Talash تلاش

  • Home
  • Talash تلاش

Talash تلاش تلاش اس کو، نہ کر بتوں میں
وہ ہے بدلتی، ہوئی رتوں میں

پڑھ پڑھ علم ہزار کتاباں عالم ہوئے بھارے ہو حرف اک عشق دا پڑھ نہ جانن بھلے پھرن وچارے ہو اک نگاہ جے عاشق ویکھے لکھ ہزاراں...
19/07/2023

پڑھ پڑھ علم ہزار کتاباں عالم ہوئے بھارے ہو
حرف اک عشق دا پڑھ نہ جانن بھلے پھرن وچارے ہو
اک نگاہ جے عاشق ویکھے لکھ ہزاراں تارے ہو
لکھ نگاہ جے عالم ویکھے کسے نہ کدھی چاڑھے ہو
عشق عقل وچ منزل بھاری سوآں کوہاں دے پاڑے ہو
جنہاں عشق خرید نہ کیتا دوہیں جہانیں مارے ہو

دل میرا مصر کا بازار بھی ہو سکتا ہےکوئی دھڑکن کا خریدار بھی ہو سکتا ہےکوئی ہو سکتا ہے قاتل بھی صف یاراں میںکوئی ہمدرد سر...
28/04/2023

دل میرا مصر کا بازار بھی ہو سکتا ہے
کوئی دھڑکن کا خریدار بھی ہو سکتا ہے

کوئی ہو سکتا ہے قاتل بھی صف یاراں میں
کوئی ہمدرد سر دار بھی ہو سکتا ہے

اب تلک اشک گرا کرتے تھے تنہائی میں
یہ تماشا، سر بازار بھی ہو سکتا ہے۔

مجھہ پہ طعنے نہ کسو، مجھکو نہ پاگل سمجھو،
میں بھی انساں ہوں مجھے پیار بھی ہو سکتا ہے۔

اس کی چوکھٹ پہ جانا ہے، ذرا تھام لے دل،
وہاں اقرار بھی، انکار بھی ہو سکتا ہے۔

علی ؑ کے فیض سے لاہور روشن                    علی ؑ کے دم سے اجمیری نشاں ہےعلی ؑ کا نام ہے کلیر میں صابرؒعلی ؑ سے خسروِ ...
28/03/2023

علی ؑ کے فیض سے لاہور روشن
علی ؑ کے دم سے اجمیری نشاں ہے
علی ؑ کا نام ہے کلیر میں صابرؒ
علی ؑ سے خسروِ شیریں بیاں ہے
علی ؑ کا ہی نظامِؒ دہلوی ہے
علی ؑ کی ’’لاٹ‘‘ ہی قطبی نشاں ہے
علی ؑ خواجہ فریدالدیں ؒ کی منزل
علی ؑ پاکِ پتن کی جانِ جاں ہے
علی ؑ کے نام سے مولائے رومیؒ
علی ؑ تبریز کا سِرِ نہاں ہے
علی کا فقر ہے فخرِ محمدؐ
علی ؑ لحمک لحمی جسم و جاں ہے
علی ؑ ہے کاشفِ رازِ حقیقت
علی ؑ وحدت میں اک کثرت نہاں ہے
علی ؑ ہے شارحِ شانِ نبوت
علی ؑ کا نام ہی حسنِ بیاں ہے
علی ؑ ہے مرکزِ پرکارِ ہستی
علی ؑ جب بھی جہاں ہے درمیاں ہے
علی ؑ سے اولیاء کی زندگی ہے
علی ؑ کی ذات ہی روحِ رواں ہے

علی ؑ کی یاد ہے واصفؔ علی کو
علی ؑ خود اس زمیں کا آسماں ہے

( سرکار واصف علی واصفؒ )

مجھے عشق میں ایسا کمال دے۔ جو میرے ہر روپ کو نکھار دےمیں مگن رہوں تیری راہ میںمجھے ایسا کوئی مقام دے۔ ھو ھو۔ ☝️
28/03/2023

مجھے عشق میں ایسا کمال دے۔
جو میرے ہر روپ کو نکھار دے
میں مگن رہوں تیری راہ میں
مجھے ایسا کوئی مقام دے۔
ھو ھو۔ ☝️

عشق کے بازار میں خود کو لٹا کر دیکھ۔ یار خود موجود ہے پردہ اٹھا کر دیکھ۔
20/03/2023

عشق کے بازار میں خود کو لٹا کر دیکھ۔
یار خود موجود ہے پردہ اٹھا کر دیکھ۔

‎عشق منزل نہیں ہے.جو مل جائے عشق راستہ ہے. جو اللہ تعالیٰ کے راز آشنا کرتا ہے. جیسے جیسے انسان عشق کے راستہ میں گم ہوتا ...
17/03/2023

‎عشق منزل نہیں ہے.جو مل جائے عشق راستہ ہے. جو اللہ تعالیٰ کے راز آشنا کرتا ہے. جیسے جیسے انسان عشق کے راستہ میں گم ہوتا جائے گا آشنائی حاصل ہوتی جائے گی الف سے اللہ اور الف سے انسان ابتدا عشق سے انسان الف سے اللہ تک جاتا ہے🌹

06/03/2023

ﺑﻠﮭﮯ ﺷﺎﮦ .
ﭘﺮﯾﻢ ﻧﮕﺮ ﻭﭺ 9 ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ 10ﻭﺍﮞ ﺻﺪﺭ ﻣﻘﺎﻡ
5 ﺗﮭﺎﻧﮯ 4 ﺗﺤﺼﯿﻼﮞ ﻣﺮﮐﺰ ﺧﺎﺹ ﻭ ﻋﺎﻡ
6ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺍﺱ ﻗﻠﻌﮯ ﻭﭺ ﺣﺎﮐﻢ 2 ﭘﮩﭽﺎﻥ
24000 ﻣﻼﺯﻡ ﺭﻣﺰﻭﮞ ﻋﺎﺭﻑ ﮐﺮﻥ ﭘﭽﮭﺎﻥ
ﺍﯾﮩﮧ ﺭﻣﺰ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻣﺨﻔﯽ ﻭﭺ ﻧﺎﻃﻖ ﻗﺮﺁﻥ
ﺑﻠﮭﮯ ﺷﺎﮦ ﺟﯿﮩﮍﺍ ﺍﯾﺲ ﺩﯼ ﺭﻣﺰ ﭘﭽﮭﺎﻧﮯ
ﺍﻭﮨﻨﻮﮞ ﻣﺮﺷﺪ ﮐﺎﻣﻞ ﺟﺎﻥ۔۔۔۔۔
ﺗﺸﺮﯾﺢ.
ﺳﺮﮐﺎﺭ ﺑﮭُﻠﮯ ﺷﺎﮦ ﺟﯽ :
ﺳﺮﮐﺎﺭ ﻭﺟﻮﺩ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﯼ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟِﺲ ﻣﯿﮟ
ﻧﻮ 9 ، ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ،،،، ﺍﺱ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﮯ ﻧﻮ ﺳﻮﺭﺍﺥ
ﺻﺪﺭ ﻣﻘﺎﻡ .....
ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺳﯿﻨﭩﺮ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺫﺍﺕ ﮐﯽ ﺗﺠﻠﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﮯ
ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺗﺸﺮﯾﺢ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﺩﻝ ﻋﺮﺵ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮨﮯ
ﭘﺎﻧﭻ ﺗﮭﺎﻧﮯ .... ﭘﺎﻧﭻ ﺍﺱ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﺱ ﻇﺎﮨﺮﯼ
ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ، ﺳﻨﻨﺎ، ﭼﮭﻮﻧﺎ، ﺳﻮﻧﮕﻬﻨﺎ، ﭼﮑﻬﻨﺎ
ﭼﺎﺭ ﺗﺤﺼﯿﻠﻮﮞ .... ﭼﺎﺭ ﻋﻨﺎﺻﺮ ﺁﮒ، ﭘﺎﻧﯽ، ﻣﭩﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺍ ﮐﺎ ﺑﻨﺎ ﯾﮧ
ﻭﺟﻮﺩ
ﭼﮫ ﮔﻮﺭﻧﺮ .... ﭼﮫ ﺍﺱ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﻧﻮﺭ ﮐﮯ ﭘﻮﺍﺋﯿﻨﭩﺲ ﯾﺎ ﻟﻄﺎﺋﻒ ﮨﯿﮟ
ﺫﮐﺮ ﮐﯿﻠﺌﮯ .
ﭘﮩﻼ ﻟﻄﯿﻔﮧ ﻗﻠﺒﯽ
ﺩﻭﺩﺭﺍ ﻟﻄﯿﻔﮧ ﺭﻭﺣﯽ
ﺗﺌﺴﺮﺍ ﻟﻄﯿﻔﮧ ﺳﺮﯼ
ﭼﻮﺗﻬﺎ ﻟﻄﯿﻔﮧ ﻧﻔﺴﯽ
ﭘﺎﻧﭽﻮﺍﮞ ﻟﻄﯿﻔﮧ ﺧﻔﯽ
ﭼﻬﭩﺎ ﻟﻄﯿﻔﮧ ﺍﺧﻔﮯ ﯾﺎ ﺍﺧﻔﯽ
ﺍﯾﮏ ﺍﮨﻢ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺳﺘﮧ ﻣﺮﺍﺗﺐ ﮨﯿﮟ
ﺍﺣﺪﯾﺖ
ﻭﺣﺪﺕ
ﻭﺣﺪﯾﺖ
ﺭﻭﺡ
ﻣﺜﺎﻝ
ﺷﮩﺎﺩﺕ
ﺩﻭ ﺣﺎﮐﻢ ...
ﻇﺎﮨﺮ ﻭ ﺑﺎﻃﻦ ﺍﺱ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﮯ
ﭼﻮﺑﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﻣﻼﺯﻡ ...
ﯾﮧ ﻭﺟﻮﺩ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ 24000 ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ
ﺑﺎﻗﯽ ﺍﺻﻞ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﺍ ﻣﺸﺎﮨﺪﮦ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻣﻞ ﻣُﺮﺷﺪ ﯾﮧ ﻣﺸﺎﮨﺪﺍﺕ ﮐﺮﻭﺍ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ

28/02/2023
20/02/2023

اصل رزق تو یہی ہے !!!!۔۔

ایک ٹیکسی ڈرائیور نے فٹ پاتھ پہ بوجھل قدم اٹھاتے بوڑھے کو دیکھ کر بریک لگائی پوچھا کہاں جاو گے ؟
بوڑھے نے سامنے پہاڑ کی طرف اشارہ کرتے ہوکہا اس پہاڑ کے پیچھے آخری کنارے پر میرا گھر ہے۔۔۔
ڈرائیور نے بیٹھنے کا اشارہ کیا راستے میں بوڑھے سے پوچھا کتنا دوگے کرایہ ؟بزرگ نم آنکھوں سے جواب دیا بہت مال دوں گا گھر پہنچ کر ۔۔۔۔۔
گاڑی جب گھر کی دہلیز تک پہنچی دروازہ کھلا معصوم بچے دوڑ کر آئے اور بزرگ سے لپٹ کر روتے ہوئے پوچھا بابا ہمارے لئے روٹی لائے ہو یا رات کی طرح دن بھی بھوک میں گزرے گا 😥😥
باپ اپنے معصوموں کی حالت زار دیکھ نہ سکااور شرمندہ بھی ہوا رو کر کہا ابھی تک کچھ نہیں ملا میرے بچو مگر بہت جلد خدا اپنا رزق پہنچائے گا ۔۔۔۔۔
ڈرائیورپر باپ بچوں کا مکالمہ ہتھوڑے کی ضرب کی طرح لگا ہوٹل پہ آیا بھوکے بچوں کا کھانا لیا جاکر معصوموں کے سامنے رکھا اتنی بھوک تھی کہ سیکنڈوں میں وہ روٹی کھا گئے ۔۔۔۔۔
پھر اسی نیت سے ڈرائیور خاموشی سے شہر کی طرف چل دیا کہ ان بھوکوں کی آگ بجھادوں اچانک سامنے سیاح ملے کہنے لگے ہمیں ائیرپورٹ پہنچادیں انہوں نے بغیر پوچھےاس کا کرایہ ایک سودینار دیا حالانکہ اتنی مسافت کے صرف بیس دینار بنتے تھے واپسی ایک سواری ملی انہوں نے بھی ایک سو دینار دیا ۔۔۔۔
اب یہ مزدوری لےکر بازار آیا اس بزرگ کے بچوں کےلئے روٹی اشیائے خوردنوش لیا سیدھا ان بچوں تک پہنچا کر کہا!!!
میرے بھائی میرے رب نے تیری وجہ سے یہ رزق چند لمحوں میں دیا لے اپنا حصہ اپنے پاس رکھ ۔۔۔۔
بوڑھا ممنون نگاہوں سے دیر تک دیکھتا رہااور اسکے آنسو رکنے کانام نہ لے رہے تھے۔۔۔۔
پھر زبان سے جو کچھ کہا ہوگا عرش تک آواز ضرور پہنچی ہوگی ۔۔۔
اصل رزق تو وہ ہے جو رب کی مخلوق کے کام آئے ورنہ خزانے تو قارون کے پاس بھی تھے ۔۔۔!!!!۔
کروڑوں درود وسلام ہو حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پہ۔اہل بیت۔امھات المؤمنین ۔اور تمام صحابہ کرام رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم اجمعین پہ ۔۔۔۔
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔۔۔

18/02/2023

دستک کا تسلسل مانگنے والے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے!!!!!!

18/02/2023

حضرت عبداللہ شاہ قادری المعروف بابا بلھے شاہ رحمتہ اللہ کے والد سخی شاہ محمد درویش مسجد کے امام تھے اور مدرسے میں بچوں کو پڑھاتے تھے۔ بلّھے شاہ نے والد سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اس کے ساتھ قرآن ناظرہ تعلیم کے علاؤہ مروجہ دینی علوم حاصل کیے اور ساتھ ساتھ شطاریہ خیالات سے بھی مستفید ہو ئے۔
آپ پہ یار کی نگاہ ناز ہوئی اور سید ہوتے ہوئے بھی ایک آرائیں کے مرید ہوئے اور ملامت کا طرہ سر باندھا اور دیونہ وار محبوب کی یاد میں رقص کناں رہے ۔
وہ خود سیّد زادے تھے لیکن انہوں نے شاہ عنایت کے ہاتھ پر بیعت کی

بلھے نوں سمجھاون آئیاں
بھیناں تے بھرجائیاں

من لے بلھیا کہنا ساڈا
چھڈ دے پلّا رائیاں

آل نبی اولادِ علی نوں
توں کیوں لیکاں لائیاں؟

بلھے آکھیا !! عشق دیاں ریتاں کسے دی سمجھ نہ آئیاں

جیہڑا سانوں سیّد سدّے
دوزخ ملن سزائیاں

جو کوئی سانوں رائیں آکھے
بہشتیں پینگھاں پائیاں

رائیں سائیں سبھنیں تھائیں
رب دیاں بے پروائیاں

سوھنیاں پرے ھٹائیاں
تے کوجھیاں لے گل لائیاں

جے توں لوڑیں باغ بہاراں
چاکر ھوجا رائیاں

بلھے شاہ دی ذات کی پچھنا ایں؟
شاکر ھو رضائیاں

آپ قلندرانہ اوصاف کے حامل تھے آپ فرماتے ہیں

علموں بس کریں او یار
بس ہکو الف تیرے درکار

آپ اپنے شیخ کی محبت میں ایسے رنگے کہ ہر طرف آپ کا ڈنکا بجنے لگا اور ایک شاعر نے اس کیفیت کو کچھ یوں بیاں کیا ہے

بیٹھا ہووے جے شاہ عنایت اَ گے
بلھا کر کے ہار سنگھار نَچے

کیوں نہ پتھر وی پگھل کے ہون پانی
جَدوں سامنے یار دے یار نَچے

جُڑے تال نال تال تے ناچ ہُندا
او ناچ کادا جو بے تال نَچے

بلھا اِک دے اَگے نچیا سی
اَگے بلھے دے کئی ہزارنَچے

عشق کی یہ خاصیت ہے جس ذات میں آپ فنا ہوتے ہیں وہی صورت آپ کو عطا کر دی جاتی ہے
اس بات پہ حدیث قدسی بھی شاہد ہے

"من طلبنی وجدنی و من وجدنی عرفنی و من عرفنی احبنی و من احبنی عشقنی و من عشقنی قتله و من قتله فعلی دیته و انا دیته."
ترجمه: الله تعالی نے فرمایا:-
جو میری طلب کرتا ہے وہ مجھے پا لیتا ہے، جس نے مجھے پا لیا اس نے میری پہچان کر لی، جس نے میری پہچان کر لی اس نے مجھے اپنا محبوب بنالیا، جس نے مجهے اپنا محبوب بنا لیا وہ مجھ پر عاشق هو گیا جو مجھ پر عاشق هوتا ہے میں اس کو قتل کر دیتا ہوں، جس کو میں قتل کرتا ہوں اس کی دیت مجھ پر لازم ہو جاتی ہے اور میری ذات هی اس کی دیت هے."

رانجھا رانجھا کر دی نی میں آپے رانجھا ہوئی

سدو نی مینوں دھیدو رانجھا ہیر نا آکھو کوئی

انہوں نے شاعری میں شرع اور عشق کو ایک لڑی میں پرو دیا اور عشق کو شرع کی معراج قرار دیاان کے کام میں عشق ایک ایسی زبردست قوت بن کر سامنے آتا ہے جو شرع پر چل کر پیغام حسینیت کو فروغ دیتا ہے اور یزیدیت کو ہمیشہ کے لیے شکست دیتا ہے بلّہے شاہ نے پیار محبت کے پیغام کو فروغ دیا عربی فارسی میں عالم ہونے کے باوجود انہوں نے سرائکی کو ذریعۂ اظہار بنایا تاکہ عام لوگوں تک اپنا پیغام پہنچا سکیں۔
آپ اپنی شاعری کے ذریعے طاقتور طبقے مولوی جو انتشار پسند اور فرقہ پرست تھے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

اک پاسے میرے رہن وہابی
اک پاسے دیو بندی
اگے پچھے شعیہ سُنی
تے ڈاڈی فرقہ بندی

وچ وچالے ساڈا کوٹھا
تے قسمت ساڈی مندی
اک محلہ تے اٹھ مسیتاں
میں کدی کراں پابندی؟

چل او بھلیا اُوتھے چلئیے
جتھے رہن عقل دے انے
نہ کوئی ساڈی ذات پچھانے
تے نہ کوئی سانوں منے

آپ کی شاعری عالمگیر پیغام محبت اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور ذات پات ،فرقہ بازی سے بلند کو کر انسان سے محبت کا درس دیا ۔
میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں آپ کے بارے میں

بلھے شاہ دی کافی سن کے ٹرٹدا ک فر اندر دا
وحدت دے دریا دے اندر اوہ بھی وتیا تردا

آپ کی ذات فذکرونی اذکرکم کا مظہر ہے اور آپ کی مزار آج بھی عاشقوں کے لیے مینارہ نور ہے

بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں گور پیا کوئی

آخر میں کچھ منتخب کلام حضرت بابا بلھے شاہ کا کلام اور تصویر آپ کے زیر استعمال اشیاء کی ہے جو کہ دربار کے احاطے میں موجود ہیں

اب ہم گمّ ہوئے، پریم نگر کے شہر

اپنے آپ نوں سودھ رہا ہوں، نہ سر ہاتھ نہ پیر
خودی کھوئی اپنا پد چیتا، تب ہوئی گلّ خیر
لتھے پگڑے پہلے گھر تھیں، کون کرے نرویر ؟
بلھا شہہ ہے دوہیں جہانیں، کوئی نہ دسدا غیر

الف ﷲ نال رتا دل میرا،
مینوں 'بے' دی خبر نہ کائی ۔

'بے' پڑھدیاں مینوں سمجھ نہ آوے،
لذت الف دی آئی

'عیناں تے غینا' نوں سمجھ نہ جانا،
گلّ الف سمجھائی ۔

بلھیا قول الف دے پورے،
جہڑے دل دی کرن صفائی

اوہو بے صورت وچ صورت دے،
بن آپ محمد آیا اے
رکھ سامنے شیشہ وحدت دا،
اج رب نے یار سجایا اے.
بِن صورت دے رب نئیں لبدا،
اودی شکل نورانی مُکھ رب دا
جے او نہ ہُندا، نہ رب ہُندا،
لولاک خدا فرمایا اے.
اے گل کوئی یار خطا وی نئیں،
جے خدا اُو نئیں تے جُدا وی نئیں
آپے احمد بن کے حمد کرے،
تے محمد نام رکھایا اے.
بے حد رمزاں دسدا میرا ڈھولن ماہی
میم دے اولے وسدا میرا ڈھولن ماہی

چھیتی بوہڑی وے طبیبا، نئیں تے میں مر گئی آں
تیرے عشق نچایا، کر کے تھّیا تھّیا
ایس عِشقے دی جھگی وچ مور بولیندا
سانوں قِبلہ تے کعبہ سوھنا یار دسیندا
سانوں گھائل کر کے فیر خبر نہ لئی آ
تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا

بُلھے شاہ نے آندا مینوں شاہ عنایت دے بُو ھے
جس نے مینوں پوائے چولے ساوے تے سُوھے
جاں میں ماری ھے اڈی،،،،،،، سانوں مل گیا پِیا
تیرے عشق نچایا کر کے تھّیا تھّیا

دلوں نماز تُوں پڑھدا ناہیں،

جئی نیتی جئی ناں نیتی

گِٹے گوڈھے مَل مَل دھونا ایں،

تیرے اندروں گئی ناں پلیتی

دُنیا دے دکھلاوے خاطر،

ایویں پَجھ پَجھ وَرنا ایں مسیتی

بُلھے شاہ چل اوتھے پڑھئے،

جنہاں کدی قضا ناں کیتی

تحریر و انتخاب
محمد فیضان
Muhammad Faizan

17/02/2023

اہل شوق و طلب کے لئے معلوماتی نکات
(١) ﻋﺎﻟﻢ ﻧﺎﺳﻮﺕ
یہ ﻋﺎﻟﻢ ﺣﯿﻮﺍﻧﺎﺕ ﮨﮯ ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻓﻌﻞ ﺣﻮﺍﺱ ﺧﻤﺴﮧ ﺳﮯ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺳﻮﻧﺎ ﺳﻮﻧﮕﮭﻨﺎ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﺳﻨﻨﺎ ۔ ﺟﺐ ﺳﺎﻟﮏ ﺭﯾﺎﺿﺖ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻋﺎﻟﻢ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮﻋﺎﻟﻢ ﻣﻠﮑﻮﺕ ﮐﯽ ﺭﺍہ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ

(٢)عالم ملکوت
ﯾﮧ ﻋﺎﻟﻢ ﻋﺎﻟﻢ ﻓﺮﺷﺘﮕﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻓﻌﻞ ﺗﺴﺒﯿﺢ ،ﺗﮩﻠﯿﻞ، ﻗﯿﺎﻡ، ﺭﮐﻮﻉ، ﺍﻭﺭ ﺳﺠﻮﺩ ﮨﮯ ۔ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻋﺎﻟﻢ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻋﺎﻟﻢ ﺟﺒﺮﻭﺕ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﺟﺎﺗﺎ ہے

(٣) ﻋﺎﻟﻢ ﺟﺒﺮﻭﺕ
یہ عالم ﻋﺎﻟﻢ ﺭﻭﺡ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻓﻌﻞ ﺻﻔﺎﺕ ﺣﻤﯿﺪہ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﺫﻭﻕ ،ﺷﻮﻕ، ﻃﻠﺐ، ﻭﺟﺪ، ﺳﮑﺮ ،ﺻﺤﻮ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻮ ۔ ﺟﺐ ﺍﻥ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻋﺎﻟﻢ ﻻﮬﻮﺕ
ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺘﺎ ﮨﮯ

(٤) عالم لاہوت
ﺟﻮ ﺑﮯ ﻧﺸﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ سالک ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻗﻄﻊ ﺗﻌﻠﻖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﮐﻮ ﻻﻣﮑﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﻧﮧ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺟﺴﺘﺠﻮ

عالمین یعنی مکان یا تخلیقات کو چار بنیادی طبقات میں تقسیم کیا گیا ہیں۔ عالم ناسوت، عالم ملکوت، عالم جبروت اور عالم لاہوت۔۔۔

زمین اور پہلے اسمان کے درمیان موجود عالم کو عالم ناسوت کہا جاتا ہیں۔ پہلے اسمان سے ساتویں اسمان تک عالم کو عالم ملکوت کہا جاتا ہیں۔
عالم جبروت ساتویں اسمان سے عرش معلی تک ہیں جس میں کرسی و سدرتہ المنتہیٰ وغیرہ شامل ہیں۔
عرش سے اوپر عالم جس میں نور اور تاریکی کے ستر ستر ہزار حجابات ہیں وہ عالم لاہوت کہلاتا ہیں۔ پھر اسکے بعد لا مکاں یعنی جہاں حوالہ ختم ہوجاتا ہیں، صفات زائل ہوجاتی ہیں اور ذات رہ جاتی ہیں۔

ہر ولی اللہ اپنے روحانی سفر کے شروعات سے یعنی مبتدی مرحلے سے جب روحانی سفر شروع کرتا ہیں تو وہ اپنے سلوک کے سفر کے دوران باری باری ان مراحل سے گذرتا ہیں۔ ہر ایک کی اپنی استطاعت اور درجہ کے مطابق مقام حاصل کرتا ہیں۔ ہر ایک مقام کے ساتھ وہاں کا کشف بھی حاصل ہوتا ہیں۔ یعنی ملکوت میں فرشتے اس کے تابع ہوجاتے جبروت میں چونکہ لوح محفوظ ہیں لہذہ اس کی پہنچ قلم و لوح تک ہوجاتی جس میں وہ سکرپٹ دیکھ سکتا اور تبدیلی کر سکتا ہیں۔ لاہوت کے تجربات یہاں پر قلم بند نہیں کر سکتا کیونکہ اس میں پوشیدہ ترین رموز ہیں۔

پہلی منزل یعنی ناسوت میں تصرف حاصل کرنے کے لئے ایمان شرط نہیں۔ کوئی ہندو جوگی یا عیسائی اور بدھ راہب بھی سخت ترین چلے کاٹنے اور نفس کشی سے گذرنے کے بعد ناسوت میں تصرف حاصل کر سکتا ہیں اور وہ استدراج یا جادو جو بھی کہے لیکن روحانی طاقت کچھ درجے کی حاصل کر لیتا ہیں۔ موسی ع کے مقابلے میں انے والے جادوگر اور خواجہ غریب نواز رض کے مقابلے میں انے والا جیپال جادوگر کے پاس اسی ناسوت کا تصرف حاصل تھا جس سے وہ برگزیدہ ہستیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے میدان میں اے۔ لیکن ناسوت سے اوپر نہیں جا سکتے چاہے جلا ڈالے تپسیا سے خود کو۔ مزید اللہ کے قریب جانے کے لئے شرط ایمان ہیں، جس سے اولیاء اللّٰہ مقامات بلند حاصل کر لیتے ہیں۔

علامہ اقبالؒ کے کلام میں عالمِ ملکوتی، لاھوتی کے علاوہ عالمِ جبروت، لاہوت، عالمِ بشریت اور اعراف کے متعلق کچھ اشارے ملتے ہیں جس سے انہوں نے انسان کا ان عوالم سے تعلق رکھنے کا ذکر کیا ہے۔ مثلاً آپ کا ایک بہت مشہور شعر طائرِ لاہوتی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

اے طائرِ لاھوتی اُس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

مولانا روم رحمہ علیہ کے اقوام میں بھی انکا ذکر خیر کثرت سے آیا ہے
انسان کا اصل وطن تو عالم لاہوت ہے وہ کچھ وقت کے لئے عالم ناسوت میں بھیجا گیا تاکہ خود کو عالم لاہوت کے لئے تیار کر سکے مگر وہ یہاں آ کے اس کی رنگینیوں کھو کے یہ بھی بھول گیا کہ کیا بھولا ۔
انسان جب سفلی زندگی کا عادی ہو جائے تو اس کے لیے اسے چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے -
اگر انسان سفلی زندگی کو خیر باد کہہ دے تو وہ دل کی دنیا میں پہنچ کر سر وحدت حاصل کر سکتا ہے-
بچے کو جب تک لذیذ غذائیں نہیں ملتی وہ دودھ پلانے والی سےچمٹا رہتا ہے ' جب غذائیں ملنے لگتی ہے تو دودھ سے بے نیاز ہو جاتا ہے-
اسی طرح جب تک انسان عالم سفلی سے چمٹا ہوا ہے اسرار کی لذت سے بے خبر ہے- جب وہ لذت حاصل ہونے لگے گی تو عالم سفلی کو نگاہ بھر کر بھی نہ دیکھے گا- انسان عالم سفلی سے اپنی غذا حاصل کرنے کا عادی ہو گیا ہے-
حالانکہ اس کی اصل غذا وہ ہے جو دل اور روح کی غذا ہے اور جو عالم ملکوت سے حاصل ہوتی ہے- کوشش کرتے رہنے سے رفتہ رفتہ وہ استعداد پیدا ہو جائے گی جس سے مشاہدہ حق حاصل ہو جائے گا-
.عالم ناسوت عالم حیوانات ھے اس کا فعل حواس خمسہ ہیں جب سالک خوب محنت ریاضت و مجاھدہ کرتا ھے تواس عالم سے نکل جاتا ھے....
وہ ایک اور عالم جسے ملکوت کہتے ہیں میں پہنچ جاتا ھے یہ فرشتوں کا عالم ھے اس کا فعل تسبیح تہلیل.قیام رکوع و سجود ھے........
نوری ملاٸکہ ہر لمحہ تسبیح میں مشغول ہیں انکی غذا یہی ھے .....
جب سالک مزید روحانی ترقی کرتا ھے تو تیسرے عالم جبروت میں پہنچ جاتا ھے جسے عالم الست بھی کہتے ہیں اسی مقام پر ارواح نے قالو بلی کا اقرار کیا ....اس عالم کے فعل صفات حمیدہ ہیں جیسے ذوق شوق .محبت .عشق طلب.وجد.شکر وغیرہ...
جب سالک مزید روحانی ترقی کرتا ھے تو وہ ایک اگلے جہاں میں پہنچتا ھے جسے عالم لاھوت لامکاں کہتے ہیں ...پھر انسان اپنے أپ سے قطع تعلق ھو جاتا ھے
یہاں پر ہر سو تو ہی تو ھے...
یہاں سے فناٸیت شروع ھوتی ھے
پھر بقا کی منازل ہیں .........
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں باعمل بنائے ۔ اور استقامت آتا فرمائے ۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین 🤲۔
: حافظ نعمان نقشبندی شاذلی

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Talash تلاش posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share