Betty Jean

Betty Jean Writer

09/05/2026

موت کی خبر

فون کی گھنٹی بجی ۔ میں نے غنودگی میں چونک کر فون اٹھایا۔ ادھر سے آواز آئی باجی زری ساجدہ کوبتا دیں کہ آصف فوت ہو گیا ہے۔ کون آصف؟ داد پوترہ ہے جی اور فورا ہی فون رکھ دیا۔ میں نے پھرسے سونے کی کوشش کی مگر ایک بار نیند ٹوٹ جاۓ تو پھر کہاں سلسلہ جڑ تا ہے ۔
ویسے بھی ساجدہ کو بتانا تھا تاکہ وہ جلدی جلدی کام نمٹا کر گاؤں جاۓ۔ ساجدہ میرا ناشتہ لائی اور وہیں قالین پر بیٹھ گئی۔ میں نے ٹوسٹ پر جیم لگاتے ہوۓ پوچھا- یہ آصف کون ہے؟ کیوں جی کیا ہوا ؟ وہ ایک دم چونکی- میری افریزن کا دیور ہے جی میرے جیٹھ کا پتر۔ وہ فوت ہو گیا۔ میں نے دھماکہ کیا۔ وئی وئی! اس نے دونوں ہاتھ ملے, وہ کیسے مر گیا۔ سوہناگھبرو جوان بیل کی طرح مضبوط کاٹھی نہ جی نہ وہ نہیں ہو سکتا۔ کیوں نہیں ہو سکتا کیا اس کے مرنے پر پابندی ہے- نہیں پر دیکھیں نا۔

مرنے کی بھی ایک عمر ہوتی ہے۔ اس کی تواس کی عمر نہیں۔ کل کا بچہ ہے۔ ابھی تو داڑھی بھی نہیں آئی اور پھر وہ تو جڑواں بچہ ہے اس کے سنگے نال جمنے والا (اس کے ساتھ پیدا ہونے والا )٠ دوسرا تو بالکل ماڑا مرنگ (کمزور) سوکھا تیلا ہے۔ مرتاتووہ مرتا ہاۓ اللہ جی اب کیا ہو گا۔ میری شود هی دیورانی کاتو کالجہ (کلیجہ) پھٹ گیا ہو گا۔ ساجدہ نے رونا شروع کردیا۔ صبر کر صبر۔ تیری تو پہلے ہی ایک آنکھ کی نظر نہیں ہے۔ اب کیا دوسری آنکھ بھی گنواۓ گی۔ کیسے صبر کروں بی بی! اتنا نیک بچہ تھا۔ جی جی کرتا تھا۔ جاتی تھی توفورا جی چارپائی بچھا کر اس پر چادر ڈالتا۔ تکیے رکھتا۔ دودھ کی پتی بناکر پلاتا اس نے دنیا میں ابھی دیکھاہی کیا تھا۔

ہاۓ ہاۓ صادق کی تو کمر ٹوٹ گئی۔ جانے جوان موت کا صدمہ برداشت کر سکے گا کہ نہیں۔ مجھے تو اس کی فکرپڑگئی۔ کہیں ایک گھر۔سے دو منجیاں نہ نکلیں۔دل کا اٹیک نہ ہوجاۓ۔ خیر کا کلمہ نکال – جیٹھ کو کیوں مارے ڈالتی ہے – یہ تو بتائیں آپ کو فون کس نے کیا تھا ؟ مستقیم نے کہتا تھا کہ تیرا داد پو تڑہ ہے- کہیں میرے داد پو تڑے بشیر کے بیٹے آصف کا تو نہیں کہ رہا تھا ؟اس نے دو ہتڑ اپنے سینے پر مارے- ضروربشیر کا پتڑ ہو گا ہائے الله جی چار لڑکیوں کے بعد توجڑا تھا ہر پیر فقیر سے دعا کرائی تھی الله جانے اس کے ساتھ کیا بنی جو یوں اچانک مر گیا۔ نہ کوئی بیاری کی خبرنہ کج ہور ضرور کوئی دل دا ( مروڑ) پڑا ہو گا۔ نظر نہ لگ گئی ہو کسی دل سڑی کی -آسیب بھی پڑ سکتا ہے کتنی دفع۔ کہا تھا کہ مغرب کے بعد گھر سے باہر نہ نکالنا۔

درخت کے نیچے نہ کھڑا ہونا آج کل کی کڑیاں کسی بڑے کی بات نہیں سنتیں – کتنا بڑا تھا؟ میں نے چاۓ کا گھونٹ لیا۔ میں چٹی ان پڑھ ۔ مجھے عمر شمرکا کیا پتا ۔ ابھی تو گھنٹوں کے بل کر رہا تھا ۔ شاید پاؤں پاؤں چلنے لگا ہو ۔ ایسا چٹا سفید دودھ ورگاہ موٹا تازہ۔ بندہ دیکھتا رہے۔ لگے جیسے کسی پٹھان کا جاکت ہے۔ ہاۓ ہائے ماں پیو اور بہنوں کی تو جان تھی اس میں۔ موت کی گھڑی کا کوئی پتہ نہیں۔ بلاوا آجاۓ تو کتنی دیر لگتی ہے۔ نہ بچے دیکھتی ہے نہ ادھیڑ عمر میرا تو آپ کلیجہ پھٹ رہا ہے ۔ دل چاہ رہا ہے اڑ کر پہنچوں اور انہیں حوصلہ دوں- خودتو حوصلہ پکڑ۔ میں نے تسلی دی۔ بی بی جنازے کا نہیں بتایا کس ویلے ہے۔

واقعی جنازے کا تو بتایا ہی نہیں۔ بڑا بے وقوف ہے تیرابیٹا- آپ جنازے کا پتا کرائیں۔ میں باہر جا کر دادو کو تو بتاؤں وہ بھی بے چارہ بڑا کھ کرے گا۔” میں نے حسن ابدال فون کیا کہ جنازے کا پتا کرائیں اور خود اخبار پڑھنے گئی۔ آج کل تو ویسے بھی اخبار سے بڑھ کر کوئی چیز ڈپر سینگ نہیں۔ پڑ ھتے ہی بلڈ پریشر لو ہونے لگتا ہے اور پریشانی بڑھنے لگتی ہے۔ کوئی خیر کی خبر تو ہوتی نہیں۔ خودکش حملے دھماکے آگ خون دلویسے ہی اداس ساتھا۔ تھوڑی دیر بعد ساجدہ واپس آ گئی اور موٹے شیشوں والی عینک میں سے اس کی آنکھیں اپنے سائز سے کئی گنا بڑی نظر آرہی تھیں۔ اس نے اپنی جناتی سائز کی آنکھیں مجھ پر گاڑ دیں اور بولی ” وه جی دادو کہہ رہا ہے کہ بشیر کے جاکت کا نام آصف نہیں عارف ہے یہ ضرور میرخان کا بیٹا آصف ہوگااور اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی ۔
کچی عمر کی غلطی
مزید پڑھیں
میرخان بے چارہ تو کب سے منجی پر پڑا ہے – سرکاری ہسپتال میں پڑا ہے ہر طرف نالیاں لگی ہوئی ہیں بس انتظار ہے کہ کب سانس ختم ہو ۔ جانا تو اس کو تھا پر بلاوا اس کے بیٹے کا آ گیا – بی بی کہیں فرشتوں کو گلتی تو نہیں لگ گئی ؟ چل بے وقوف کھبی فرشتے بھی غلطی کرتے ہیں۔ “او جی کئی واری بندہ مر گیا۔ جب نہلانے کے لیے ڈالا تو کلمہ پڑھتا ہوا اٹھ بیٹھا۔ سارے لوگ سرپر پاؤں رکھ کے بھاگ گئے ۔ وہ بے چارا آوازیں دے رہا ہے۔ میں مرا نہیں جیوندا جاگدا ہوں۔

اصل میں فرشتوں کو جب پتہ چلتا ہےنا کہ وہ غلط بندے کولے جا رہے ہیں توفٹ اس کا ساہ موڑ دیتے ہیں- فرشتوں سے بھلا کیسے غلطی ہو سکتی ہے ؟ کیا بک کی لگائی ہوئی ہے۔۔ ” کیوں نہیں لگ سکتی ہیں۔ کئی واری ایک جیسے نام ہوتے ہیں۔منہ ماند را (شکل) ملتا جلتا ہو تا ہے۔ آخر کو فرشتے بھی تواللہ ہی کی مخلوق ہیں نا !” تو یہ بتا کہ جانا ہے یا نہیں۔ کیا ارادہ ہے ؟” جانا تو پڑے گانا ۔ آخر کو اپنا گرائیں ہے۔ آج میں نہ کی تو کل میرے جنازے پر کون آۓ گا ۔ تجھے کیا فرق پڑتا ہے۔ مرنے کے بعد کوئی آۓ یا نہ آئے۔ لو جی کیسے فرق نہیں پڑتا جنازہ پڑا ہو اور کوئی دو آنسو بہانے والا بھی نہ ہو – میرے گھر والے منہ ہے چھپاتے پھریں -ہمارے گراں کا ایک خان تھا – وہ لوگوں کے جنازے پر نہیں جاتا تھا۔

جب وہ مراتو گاؤں والوں نے خود جائے کے بجاۓ پیڑھیاں بھیج دیں اور پھر بھی کوئی جنازہ اٹھانے والا نہیں تھا۔ بڑی مشکل سے کھینچ کھانچ کے قبر میں ڈالا اور ویسے بھی ہی میرخان کا پہلا ویاہ میری مسیری(خالہ زاد) کے ساتھ ہوا تھا۔ اس کے تو ہاتھوں کی مہندی بھی نہیں اتری تھی کہ شوهدی مرگئی۔ خیر جی نکاح تو ہوا تھا نصیب نہ ہوا تو کیا ہوا اور پھر میرخان نے آصف کے لیے میری نانو (سند) کی دھی کے لیے رشتہ بھی ڈالا ہوا تقل اگر رشتہ ہو جاتا تو پھر تو اپنا جوانتره(داماد) ہی ہوتا؟ میں نے تنگ آکر کہا۔ “اچھا بابا! جاؤ مگر جنازے کے بعد فورا آجانا۔اور وہ فورا جوڑا بدل چکن کی سفید چادر اوڑھ تشریف لے گئیں ۔
شکی مزاج مرد
مزید پڑھیں
مغرب کے بعد واپس تشریف آوری ہوئی۔ آگئیں واپس بڑی جلدی واپسی ہوگئی۔ جی آگئی۔ جوان موت تھی۔ کافی بڑا جنازہ ہو گا۔ وہ ایک دم سے پھٹ پڑی۔ کیسی جوان موت جی۔ گاؤں کا مصلی سیف فوت ہوا ہے۔ سو سے اوپر ٹپ گیا تھا۔ کئی سالوں سےبیمار تھا بلکہ اب تو منجی پر بیٹھ گیا تھا۔ شوہدے کا دانا پانی بھی بند ہو گیا ناس سکھ کے مکر بن گیا تھا۔ اس کا مرنا تو چلو اچھا ہی ہو گیا۔

اس کی بھی جان چھوٹی اور پیچھے والوں کی بھی۔ اللہ جی نے پردہ رکھ لیا۔ وہ تو کہ رہاتھا کہداد پو تڑه ہے؟ میرا داد پپو تڑه کیوں ہو تا۔ جین جوگے کو مجھے فون کرنے کی بھلا کیالوڑ تھی۔ سارے راستے رو رو کر نظراور بھی خراب ہو گئی۔اصل میں جی آپ کو غلطی گئی۔ وہ مستقیم نہیں تھا۔ میرا داد پو تڑه تھا جس نے فون کیا۔ اس نے سیف کہا۔ آپ نے آصف سمجھا خیر جی جو ہونا تھا ہو گیا۔ آپ بولیں رات کو کیا کھانا ہے؟ 😂😂

09/05/2026

پتھر دل بیٹی

شوہر کی وفات کے بعد میری سگی بیٹی نے دولت کے لالچ میں آکر مجھے بھری عدالت میں رسوا کردیا۔ ان کا بیان تھا کہ اس کی ماں بد چلن تھی اس کے مرنے سے پہلے اس کے باپ نے طلاق دے دی تھی۔ یہ سن کر میں چکرا گئی۔ لیکن جب میرے عزت پر حملہ ہوا تو میں بھی ماں سے عورت بن گئی۔ اب مقابلہ دو عورتوں کے درمیان تھا۔ مجھے خود کو پاک دامن ثابت کرتا تھا، جب کہ بیٹی کو باپ کی دولت ہڑپ کرنا تھی۔
رابیعہ دروازہ کھول کر اندر آ گئی، میں نے اسے ایک فاضل چابی دے رکھی ہے۔ اس لیے وہ جب چاہے میرے گھر میں داخل ہو سکتی ہے۔ میرے لیے چائے کا تھرماس لا کر اس نے میز پر رکھ دیا۔ میری خاموشی کو بغور میرے چہرے کی طرف دیکھ کرسمجھنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے وہ میرے مقابل کرسی پر خاموشی سے بیٹھ گئی۔

آج میں نے اسے مسکرا کر سلام نہیں کیا تھا۔ شاید اس نے سلام کیا ہو اور میں نے جواب نہیں دیا تھا۔ پتا ہی نہیں چلا تھا، مجھے اس کی آواز نہیں سنائی دی تھی۔ میں تو فرزانہ کی کھلکھلا سن رہی تھی، اپنے پگھوڑے میں لیٹی مسکراتے ہوئے وہ مجھے اور سکندر کو دیکھتے ہوئے خوب ہنس رہی ہے۔ صرف چوبیس سال پہلے کا منظر تھا۔ آنکھوں میں روز حاضر کی طرح روشن اورعیاں ۔ اس کی پیدائش پر ہم نے کئی دن تک جشن منایا، پورے خاندان کے ہر فرد کے گھر پر مٹھائی کے ٹوکروں کے ساتھ قیمتی جوڑے بھجوائے گئے ۔ فیکٹری کے ملازمین کی تنخوا دگنی کر دی گئیں اور کئی جائدادیں فرزانہ کے نام منتقل ہو گئیں۔ یہ خوشی تو دنیاوی دولت لٹا کر ظاہر کی گئی مگر اپنے گھر پر اس کی موجودگی کا ایک ایک لمحہ ہمیں نئی مسرتوں سے آشنا کرتا رہا۔ جس دن وہ پہلی بار ٹیک لگا کر بیٹھنے کے قابل ہوئی، جب اس کا پہلا دانت نمایاں ہوا اور اس نے پہلا قدم اٹھایا۔

یہ تمام دن ہمارے نوکر ہم سے جھولیاں بھر بھر کے صدقات و خیرات سمیٹتے رہے۔ سکندر کا اور میرا تو دل ہی نہیں بھر رہا تھا، دل چاہتا تھا اپنا سب کچھ اس کی مسکراہٹ پر قربان کر دیں۔۔ اس کی زندگی کے کسی لمحے ہم نے کسی بھی قسم کی کوئی کمی یا پریشانی اس کے نزدیک نہیں آنے دی۔ شادی بھی بہت دھوم دھام سے کی- سوئی سے لے کر صندوق تک سب کچھ دیا، پورا بگلہ قیمتی فرنیچر سے آراستہ کر کے دولہا دلہن کو تحفتاً دیا جبکہ ان دونوں نے امریکہ میں جا کر رہنا تھا۔ ساحر، ہمارے داماد کی سکونت نیو یارک میں تھی اور نوکری بھی۔ یہ محبت کی شادی، ساحر کے مالی اعتبار سے کم تر ہونے کے باوجود ہم نے صرف فرزانہ کی محبت میں کروائی تھی۔

اپنے کالج فیلوز کے ساتھ چھٹیوں میں امریکہ ٹرپ کے دوران فرزانہ کی ساحر سے ملاقات ہوئی جو بعد ازاں محبت میں بدل گئی۔ سکندر اور میں. تھوڑی پس و پیش کے بعد فرزانہ کے اس فیصلے پر راضی ہو گئے اور پھر ہم نے وہی کیا جو ہمیشہ سے کرتے آئے تھے، کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ پر شاید نہیں کچھ کی رہ گئی تھی۔ تب ہی سکندر کی وفات کے ایک ہفتے بعد فرزانہ مجھ سے جائیداد کی ملکیت حاصل کرنے کے لیے کاغذات پر دستخط کروانے آگئی۔ شادی کے بعد چھ سال تک اس کا جب بھی پاکستان آنا ہوا وہ ایک ایک کر کے اپنے نام کی گئی ساری پراپرٹی کو بیچ کر رقم ساتھ لے جاتی رہی۔ عیش و عشرت میں رہنے کی عادت شادی کے بعد چھوٹ نہیں رہی تھی اور ساحر کی تنخواہ میں وہ ساری خواہشات پوری کرنا ممکن نہیں تھا۔

اسی لیے ہمارے لاکھ کہنے کے باوجود وہ روپیہ دونوں ہاتھوں سے لتاتی رہتی رہی تھی ۔ اپنے آخری دنوں میں سکندر بہت بیمار رہنے لگے، پھر انہیں کینسر تشخیص ہوا اور علاج چلنے لگا جو کہ ظاہر ہے بہت مہنگا تھا۔ بلڈ کینسر سے متاثرہ جسم اور چہرے پر توانائی لوٹ آئی تھی جب وہ فرزانہ سے فون پر بات کرتے۔

مجھے آج سوچنے پر یاد آ رہا ہے کہ فرزانہ نے ہمیشہ رقم کے مطالبے کے لیے فون کیا۔ کبھی صرف باپ کی طبیعت کے لیے یا میری خبر گیری کے لیے نہیں۔ پتا نہیں اولاد کی محبت آنکھوں کو اندھا اور کانوں کو بہرا کیوں کر دیتی ہے کہ ان کی حرص وہوس دیکھ نہیں پاتے ، ان کی آواز میں خود غرضی سنائی نہیں دیتی۔ مجھے تو اس وقت بھی یقین نہیں آیا تھا جب وہ میرے سامنے کھڑے ہو کر اپنا مطالبہ دہرا رہی تھی۔ سائن کریں جلدی امی کیا گھور رہی ہیں ؟ اس کا اصرار مجھے پہلی بار بد تمیزی محسوس ہوا لیکن میں نے ضبط کرتے ہوئے نہایت نرمی سے جواب دیا۔

تم یہاں پاکستان واپس آرہی ہو ؟ ہم ہاں ۔۔ شاید وہاں ساحر کی جاب کا کچھ پتا نہیں کب نکال دیں وہ لوگ۔ اس لیے واپس آنا پڑے گا ہمیں ” تو آجاؤ، گھر بھی موجود ہے اور ساحر فیکٹری سنبھال سکتا ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔” اس نے اپنی عجیب نظروں سے مجھے گھورا، جیسے کر رہی ہو آپ کے اعتراض کی پرواہ کسے ہے ؟ مگر یہ نہیں کیا اس نے جو کہا ، وہ جس کی باتوں سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔ آپ بھول رہی ہیں، چاچا اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ فیکٹری پر نظر لگائے بیٹھے ہیں۔ کل کو آپ ڈ ید کی طرح اچانک مرئیں تو میں تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گئی میں کئی سیکنڈزتک کچھ بول نہیں پائی۔

کیا کہتی ؟ جو کچھ فرزانہ کہ رہی تھی ، اس کا جواب میرے پاس تھا ہی نہیں ۔ ہاں سوال بہت سے تھے جن میں سرفہرست سوال پوچھنے کی ہمت نہیں ” کیا اسے مجھ سے زیادہ دولت سے پیار ہے؟” ہے نا گھسا پٹنا، جذباتی اور بے وقوفانہ سوال، بھلا اس قدر صاف مطالبوں کے جواب میں ایسی بائیں کی جاتی ہیں؟ ثابت کر دیا نا میں نے کہ میں ایک سمجھ دار بیٹی کی کم عقل ماں ہوں ۔ میں خاموش ہوگئی پر میں نے دستخط بھی نہیں کیے تھی -نہ فیکٹری اور نہ ہی اس گھر کے کاغذات فرزانہ کے حوالے کیے۔ میری خاموشی دن بدن اس کی بد تمیزی میں اضافہ کرنے لگی۔ پھر اس نے میرے خلاف کورٹ میں کیس دائر کر دیا۔

آپ حیران نہ ہوں، یا تھوڑا سا ہو جائیں ، پر میرے دکھ کا اندازہ آپ کو پھر بھی نہیں ہوسکتا۔ میرے مقابل میری اپنی بہنیں آکھڑی ہوئی تھی جسے مجھ سے جیتنا تھا مقدمہ بھی اور دولت بھی۔ میں خاموشی میں ہی سب کچھ ہار جاتی اگر فرزانہ کی دوست رابعہ میرے حق میں کھڑی نہ ہوتی۔ اس نے وکالت پاس کی تھی، اسی نے میری طرف سے وہ تمام دستاویزات عدالت میں جمع کر دئیں جن سے ثابت ہو رہا تھا کہ فرزانہ کو اس کا جائز حق بھی دیا جاچکا ہے اور اس سے کہیں زیادہ مالی تحائف بھی مل چکے ہیں۔ رابعہ کے دل میں اللہ نے ہی احساس ڈالا کہ وہ اپنی دوست کے بجائے میرا ساتھ دینے لگی۔ اس نے پہلے دن سے ہی فرزانہ کو سمجھانے اور روکنے کی پوری کوشش کی اور پھر اس کی طرف سے کیس لڑنے سے انکار کر دیا۔

مگر فرزانہ اپنی ضد کی تھی اس نے دوسرے وکیل سے رابطہ کر لیا تھا اور اب میری پیشی تھی۔ میں عدالت جا نا نہیں چاہتی تھی ۔ لوگوں کی عجیب نظروں کا سامنا کرنے کی ہمت بھی نہیں تھی مجھ میں اور نہ ہی اتنا حوصلہ کہ فرزانہ کے چہرے پر اپنے لیے نفرت کے جذبات دیکھ سکوں ہو میں نے انکار کر دیا۔ رابعہ نے کہا اس طرح کیسی طوالت اختیار کر جائے گا۔” میں الجھ پڑی کہ ” جب ہر بات صاف ظاہر ہو چکی ہے کہ ہم نے اس کا حق دے دیا ہے تو اب کسی بات کی پیچیدگی ہے؟

وہ ہچکچائی پھر گویا ہوئی ۔ فرزانہ نے ۔۔ وہ پھر رکی تو میں نے بات مکمل کرنی چاہی۔ اس نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ؟”۔ نفی میں سر ہلاتے ہوئے رابعہ اپنے لب کچلنے لگی – میں مزید الجھی – “تو پھر ؟ ایک گہری سانس لے کر رابعہ نے جیسے اپنے اندر ہمت جمع کی۔ وہ اس نے ایک اور دعوا کیا ہے۔” وہ کیا ؟ مجھے حیرت ہوئی۔ اس کا کہنا ہے کہ سکندر انکل آپ کو طلاق دے چکے تھے اس لیے جائیداد پر آپ کا کوئی حق نہیں بنا۔” میں لڑکھڑائی اور کرسی کا سہارا لے لیا۔ رابعہ آگے بڑھ کر مجھے سنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے معذرت خواہانہ لہجے میں کہنے لگئی۔ میں آپ کو بتانا نہیں چاہتی تھی، سوچا تھا کورٹ میں پیشی کے وقت سے ذرا پہلے جا کر ہم فرزانہ سے مل کر اس کو سمجھانے کی کوشش کریں ۔
دولت یا محبت
مزید پڑھیں
میں تو سن ہو کر اس کی طرف دیکھے جارہی تھی۔ آپ پریشان نہ ہوں میں اسے سمجھاؤں گی آپ کو دیکھ کر وہ ہو سکتا ہے اپنے ارادے سے باز آ جائے۔ میں نے اسے بے چارگی سے دیکھا۔ یہ سچ نہیں ہے تم جانتی ہوں ناں۔” میں نے اس سے یقین دہانی چائی۔ ہاں، میں جانتی ہوں ایسا ہونا ناممکن ہے – آنٹی سکندر انکل تو بہت محبت کرتے تھے آپ سے – بس یہ فرزانہ ضد پر آگئی ہے تو صیح غلط کی پیچان بھول گئی ہے۔” ا سے اپنی ماں سے کوئی غرض نہیں صرف باپ کی دولت سے مطلب ہے۔” رابعہ نے افسوس سے سر ہلایا۔ آپ اس کے حوالے کردیں گی جائداد اور یہ گھر ؟ اگر وہ اس حد تک نہ جاتی تو کچھ دن ٹہرجاتی میں نے بھی تو مر جانا ہے اور کتنے دن جیوں گی ؟ رابعہ نے میرا ہا تھ تھام لیا اور سہلانے لگی۔

ایسی باتیں مت کریں ۔ وہ ناحق مطالبہ کر رہی ہے۔ ہم اپنے حق کے لیے ضرور لڑیں گے ۔ پھر رابعہ مجھے عدالت لے آئی۔ اس کی طرح مجھے بھی امید ہونے لگی کہ فرزانہ مجھے دیکھ کر اپنے دھوکے سے دستبر دار ہو جائے گی۔ میں نے رابعہ سے کہ دیا تھا فرزانہ سے کہ دے میں فیکٹری اسے دینے کے لیے تیار ہوں۔ لیکن اس طرح وہ میرا تماشا نہ بنائے۔ جھوٹی طلاق کی باتیں کر کے مجھے بدنام تو نہ کرے۔ رابعہ مجھے باہر بٹھا کر دور کھڑی فرزانہ کے پاس بیٹھی ، کچھ دیر اسے قائل کرنے کی کوشش کرتی رہی اور پھر میں بے چینی سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔

اس سے پہلے کہ میں کچھ جواب دیتی ہمارے کیس کی پکار پڑگئی۔ میں ذاتی طور پر ابھی ابھی، رابعہ کا ہاتھ پکڑ کر میں اس کے چہرے پر جیت کا یقین دیکھ کر تھوڑا سا ڈگمگائی۔ دل کیا، رابعہ کا ہاتھ چھڑا کر بھاگ جاؤں۔ میرے مقابل میری اولادتھی، مجھے ہار جانا چاہیے تھا۔ شاید رابعہ میرے ارادے کو بھانپ گئی ہوگی جو اس نے میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر مجھے آگے کر لیا۔ کٹہرے میں کھڑی ہم دونوں آمنے سامنے آچکی تھیں۔ میرا ذہن تو ماؤف ہو رہا تھا ۔ اسے اب صرف فیکٹری نہیں چاہیے۔

سب کچھ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ رابعہ نے جھجک کر پوچھا۔ ” کیا آپ کو منظور ہے؟” کھڑی ہوئی اور کمرہ عدالت کی طرف جانے لگی۔ فرزانہ بھی دروازے کے قریب آچکی تھی، اس نے میرے قریب آکر سر گوشی کی آپ کیس ہار جائیں گی بہتر ہے مان جائیں۔ میں ٹکر ٹکر فرزانہ کی جانب دیکھ رہی تھی جب ہی طلاق کا لفظ میری سماعت سے ٹکرایا اور جیسے مجھے ہوش آ گیا ۔ وہ جھوٹ ہے۔ ” میں پوری قوت سے چلائی۔
بدنامی کی رات
مزید پڑھیں
سکندر نے مجھے طلاق نہیں دی تھی۔” رابعہ نے عدالت سے درخواست کی کہ فرزانہ کو اپنے دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لیے ثبوت دینا چاہیے یا کوئی گواہ فرزانہ پہلے سے تیار تھی۔ گواہ کے طور پر اس نے ہمارے گھر کی پرانی ملازمہ کو پیش کر دیا جسے یقینا پیسے کا لالچ دے کر اپنے ساتھ ملایا تھا۔ ملازمین کا بیان پیش کردیا گیا، ساری کارروائی کے دوران فرزانہ کے چہرے پر مسکینی طاری رہی جیسے وہ طلاق دینے کی وجہ جان کر پریشان ہے، جب رابعہ نے پوچھا۔ طلاق دینے کی وجہ کیا تھی ؟” بد کردار۔۔ میرے والد سکندر یہ برداشت نہ کر سکے کہ ان کے ہوتے ہوئے وہ دوسرے مردوں کے ساتھ ۔۔۔ میری برداشت جواب دے گئی تھی پھر میں نہیں جانتی میں نے کیا کیا ؟ کیسے کہا ؟ اور کیوں؟ لیکن فیصلہ پھر میرے حق میں ہو گیا تھا۔

میں مقدمہ جیت گئی تھی۔ رابعہ کو مجھ سے یہ توقع نہیں تھی ، وہ مجھے اس لیے تو لے کر نہیں گئی تھی۔ نہایت شرمندہ اور عجیب کی ہو کر اس نے مجھے گھر تک پہنچانے کا فریضہ ادا کیا۔ وہ مجھے اندر تک چھوڑنے نہیں آئی تھی، شاید اسے یقین آگیا تھا کہ میں اپنا خیال خود ر کھ سکتی ہوں اور ٹھیک بھی ہے۔ مجھے اب کسی سہارے کی ضرورت نہیں رہی۔ میری توقع کے بر خلاف اس نے مجھ سے کوئی سوال نہیں کیا تھا کہ میں نے ایسا کیوں کیا لیکن میں آپ کو ضرور بتاؤں گی۔ بد کرداری کے اعزام نے مجھے ماں سے عورت بنا دیا۔ جس کے مقابل دوسری عورت تھی اور آپ تو جانتے ہیں، دنیا میں صرف عورت ہی عورت کو شکست دے سکتی ہے، کسی مرد میں یہ حوصلہ نہیں۔

اس لیے جب فرزانہ کے منہ سے یہ فقرہ ادا ہوا کہ اس کی ماں بد کردار ہے تو میں بپھر گئی۔ ٹھیک ہے۔ میں تسلیم کرتی ہوں کہ سکندر نے مجھے طلاق دے دی تھی۔ عدالت میں چہ مگوئیاں شروع ہوئیں۔ جج پوری طرح میری طرف متوجہ تھا۔ فرزانہ کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ نظر آئی اور رابعہ کے چہرے پر افسوس۔
تنہا لڑکی
مزید پڑھیں
لیکن ” میں پھر گویا ہوئی اور سب میری طرف دیکھنے لگے۔ دنیا جانتی ہے کہ میں ان کی بیوی تھی تھی نا؟” میں نے تصدیق طلب نظروں سے حج کی دیکھا، اس کی تائید پر میں نے اپنا ہاتھ بلند کر کے فرزانہ کی طرف اشارہ کیا۔ ” لیکن میں کہتی ہوں کہ یہ سکندر کی بیٹی نہیں ہے۔ حج اپنی کرسی سے کھڑا ہو گیا۔ فرزانہ کی آنکھیں دہشت سے پھیل گئیں۔ رابعہ حیران پریشان کیا فیصلہ میرے حق میں ہوتا دیکھتی رہی۔ اب میں گھر آچکی ہوں۔ فرزانہ نے کیس ہارا یا واپس لیا، مجھے اس سے غرض نہیں ۔ وہ میرے دروازے سے ٹکراتے معافیاں مانگ رہی ہے مگر مجھے پروا نہیں۔ اب میں ماں نہیں رہی بقول اس کے جب وہ بیٹی نہیں رہی تھی تو ماں بن کر میں نے کیا پا لیتا تھا۔

وہ پہلی پیشی، جس میں فیصلہ میرے حق میں ہوا۔ میرے لیے کوئی معانی نہیں رکھتی، مجھے تو آخر پیشی کی فکر کھائے جارہی ہے۔ روز قیامت میں اس بہتان کو گھڑنے کی کیا تو جیبہ پیش کروں گی ؟ اس لیے اپنی ساری دولت رابعہ کے نام کر کے میں دارالامان جارہی ہوں۔ میں غصہ میں تھی یا جنونی ہوگئی تھی ، پر بہر حال میں نے بھی وہی گناہ کیا جو فرزانہ نے کیا تھا۔ میں نے اسے معاف کر دیا، آپ سب بھی میرے لیے دعا کریں کہ اللہ مجھے بھی معاف فرمادے۔
(ختم شد)

09/05/2026

سنگدل باپ


سلام صاحب کی بیوی کی وفات کے بعد سالی سے شادی ہو گئی۔ سلام صاحب کو کرایہ دار کی بڑی بیٹی نعیمہ سے عشق ہو چکا تھا۔ سلام صاحب نے اپنی دوسری بیوی اور اپنی بچیوں کی خالہ پر وہ ستم ڈھائے کہ وہ تنگ آ گئیں۔ ایک دن یہ خبر آئی کہ سلام صاحب کی دوسری بیوی نے خود پر مٹی کا تیل چھڑک کر خودکشی کر لی ہے۔

میری سہیلی نازیہ کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا۔ اس کے والد، سلام صاحب، ایک اوسط درجے کے سرکاری ملازم تھے۔ تمام عمر کی محنت کے بعد وہ بمشکل ایک پانچ مرلے کا مکان بنا سکے، جو وہ ابھی تک اپنا نہیں کہہ سکتے تھے کیونکہ اوپر کی منزل انہوں نے قرض لے کر مکمل کروائی تھی۔ اس قرض کو ادا کرنے کے لیے انہیں بالائی منزل بھی کرائے پر دینی پڑی۔

کرائے دار شریف ہوں تو سکون ہوتا ہے، لیکن اگر ان کی نیت ٹھیک نہ ہو تو وہ سراسر دردِ سر بن جاتے ہیں۔ مکان مالک عام طور پر کافی چھان بین کرتے ہیں، مگر نازیہ کے والد نے ایسی کوئی احتیاط نہ کی۔ پہلی پارٹی آئی تو فوراً انہیں چابیاں تھما دیں۔ کسی نے یہ نہ دیکھا کہ یہ لوگ کون ہیں، پہلے کہاں رہتے تھے، لین دین کے معاملے میں کیسے ہیں، اور سب سے اہم یہ کہ ان کا ذریعہ آمدنی کیا ہے۔ سلام صاحب بہت سیدھے سادے انسان تھے، جو ہر کسی پر اعتماد کر لیتے تھے۔

کرائے دار بظاہر خوش اخلاق تھے۔ کنبے کا سربراہ سجاد نامی اکلوتا بھائی تھا، جو اپنی ماں اور دو بہنوں کے ساتھ رہتا تھا۔ بڑی بہن نعیمہ اور چھوٹی حسینہ، دونوں کافی چالاک اور تیز طرار تھیں۔ یہ لڑکیاں اکثر نازیہ کی امی کے پاس آتی تھیں اور گھریلو کاموں میں ان کا ہاتھ بٹاتی تھیں۔ یوں انہوں نے نازیہ کی امی کے دل میں گھر کر لیا۔ ظاہر ہے جو آرام دے، وہی اچھا جانا جاتا ہے۔

آنٹی بھی ان لڑکیوں کی تعریف اپنے شوہر سے کرتی رہتیں۔ نعیمہ اور حسینہ کی شادی کا ذکر اکثر ان کی ماں، سلام صاحب کی بیوی سے کرتی تھی، کیونکہ وہ اپنی بیٹیوں کے مستقبل کے بارے میں بہت فکرمند تھی۔ نازیہ یہ باتیں آکر مجھ سے بتایا کرتی تھی۔ نازیہ ان بہنوں سے کافی متاثر رہتی تھی کیونکہ وہ فیشن کی دلدادہ تھیں اور نت نئے ڈیزائن کے کپڑے پہنتی تھیں۔ یہ چیزیں نئی عمر کی لڑکیوں کو بہت پسند آتی ہیں۔ نازیہ کے والد ایک شرمیلے مزاج کے انسان تھے، جبکہ نعیمہ اور حسینہ بے تکلف اور بے جھجک تھیں۔ وہ ان کے سامنے بلا دوپٹہ اور آزادی سے گھومتی پھرتی تھیں۔

ایک دن نازیہ اسکول آئی تو بہت اداس تھی۔ وہ کہنے لگی کہ ہمارے ابو اوپر والی آنٹی اور ان کی بیٹیوں کا ہر کام کر دیتے ہیں، لیکن امی اور ہمارا کام نہیں کرتے۔ ہمیں کہیں جانے یا کچھ منگوانے کے لیے بار بار کہنا پڑتا ہے، جبکہ وہ ایک بار بھی کچھ کہہ دیں تو فوراً اٹھ کر ان کا کام کر دیتے ہیں۔ یہ پہلی شکایت تھی جو میں نے اپنی سہیلی کے منہ سے ان کے بارے میں سنی۔

کافی دن گزر گئے، اور نازیہ اسکول نہ آئی۔ پھر پتا چلا کہ اس کی امی سخت بیمار ہیں۔ میں اور میری امی ان کی عیادت کے لیے گئے۔ آنٹی بستر مرگ پر تھیں، ان کی حالت ایسی تھی کہ ڈاکٹروں نے بھی جواب دے دیا تھا۔ وہ چند دنوں کی مہمان لگتی تھیں۔ اسی دن میں نے نازیہ کے گھر میں پہلی بار نعیمہ اور حسینہ کو دیکھا۔ وہ دوڑ دوڑ کر سلام صاحب کا کام کر رہی تھیں، چائے بنا کر لائیں، اور ہماری بھی خاطر مدارت کی۔ ان کی ماں، چارپائی کے ساتھ بیٹھی پان چبا رہی تھیں، اور وہ لڑکیاں یوں گھوم رہی تھیں جیسے یہ ان کا اپنا گھر ہو۔ان کی موجودگی اور گھر پر ان کا کنٹرول دیکھ کر میری امی حیران رہ گئیں۔ گھر آکر انہوں نے کہا کہ کمال ہے، نازیہ کی امی کے اپنے کوئی رشتہ دار نہیں ہیں جو ان کے پاس آکر رہیں۔ انہوں نے غیروں کا سہارا لیا ہوا ہے۔

کچھ دن بعد جب نازیہ اسکول آئی تو بہت افسردہ تھی۔ اس کی امی کا انتقال ہو چکا تھا۔ کچھ دنوں کے لیے رشتہ دار عورتیں آئیں، لیکن جلد ہی سب اپنے گھروں کو لوٹ گئیں، سوائے نازیہ کی خالہ کے، جو نوعمری میں بیوہ ہو گئی تھیں اور اب اپنے بھائی کے ساتھ رہتی تھیں۔ خالہ چند دن ان کے پاس رہیں۔ جب وہ جانے لگیں تو نازیہ اور اس کی بہن فوزیہ ان سے لپٹ کر رونے لگیں۔ انہوں نے کہا کہ خالہ، آپ ہمیں کس کے سہارے چھوڑ کر جا رہی ہیں۔ آپ یہیں رہ جائیے۔ خالہ نے کہا کہ میرا یہاں رہنا مناسب نہیں، لوگ باتیں بنانے لگیں گے۔ خالہ نے ٹھیک کہا تھا۔ جب سے وہ نازیہ کے گھر پر تھیں، بالائی منزل والوں نے نیچے آنا جانا بند کر دیا تھا۔

ان کو خالہ کا وہاں رہنا ایک آنکھ نہ بھاتا تھا اور خالہ کے خلاف محلے میں باتیں بنانے والوں میں پہلا نمبر انہی کا تھا۔ خالہ، نازیہ اور فوزیہ کو روتا اور سسکتا چھوڑ کر چلی گئیں۔ خالہ کے جانے کے بعد نعیمہ، حسینہ اور ان کی ماں دوبارہ میدان میں آ گئیں۔ انہوں نے روتی ہوئی بچیوں کو گلے لگایا اور کہا کہ وہ ان کی خالہ ہیں، پھر کیوں روتی ہو؟ تم لوگ تنہا تو نہیں ہو، ہم جو تمہارے پاس ہیں۔

اب پھر سے اس گھر میں ان کا عمل دخل بڑھنے لگا۔ حسینہ کھانا پکا رہی تھی، نعیمہ سلام صاحب کے کپڑے استری کر رہی تھی، اور ان کی ماں گھر کا سودا سلف لا رہی تھی۔ یہ سب ایسے ہو رہا تھا کہ جیسے یہ ایک ہی گھرانہ ہو۔ سلام صاحب پہلے سے زیادہ خوش اور مطمئن نظر آنے لگے۔ سجاد کی ماں اور بہنوں نے ان کا گھر سنبھال لیا تھا، اور انہوں نے بیوی کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔نازیہ اور فوزیہ البتہ بے قرار تھیں۔ وہ اپنی ماں کو نہیں بھلا سکتی تھیں، اور ان کے لیے ماں کا بدل صرف سگی خالہ تھیں، جو ماں جیسا پیار دے سکتی تھیں۔

لیکن خالہ صرف چند روز ان کے پاس رہ کر چلی گئی تھیں۔ محلے اور خاندان کے لوگ سمجھ چکے تھے کہ کرائے دارنی اپنی بڑی بیٹی نعیمہ کو سلام صاحب کے ساتھ بیاہنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جب سلام صاحب کی بہن کچھ دن کے لیے ان کے پاس آئیں تو انہوں نے فوراً معاملے کو بھانپ لیا اور اپنے بھائی سے کہا کہ بھائی جان، یہ غلطی کبھی مت کیجئے گا۔ مجھے یہ کنبہ ٹھیک نہیں لگتا۔ تمہاری کرائے دارنی بڑی شاطر معلوم ہوتی ہے۔ یہ دو چار روز میں تمہارے مکان پر قبضہ کر لے گی اور تمہاری بن ماں کی بچیوں کو نکال باہر کرے گی۔

نعیمہ سے نکاح کی غلطی کبھی نہ کرنا، بلکہ ہو سکے تو ان سے مکان خالی کرا کر کسی بھلے مانس کو کرایہ پر دے دو۔ سلام صاحب کو بہن کی باتیں بری لگیں۔ انہوں نے کچھ نہ کہا، لیکن دل میں فیصلہ کر لیا کہ نعیمہ سے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ وہ سوچتے تھے کہ یہ لڑکیاں سلیقہ مند ہیں اور ان کی ماں مخلص ہے۔ آڑے وقت میں یہ لوگ کام آتے ہیں اورنازیہ اور فوزیہ بھی ان سے مانوس ہیں۔جب یہ بات رشتہ داروں کو معلوم ہوئی کہ سلام صاحب نعیمہ سے نکاح کرنے جا رہے ہیں تو سب ان کی مخالفت میں کھڑے ہو گئے۔ خاندان کے چند بزرگوں نے دباؤ ڈال کر سلام صاحب کا نکاح ان کی بیوہ سالی سے کروا دیا، کیونکہ وہ بچیوں کی خوشی کو مقدم سمجھتے تھے۔

نازیہ اور فوزیہ بے حد خوش تھیں کہ ان کی خالہ ہمیشہ کے لیے ان کے پاس آ گئی ہیں۔ ماں کے مرنے کے بعد پہلی بار ان کے چہروں پر سکون اور خوشی نظر آئی۔ خالہ نے ماں کی جگہ لے لی اور ان سے محبت اور شفقت سے پیش آنے لگیں۔مگر اوپر کی منزل پر رہنے والوں کو یہ سکون برداشت نہ ہوا۔ انہوں نے چپکے چپکے سلام صاحب کے کان بھرنے شروع کر دیے، کیونکہ پہلے وہ نیچے آتی تھیں، اور اب سلام صاحب اوپر جانے لگے تھے۔ ان باتوں کا اثر یہ ہوا کہ سلام صاحب نے اپنی بیوی سے بدسلوکی شروع کر دی، جو ان کے صلح پسند مزاج کے خلاف تھا۔ کہتے ہیں کہ عشق کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ شاید سلام صاحب کو بھی بڑی بیٹی نعیمہ سے عشق ہو چکا تھا۔ انہوں نے اپنی دوسری بیوی اور اپنی بچیوں کی خالہ پر وہ ستم ڈھائے کہ وہ تنگ آ گئیں۔ ایک دن یہ خبر آئی کہ سلام صاحب کی دوسری بیوی نے خود پر مٹی کا تیل چھڑک کر خودکشی کر لی ہے۔
طوائف زادی کی محبت
مزید پڑھیں
جب نازیہ اور فوزیہ اسکول سے گھر پہنچیں تو خالہ وہاں نہ تھیں۔ انہیں اسپتال لے جایا گیا تھا، جہاں وہ بری طرح جھلس گئی تھیں۔ وہ بیان دینے کے قابل بھی نہ تھیں اور اسی حالت میں خالق حقیقی سے جا ملیں۔ سب یہی کہہ رہے تھے کہ ان کا جلنا ایک معمہ ہے، مگر نازیہ کہتی تھی کہ خالہ کو اوپر والیوں نے جلایا ہے۔ خالہ کے انتقال کے بعد، سلام صاحب نے تیسری شادی نعیمہ سے کر لی۔ اس کے بعد نازیہ اور فوزیہ کا اسکول جانا بند ہو گیا۔ جب میں ان کے گھر گئی تو نازیہ نے بتایا کہ نعیمہ نے ان کی پڑھائی چھڑوا دی ہے اور وہ ان سے اپنے اور ان کے دونوں گھروں کا کام کرواتی ہیں۔

نازیہ رونے لگی کہ وہ بڑی ظالم ہے۔ عرصے بعد، میں نے سنا کہ نازیہ کی شادی ہو رہی ہے۔ یقین نہ آیا کیونکہ وہ صرف پندرہ یا سولہ سال کی تھی۔ میں ان کے گھر گئی تو نازیہ مجھے دیکھتے ہی گلے لگ کر رونے لگی اور کہا کہ فہمی، اس ظالم دنیا میں بن ماں کی بچیوں کو جینے کا کوئی حق نہیں۔ انہیں تو ماں کے ساتھ ہی مر جانا چاہیے تھا۔ میں نے پوچھا، نازیہ! یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ کیا یہ سچ ہے کہ تمہاری شادی ہو رہی ہے؟ہاں، وہ بولی۔ لیکن مجھے تو کوئی مہمان نظر نہیں آ رہا؟ماں نے صرف اپنے چند رشتہ داروں کو ہی بلایا ہے۔ تم نے مجھے نہیں بتایا؟کیسے بتاتی؟ ماں نے باہر نکلنے پر پابندی لگا دی ہے۔
میری ملازمہ میری سوکن
مزید پڑھیں
کس کے ساتھ شادی ہو رہی ہے؟نعیمہ کے ماموں کے ساتھ۔ ماموں کے ساتھ؟ وہ تو خاصا بڑا ہوگا۔ہاں، خدا جانے ابو کو کیا ہو گیا ہے۔ جو یہ لوگ کہتے ہیں، وہ کرتے جاتے ہیں۔ کاش میری ماں زندہ ہوتی تو مجھ پر یہ ظلم نہ ہوتا۔ تم بہادر بنو اور اس شادی سے انکار کر دو۔ میں ایسا نہیں کر سکتی۔ یہ ناممکن ہے۔ تم سوچ بھی نہیں سکتیں فہمی، یہ لوگ کتنے ظالم ہیں۔ ابو کو تو انہوں نے بالکل اپنی مٹھی میں کر لیا ہے۔یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ کسی نے کہا، بارات آ گئی ہے۔ دولہا چند عورتوں اور مردوں کے ساتھ اندر آیا۔ اس کی عمر سلام صاحب سے بھی زیادہ لگ رہی تھی۔ مجھے دولہا کو دیکھ کر حیرت اور افسوس ہوا۔ اس قدر کہ میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکی اور رونے لگی۔

نازیہ رخصت ہو کر سسرال چلی گئی۔ دو ماہ بعد وہ ہمارے گھر آئی۔ کچھ پرسکون اور خوش نظر آتی تھی۔بولی، دولہا عمر رسیدہ ضرور ہے مگر رحم دل ہے۔ وہ میرا خیال رکھتے ہیں۔ کم از کم مجھے نعیمہ اور حسینہ کی ماں کے ظلم سے تو نجات مل گئی۔ پھر ٹھنڈی آہ بھر کر بولی، اب مجھے فوزیہ کی فکر ہے۔ خدا جانے وہ تینوں اس بیچاری کا کیا حال کرتی ہوں گی۔ میں نے پوچھا، ان کا لڑکا سجاد کہاں ہے؟وہ ان کو چھوڑ گیا ہے اور کسی امیر آدمی کا گھر داماد بن گیا ہے، اب وہ آتا بھی نہیں۔ خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ نعیمہ کے گھر بچی پیدا ہوئی، مگر وہ بچی عجیب الخلقت تھی۔ اس کے منہ کا اوپری حصہ غائب تھا اور اس کا نچلا دھڑ ناکارہ تھا۔ وہ دودھ اور پانی بھی نہ پی سکتی تھی۔ تین ماہ اسپتال میں رہ کر فوت ہو گئی۔ دوسرے اسپتالوں سے ڈاکٹر اسے دیکھنے آتے تھے۔
خفیہ نکاح
مزید پڑھیں
اس حادثے نے صرف چند دن نعیمہ کے دل پر اثر کیا۔ وہ اپنی ماں اور بہن کو منع کرتی تھی کہ فوزیہ پر رحم کیا کرو، اس کی بددعا سے مجھے ایسی اولاد ہوئی ہے۔ نعیمہ سے زیادہ اس کی ماں تنگ دل تھی۔ وہ معصوم فوزیہ پر طرح طرح کے ظلم کرتی۔ خود اسے دکانوں پر سودا لینے بھیجتی اور پھر کہتی کہ یہ فلاں لڑکے سے ملنے گئی تھی یا فلاں محلے والے لڑکے سے باتیں کر رہی تھی۔ ایسی باتوں پر سلام صاحب اپنی بے گناہ بیٹی کو مارنے لگتے تھے، بغیر یہ سوچے کہ ممکن ہے یہ بات جھوٹ ہو۔ایک دن ایسے ہی کسی الزام سے خوف زدہ ہو کر فوزیہ گھر سے بھاگ نکلی۔ اس کی سوتیلی نانی نے کہا تھا کہ آج تیرا باپ آئے گا، میں ایسی بات کہوں گی کہ وہ تجھ کو رسی سے باندھ کر مارے گا۔ یہ سن کر خدا جانے فوزیہ کے دماغ پر کیا اثر ہوا کہ وہ دروازہ کھول کر بھاگی۔ بڑی بی نے دیکھا تو اس کے پیچھے بھاگی اور شور مچانے لگی کہ دوڑو، اسے پکڑو۔یہ سن کر کچھ لڑکے گلی میں فوزیہ کے پیچھے دوڑنے لگے۔

بدقسمتی سے اسی وقت سلام صاحب گھر آ رہے تھے۔ انہوں نے جو دیکھا کہ فوزیہ آگے بھاگ رہی ہے اور گلی کے لڑکے اس کے پیچھے ہیں، تو ان کا غصہ آسمان کو چھونے لگا۔ انہوں نے فوزیہ کو سڑک سے پکڑا اور کمرے میں بند کر دیا۔انہوں نے یہ جاننے کی کوشش بھی نہ کی کہ ان کی بیٹی آخر کیوں پاگلوں کی طرح بھاگ رہی تھی۔ بس جو ان کی ساس نے کہا، وہ مان لیا۔ پھر لڑکی کو بے دردی سے مارا اور دو دن بعد نازیہ کی طرح اس کا نکاح بھی خاموشی سے کر دیا۔ کہاں اور کس کے ساتھ؟ یہ کوئی نہیں جانتا۔
بے شرم بھائی
مزید پڑھیں
ان دونوں بہنوں کے ساتھ میں نے آٹھ سال پڑھا۔ میں جانتی تھی کہ وہ کتنی اچھی، ذہین اور ہونہار لڑکیاں تھیں، جو ماں کے مرنے اور باپ کی تیسری شادی کرنے سے تباہ ہو گئیں۔ اس لیے میں ہمیشہ دعا کرتی ہوں کہ خدا کسی لڑکی کی ماں کو نہ اٹھائے یا اگر باپ دوسری شادی کرے، تو یہ ضرور سوچے کہ سوتیلی ماں ان بچیوں کے ساتھ کیسا سلوک کرے گی۔

(ختم شد)

08/05/2026

بہادر لڑکی

والد نے ساجدہ کو اسپتال میں زمان سے بات کرتے دیکھ لیا۔ گهر آکر بیٹی کی خوب خبر لی ساتھ ہی بیوی کو بھی مارا کہ تم نے دھیان کیوں نہیں دیا کہ یہ اسپتال اس لڑکے کی عیادت کو چلی گئی۔ اس کے ساتھ اس کا کیا واسطہ ہے؟ بیوی سے کہا کہ اب میں ساجدہ کو زندہ نہیں چھوڑوں گا، کسی دن مار دوں گا۔ بیوی ڈر گئی کیونکہ یہاں ایسی باتوں پر لڑکیوں کے قتل ہوتے رہتے تھے۔

تعلیم کی چاہ نے ساجدہ کو رسوا کر دیا غلطی نہ ہوتے ھوے بھی اس کو مورد الزام ٹہرایا گیا۔ اتنی ترقی ہونے کے باوجود نجانے ہمارے گاؤں میں رہنے والے کیوں نہیں بدلے۔ جہالت اور سوچ کی پسماندگی یقینا بہت سی لڑکیوں کی زندگی تباہ کر چکی ہے آخر ساجدہ کے ساتھ ہوا کیا آپ کو بتاتی ہوں- میرے تایا کی بیٹی ساجدہ بہت اچھی لڑکی تھی۔ وہ ماں ،باپ کی اتنی فرمانبردار تھی کہ سب رشتے دار اپنی بچیوں کو اس کی مثالیں دیا کرتے تھے۔

اگرچہ غریب گھرانے سے اس کا تعلق تھا مگر وہ نہ لالچی تھی اور نہ کسی شہزادے کے خواب دیکھتی تھی۔ وہ بس کہتی کہ کاش! مجھے میرے والد پڑھنے کی اجازت دے دیں تو میری زندگی سنور جائے۔ بتاتی چلوں کہ ہم ایک گاؤں میں رہا کرتے تھے جہاں لڑکیوں کو پڑھانا برائی تصور کیا جاتا تھا۔ سارے گاؤں کے لوگ پرانے خیالات کے تھے، آج کے زمانے سے صدیوں پیچھے تھے۔ وہ ایسے رسم و رواج کے پابند تھے جن کا ترقی یافتہ دور میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ساجدہ کا باپ ٹرک چلاتا تها۔

وه ٹرک پر فروٹ لاد کر دوسرے شہروں میں لے جاتا تھا۔ اس طرح وہ حلال کی روزی کما کر اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا تھا۔ غربت کے باوجود میرے تایا کی گاؤں میں بہت عزت تھی کہ وہ غلط طریقوں سے دولت کمانے کو برا جانتا تھا۔ کافی عرصے سے بڑے شہروں میں آنے جانے سے اس کے ذہن میں کافی تبدیلی آگئی تھی۔ اب وہ لڑکیوں کی تعلیم کو برا نہیں سمجھتا تھا لیکن برادری کے اعتراضات سے بچنے کے لئے ساجدہ کو اسکول نہیں بھیجتا تھا۔ ایک دن اس نے دیکھا کہ اس کی بیٹی پڑوس کی لڑکی کی منت سماجت کررہی ہے کہ وہ اسے پڑھنا لکھنا سکھا دے یہاں تک کہ اس نے پڑوسن لڑکی کے پاؤں کو بھی ہاتھ لگائے جس پر تایا کو غیرت آئی اور اس نے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا۔

میری بچی! تم میری لاج رکھنا۔ میں تمہاری خواہش ضرور پوری کروں گا۔ میں تمہیں اپنے گاؤں کے اسکول میں مڈل تک تعلیم دلواؤں گا۔ چونکہ ہمارے گائوں میں لڑکیوں کا اسکول مڈل تک ہی تھا لہذا ساجدہ نے اپنے باپ سے وعدہ کیا کہ وہ ان کی عزت کی لاج رکھے گی۔ ہرگز ایسا موقع نہ دے گی کہ باپ کو دنیا کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے۔ یوں تایا نے اسے اسکول میں داخل کروا دیا۔ اس کی کلاس میں ایک امیر باپ کی بیٹی حسن بانو بھی پڑھتی تھی جس نے ساجدہ کی اچھی عادات اور نرم مزاجی کے سبب اسے پسند کرلیا اور دونوں کی دوستی ہوگئی۔ وہ کار میں آتی جبکہ ساجدہ پیدل اسکول جاتی تھی۔

حسن بانو کا بھائی اکثر گاڑی پر اپنی بہن کو اسکول چھوڑنے اور لینے آتا تھا۔ اس کا نام زمان خان تھا۔ وہ حسن پرست نوجوان تھا۔ جب اس نے ساجدہ کو دیکھا تو اس پر فریفتہ ہوگیا۔ چاہتا تھا کہ یہ لڑکی مجھ سے کلام کرے لیکن وہ چھٹی کے وقت جب اپنے گھر کی سمت رواں دواں ہوتی تو ہر شے سے ہے نیاز ہوکر چلتی۔ اسے زمانے کی ہوا نہ لگی تھی۔ کئی بار حسن بانو نے کہا کہ آئو ساجدہ! میں تمہیں تمہارے گھر تک چھوڑ دوں۔ ہم ایک ہی راستے سے آتے جاتے ہیں۔

تم میری گاڑی میں بیٹھ جاؤ مگر ساجدہ نے انکار کردیا۔ کہا کہ جب مجھے پیدل ہی جانا ہے تو پھر کسی کی گاڑی میں بیٹھنے کا کیا فائدہ! میرے والد کی بھی اجازت نہیں ہے کہ میں کسی کی گاڑی میں بیٹھوں۔ میری چھوٹی بہن کو بھی تایا نے والد سے کہہ کر اسکول میں داخل کرا دیا تھا۔ اس طرح یہ دونوں اکٹھے آتی جاتی تھیں۔ میرے والد بھی کافی سخت مزاج آدمی تھے۔ یہ دونوں وقت پر اسکول جاتیں اور وقت پر گھر آجاتیں۔ کبھی کسی سہیلی کے گھر یا ادھر ادھر نہیں جاتی تھیں۔ اسی طرح وقت تیزی سے گزرتا رہا اور یہ آٹھویں کلاس تک پہنچ گئیں۔ تایا خوش تھے کہ ساجدہ بہت اچھے نمبر لائی تھی۔ اسکول کی استانیاں اس کی تعریف کرتی تھیں۔

انہیں امید تھی ساجدہ بورڈ کے امتحان میں پوزیشن لے گی اور ان کے اسکول کا نام روشن کرے گی۔ ہوا بھی ایسا ہی! مڈل کے سالانہ امتحان میں اس نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔ ٹیچر نے گھر آکر اس کے والدین کو مبارکباد دی۔ تایا بہت خوش تھے۔ انہیں اپنی بیٹی پر فخر محسوس ہوتا تھا۔ ہم سب اس کی شاندار کامیابی پر خوش تھے۔ خوش نہیں تھا تو ایک زمان کیونکہ وہ ابھی تک ساجدہ سے بات کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا تھا۔ اس کے دل میں یہ آرزو شدید ہوتی جارہی تھی کہ وہ ساجدہ کو اپنی جانب مائل کرلے تاہم اپنی بہن سے یہ بات نہیں کہہ سکتا تھا کیونکہ یہ ایک معیوب بات تھی۔

پہلے وہ اسکول آتے جاتے اس کا دیدار کرلیتا تھا، اب ساجدہ نے اسکول آنا بند کردیا تھا اور گھر بیٹھ گئی تھی تبھی مجبور ہوکر اس نے حسن بانو سے کہا کہ تم اس لڑکی سے دوستی کا رشتہ قائم رکھو کیونکہ میں ساجدہ سے شادی کرنے کا خیال رکھتا ہوں۔ حسن بانو نے سمجھایا کہ یہ بات ممکن نہیں ہوگی کیونکہ ہمارے والد دولت کے پجاری ہیں، وہ ہرگز ایک غریب کی بیٹی کو اپنی بہو بنانا پسند نہ کریں گے۔ تم اس خیال کو ذہن سے نکال دو۔ زمان کو مگر چین نہ تھا۔ وہ ہر حال میں ساجدہ سے رابطہ کرنا چاہتا تھا۔ انہی دنوں سیل فون نیا نیا آیا تھا۔

ساجدہ کے والد کو بھی دو سیل فون اس کے مالک نے دیئے کہ ایک اپنے پاس رکھو تاکہ جب تم گھر میں ہو تو میں تم سے رابطہ کرسکوں، دوسرا اپنی بیوی کو دے دو تاکہ جب تم ڈیوٹی پر دوسرے شہروں میں قیام کرو تو وہ تم سے رابطہ کرسکے۔ تایا جی نے ایسا ہی کیا۔ ایک فون خود رکها، دوسرا بیوی کو دے کر کہا کہ اس بات کا خیال رکھناکہ تمہارے سوا اس فون کو گھر میں کوئی اور استعمال نہ کرے۔ ہاں! میں بہت خیال رکھوں گی اور کسی کو ہاتھ بھی نہیں لگانے دوں گی۔ تائی نے جواب دیا۔ واقعی انہوں نے ایسا ہی کیا۔ وہ فون اپنے پاس رکھتیں لیکن وه پڑهی لکهی نہیں تھیں۔ جب نمبر ملانا ہوتا، انہیں ساجدہ سے کہنا پڑتا کہ نمبر ملا کر دو اور وہ ماں کو نمبر ملا دیا کرتی۔ تایا اور تائی مطمئن تھے کہ ہماری بیٹی ایسی نہیں ہے کہ موبائل فون کو استعمال کرے۔

پہلے تائی فون ہر وقت اپنی نگرانی میں رکھتیں لیکن پھر انہوں نے اس کی پروا چھوڑ دی کہ فون کہاں رکھا ہے کیونکہ ساجدہ کسی کو فون کرتی تھی اور نہ ہم لڑکیوں میں سے کسی کے پاس سیل فون تھے سوائے حسن بانو کے! بات کرنی ہوتی تو پہلے وہ ساجدہ کی ماں سے بات کرتی، اجازت مانگتی تو تائی اس کی بات ساجدہ سے کروا دیتی تھیں۔ کسی طرح زمان نے ساجدہ کی والدہ کا نمبر معلوم کیا اور ایک دن اپنی ایک رشتے دار لڑکی کے ذریعے فون ملا کر ساجدہ سے بات کی۔ جب ساجدہ نے ہیلو کہا تو لڑکی نے فون زمان کو دے دیا۔ اس نے ساجدہ سے بات کی کہ میں کئی سال سے تم سے بات کرنا چاہتا تھا۔ تم مجھے پسند ہو۔ تمہارے والد جو مانگیں گے، ہم وہ دے دیں گے۔ میں تمہیں اپنی دلہن بنائوں گا۔ تم کبھی کبھی فون پر مجھ سے بات کرلیا کرو۔ یہ الفاظ سن کر ساجدہ کو بہت غصہ آیا۔
نادان لڑکی
مزید پڑھیں
اس نے فوراً فون بند کردیا۔ اب باربار تائی کا فون بجتا۔ جب وہ اٹھاتیں، بند ہوجاتا۔ وہ سمجھتیں کہ رانگ نمبر ہے، کوئی تنگ کررہا ہے لیکن ساجدہ کو علم تھا یہ کوئی اور نہیں زمان ہے۔ اس نے کسی طرح حسن بانو سے ۔ رابطہ کیا اور کہا کہ اپنے بھائی کو سمجھاؤ ایسا نہ کرے۔ اگر میرے بابا جان کو علم ہوگیا تو میرے ساتھ ہی نہیں، اس کے ساتھ بھی بہت برا ہوگا۔ زمان مگر کہاں سمجھنے والا تھا۔ وہ ایک ضدی لڑکا تھا۔ اس نے کوشش جاری رکھی۔ اتفاق سے انہی دنوں اس کے گھر کا کوئی شیشہ ٹوٹا جس سے اس کی کلائی زخمی ہوگئی۔ اس نے فوراً اپنے خون سے ساجدہ کو خط تحریر کیا کہ اگر تم نے مجھ سے فون پر بات نہیں کی تو میں جان دے دوں گا۔

میں نے یہ خط اپنی کلائی کاٹ کر تحریر کیا ہے۔ اس نے خط موقع دیکھ کر ایک بچے کے ہاتھ بھیج دیا جو اسے حفاظت سے مل گیا۔ اس نے خط کھول کر پڑها تو بہت پریشان ہوئی کیونکہ خط خون سے لکھا ہوا تھا اور زمان کا نام بھی تحریر تھا۔ اگر تم نے جواب نہیں دیا تو میں اپنی شہ رگ کاٹ لوں گا۔ اس کی دھمکی سے وہ بچاری ڈر گئی- اتفاق کہ وہ ہمارے گھر آئی تو حسن بانو بھی اپنی والدہ کے ہمراہ آئی ہوئی تھی کیونکہ اس کی ماں سے میری امی کی بھی سلام دعا تھی۔ ساجدہ نے حسن بانو کی خیریت پوچھی۔ وہ بولی۔ خیر نہیں ہے کیونکہ میرے بھائی کی کلائی بری طرح زخمی ہوگئی تھی اور اب وہ اسپتال میں داخل ہے۔ یہ سن کر ساجدہ پریشان ہوگئی تبھی حسن بانو نے کہا۔ تم جانتی ہو کہ یہ سب کچھ تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔

اب اگر تم اس کی زندگی چاہتی ہو تو ایک بار میرے بھائی کو اسپتال دیکھ آؤ تاکہ وہ جلد صحت یاب ہوجائے۔ وہ سادہ دل لڑکی ایسے جھمیلوں میں نہیں پڑنا چاہتی تھی لیکن یہ بھی نہ چاہتی تھی کہ اس کی وجہ سے کسی کی جان چلی جائے۔ اس نے کہا کہ تم اپنے بھائی کو سمجھائو، ایسا نہیں ہوسکتا۔ میں اس کے ساتھ رابطہ نہیں رکھ سکتی کیونکہ اپنے والد سے وعدہ کیا ہے کہ ان کی عزت کی لاج رکھوں گی۔ وہ بولی۔ میں کب کہتی ہوں کہ تم اس کے ساتھ محبت کرو، میں یہ چاہتی ہوں کہ تم ایک بار مل کر اسے سمجھا دو تاکہ وہ دوبارہ ایسی کوئی حرکت نہ کرے جس سے تم لوگوں یا ہماری عزت میں فرق آئے۔
قسمت کا سودا
مزید پڑھیں
یوں کہہ سن کر حسن بانو نے اسے راضی کیا اور ہمارے گھر سے اسے اسپتال لے گئی۔ ساجدہ نے کہا۔ اگر میری ماں پوچھے کہ کہاں گئی ہے تو کوئی بہانہ کردینا، میں صرف پانچ منٹ وہاں رکوں گی اور زمان کو خدا کا واسطہ دے کر سمجھاؤں گی کہ وه ان حرکتوں سے باز آجائے۔ اللہ کی مرضی اس کی ماں نے تو نہ پوچھا، وہ سمجھی کہ ہمارے گھر میں بیٹھی ہے لیکن اس کے والد نے ساجدہ کو اسپتال میں زمان سے بات کرتے دیکھ لیا۔ وہ اپنے ایک بیمار دوست کی عیادت کو اسپتال گئے تھے۔ گهر آکر بیٹی کی خوب خبر لی ساتھ ہی بیوی کو بھی مارا کہ تم نے دھیان کیوں نہیں دیا کہ یہ اسپتال اس لڑکے کی عیادت کو چلی گئی۔ اس کے ساتھ اس کا کیا واسطہ ہے۔ تایا نے یہیں پر بات ختم نہیں کی بلکہ بیوی سے کہا کہ اب میں ساجدہ کو زندہ نہیں چھوڑوں گا، کسی دن مار دوں گا۔

بیوی ڈر گئی کیونکہ یہاں ایسی باتوں پر لڑکیوں کے قتل ہوتے رہتے تھے۔ تائی کو بھی یقین ہوگیا کہ ساجدہ کے باپ نے محض دھمکانے کے لئے ایسا نہیں کہا، وہ بیٹی کی جان بھی لے سکتا ہے۔ تائی نے تایا کے آگے ہاتھ جوڑے کہ بیٹی کو مت مارنا۔ تم نے اسے پڑھایا لکھایا ہے تو اس پر یقین رکھو کہ اس نے کوئی غلط حرکت نہیں کی ہوگی۔ اور غلط حرکت کیا ہوسکتی ہے، میں نے خود اپنی آنکھوں سے مردوں کے وارڈ میں اس لڑکے سے باتیں کرتے دیکھا ہے۔ میرے لئے بس اتنا ہی کافی ہے۔ تم کیا چاہتی ہو کہ میں ساجدہ کو زندہ رکھ کر اس سے زیادہ سنگین جرم کا ارتکاب کروں اور اس لڑکے کے ساتھ اس کے خاندان کو بھی ختم کردوں؟ تائی بہت ڈری ہوئی تھیں۔

انہوں نے شوہر کے قدموں کو چھو کر کہا۔ کیا اس کے علاوہ کوئی حل نہیں…؟ ہوسکتا ہے اگر لڑکے کا باپ ہمیں سو بھیڑیں دے کر ہماری لڑکی کا رشتہ مانگ لے کیونکہ وہ پیسے والا ہے، اتنی بھیڑیں دے سکتا ہے۔ یہاں بہت سے قبیلوں میں اب بھی یہی رواج ہے کہ لڑکی کا رشتہ طے کرتے وقت کچھ رقم نقد یا مال مویشی کی صورت میں لڑکے والوں سے لے کر رشتہ دیا جاتا ہے اور یہ رقم بیٹی کی شادی پر خرچ کردی جاتی ہے۔ اسے ایک رسم کے طور پر لیا جاتا ہے۔ اس طرح لڑکی والوں کی عزت ہوتی ہے۔ میرے تایا جی چونکہ نگری نگری گھومتے تھے لہذا وہ بیٹی کو سزا نہیں دینا چاہتے تھے جو یہاں کا رواج تھا کہ اگر لڑکی کسی غیر لڑکے سے رابطہ رکھے تو اسے یا دونوں کو ہی جان سے مار دیا جائے۔ تائی نے کہا۔ ٹھیک ہے میں جاکر حسن بانو کی والدہ سے کرتی ہوں۔ مجھے امید ہے وہ میری بات مان مان لے گی اور شوہر کو راضی کرلے گی۔

یوں وہ زمان کے گھر میری امی کے ساتھ گئیں۔ معاملے کی سنگینی بتا کر منت سماجت کی کہ اگر تمہارا لڑکا چاہتا ہے تو شوہر کو راضی کرو۔ وہ عزت سے رشتہ مانگ کر میری لڑکی کو بہو بنالے ورنہ میرا شوہر ساجدہ کو مارنے کی قسم کھا چکا ہے۔ خدا کے واسطے مجھ پر رحم کرو۔ عورت کا دل تائی کے آنسو دیکھ کر پسیج گیا۔ حسن بانو نے بھی اپنی ماں سے کہا کہ زمان کب سے ساجدہ سے رابطے کی کوششوں میں تھا مگر وہ اس کو موقع نہ دیتی تھی تو میں ہی ساجدہ کو اسپتال لے گئی تھی کہ وہ بھائی کو سمجھائے۔ خاتون نے شوہر سے بات کی۔ وہ دولت مند آدمی غرور کا مارا ہوا تھا۔ اس نے نہ صرف انکار کیا بلکہ بیوی سے کہا کہ آئندہ مزدور کی یہ عورت ہمارے گھر نہ آئے، اپنی اوقات میں رہے۔
بزدل عاشق
مزید پڑھیں
بیوی نے سمجھایا کہ تمہارا بیٹا ہی مسئلہ پیدا کررہا ہے۔ کسی دن وہ بھی ساجدہ کے ساتھ مارا جائے گا پھر تم کیا کرو گے؟ یہ دولت تمہارے کس کام آئے گی۔ ہمارا ایک ہی بیٹا ہے۔ زمان کے والد نے کچھ دیر سوچا پھر کہا۔ میں زمان سے بات کرتا ہوں۔ اگر وہ ہاں کردے گا تو ہم رشتہ لے لیں گے۔ باپ نے بیٹے سے بات کی تو حیرت کی بات ہے کہ اس نے صاف انکار کردیا۔ کہا کہ ساجدہ کو میں اس قابل نہیں سمجھتا کہ ہمارے گھر کی بہو کہلائے۔ آپ اس کی ماں کو انکار کردیں۔ ماں مجبور ہوگئی کیونکہ باپ اور بیٹے دونوں نے ساجدہ کا رشتہ قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ تایا نے بیوی سے کہا۔ وہ لوگ عزت کے ساتھ رشتہ لینے پر راضی ہیں؟ جواب ملا کہ نہیں! انہیں دولت کا گھمنڈ ہے۔ یہ رشتہ ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے ہمیں کمتر سمجھ کر انکار کردیا ہے۔ اب تم کیا کرو گے، کیا ساجدہ کو واقعی مار دو گے؟ میں یہ نہیں کرسکتا مگر بھابی کو ہمراہ لے کر زمان کے والدین کے پاس گئیں، یہ تم نے غلطی کی۔

اب بات کھل جائے گی۔ وہ اپنے میکے میں ضرور یہ بات بتلائے گی۔ اس لئے مجھے ساجدہ کو اپنے گھر سے روانہ کرنا پڑے گا۔ یوں تایا نے بیٹی کی جاں تو بخش دی لیکن اسے دوردراز کے گائوں میں ایک شخص کے ہاتھ فروخت کردیا تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری! جس شخص نے اسے خریدا، اس نے اپنے بیٹے کا گھر بسانا تھا۔ وہ ایک بزرگ آدمی تھا۔ ساجدہ کا نکاح بیٹے سے کیا اور اسے بہو بنا کر اپنے گھر میں رکھ لیا۔ عموماً ایسی خریدی گئی لڑکی کی نہ سسرال میں عزت ہوتی ہے اور نہ شوہر اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے لیکن اللہ نے ساجدہ کی بے گناہی اور مظلومیت پر رحم کھایا اور اسے شہباز کی صورت میں ایک نیک شوہر عطا کر دیا جس نے اس کے ساتھ حسن سلوک سے زندگی گزارنے کا ارادہ کرلیا۔

اس طرح میری کزن کی قسمت بدل گئی۔ وہ موت کے منہ سے نکلی اور ایک فرشتہ صفت انسان کی شریک زندگی بن گئی جس نے نہ صرف عزت دی بلکہ جنت جیسا گھر بھی دیا۔ یہ اللہ تعالی کا کرم ہوتا ہے جس پر ہوجائے وہ فرش سے عرش پر پہنچ جاتا ہے ورنہ ہمارے گائوں میں ایسی لڑکی کا بچ جانا بھی ایک معجزہ تھا، جس پر کوئی اس طرح کا الزام ہو، وہ اگر موت سے ہمکنار نہ کی جائے تو فروخت ہوتی ہے تب بھی اس کی زندگی کسی جہنم سے کم نہیں ہوتی۔ سسرال والے بدچلن سمجھتے ہیں اور اس کے کردار پر طعنہ زنی کرتے۔ اس کے ساتھ ایسا کچھ نہ ہوا۔ اللہ نے اسے بہترین سوچ رکھنے والا شوہر اور خوشیوں بھری زندگی عطا کردی۔
شادی شدہ لڑکی
مزید پڑھیں
زمان نے تو ساجدہ کی زندگی تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی وہ تو اس کی قسمت اچھی تھی کے وہ اچھے لوگوں میں چلی گئی – ورنہ زندگی بھر ساجدہ طعنے سنتی اور اس کے ماں باپ زمانے کے سامنے عزت کا بھرم رکھنے کے لیے خاموش تماشائی بنے رهتے – ساجدہ کی نیک نیتی نے اسے انعام میں اچھا شوہر دیا – ساجدہ نے اپنے باپ کی لاج رکھی تو پھل اسے بھی ملا۔

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Betty Jean posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share