کیونکہ اس میں بندہ اپنے رب کے سامنے کامل بندگی کے تمام پہلو جمع کر دیتا ہے:
ربوبیت کا اقرار، توحید کی گواہی، بندگی کا اعتراف، عہد کی یاددہانی، گناہوں سے پناہ، نعمتوں کا شکر، خطا کا اعتراف، مغفرت کی دعا، اور یہ یقین کہ مغفرت صرف اللہ ہی کرتا ہے۔
یہی جامعیت اسے تمام دعاؤں میں سب سے افضل اور کامل استغفار بنا دیتی ہے۔
لماذا سمّي سيد الاستغفار بهذا الاسم لأن؟
اللهم انت ربي =ربوبية
لا إله إلا أنت =أُلوهية
خلقتني وانا عبدك=عبودية
وانا على عهدك ووعدك ماستطعت=قيام العهد
اعوذ بك من شر ما صنعت=إستعاذة
أبوء لك بنعمتك عليّ=شكر
و أبوء بذنبي=اعتراف
فاغفر لي=دعاء
فإنه لا يغفر الذنوب إلا انت=تجرد
لذا سمّي بسيد الاستغفار 🤍
28/04/2026
نبی کریم ﷺ کے خیمے میں محبت کا ایک حسین منظر!
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ جب ہم 'بیداء' کے مقام پر پہنچے تو میرا ہار گم ہو گیا۔ نبی کریم ﷺ اسے ڈھونڈنے کے لیے رک گئے، اور آپ کے ساتھ لوگ بھی وہیں ٹھہر گئے، جبکہ وہاں پانی بالکل نہیں تھا۔ لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور شکوہ کیا: "کیا آپ دیکھتے نہیں کہ عائشہ نے کیا کر دیا؟ انہوں نے نبی کریم ﷺ اور لوگوں کو ایسی جگہ روک لیا جہاں نہ پانی ہے اور نہ ہی کسی کے پاس موجود ہے!"
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ غصے میں آئے، اس وقت نبی کریم ﷺ میرا سر اپنی ران پر رکھے آرام فرما رہے تھے۔ انہوں نے مجھے سخت سست کہا، جو اللہ نے چاہا وہ بولے، اور اپنے ہاتھ سے میری کمر میں چبھونے لگے (تاکہ میں متوجہ ہو سکوں)۔ میری ہمت نہیں ہوئی کہ میں حرکت کرتی، کیونکہ نبی کریم ﷺ کا سر میری ران پر تھا!
صبح جب نبی کریم ﷺ بیدار ہوئے تو پانی نہیں تھا، تب اللہ تعالیٰ نے تیمم کے بارے میں آیتِ مبارکہ نازل فرمائی۔ تب حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: "اے آلِ ابوبکر! یہ کوئی آپ کی پہلی برکت نہیں ہے!" (یعنی آپ کی وجہ سے اللہ نے امت کو سہولت دی)۔ پھر جب ہم نے وہ اونٹ اٹھایا جس پر میں سوار تھی، تو ہار اس کے نیچے سے مل گیا۔
پہلا سبق:
نبی کریم ﷺ نے پورے لشکر کو صرف اپنی زوجہ کا ہار ڈھونڈنے کے لیے روک دیا، کیونکہ آپ ﷺ جانتے تھے کہ وہ ہار عائشہ کے دل کے کتنا قریب ہے! آپ ﷺ نے اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ لوگ کیا کہیں گے! آپ ﷺ ہمیں یہ بتانا چاہتے تھے کہ محبت کرنے والا انسان مشکل وقت میں بھی مہربان رہتا ہے، اور کسی کے دل کا خیال رکھنا (خاطرداری) سب سے اہم ہے۔ بیوی کی خوشی کا خیال رکھنا مرد کی شخصیت میں کوئی کمزوری نہیں، بلکہ یہ ایک سچے اور مکمل مرد کی نشانی ہے۔
دوسرا سبق:
ضروری نہیں کہ آپ لشکر روکیں، لیکن اپنی زندگی میں اسے ہر روز یہ احساس دلائیں کہ آپ کو اس کے جذبات کی پرواہ ہے۔ اس کی خوشی کے چھوٹے چھوٹے کام کریں۔ محبت صرف زبان سے کہنے کا نام نہیں، بلکہ کر کے دکھانے کا نام ہے۔ اگر وہ بیمار ہو تو اس کی خدمت کریں، اسے دوا دیں، پیار سے اسے کھانا کھلائیں، اسے گلے لگائیں۔ اگر وہ غصے میں ہو تو اسے برداشت کریں، کیونکہ انسان کا مزاج بدلتا رہتا ہے۔ اگر وہ گھر کے کاموں سے تھک جائے تو اس کا ہاتھ بٹائیں۔ گھر میں م
Be the first to know and let us send you an email when Islamic points posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.