01/02/2026
آج حاجی بابر، کل کون ؟
حاجی بابر کو صبح ان کے گھر کے سامنے موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے قتل کیا۔ یہ سوال صرف ایک خاندان کا نہیں، پورے معاشرے کا ہے:
👉 یہ سب کون کر رہا ہے؟
👉 ان قاتلوں کو کھلی چھوٹ کس نے دی ہے؟
👉 انتظامیہ، پولیس اور ریاستی ادارے آخر کہاں ہیں؟
علاقے میں امن و امان تیزی سے تباہ ہو رہا ہے۔ دن بدن مسائل بڑھ رہے ہیں، قتل و غارت معمول بنتی جا رہی ہے، اور مجرم بے خوف ہو کر گھوم رہے ہیں۔ اگر آج حاجی بابر کو مارا گیا ہے تو کل کوئی اور ہوگا—کیا ہم سب اگلے نمبر کے انتظار میں ہیں؟
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سفاک اور بزدلانہ دہش تگردی میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے، انہیں قانون کے کٹہرے میں لا کر منظرِ عام پر لایا جائے اور مثال بنائی جائے، تاکہ آئندہ کوئی بھی معصوم شہری اس طرح بے دردی سے نشانہ نہ بنے۔
اگر آج بھی خاموشی اختیار کی گئی تو یہ خاموشی مزید لاش وں کی قیمت پر ہوگی۔
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو تحفظ دے—ورنہ یہ سوال تاریخ ضرور پوچھے گی کہ خون بہتا رہا اور اختیار رکھنے والے تماشائی بنے رہے۔