20/01/2023
امام جمعہ کوئٹہ حجت الاسلام و المسلمین علامہ غلام حسنین وجدانی صاحب کی ضمانت عدالت سے منظور کر لی گئی ہے۔ علامہ صاحب کو ایک مہینے سے زائد ناجائز، جھوٹی ایف آئی آور اور بے بنیاد الزامات کی وجہ سے حراست میں رکھا گیا۔ بالاخر رفقاء اور مومنین کی کوششوں کے بعد اُنہیں آج حراست سے ضمانت مل گئی ہے۔ تاہم ابھی تک اُن پر عائد اس جھوٹے کیس کا اختتام نہیں ہوا۔ جب تک اس بے بنیاد کیس کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا جاتا تب تک ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔
بات صرف اس ایک ناجائز اور بے بنیاد الزامات پر مبنی کیس کی نہیں۔ آئے دن پاکستان بھر میں اہلِ تشیع کو سرکوب کرنے کیلئے انتہا پسند طبقات اور حکومت میں موجود انتہا پسند گروہوں کی جانب سے نئے نئے قوانین بنائے جاتے ہیں جن کا ہدف ملک میں فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینا ہے۔ مکتبِ تشیع کے عقائد اور نظریات کے بیان کرنے کو جرم بنایا جارہا ہے۔ پاکستانی عوام اور مکتبِ تشیع ایسے تمام تر حربوں کی مذمت کرتی ہے اور اسے ناقابلِ قبول سمجھتی ہے۔ مکتب کے بزرگان سے بھی گزارش ہے کہ وہ اس مسئلہ کو سنجیدہ گی سے لے کر اس کی حل کی جانب کوششیں کریں تاکہ یہاں پر بسنے والے مختلف مذاہب و مسلک کے لوگ آزادی سے اپنے عقائد اور نظریات کو بیان کرسکے اور اپنے دینی احکامات پر عمل کرسکے۔