا منافع ایک تعلیم یافتہ، صحت مند، باوقار اور باشعور شہری ہوتا ہے ۔

اور شاید یہی وہ منافع ہے جسے کسی بیلنس شیٹ میں درج نہیں کیا جا سکتا ۔

امتیاز عبداللہ لاہور پاکستان

09/08/2026

سوال ۔ یہ اچانک ہارٹ اٹیک کیوں بڑھ گیا ہے؟ نوجوانوں میں زیادہ کیوں ہے۔ مائیو کارڈائ ٹیس کیا ہے؟ اسکا کوویڈ ویکسین سے کیا تعلق ہے؟

جواب ۔ میری معلومات و مشاہدات بہت محدود ہیں ۔ کوشش کرتا ہوں کہ احتیاط سے ایک ذمہ دارانہ جواب دوں ۔ غلطی کی گنجائش ہو سکتی ہے اور دوسروں کی شواہد و وجوہات کے ساتھ دلائل کا ہمیشہ منتظر اور خیر مقدم کروں گا ۔ کوویڈ وبا اور اس کیلئے استعمال ہونے والی ویکسین خصوصی میسنجر آر این اے اور بالخصوص بوسٹر کے سلسلہ وار استعمال میں بتدریج دل کی سوزش کا تعلق کی واضح وجہ نظر آتی ہے ۔ آئیے آپکے سوالات کو ایک ترتیب سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ آخر کوویڈ سے یا کوویڈ ویکسین سے دل میں ہی سوزش کیوں ہوتی ہے؟ یہی اہم سوال ہے ۔ جسم کے دوسرے اعضاء بھی کویڈ کے یا ویکسین کے اثرات محسوس کر سکتے ہیں، مگر مائیو کارڈائ ٹیس خاص طور پر دل کے مسلز میں کیوں ظاہر ہوتا ہے؟ ابھی بھی شاید مکمل جواب ہمارے پاس نہیں لیکن کئی ممکنہ وجوہات کون سمیٹنے کی جسارت کرتا ہوں ۔

حساسیت ۔ دل کے مسلز / عضلات بہت حساس ہوتے ہیں ۔ وہ مسلسل دھڑکتے رہتے ہیں اور میکانیکل تناؤ برداشت کرتے ہیں ۔ جب جسم میں سوزش پیدا کرنے والے کیمیکلز بڑھتے ہیں تو دل کے خلیے ان کے اثرات کو دوسرے اعضاء کے مقابلے میں زیادہ محسوس کرتے ہیں ۔

اسپائک پروٹین اور ACE2 ریسیپٹر ۔ دل کے خلیوں پر ACE2 نامی ریسیپٹر نسبتاً زیادہ موجود ہوتا ہے اسپائک پروٹین اسی ریسیپٹر سے جڑ سکتا ہے۔ کچھ مطالعات میں ویکسین لگوانے کے بعد اسپائک پروٹین خون میں گردش کرتا پایا گیا اسطرح یہ دل کے خلیوں میں داخل ہو کر سوزش کا اشارہ دے سکتا ہے ۔

مدافعتی خلیوں کا دل کی طرف متوجہ ہونا ۔ ویکسین لگنے کے بعد مدافعتی خلیے (خاص طور پر میکروفیجز اور ٹی سیلز) فعال ہو جاتے ہیں اور گمان ہے کہ بعض ٹی سیلز دل کی طرف خاص طور پر کھینچے جاتے ہیں ۔ اس کی ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ویکسین کے ذرات یا اسپائک پروٹین جسم میں پھیل کر دل تک پہنچ جاتے ہیں جس سے مدافعتی نظام وہاں ردعمل دکھاتا ہے ۔

مالیکیولر مشابہت ۔ اسپائک پروٹین اور دل کے کچھ پروٹینز (جیسے مایوسن یا پوٹاشیم چینلز) میں ساختی مشابہت ہو سکتی ہے ۔ مدافعتی نظام اسپائک کو نشانہ بناتے ہوئے غلطی سے دل کے اپنے پروٹینز پر بھی حملہ کر سکتا ہے۔ یہ آٹو امیون ردعمل نوجوان مردوں میں زیادہ نظر آرہا ہے ۔

ہارمونز کا کردار ۔ نوجوان مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون سوزش کو بڑھا سکتا ہے جبکہ خواتین میں ایسٹروجن حفاظتی کردار ادا کرتا ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مائیو کارڈائٹس زیادہ تر نوجوان مردوں میں رپورٹ ہوا ہے۔

دل کی مسلسل سرگرمی ۔ دل پر وقت ڈھرکتا ہے ، یہ کبھی آرام نہیں کرتا ۔ اس کی مسلسل حرکت اور تناؤ اسے سوزش کے لیے زیادہ حساس بنا دیتی ہے ۔ دوسرے اعضاء میں سوزش ہو بھی جائے تو علامات کم ظاہر ہوتی ہیں مگر دل میں تھوڑی سی بھی سوزش فوری طور پر درد ، بے ترتیبی یا کمزوری کی صورت میں محسوس ہو جاتی ہے ۔

اس میکانزم کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش میں ابھی کئی زاویوں سے تحقیق و مشاہدات باقی ہیں مگر بلاشبہ موجودہ علم کے مطابق یہ ایک نایاب ہی صحیح مگر دل کی سوزش ایک حقیقی جان لیوا ضمنی اثر ہے جو دل کو نشانہ بناتا ہے ۔

خیراندیش
عبید علی ۔ 9 اگست 2026

پریس ریلیزغیر معیاری ڈرپ سیٹ انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرہ، ملک بھر میں سرنجوں اور طبی آلات کی فوری جانچ کی جائے: نور م...
08/08/2026

پریس ریلیز

غیر معیاری ڈرپ سیٹ انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرہ، ملک بھر میں سرنجوں اور طبی آلات کی فوری جانچ کی جائے: نور محمد مہر

سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی رپورٹس تشویشناک، غیر معیاری طبی آلات کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن، فوری واپسی اور اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ

لاہور (پریس ریلیز) — پاکستان ڈرگ لائرز فورم کے صدر، فارماسسٹ و ایڈووکیٹ نور محمد مہر نے سندھ کی صوبائی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کراچی کی جانب سے مختلف کمپنیوں کے ڈسپوزیبل ڈرپ سیٹوں کے نمونوں کو غیر معیاری قرار دیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریضوں کے خون اور جسم سے براہِ راست منسلک ہونے والے طبی آلات کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ حکومت اس معاملے کو محض کاغذی کارروائی یا معمول کی محکمانہ کارروائی تک محدود رکھنے کے بجائے اسے قومی صحت اور مریضوں کے تحفظ کا سنگین مسئلہ سمجھے۔

نور محمد مہر نے کہا کہ سامنے آنے والی لیبارٹری رپورٹس میں مختلف ڈسپوزیبل انفیوژن یعنی ڈرپ سیٹوں کے بعض اہم معیارات میں عدم مطابقت سامنے آئی اور متعلقہ نمونوں کو غیر معیاری قرار دیا گیا۔ یہ صورتحال اس لیے مزید تشویشناک ہے کہ ڈرپ سیٹ ہسپتالوں، کلینکس اور دیگر طبی مراکز میں روزانہ ہزاروں مریضوں کے علاج میں استعمال ہوتے ہیں اور ان کے ذریعے ادویات اور محلول براہِ راست مریض کے جسم میں پہنچائے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دستیاب رپورٹس اور دستاویزات میں انفیوکین آئی وی انفیوژن سیٹ، لاسانی ہیلتھ کیئر گدون امازئی صوابی، کیورا فلو ڈسپوزیبل انفیوژن سیٹ، میڈویل ڈسپوزیبل انفیوژن سیٹ اور بعض مقامی و درآمد شدہ طبی آلات کے نمونوں کے متعلق غیر معیاری ہونے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ بعض مصنوعات چین میں تیار شدہ اور پاکستان میں مقامی اداروں کے ذریعے درآمد یا مارکیٹ کی گئی ہیں۔ متعلقہ حکام کو فوری طور پر ہر متاثرہ مصنوعات کے بیچ نمبر، تیار کنندہ، درآمد کنندہ، تقسیم کار اور مارکیٹ میں موجود مقدار کی مکمل تفصیلات سامنے لانی چاہئیں۔

نور محمد مہر نے واضح کیا کہ کسی ایک بیچ یا نمونے کی غیر معیاری رپورٹ کو بلا تحقیق پوری کمپنی یا اس کی تمام مصنوعات کے خلاف فیصلہ نہیں بنایا جانا چاہیے، تاہم جس مخصوص بیچ کو سرکاری لیبارٹری نے غیر معیاری قرار دیا ہو اسے فوری طور پر مارکیٹ سے واپس منگوانا، اس کی خرید و فروخت روکنا اور اس کی ترسیل کا مکمل ریکارڈ حاصل کرنا ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کے تناظر میں معاملہ انتہائی حساس

صدر پاکستان ڈرگ لائرز فورم نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی اور ہیپاٹائٹس سی جیسے خون کے ذریعے منتقل ہونے والے خطرناک امراض کے شدید چیلنج سے دوچار ہے۔ سندھ خصوصاً لاڑکانہ اور دیگر علاقوں میں ماضی میں ایچ آئی وی کے بڑے پیمانے پر کیس سامنے آ چکے ہیں اور غیر محفوظ انجکشن، سرنجوں کا دوبارہ استعمال، ناقص طبی طریقہ کار اور انفیکشن سے بچاؤ کے اصولوں کی خلاف ورزی جیسے عوامل پر سنجیدہ سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں اگر سرنج، ڈرپ سیٹ، کینولا یا خون سے براہِ راست تعلق رکھنے والا کوئی دوسرا طبی آلہ مقررہ معیار پر پورا نہ اترے تو معاملہ صرف ایک کمپنی یا ایک سرکاری محکمے تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ ملک کے مجموعی نظامِ صحت اور عوامی تحفظ کا سوال بن جاتا ہے۔

نور محمد مہر نے کہا:

> “ایک غیر معیاری ڈرپ سیٹ یا غیر محفوظ سرنج کا معاملہ بظاہر چھوٹا دکھائی دے سکتا ہے، لیکن مریض کے خون سے براہِ راست تعلق رکھنے والے طبی آلے میں معمولی غفلت بھی انسانی زندگی کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ پاکستان میں اب طبی آلات کے معیار پر خاموشی کی کوئی گنجائش نہیں۔”

انہوں نے کہا کہ نوشہرو فیروز، کراچی، لاڑکانہ اور ملک کے دیگر علاقوں میں جہاں ایچ آئی وی یا ہیپاٹائٹس کے غیر معمولی واقعات سامنے آئے ہیں، وہاں حکومت کو صرف مریضوں کی تعداد گننے کے بجائے بیماری پھیلنے کے بنیادی اسباب تک پہنچنا ہوگا۔ ہسپتالوں، نجی کلینکس، عطائی مراکز، انتقالِ خون کے مراکز اور انجکشن لگانے کے طریقہ کار کی مکمل چھان بین ضروری ہے۔

ملک بھر میں سرنجوں، ڈرپ سیٹوں اور کینولا کی ہنگامی جانچ کا مطالبہ

نور محمد مہر نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں استعمال ہونے والی سرنجوں، ڈرپ سیٹوں، کینولا اور دیگر ایسے طبی آلات کی فوری اور بڑے پیمانے پر نمونہ بندی اور لیبارٹری جانچ شروع کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ صرف چند نمونے لے کر کارروائی مکمل تصور نہیں کی جانی چاہیے بلکہ سرکاری ہسپتالوں، نجی ہسپتالوں، کلینکس، دواخانوں، طبی آلات کے تقسیم کاروں، درآمد کنندگان اور سرکاری خریداری کے مراکز سے اچانک نمونے حاصل کیے جائیں۔ جس بیچ یا مصنوعات میں خرابی ثابت ہو اسے فوری طور پر مارکیٹ سے واپس منگوایا جائے اور یہ بھی معلوم کیا جائے کہ وہ مصنوعات کن کن ہسپتالوں اور شہروں تک پہنچ چکی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ غیر معیاری طبی آلات کی سرکاری لیبارٹری رپورٹس کو عوام سے پوشیدہ رکھنے کے بجائے مناسب قانونی طریقہ کار کے بعد عوامی مفاد میں جاری کیا جائے تاکہ ہسپتال، ڈاکٹر، فارماسسٹ اور مریض متاثرہ بیچ کے استعمال سے بچ سکیں۔

درآمد شدہ طبی آلات کی بندرگاہ سے مریض تک مکمل نگرانی ضروری

نور محمد مہر نے کہا کہ پاکستان میں بڑی تعداد میں طبی آلات بیرونِ ملک سے درآمد ہوتے ہیں۔ صرف درآمدی کاغذات یا بیرونی سرٹیفکیٹ کو کافی تصور کرنا مناسب نہیں۔ جو چیز پاکستانی مریض کے جسم میں استعمال ہونی ہے، اس کے معیار کی ذمہ داری بالآخر پاکستان کے متعلقہ سرکاری اداروں پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ درآمد شدہ طبی آلات کے لیے ایسا مؤثر نظام ہونا چاہیے جس میں درآمد کے مقام سے لے کر گودام، تقسیم کار، ہسپتال اور مریض تک مکمل نگرانی اور ریکارڈ موجود ہو۔ کسی طبی آلے میں خرابی سامنے آنے کی صورت میں چند گھنٹوں کے اندر معلوم ہونا چاہیے کہ متعلقہ بیچ کہاں کہاں فراہم کیا گیا اور کتنا ذخیرہ اب بھی مارکیٹ میں موجود ہے۔

ویکسین اور حیاتیاتی ادویات کی جانچ کا نظام مزید مضبوط بنایا جائے

صدر پاکستان ڈرگ لائرز فورم نے کہا کہ ویکسین، حیاتیاتی ادویات اور حساس طبی مصنوعات کے معیار کے حوالے سے بھی پاکستان کو اپنی قومی صلاحیت مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ملک میں حیاتیاتی مصنوعات کی جانچ اور بیچ کے اجراء کے لیے قومی سطح کی لیبارٹری موجود ہے، لیکن عوامی اعتماد کے لیے ضروری ہے کہ اس کی استعداد، جدید آلات، تربیت یافتہ افرادی قوت اور بین الاقوامی معیار کے مطابق جانچ کی صلاحیت کو مسلسل بہتر بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی ریاست کو کسی بھی بیرونی ادارے یا غیر ملکی فراہم کنندہ پر اندھا اعتماد کرنے کے بجائے اپنی آزادانہ سائنسی اور لیبارٹری جانچ کی صلاحیت کو مضبوط کرنا ہوگا۔ عوام کو یہ اعتماد ملنا چاہیے کہ پاکستان میں استعمال ہونے والی ویکسین، حساس دوا یا طبی آلہ باقاعدہ اور قابلِ اعتماد نظامِ نگرانی سے گزرا ہے۔

غیر ملکی اداروں اور عالمی خریداری کی بھی بلاامتیاز چھان بین ہو

نور محمد مہر نے کہا کہ عالمی اداروں، غیر ملکی امدادی پروگراموں، بین الاقوامی خریداری اور بیرونی فراہم کنندگان کے ذریعے پاکستان آنے والی سرنجوں، طبی آلات، ویکسین اور دیگر حساس مصنوعات کے لیے بھی وہی سخت معیار ہونا چاہیے جو مقامی کمپنیوں پر لاگو ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی غیر ملکی ادارے، کمپنی، درآمد کنندہ یا عالمی پروگرام کے بارے میں ناقص یا آلودہ طبی سامان فراہم کرنے کی کوئی معتبر اطلاع، دستاویز یا ثبوت موجود ہو تو اسے دبانے کے بجائے آزادانہ سائنسی اور قانونی تحقیقات کے سامنے لایا جائے۔ کسی بھی ملک یا ادارے کے خلاف سنگین الزام صرف ثبوت کی بنیاد پر طے ہونا چاہیے، لیکن قومی سلامتی اور عوامی صحت سے متعلق کسی قابلِ اعتماد شکایت کو محض اس لیے نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اس میں کوئی بااثر یا بین الاقوامی ادارہ شامل ہے۔

ذمہ دار افسران کی غفلت بھی تحقیقات کا حصہ بنائی جائے

نور محمد مہر نے کہا کہ تحقیقات صرف کمپنیوں تک محدود نہیں ہونی چاہئیں۔ اگر کسی ڈرگ انسپکٹر، متعلقہ سرکاری افسر، خریداری کمیٹی، ہسپتال انتظامیہ یا دوسرے ذمہ دار اہلکار نے غیر معیاری طبی آلات کے بارے میں اطلاع ہونے کے باوجود بروقت کارروائی نہیں کی تو اس کی ذمہ داری کا بھی تعین کیا جائے۔

انہوں نے کہا:

> “قانون صرف صنعت کار اور درآمد کنندہ کے لیے نہیں، سرکاری افسر بھی عوام کے سامنے جواب دہ ہے۔ اگر ناقص طبی آلہ مارکیٹ میں موجود رہا اور ذمہ دار اداروں نے بروقت کارروائی نہیں کی تو اس انتظامی غفلت کی بھی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔”

وزیراعظم اور چیف جسٹس پاکستان سے اعلیٰ سطحی کمیشن بنانے کی اپیل

نور محمد مہر نے وزیراعظم پاکستان، وفاقی و صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ ملک میں سرنجوں، ڈرپ سیٹوں، کینولا، ویکسین اور دیگر حساس طبی مصنوعات کے معیار اور محفوظ استعمال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی قومی تحقیقاتی و فنی کمیشن قائم کیا جائے۔

یہ کمیشن ملک بھر میں سرکاری و نجی ہسپتالوں میں استعمال ہونے والے طبی آلات، سرکاری خریداری، درآمدی ریکارڈ، تقسیم کے نظام، لیبارٹری رپورٹس، غیر معیاری بیچوں کی واپسی، سرنجوں کے دوبارہ استعمال اور ایچ آئی وی و ہیپاٹائٹس کے زیادہ متاثرہ علاقوں میں انجکشن کے طریقہ کار کی جامع تحقیقات کرے۔

انہوں نے چیف جسٹس پاکستان سے بھی اپیل کی کہ انسانی جانوں اور صحتِ عامہ سے متعلق اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیا جائے اور متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں سے پوچھا جائے کہ غیر معیاری طبی آلات کو مریضوں تک پہنچنے سے روکنے کے لیے عملی طور پر کیا نظام موجود ہے۔

“پاکستانی مریض تجربہ گاہ نہیں”

نور محمد مہر نے کہا کہ پاکستان میں ادویات اور طبی آلات کا معیار محض تجارتی یا انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی زندگی، بنیادی حقوق اور ریاستی ذمہ داری کا معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا:

> “پاکستانی مریض کسی کمپنی، درآمد کنندہ، سرکاری محکمے یا عالمی ادارے کی تجربہ گاہ نہیں ہیں۔ ہمیں ایسا نظام چاہیے جس میں غیر معیاری سرنج، ڈرپ سیٹ یا کوئی حساس طبی آلہ مریض تک پہنچنے کے بعد نہیں بلکہ مریض تک پہنچنے سے پہلے پکڑا جائے۔ انسانی جان کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔”

انہوں نے کہا کہ یہ وقت الزام تراشی سے زیادہ فوری عملی کارروائی، شفاف تحقیقات، سائنسی جانچ اور ذمہ داروں کے تعین کا ہے۔ اگر آج اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو کل اس کی قیمت انسانی جانوں کی صورت میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

جاری کنندہ:
نور محمد مہر
صدر، پاکستان ڈرگ لائرز فورم
فارماسسٹ، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
ماہرِ قوانینِ ادویات

دیواروں کے بیچ روشن  چراغ، اور کھلے آسمان تلے بجھتی لو  تحریر: امتیاز عبداللہ  لاہور، 29 جون 2026ءزندگی کے عجیب کھیل دیک...
29/06/2026

دیواروں کے بیچ روشن چراغ، اور کھلے آسمان تلے بجھتی لو
تحریر: امتیاز عبداللہ
لاہور، 29 جون 2026ء

زندگی کے عجیب کھیل دیکھے ہیں ایک گھر پر چاروں طرف سے دیواریں اٹھا دی جائیں، دروازے بند کر دیے جائیں، روشندان بھی مسدود ہو جائیں، مگر اندر کے لوگ اپنے ہی دم سے چراغ جلا لیں۔ دوسرا گھر ایسا ہو جس کے سب در وا ہوں، ہوا آزاد، دھوپ بے روک، مگر وہاں شام ڈھلے اندھیرا اتر آئے۔ یہی قصہ ایران اور پاکستان کا ہے۔

تہران کی کسی گلی میں کھڑے ہو جاؤ۔ کوئی بیس برس کی لڑکی گزرے تو آنکھیں جھکا کر نہیں، کتاب ہاتھ میں لیے گزرے گی۔ وہاں نوجوان بچیوں میں سے سو میں سے ننانوے پڑھنا لکھنا جانتی ہیں۔ پورے ملک کا حساب کرو تو اسّی فیصد سے زیادہ لوگ قلم کے دوست ہیں۔

اپنے دیس کی طرف آؤ۔ لاہور سے لے کر لسبیلہ تک، ہر دوسرا شخص دستخط کے بجائے انگوٹھا لگاتا ہے۔ ہماری ماؤں بہنوں میں سے تو آدھی سے زیادہ ابھی حروف کی پہچان سے بھی ناآشنا ہیں۔ علم جو انسان کو انسان بناتا ہے، وہ ہمارے ہاں ابھی خواب ہے۔

ایران پر 1979 سے در بند ہیں۔ تیل بکنا بند ہوا، دوا آنا بند ہوئی، بینک کے دروازے مقفل ہوئے۔ مگر ایرانیوں نے کہا: "چلو، اپنے پاؤں پر کھڑے ہوتے ہیں۔" انہوں نے اپنی دوا خود بنائی، اپنی مشین خود گھڑی، اپنی بیٹیوں کو خود پڑھایا۔ آج ان کا سودا بیچنے سے زیادہ خریدنے کا نہیں رہا۔ ان کے کھاتے میں جمع زیادہ ہے، خرچ کم۔

ہمارے پاس در کھلے رہے۔ کوئی مانگنے آیا تو جھولی بھر دی گئی۔ قرضہ آیا، امداد آئی، مگر ہم نے کبھی اپنے ہاتھوں پر یقین نہ کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ خرچ زیادہ، آمدن کم۔ بیساکھی کے سہارے چلنے والا دوڑنا کب سیکھے گا؟

ایران کے گھر میں بچے کم ہیں، مگر ہر بچہ اسکول جاتا ہے۔ شہر میں رہنے والے زیادہ ہیں، سو استاد اور دوا دونوں وقت پر پہنچ جاتی ہے۔ زندگی کی اوسط وہاں اسی برس کو چھو رہی ہے۔

ہمارے آنگن میں بچے بہت ہیں۔ ہر سال لاکھوں نئے مہمان آ جاتے ہیں، مگر ان کے لیے نہ کمرہ ہے، نہ استاد، نہ تختی۔ ساٹھ فیصد لوگ ابھی گاؤں کی کچی گلیوں میں ہیں جہاں ماسٹر کبھی آتا ہے، کبھی نہیں۔ ہماری زندگی کی اوسط ابھی ستر کو بھی نہیں پہنچی۔

انقلاب کے بعد ایرانیوں نے کہا: "علم ہمارا ایمان ہے۔" انہوں نے صحرا میں بھی مدرسہ کھولا، پہاڑ پر بھی۔ بچیوں کے لیے الگ درسگاہ بنائی تو باپ نے خوشی سے بیٹی کا ہاتھ تھام کر بھیج دیا۔ آج ان کے ڈاکٹروں میں ہر تین میں سے ایک ڈاکٹر عورت ہے۔

ہم نے کہا "تعلیم صوبے کا کام ہے۔" پنجاب میں کسی نے چراغ جلایا، بلوچستان میں ہوا سے بجھ گیا۔ بجٹ کا بڑا حصہ قرض کی قسط اور توپ کے منہ میں چلا گیا، کتاب کے لیے بچا ہی کیا؟ دنیا کے تعلیمی میدان میں ہم 120 میں سے 113ویں نمبر پر کھڑے ہیں۔ شرم کا مقام ہے۔

ایران نے اپنی بیٹیوں کو پر دے کر اڑایا۔ وہ پڑھیں، وہ پڑھائیں، وہ ملک کا بوجھ بانٹیں۔ ہم نے آدھی آبادی کو چاردیواری کا تحفہ دے کر گھر بٹھا دیا۔ نتیجہ یہ کہ گاڑی ایک پہیے پر چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھلا ایک پہیے پر کبھی سفر کٹا ہے؟

اعداد کی زبان خشک سہی، مگر سچ بولتی ہے۔ جہاں قلم کی طاقت 85 ٪ سے اوپر ہے وہاں زندگی کی اوسط 78 ٪ کی بلندی پر ہے۔ جہاں قلم 59 ٪ پر رکا ہوا ہے وہاں زندگی کی اوسط 54 ٪ پر ہانپ رہی ہے۔

سبق صاف ظاہر ہے کہ دیواریں قوموں کو قید نہیں کرتیں۔ قومیں اپنی نیت سے قید ہوتی ہیں۔ پابندی اگر غیرت جگا دے تو وہ نعمت بن جاتی ہے۔ آزادی اگر غفلت لے آئے تو وہ زحمت بن جاتی ہے۔

پاکستان کے پاس اب بھی وقت ہے۔ اپنے بچوں کے ہاتھ میں کتاب تھمائیں، اپنی بچیوں کے لیے دروازے کھولیں، اپنی آبادی کو بوجھ نہیں، سرمایہ سمجھیں۔ ورنہ کل کی تاریخ لکھے گی کہ "ایک قوم تھی جس کے پاس آسمان کھلا تھا، مگر اس نے اڑنا نہ سیکھا۔ اور ایک قوم تھی جس پر چھت تان دی گئی تھی، مگر اس نے ستارے توڑ لیے۔"

امتیاز عبداللہ لاہور پاکستان ۔

متبادل یا مساوی ادویہہر جینرک دوا سچی جنیرک نہیں ۔ کیمیکل ایک ، فارمولا بظاہر ایک ، مگر یہ وعدہ ہمیشہ یکساں نتائج کی ضما...
26/06/2026

متبادل یا مساوی ادویہ
ہر جینرک دوا سچی جنیرک نہیں ۔

کیمیکل ایک ، فارمولا بظاہر ایک ، مگر یہ وعدہ ہمیشہ یکساں نتائج کی ضمانت نہیں بنتا ۔۔ سوچ سمجھ کر مشورہ دیں اور دعویٰ کریں ۔ آپ کیا جانتے ہیں اور کیا نہیں جانتے ، کیا کیا معلوم ہے اور کیا کیا نامعلوم ہے ، جو آپ جانتے ہیں وہ کیسے جانتے ہیں ، "کیسے" جاننے کا طریقہ قابل اعتماد ہے اور کتنا قابل اعتماد ہے ؟ جو اس موضوع پر اپ نہیں جانتے ہیں وہ کیا ہیں؟ وہسے آپ کیوں نہیں جانتے؟ کیا واقعی جو آپ جانتے ہیں وہ آپ سمجھتے بھی ہیں؟ آپکے سمجھنے کا طریقہ کیا ہے؟ اور کشید کی ہوئ شواہد کی مضبوطی کا حجم کتنا ہے؟

بغیر ڈرائیونگ دیکھے کسی کو سڑک پر ڈرائیونگ کا لائسنس دینا خطرناک ہے ۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہ غیر معیاری ڈرائیونگ کرتا ہے ، اسکو ڈرائیونگ لائسنس دینا گھناؤنا جرم ہے ۔ کسی انسٹیوٹ سے جعلی ڈرائیونگ سرٹیفکیٹ کو بنیاد بناکر ڈرائیونگ لائسنس دینا کم گھناؤنا جرم نہیں ۔۔۔

ہم سب روزمرہ زندگی میں دوائیں استعمال کرتے ہیں۔ سر درد کی گولی پیراسیٹامول ہو یا تھائی رائیڈ ہارمون کی دوا تھائیرواکسن ، جب فارماسسٹ یا ڈاکٹر کہتے ہیں کہ یہ نئی گولی پرانی والی جیسی ہے ، بس کمپنی بدلی ہے تو ہم بھروسہ کر لیتے ہیں ۔ مگر کیا یہ بھروسہ ہمیشہ درست ہوتا ہے؟ کیا واقعی یہ ادویات برابری کے معیار پر جانچی بھی گئی ہیں ۔

پاکستان میں بائیو ایکویلنسی کی جانچ بہت محدود چند ایک ادویات تک رہی ہے ، اس کا منظم اور جامع نفاذ ابھی بھی ایک بڑا چیلنج ہے ہمارے یہاں بائیو ایکویلنسی کے عملی نفاذ ، نگرانی اور شفافیت پر ابھی بہت کام ہونا باقی ہے ۔ سب سے پہلے تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہماری غفلت سنگین رہی ہے ۔ یہاں علم الادویہ سے وابستہ قد آور شخصیات کا دواؤں کی کوالٹی پر اندھا اطمینان کا مستقل جاری رویہ انتہائ پریشان کن ہے ۔ کوئ تو پوچھے کہ آپ نے کیوں اپنی دوا کو بغیر جانچے کوالٹی کا کہتے رہے ہیں ، آج بھی کہتے ہیں ، کیا ایسا کسی مہذب معاشرے میں دیکھا یے ۔ چلیں چھوڑیں ، ذرا آگے چلتے ہیں ، ترقی یافتہ ممالک میں جہاں یہ جانب لازمی ہوتی ہے ان کیلئے سوال اٹھاتا ہوں کہ کیا جو دوائیں اوسطاً درجن بھر صحت مند لوگوں میں برابر ثابت ہوتی ہیں ، وہ دوا ہر مریض کے جسم کے لیے بھی برابر ہوتی ہیں؟

آئیے کچھ بنیادی باتیں سمجھتے ہیں ، فرض کریں کہ آپ نے ایک دوا 10 (دس) ملی گرام کھائ ، وہ دوا منہ سے معدے میں پہنچی ، اس سے اسکا اہم جز الگ ہوا اور وہ آنتوں سے جذب ہوکر خون کے اندر 7 (سات) ملی گرام پہنچی ، تو اسکا مطلب دوا %70 پہنچ سکی اور %30 نہیں پہنچ سکی ۔ یعنی دوا کی بائیو اویلیبلیٹی 100 فیصد نہیں صرف 70 فیصد ہے ۔ ایک ہی دوا کئی کمپنیاں بناتی ہیں ۔ پر کا اپنا میٹریل ، اپنی ترکیب ، مختلف مشینری ، مختلف طریقہ کار ، مختلف علم ۔ پہلی دوا کو ریفرنس دوا سمجھا جاتا ہے اور آنے والی جنیرک ادویات کو اس (ریفرنس دوا) کے ساتھ زیادہ تر صحت مند رضاکاروں کو اور بعض مخصوص حالات میں مریضوں کو کھلا کر یا لگا کر انکے خون میں پہنچنے والے مقدار ، اثر کی چھتری و رفتار کو الگ الگ ناپا جاتا ہے ، جسم کا دوا کے ساتھ رویہ کیسا رہا ،
خون میں دوا کی مقدار مختلف اوقات میں باقاعدہ ناپی جاتی ہے جس سے جذب ہونے کی رفتار اور مقدار کا موازنہ کیا جاتا ہے ۔ پھر دونوں ادویات کے نتائج کا آپس میں براہ راست موازنہ کیا جاتا ہے ۔ اگر دونوں ادویات کی بائیو اویلیبلیٹی قریب قریب (کچھ ویلیوز متفقہ طور پر طے کی ہوئ ہیں) ہو تو انھیں مساوی ادویات سمجھا جاتا ہے ۔

یاد رکھیے کہ معمولی سی تبدیلی نتائج تبدیل کر دیتی ہیں ۔ بعض ادویات میں نتائج کی بڑی تبدیلی بھی نقصان نہیں پہنچاتی اور بعض میں معمولی تبدیلی بھی کسی کیلئے جان لیوا ثابت ہو جاتی ہے ۔ احتیاط سے ، الگ الگ ، بہت احتیاط سے سمجھیں ۔ چلیں مثال دیتا ہوں ، یہ یورپ کا طاقتور ملک ہے 2017 میں لاکھوں لوگ لیووتھائیروکسن (تھائی رائیڈ کی دوا) استعمال کر رہے تھے ۔ شمالی امریکہ سے تعلق رکھنے والی ادویہ ساز کمپنی نے ترکیب (فارمولیشن) بدلی تاکہ دوا زیادہ مستحکم رہے ۔ 204 صحت مند رضاکاروں پر بائیو ایکویلنسی کا ٹیسٹ کیا گیا ، ٹیسٹ مطلوبہ معیار پر پاس ہو گیا ۔ مگر حقیقی مریضوں میں 31,000 سے زائد شکایات آئیں ، سر درد ، چکر ، تھکاوٹ ، نیند نہ آنا ۔ کیونکہ فارمیسی نے مریضوں کو بغیر بتائے دوا تبدیل کر دی تھی ۔ کمپنی اور ریگولیٹرز کو جب بتایا تو انھوں نے ذہنی اختراع (نوسیبو اثر) کہا ۔ اعتماد تو ٹوٹنا تھا اور اعتماد ٹوٹ گیا کیونکہ بعد کے مطالعات میں یہ امکان سامنے آیا کہ اگرچہ اوسط نتائج بائیو ایکویلنسی کے معیار پر پورے اترتے تھے لیکن بعض مریضوں میں خون میں دوا کی دستیابی میں انفرادی سطح پر قابلِ ذکر فرق دیکھا گیا ۔ کئی مثال میرے آنکھوں کے سامنے گھوم رہی ہے ۔ کوئ پوچھے تو مزید شئیر کروں گا ۔۔۔ دوا کا کام اوسط انسان کے لیے نہیں ، آپ کے جسم کے لیے ہونا چاہیے ۔ بائیو ایکویلنسی ایک اچھا معیار ہے مگر اسے مریض کی خودمختاری کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے ۔ شفافیت ، بہتر معلومات ، مضبوط نگرانی اور انفرادی توجہ سے ہم اعتماد بحال کر سکتے ہیں ۔

تحریر کو سمیٹنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ تمام ادویات یکساں حساس نہیں ہوتیں ۔ بعض ادویات ایسی ہیں جن میں بڑا فرق بھی کوئی خاص مسئلہ پیدا نہیں کرتا لیکن کچھ ادویات ایسی بھی ہیں جن میں خون میں دوا کی مقدار کا بہت معمولی سا اتار چڑھاؤ بھی مریض کی صحت پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے ۔ فرق اتنا ہی ہے جتنا روئی کو لیکر بھیڑ میں چلنے اور ننگی دھار والا چاقو چھریاں ہجوم میں لیکر چلنے میں ہوتا ہے ۔ بائیو ایکویلنسی ایک اہم سائنسی معیار ہے مگر یہ کسی دوا کی کہانی کا آخری باب نہیں ۔ نا ہی ایک بار کرکے سویا جاسکتا ہے یا ہمیشہ کیلئے اعتماد رکھا جاسکتا ہے ۔ بعض حساس ادویات میں اوسط نتائج کے ساتھ ساتھ مریض کی انفرادی کیفیت ، مسلسل نگرانی، شفاف معلومات اور معالج کی پیشہ ورانہ بصیرت بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے ۔ انسانی جان سے بڑھ کر کوئی قدر نہیں ، اسی لیے ہر وہ قدم جو دوا پر اعتماد کو مضبوط بنائے درحقیقت ہم پیشہ ور ادویہ سازوں پر اعتماد کو مضبوط بناتا ہے ۔

مضمون ڈاکٹرز ، فارماسسٹ اور خصوصی عام قاری کی آگاہی کیلئے تحریر کیا گیا ہے ۔ سوالات کا خیر مقدم کروں گا ۔

خیراندیش
عبید علی ۔ 26 جون 2026

17/06/2026

Researchers have found that more than half of patients who stop taking GLP-1 inhibitors restart within one year, while nearly two-thirds restart within two years. The findings were presented at ENDO…

Address


54780

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pharma Insight Magazine posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share