Daily Darpan

Daily Darpan reporting

کنگ کوبرا سانپوں کا بلامقابلہ یعنی undisputed بادشاہ ہے۔ یہ دنیا کا سب سے لمبا زہریلا سانپ ہے، جو 5.5 میٹر تک طویل قامت ...
29/04/2025

کنگ کوبرا سانپوں کا بلامقابلہ یعنی undisputed بادشاہ ہے۔ یہ دنیا کا سب سے لمبا زہریلا سانپ ہے، جو 5.5 میٹر تک طویل قامت ہو سکتا ہے۔

یہ نہایت ذہین اور ماحول شناس مخلوق ہے، جو اسے ایک ماہر شکاری اور خطرناک درندہ بناتی ہے۔

خطرہ محسوس ہونے پر یہ اپنے جسم کا ایک تہائی حصہ زمین سے بلند کر سکتا ہے اور خود کو سیدھا کھڑا کر کے انسان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس کا زہر انتہائی مہلک ہوتا ہے؛ ایک ہی کاٹ میں یہ 20 بالغ انسانوں یا ایک بڑے ہاتھی کو ہلاک کر سکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ "کوبرا" کہلانے کے باوجود یہ عام کوبرا کی نسل (Naja) سے تعلق نہیں رکھتا، بلکہ ایک خاص نسل "اوفیوفیگس" (Ophiophagus) سے ہے، جس کا مطلب ہے "سانپ کھانے والا"۔

یہ زیادہ تر دوسرے سانپوں کو کھاتا ہے، چاہے وہ زہریلے ہی کیوں نہ ہوں۔ اس کے نام میں "کنگ" کا اضافہ دراصل اس کی خوراک اور شکاری فطرت کی وجہ سے ہے، جو اسے سانپوں کا بادشاہ بناتا ہے۔

کنگ کوبرا واحد سانپ ہے جو "گھونسلا" بناتا ہے۔ مادہ کوبرا سوکھے پتوں اور شاخوں سے ایک بہترین گھونسلا بناتی ہے، جس میں وہ اپنے انڈے دیتی ہے اور ان کی حفاظت کرتی ہے، جو سانپوں کی دنیا میں ایک نایاب عمل ہے۔

یہ سانپ مخصوص آواز میں "ہس" کرتا ہے، جو عام سانپوں کے مقابلے میں گہری، دھیمی اور غراہٹ جیسی ہوتی ہے، بالکل کسی بڑے جانور کی طرح!

کنگ کوبرا کو ہندو مت میں مقدس سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر دیوتا شیو سے اس کا گہرا تعلق مانا جاتا ہے، جس کے گرد ایک کوبرا لپٹا ہوا دکھایا جاتا ہے۔

یہ ایشیا کے گھنے جنگلات میں پایا جاتا ہے اور رینگنے والے جانوروں کی دنیا میں طاقت اور اسرار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

اپنی دہشتناک شہرت کے باوجود، یہ انسانوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، جب تک کہ اسے مجبور نہ کیا جائے یہ حملہ نہیں کرتا۔ یہی بات اسے جنگل کی ایک زندہ اور افسانوی مخلوق بناتی ہے۔❤️

57 روپیہ تولہ سے 3 لاکھ 65 ہزار روپیہ تولہ تک سونے کی قدر کا سفر۔ جو اس پیلی دھات نے 1947 سے اب 2025 تک طے کیا۔ In 1947 ...
27/04/2025

57 روپیہ تولہ سے 3 لاکھ 65 ہزار روپیہ تولہ تک سونے کی قدر کا سفر۔ جو اس پیلی دھات نے 1947 سے اب 2025 تک طے کیا۔

In 1947 ~ 1 Tola Gold = PKR 57
In 1952 ~ 1 Tola Gold = PKR 87
In 1953 ~ 1 Tola Gold = PKR 91
In 1954 ~ 1 Tola Gold = PKR 97
In 1955 ~ 1 Tola Gold = PKR 103
In 1956 ~ 1 Tola Gold = PKR 107
In 1957 ~ 1 Tola Gold = PKR 111
In 1958 ~ 1 Tola Gold = PKR 114
In 1959 ~ 1 Tola Gold = PKR 133
In 1960 ~ 1 Tola Gold = PKR 131
In 1961 ~ 1 Tola Gold = PKR 135
In 1962 ~ 1 Tola Gold = PKR 135
In 1963 ~ 1 Tola Gold = PKR 124
In 1964 ~ 1 Tola Gold = PKR 132
In 1965 ~ 1 Tola Gold = PKR 123
In 1966 ~ 1 Tola Gold = PKR 134
In 1967 ~ 1 Tola Gold = PKR 138
In 1968 ~ 1 Tola Gold = PKR 138
In 1969 ~ 1 Tola Gold = PKR 176
In 1970 ~ 1 Tola Gold = PKR 154
In 1971 ~ 1 Tola Gold = PKR 177
In 1972 ~ 1 Tola Gold = PKR 246
In 1973 ~ 1 Tola Gold = PKR 432
In 1974 ~ 1 Tola Gold = PKR 562
In 1975 ~ 1 Tola Gold = PKR 714
In 1976 ~ 1 Tola Gold = PKR 535
In 1977 ~ 1 Tola Gold = PKR 597
In 1978 ~ 1 Tola Gold = PKR 714
In 1979 ~ 1 Tola Gold = PKR 1,230
In 1980 ~ 1 Tola Gold = PKR 2,250
In 1981 ~ 1 Tola Gold = PKR 1,920
In 1982 ~ 1 Tola Gold = PKR 1,636
In 1983 ~ 1 Tola Gold = PKR 2,244
In 1984 ~ 1 Tola Gold = PKR 2,156
In 1985 ~ 1 Tola Gold = PKR 2,123
In 1986 ~ 1 Tola Gold = PKR 2,478
In 1987 ~ 1 Tola Gold = PKR 3,300
In 1988 ~ 1 Tola Gold = PKR 3,478
In 1989 ~ 1 Tola Gold = PKR 3,275
In 1990 ~ 1 Tola Gold = PKR 3,320
In 1991 ~ 1 Tola Gold = PKR 3,705
In 1992 ~ 1 Tola Gold = PKR 3,345
In 1993 ~ 1 Tola Gold = PKR 4,127
In 1994 ~ 1 Tola Gold = PKR 4,700
In 1995 ~ 1 Tola Gold = PKR 4,722
In 1996 ~ 1 Tola Gold = PKR 5,500
In 1997 ~ 1 Tola Gold = PKR 5,100
In 1998 ~ 1 Tola Gold = PKR 6,150
In 1999 ~ 1 Tola Gold = PKR 6,100
In 2000 ~ 1 Tola Gold = PKR 6,150
In 2001 ~ 1 Tola Gold = PKR 6,550
In 2002 ~ 1 Tola Gold = PKR 7,200
In 2003 ~ 1 Tola Gold = PKR 8,300
In 2004 ~ 1 Tola Gold = PKR 9,500
In 2005 ~ 1 Tola Gold = PKR 10,600
In 2006 ~ 1 Tola Gold = PKR 13,500
In 2007 ~ 1 Tola Gold = PKR 15,200
In 2008 ~ 1 Tola Gold = PKR 23,500
In 2009 ~ 1 Tola Gold = PKR 29,500
In 2010 ~ 1 Tola Gold = PKR 38,500
In 2011 ~ 1 Tola Gold = PKR 54,700
In 2012 ~ 1 Tola Gold = PKR 63,300
In 2013 ~ 1 Tola Gold = PKR 49,500
In 2014 ~ 1 Tola Gold = PKR 47,000
In 2015 ~ 1 Tola Gold = PKR 44,450
In 2016 ~ 1 Tola Gold = PKR 49,800
In 2017 ~ 1 Tola Gold = PKR 56,200
In 2018 ~ 1 Tola Gold = PKR 68,000
In 2019 ~ 1 Tola Gold = PKR 70,700
In 2020~ 1 Tola Gold = PKR 113,700
In 2021~ 1 Tola Gold = PKR 125,900
In 2022 ~ 1 Tola Gold = PKR 127,000
In 2023 ~ 1 Tola Gold = PKR 206,500
In 2024 ~ 1 Tola Gold = PKR 252,500
In 2025 as of 20 Feb - PKR 308,000
In 2025 as of 23 Apr - PKR 365,000

اپنے صحن میں گھومنے والے بھوکے جانور کو مارنے کے لیے زہر کا استعمال کرنے سے پہلے، یہ تصویر یاد رکھیں: بلی کا بچہ اپنی ما...
27/04/2025

اپنے صحن میں گھومنے والے بھوکے جانور کو مارنے کے لیے زہر کا استعمال کرنے سے پہلے، یہ تصویر یاد رکھیں: بلی کا بچہ اپنی ماں کی باقیات کے اوپر پڑا ہے۔ یہ کبھی نہیں سمجھے گا کہ وہ کھانے کی تلاش میں مر گئی۔ آپ کو جانوروں سے محبت کرنے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن آپ کو ان کی جان لینے کا حق نہیں ہے

ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ڈیرہ کے سالانہ انتخابات مکملزین العابدین صدر، محمد محسن علی جنرل سیکرٹری منتخبہائی کورٹ بار ای...
26/04/2025

ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ڈیرہ کے سالانہ انتخابات مکمل

زین العابدین صدر، محمد محسن علی جنرل سیکرٹری منتخب

ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ڈیرہ کے سالانہ انتخابات پُرامن ماحول میں مکمل ہو گئے۔ وکلاء برادری کی بڑی تعداد نے جوش و خروش سے ووٹ ڈالے اور اپنے نمائندے منتخب کیے۔ انتخابات میں صدر، جنرل سیکرٹری، نائب صدر، جوائنٹ سیکرٹری اور لائبریری سیکرٹری کے عہدوں پر مقابلہ ہوا۔

صدر کے عہدے پر زین العابدین نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے 339 ووٹ حاصل کیے۔
ان کے مد مقابل امیدوار :
اسد عزیز نے 297 ووٹ لیے
نائب صدر کے عہدے پر شاہ فہد انصاری نے 403 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ ان کے مد مقابل امیدوار عبد اللہ بلوچ نے 235 ووٹ لیے،

جنرل سیکرٹری کے عہدے پر محمد محسن علی نے 448 ووٹ حاصل کر کے میدان مار لیا۔
ان کے مقابلے میں:

عمر فاروق نے 189 ووٹ
جوائنٹ سیکرٹری کے عہدے پر محمد فہیم بلوچ 445 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ ان کے مد مقابل
عطا احمد بلوچ نے 185 ووٹ حاصل کیے۔

ایگزیکٹیو ممبر کی نشست پر:
یاسر جبران خان نے 401 ووٹ حاصل کیے۔ ان کےںمد مقابل حبیب اللہ خان نے 351 ووٹ اور ملک خلیل نے 291 ووٹ

کامیاب صدر زین العابدین نے اپنے خطاب میں کہا کہ
"یہ کامیابی وکلاء برادری کے اعتماد کا مظہر ہے۔ ہم سب کے حقوق کے تحفظ اور بار کی بہتری کے لیے دن رات محنت کریں گے۔"
جنرل سیکرٹری محمد محسن علی نے کہا:
> "بار کی ترقی، وکلاء کے مسائل کے فوری حل اور ادارے کی مضبوطی میری اولین ترجیحات ہوں گی۔"

انتخابی عمل نہایت پُرامن اور خوشگوار ماحول میں مکمل ہوا۔ وکلاء نے بھرپور انداز میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا اور نتائج کے بعد فاتح امیدواروں کو مبارکباد پیش کی۔

کیا انڈیا دریائے سندھ کا پانی روک سکتا ہے؟جس طرح انڈیا تین دریاؤں کے پانی کو روک چکا ہے کیا دریائے سندھ کو روک سکتا ہے؟ ...
26/04/2025

کیا انڈیا دریائے سندھ کا پانی روک سکتا ہے؟
جس طرح انڈیا تین دریاؤں کے پانی کو روک چکا ہے کیا دریائے سندھ کو روک سکتا ہے؟
دریائے سندھ ایک طویل اور اہم دریا ہے جو تبت (چین) کے علاقے سے نکلتا ہے۔ اس کا منبع جھیل مانسرور (Manasarovar) ہے، اور تبت میں اسے سنگھے کھابب کہا جاتا ہے۔ بلتی زبان میں بھی اسے سنگھے چھو کہا جاتا ہے۔ "سنگھے" کا مطلب شیر اور "چھو" کا مطلب دریا ہے، یعنی "شیر دریا"۔ یہی وجہ ہے کہ مصنفین دریائے سندھ کو "شیر دریا" لکھتے ہیں۔

یہ دریا چین میں تبت سے نکل کر لداخ میں داخل ہوتا ہے، جو اس وقت بھارت کے زیر انتظام ہے۔ لداخ میں دریائے سِرُو اس میں شامل ہوتا ہے۔ لیکن لداخ میں دریائے سندھ کو بھارت کے کسی بھی علاقے میں موڑنا یا ڈائورٹ کرنا تقریباً ناممکن ہے، کیونکہ:

ہمالیہ کے پہاڑ نہایت بلند اور سخت چٹانی ساخت رکھتے ہیں۔

اگر بھارت ایسا کرنے کی کوشش کرے، تو اسے ہزاروں کلومیٹر لمبی سرنگیں ہمالیہ کے اندر بنانی ہوں گی، جو تکنیکی اور مالی لحاظ سے تقریباً ناممکن ہے۔

ایسی کوئی کوشش مکمل ہونے میں کئی دہائیاں (حتیٰ کہ 100 سال) لگ سکتی ہیں، اور پھر بھی کامیابی کی ضمانت نہیں۔

دریائے سندھ میں پانی کہاں سے آتا ہے؟
دریائے سندھ کا 95 فیصد پانی گلگت بلتستان سے آتا ہے۔ جب دریائے سندھ بلتستان (پاکستان) میں داخل ہوتا ہے، تو وہاں اس میں کئی اہم دریا شامل ہوتے ہیں:

کریس کے مقام پر:

دریائے شیوک ،دریائے سلترو اور دریائے ہوشے کا پانی اس میں شامل ہوتا ہے۔

سکردو کے مقام پر:

دریائے شگر

گلگت کے مقام پر:

دریائے گلگت

اس کے علاوہ:

دریائے استور

اور متعدد چھوٹے ندی نالے اور گلیشیئرز سے بہنے والا پانی

یہ تمام دریائیں دریائے سندھ کو تقریباً 95 فیصد پانی فراہم کرتی ہیں۔

خیبر پختونخوا میں:
آگے جا کر دریائے کابل اس میں شامل ہوتا ہے۔ یہ دریا اصل میں دریائے چترال ہے، جو پاکستان سے افغانستان جاتا ہے اور پھر واپس آ کر دریائے سندھ میں شامل ہوتا ہے۔

یعنی دریائے سندھ کا تقریباً 95 فیصد پانی پاکستان کے گلگت بلتستان، چترال اور دیگر پہاڑی علاقوں سے آتا ہے۔

نتیجہ:
اگر بھارت لداخ کے علاقے میں دریائے سندھ کو موڑنے کی کوشش بھی کرے، تو بھی وہ صرف 5 فیصد پانی پر اثر ڈال سکتا ہے۔ دریائے سندھ کو مکمل روکنا یا بند کرنا ناممکن ہے کیونکہ:

اصل پانی کے ذرائع گلگت بلتستان میں موجود ہیں۔

تکنیکی طور پر بالائی دریائے سندھ لداخ کے علاقے میں کوہ ہمالیہ جیسے علاقے میں موڑنا ممکن نہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان۔ڈپٹی کمشنر سارہ رحمٰن ڈیرہ جات کے دوران بہترین کارکردگی کا مظاہرہ دکھانے پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ڈاکٹر...
25/04/2025

ڈیرہ اسماعیل خان۔
ڈپٹی کمشنر سارہ رحمٰن ڈیرہ جات کے دوران بہترین کارکردگی کا مظاہرہ دکھانے پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ڈاکٹر مسرت حسین خان بلوچ کو تعریفی سرٹیفکیٹ پیش کر رہی ہیں۔

Mr. Abdul Nasir Khan (PMS BS-19) assumed the charge of the post of the Deputy Commissioner DIKhan today on 25th April, 2...
25/04/2025

Mr. Abdul Nasir Khan (PMS BS-19) assumed the charge of the post of the Deputy Commissioner DIKhan today on 25th April, 2025.

23/04/2025
لیتھیم بیٹری ایک شاندار سائنسی ایجاد ہے جو آج کی دنیا میں توانائی ذخیرہ کرنے کا سب سے قابلِ بھروسہ اور مؤثر ذریعہ بن چکی...
23/04/2025

لیتھیم بیٹری ایک شاندار سائنسی ایجاد ہے جو آج کی دنیا میں توانائی ذخیرہ کرنے کا سب سے قابلِ بھروسہ اور مؤثر ذریعہ بن چکی ہے۔ اس بیٹری کا تصور اور تکمیل کئی دہائیوں پر محیط ہے، جس میں مختلف سائنسدانوں کی مسلسل تحقیق، تجربات، اور اختراعات شامل ہیں۔ لیتھیم، جو ایک ہلکی اور طاقتور دھات ہے، سب سے پہلے 1817 میں سویڈن کے کیمیا دان Johan August Arfvedson نے دریافت کی۔ مگر اس کی بیٹری کی شکل میں استعمال کی کہانی کئی سال بعد شروع ہوئی۔ 1970 کی دہائی میں Stanley Whittingham نے پہلی بار ایک ابتدائی لیتھیم بیٹری کا تصور پیش کیا، جس میں خالص لیتھیم دھات استعمال ہوتی تھی۔ یہ بیٹری کام تو کرتی تھی لیکن بہت غیر مستحکم اور خطرناک تھی کیونکہ خالص لیتھیم آگ پکڑ سکتا تھا۔ اس کے بعد 1980 میں John B. Goodenough نے ایک زیادہ محفوظ اور طاقتور کیتھوڈ مواد، لیتھیم کوبالٹ آکسائیڈ (LiCoO₂)، دریافت کیا، جس سے بیٹری کی کارکردگی اور حفاظت میں زبردست بہتری آئی۔ پھر 1985 میں Akira Yoshino نے لیتھیم آئن بیٹری کو مکمل اور قابلِ استعمال شکل دی، جس میں خالص لیتھیم کی جگہ گریفائٹ پر مبنی اینوڈ استعمال کیا گیا، جو محفوظ، بار بار چارج ہونے والی اور مستحکم تھی۔ یہی وہ بیٹری تھی جس نے آج کے موبائل فون، لیپ ٹاپ، الیکٹرک کارز اور سولر سسٹمز کو ممکن بنایا۔ ان تینوں سائنسدانوں کو ان کی اس عظیم ایجاد پر 2019 میں نوبل انعام سے نوازا گیا۔

لیتھیم بیٹری کی اندرونی ساخت نہایت پیچیدہ مگر خوبصورتی سے منظم ہوتی ہے۔ اس کے اندر دو اہم پلیٹیں ہوتی ہیں: کیتھوڈ (مثبت پلیٹ) اور اینوڈ (منفی پلیٹ)۔ کیتھوڈ عام طور پر لیتھیم آکسائیڈز پر مشتمل ہوتی ہے، جیسے لیتھیم کوبالٹ آکسائیڈ یا لیتھیم آئرن فاسفیٹ، اور اسے ایلومینیم کی پتلی پرت پر چڑھایا جاتا ہے۔ اینوڈ گریفائٹ (کاربن) سے تیار کیا جاتا ہے اور یہ تانبے کی پرت پر موجود ہوتا ہے۔ ان دونوں پلیٹوں کے درمیان ایک باریک، نیم شفاف فلم نما سیپریٹر رکھا جاتا ہے جو دونوں کو آپس میں ملنے سے بچاتا ہے، تاکہ شارٹ سرکٹ نہ ہو، مگر آئنز کو آزادانہ گزرنے دیتا ہے۔ یہ تمام تہیں ایک مخصوص ترتیب سے رکھی جاتی ہیں: پہلے اینوڈ، پھر سیپریٹر، پھر کیتھوڈ، اور یہی ترتیب تہہ بہ تہہ دہرائی جاتی ہے۔ پھر ان تہوں کو رول یا فولڈ کر کے ایک خاص خ*ل میں رکھا جاتا ہے، جسے سلنڈر، پاؤچ یا پرزماٹک شکل دی جاتی ہے۔ اس کے بعد اس میں ایک خاص مائع الیکٹرولائٹ شامل کیا جاتا ہے جو لیتھیم آئنز کو اینوڈ اور کیتھوڈ کے درمیان حرکت کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس پورے نظام کو مکمل سیل کر کے ایک محفوظ کیس میں بند کر دیا جاتا ہے تاکہ نہ ہوا داخل ہو اور نہ نمی، کیونکہ یہ اندرونی کیمیائی توازن کے لیے نہایت حساس ہوتا ہے۔

لیتھیم بیٹری کا سارا جادو انہی پلیٹوں اور آئنز کی حرکت میں چھپا ہے۔ جب بیٹری چارج ہوتی ہے تو لیتھیم آئنز کیتھوڈ سے نکل کر الیکٹرولائٹ کے ذریعے اینوڈ کی طرف جاتے ہیں اور گریفائٹ کی پرت میں ذخیرہ ہو جاتے ہیں۔ جب ہم بیٹری استعمال کرتے ہیں (یعنی ڈسچارج کرتے ہیں) تو یہ آئنز واپس کیتھوڈ کی طرف آتے ہیں اور اسی عمل سے بجلی پیدا ہوتی ہے جو ہمارے موبائل، لیپ ٹاپ یا دیگر آلات کو توانائی دیتی ہے۔ اس مکمل عمل میں کوئی ایندھن نہیں جلتا، کوئی شور نہیں ہوتا، کوئی دھواں نہیں اٹھتا — صرف ایک خاموش، بااعتماد، اور طاقتور توانائی کا بہاؤ ہوتا ہے۔

لیتھیم بیٹری کی یہ پیچیدہ ساخت درحقیقت ایک انجینئرنگ کا شاہکار ہے جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ کس طرح ایک چھوٹے سے پیکج میں اتنی زبردست صلاحیت چھپی ہوئی ہے۔ ایک موبائل فون کی بیٹری ہو یا ایک بڑی الیکٹرک گاڑی کی، ہر بیٹری کے اندر یہی خوبصورت کیمیا اور انجینئرنگ کارفرما ہوتی ہے۔ یہی وہ تجسس ہے جو ہر بار جب ہم کسی ڈیوائس کو آن کرتے ہیں، ہمیں احساس دلاتا ہے کہ سائنس نے ہمیں کس قدر حیرت انگیز سہولت دی ہے — اور شاید یہی وہ تجسس ہے جو ہمیں مزید سیکھنے، سمجھنے اور آگے بڑھنے کی ترغیب دیتا ہے۔

(بھائی بزنس میں سانجھ سگے بھائی کی بھی نہیں کرنی)کتنی آسانی سے ہم یہ فقرہ بول کر ہمارے بدبودار نظام کی عکاسی کرتے ہیں ۔ ...
23/04/2025

(بھائی بزنس میں سانجھ سگے بھائی کی بھی نہیں کرنی)
کتنی آسانی سے ہم یہ فقرہ بول کر ہمارے بدبودار نظام کی عکاسی کرتے ہیں ۔ ڈوب مرنے کا مقام ہے ہمارے لیے۔
ہم پاکستانی منافقت اور بے ایمانی و نوسربازی میں اس قدر بدنام ہو چکے ہیں کہ
ایک فقرہ پورے پاکستان میں ہر ایک کی زبان پہ ہے۔ جو پاکستانی بزنس انڈسٹری کو تباہ و برباد کر گیا۔
(بھائی بزنس میں سانجھ سگے بھائی کی بھی نہیں کرنی)۔
اسکے برعکس زرا اسلامی تعلیمات پر نظر ڈالیں تو شراکتداری کرنا کوئی معیوب نہیں ہے ہاں البتہ اس کے کچھ اصول و ضوابط ضرور ہیں
مثلاً نبیﷺ کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ
جب دو بندے آپس میں شراکتداری کرتے ہیں تو جب تک وہ دونوں آپس میں مخلص رہیں گے تو اللہﷻ کا ہاتھ ان پر رہے گا یعنی اس کاروبار اللہﷻ کی مدد ان کو میسر رہے گی مگر اگر کسی ایک کی بھی نیت میں، اخلاص میں فرق آیا تو اللہﷻ کا ہاتھ ان سے اُٹھ جاتا ہے یعنی وہ اللہﷻ کی مدد سے محروم ہو جاتے ہیں۔
بھائیو جب اللہﷻ کی مدد نہیں تو کامیابی کیسی!!!؟
ہم پاکستانی قوم جب دوسرے کا مال کھانے کی نیت سے شراکتداری کریں گے تو ان میں نقصان کے علاوہ کیا حاصل ہوگا۔ یہی وجہ جو ایسے فقرے ہمارے معاشرے میں زبان زد عام ہیں۔
اب آئیں زرا دنیا پر نظر ڈالیں۔
یہ کہانی ہے تین دوستوں کی، جن کے نام ہیں ایڈرین، لیری، اور رابرٹ۔ ان تینوں نے مل کر ایک چھوٹی سی ڈیلیوری کمپنی شروع کی جس کا نام رکھا DHL۔ یہ نام ان کے ابتدائی حروف سے بنا تھا۔
آج یہ 55 سال بعد، DHL دنیا کی ایک بہت بڑی کمپنی بن چکی ہے۔ ان کے پاس ہیں 250 جہاز، 32,000 گاڑیاں، اور 550,000 ملازمین۔ DHL آج دنیا کے ہر کونے میں موجود ہے اور ان کی آمدنی کھربوں ڈالر میں ہے۔
بچو، زندگی میں ہمیں ایسے لوگوں کے ساتھ رہنا چاہئے جو خوابوں، منصوبوں، اور کامیابی کی باتیں کرتے ہیں۔ منفی، ڈرپوک، اور آلسی لوگوں سے دور رہنا چاہئے۔
اگر آپ نے کاروبار شروع کیا ہے تو مضبوطی سے تھامے رہیں۔ DHL کو DHL بننے میں 55 سال لگے۔
کامیابی وقت، محنت، ذہانت، توجہ کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ ایمانداری مانگتی ہے۔
اللہﷻ ہمارے معاشرے کو بھی ایمانداری عطاء فرمائے
آمین یارب العالمین

*پولیس لائن ڈیرہ میں شہدائے پولیس پیکیج / ویلفیئر چیک تقسیم کی تقریب کا انعقاد**ایس پی سٹی و ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر نے شہدا...
22/04/2025

*پولیس لائن ڈیرہ میں شہدائے پولیس پیکیج / ویلفیئر چیک تقسیم کی تقریب کا انعقاد*
*ایس پی سٹی و ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر نے شہدائے پولیس پیکیج،میڈیکل، معذور فنڈ و جہیز فنڈ کے چیک تقسیم کئے*
انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کے احکامات کی روشنی میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈیرہ سجاد احمد صاحبزادہ کی ہدایت شہدائے پولیس کی فیملیز، پولیس غازیان و دیگر کو چیکس کی فراہمی کیلئے اعجاز شہید پولیس لائن میں ایک تقریب منعقد کی گئی ۔ ایس پی سٹی علی حمزہ نے پولیس شہدائے کی فیملیز و دیگر افسران و جوانوں سے ملاقات کی اور مسائل سے آگاہی حاصل کرتے ہوئے انکو ترجیحی بنیادوں پر حل کی یقین دہانی کرائی ۔ اس موقع پر ایس پی سٹی علی حمزہ، ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر نے شہدائے پولیس پیکیج، مختلف قسم کی میڈیکل امداد،معذور فنڈ،جہیز فنڈ کے چیک پولیس افسران و جوانوں میں تقسیم کئے اس موقع پر فوکل پرسن شہدائے پولیس ڈیسک ملک عمران بھی موجود تھے ۔

Address

North Circuler Road

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Daily Darpan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share