30/07/2026
#رازونیاز تاریخ کا ایک اور ورق۔
ملک غلام شبیر جوئیہ آف نصیر والا
" تاریخ کے اوراق جب پلٹے جاتے ہیں تو بعض شخصیات اپنے عہد کی نمائندہ بن کر سامنے آتی ہیں۔ وہ صرف انتخابات نہیں جیتتیں بلکہ اپنے کردار، مزاج اور عوام سے تعلق کے باعث ایک پورے دور کی پہچان بن جاتی ہیں۔ ضلع میانوالی کی سیاسی تاریخ میں ملک غلام شبیر جوئیہ ایسی ہی ایک عہد ساز شخصیت تھے۔
* تحصیل پپلاں کا گاؤں نصیر والا، جو اکثریت میں جوئیہ قبیلے پر مشتمل ہے، اپنی ایک الگ سیاسی اور سماجی شناخت رکھتا ہے۔ ضلع میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل اور میانوالی میں آباد نیازئی پٹھانوں اور کالاباغ کے نوابوں کی اکثریت اور سیاسی اجارہ داری رہی ہے، جبکہ تحصیل پپلاں میں بلچ پٹھانوں کا اثر و رسوخ ہمیشہ نمایاں رہا۔ ایسے ماحول میں ایک جاٹ رہنما کا نہ صرف سیاسی میدان میں قدم جمانا بلکہ دہائیوں تک اپنی سیاسی دھاک بٹھائے رکھنا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔
* ملک غلام شبیر جوئیہ نے سیاست میں وہ مقام اس وقت حاصل کیا جب قبیلائی سیاست اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود تھی۔ انہوں نے کبھی کسی سیاسی دباؤ کو قبول نہیں کیا اور نہ ہی اپنے لہجے اور مزاج میں مصنوعی شائستگی کا لبادہ اوڑھا۔ جاگیردارانہ پس منظر رکھنے کے باوجود ان کی شخصیت میں دیہات کی مٹی کی خوشبو بسی ہوئی تھی۔ وہ کھیتوں، ڈیروں اور عوامی بیٹھکوں کے آدمی تھے۔ ان کے ہاں عام آدمی کو اپنے اور پرائے کا فرق محسوس نہیں ہوتا تھا۔
* 1933ء میں نصیر والا میں پیدا ہونے والے ملک غلام شبیر جوئیہ نے جب عملی سیاست کا آغاز کیا تو ان کے پاس نہ سیاسی وسائل کی فراوانی تھی اور نہ ہی اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانے والی کوئی شاہراہ۔سیاسی مرکزپپلاں شہر سے دورایک چھوٹے گاؤں سے مختصر زادِ راہ کے ساتھ کانٹوں بھری سیاسی راہوں پر سفر کا آغاز کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سیاست میں قدم جمانا صرف دولت اور دھڑے بندی کا کھیل سمجھا جاتا تھا، مگر کچھ لوگ فقط اپنی دیانت، جرأت اور عوامی خدمت کے بل بوتے پر تاریخ رقم کرتے ہیں۔
* 1979ء میں ممبر ضلع کونسل کے انتخابات میں کامیابی ان کے سیاسی سفر کا پہلا سنگِ میل ثابت ہوئی۔ دوسری مرتبہ بھی ممبر ضلع کونسل منتخب ہوئے اور 1983ء کے بلدیاتی انتخابات میں اپنی عوامی مقبولیت کو مزید مستحکم کیا۔ مقامی سیاست میں مسلسل کامیابیوں نے ثابت کر دیا کہ نصیر والا کا یہ عوامی رہنما صوبائی سیاست کے لیے تیار ہو چکا ہے۔
* 1985ء کے انتخابات میں حلقہ پی پی 39 (موجودہ پی پی 88) سے پہلی مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس کے بعد 1988ء، 1990ء اور 1997ء کے انتخابات میں مسلسل کامیاب ہو کر چار مرتبہ رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہونا ان کی عوامی مقبولیت کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ یہ وہ دور تھا جب میانوالی کی سیاست میں بڑے بڑے قبائل کے نام سیاسی شناخت سمجھے جاتے تھے، لیکن ملک غلام شبیر جوئیہ نے ثابت کیا کہ عوام کا اعتماد ہی سب سے بڑی سیاسی طاقت ہوتا ہے۔
*;1988ء سے 1990ء تک انہیں اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد نواز شریف کے مشیر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے کا اعزاز بھی حاصل رہا۔ صوبائی سطح پر ان کی سیاسی بصیرت اور عوامی رابطوں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔
* 1997ء کے بعد بھی جوئیہ خاندان کی سیاسی روایت برقرار رہی۔ 2008ء کے انتخابات میں ان کے سیاسی جانشین ملک فیروز جوئیہ نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑا، کامیابی حاصل کی اور بعد ازاں مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کر لی۔ یوں ایک سیاسی روایت نسل در نسل عوامی خدمت کے سفر میں تبدیل ہوتی چلی گئی۔
*:24 نومبر 2009ء کو ملک غلام شبیر جوئیہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن نصیر والا کی مٹی آج بھی ان کے سیاسی کردار کی گواہی دیتی ہے۔ وہ ان سیاست دانوں میں سے تھے جن کے ڈیرے پر سیاست سے زیادہ انسانیت کا راج تھا۔ ان کی سادگی، بے خوفی، عوام دوستی اور قبیلائی سیاست کے مضبوط حصار میں اپنی منفرد شناخت قائم کرنے کی صلاحیت انہیں ضلع میانوالی کی سیاسی تاریخ کے ممتاز کرداروں میں شامل کرتی ہے۔
اپنا خیال رکھیئے گا مجھے اجازت دیں۔ اللہ حافظ۔
ایڈمن ملک نیازراں