Shabab News

Shabab News Instagram : SHABAB_NEWS01
Twitter : SHABAB NEWS OFFICIAL

*جب بھارت خود کو سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے، تو جمہوریت خود شرمندہ ہو جاتی ہے*  جب بھارت فخر کے ساتھ دنیا کے سامنے خود کو...
29/01/2026

*جب بھارت خود کو سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے، تو جمہوریت خود شرمندہ ہو جاتی ہے*
جب بھارت فخر کے ساتھ دنیا کے سامنے خود کو “ *دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت” قرار دیتا* ہے تو یہ محض ایک دعویٰ نہیں ہوتا، بلکہ ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے *جب لفظ جمہوریت خود شرمندگی سے سر جھکا لیتا* ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ *جمہوریت بھارت کے چہرے پر محض ایک نقاب ہے، جس کے پیچھے اس صدی کا سب سے بڑا سامراجی اور سفاک چہرہ پوری بے رحمی کے ساتھ چھپا ہوا* ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی زمینی صورتحال اس نقاب کو چاک کر دیتی ہے اور بھارتی جمہوریت کے نام نہاد تصور کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیتی ہے۔
*جمہوریت کسی ریاستی نعرے، انتخابی رسم یا آئینی کتاب میں درج چند دفعات کا نام نہیں۔ یہ عوام کی آزاد مرضی، انسانی وقار، سیاسی خودمختاری اور حقِ خودارادیت کی عملی ضمانت* ہوتی ہے۔
مگر مقبوضہ جموں و کشمیر میں *جمہوریت ایک ایسے قیدی کی مانند ہے جسے بندوق کے سائے میں زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہو۔ وہاں آئین نہیں، طاقت بولتی ہے؛ وہاں ووٹ نہیں، خوف فیصلہ کرتا ہے۔ ایسی فضا میں جمہوریت کا دعویٰ دراصل جمہوریت کی توہین* کے مترادف ہے۔
اگر بھارت واقعی جمہوری اقدار کا امین ہوتا تو وہ *کروڑوں کشمیریوں کے بنیادی، سیاسی اور انسانی حقوق کو طاقت کے بل پر پامال نہ کرتا۔ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، اجتماعی سزائیں، طویل کرفیو، انٹرنیٹ کی بندش اور اظہارِ رائے پر مکمل قدغن*
یہ وہ مظاہر ہیں جن کے سامنے *جمہوریت ہمیشہ شرمسار ہو جاتی* ہے، کیونکہ یہ سب اس کے بنیادی اصولوں کی صریح نفی ہیں۔ یہ اقدامات کسی جمہوری ریاست کے نہیں بلکہ *ایک قابض اور سامراجی طاقت کے شیوہ* ہوتے ہیں۔
جمہوریت کا بنیادی اصول عوام کی مرضی کا احترام ہے، مگر مقبوضہ کشمیر میں اس اصول کو شعوری اور منظم انداز میں دفن کر دیا گیا ہے۔ ایک مسلم اکثریتی آبادی کو منصوبہ بند طریقے سے اقلیت میں بدلنے کی کوشش، غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل دینا، زمینوں اور وسائل پر قبضہ اور مقامی شناخت کو مٹانے کی پالیسیاں اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہیں کہ یہاں جمہوریت نہیں بلکہ نوآبادیاتی ایجنڈا نافذ ہے۔ ایسے میں جب بھارت خود کو جمہوری ریاست کہتا ہے تو *لفظ جمہوریت خود اپنے غلط استعمال پر ماتم* کرتا ہے۔
5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا غیر قانونی خاتمہ جمہوریت کے لیے شرمندگی کا بدترین باب ثابت ہوا۔ اس ایک فیصلے نے نہ صرف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں بلکہ بھارتی آئین، بین الاقوامی قوانین اور جمہوری روایات کو بھی پامال کر دیا۔ ایک جمہوری ریاست اپنے زیرِ انتظام عوام کو طویل لاک ڈاؤن، مواصلاتی بندش، ذرائع ابلاغ پر پابندیوں اور اجتماعی نگرانی کے ذریعے خاموش نہیں کراتی۔ ایسے اقدامات کے بعد *جمہوریت کا نام لینا محض ایک تلخ مذاق* بن جاتا ہے۔
*جمہوریت اختلافِ رائے سے طاقت* حاصل کرتی ہے، مگر بھارت نے *مقبوضہ کشمیر میں اختلاف کو جرم بنا دیا* ہے۔ *حقِ خودارادیت کے جائز اور قانونی مطالبے کو “دہشت گردی” سے جوڑنا، سیاسی قیادت کو قید و بند میں رکھنا، نوجوانوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانا اور خواتین و بچوں کو ریاستی جبر کا نشانہ بنانا* اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ *یہاں جمہوریت نہیں بلکہ طاقت، جبر اور خوف کی حکمرانی* قائم ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں *جمہوریت خود اپنے نام کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی پر شرمندہ ہو جاتی* ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا عمل نہیں، بلکہ عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دینا ہے۔ جب تک کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کا حق نہیں دیا جاتا، بھارت کے جمہوری دعوے محض ایک فریب، ایک دھوکہ اور عالمی ضمیر کے ساتھ کھلا مذاق رہیں گے۔
آج عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے سامنے یہ سوال پوری شدت کے ساتھ موجود ہے کہ وہ جمہوریت کے نام پر جاری اس جبر کو کب تک نظر انداز کرتی رہیں گی؟ وقت آ چکا ہے کہ بھارت کے *جھوٹے جمہوری بیانیے* کو مسترد کیا جائے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری ریاستی جبر، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور آبادیاتی تبدیلی کے خطرناک منصوبوں کا سنجیدہ اور عملی نوٹس لیا جائے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ کشمیری عوام کی منصفانہ، قانونی اور پرامن جدوجہدِ آزادی کو ہر عالمی فورم پر مدلل، مؤثر اور باوقار انداز میں اجاگر کرتی رہے گی، اور دنیا کو یہ یاد دلاتی رہے گی کہ جب بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے، تو درحقیقت *جمہوریت خود شرمندگی سے نظریں جھکا لیتی* ہے—کیونکہ وہ اس کے *چہرے پر محض ایک نقاب بن کر رہ گئی* ہے۔
*مشتاق احمد بٹ*
سیکریٹری اطلاعات
کل جماعتی حریت کانفرنس

باغ (پریس ریلیز) *باغ، آزاد کشمیر: صدر مہاجرین باغ مرحوم چوہدری عبد الحمید کی وفات پر پُروقار تعزیتی ریفرنس کا انعقاد* ب...
17/12/2025

باغ (پریس ریلیز)
*باغ، آزاد کشمیر: صدر مہاجرین باغ مرحوم چوہدری عبد الحمید کی وفات پر پُروقار تعزیتی ریفرنس کا انعقاد*

باغ، آزاد کشمیر میں صدر مہاجرین مرحوم چوہدری عبد الحمید کی وفات پر ایک باوقار تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا، *جس کی صدارت کل جماعتی حریت کانفرنس کے سیکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ نے کی۔*
تعزیتی ریفرنس میں *حریت قائدین سیاسی، سماجی،مہاجرین رہنما و کیمپ صدور کے علاوہ عمائدینِ علاقہ، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور نوجوانوں کی کثیر تعداد* نے شرکت کی۔

ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے مرحوم چوہدری عبد الحمید کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ انہوں نے مہاجرت کی صعوبتوں کے باوجود مہاجرینِ کشمیر کی آبادکاری، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبوں میں مثالی خدمات انجام دیں۔ مقررین نے کہا کہ مرحوم نے اپنی پوری زندگی بے لوث انداز میں دکھی انسانیت کی خدمت اور مہاجرین کے مسائل کے حل کے لیے وقف کیے رکھی۔ وہ اعلیٰ اخلاق، دیانتداری، ملنساری اور انسان دوستی کا عملی نمونہ تھے، جن کی قومی و سماجی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

تعزیتی ریفرنس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سیکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ نے مرحوم *چوہدری عبدالحمید حمید* اور ان سے قبل مرحوم *لیاقت علی اعوان* کی جدوجہد اور قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مقررین کی زبانی ان عظیم شخصیات کی خدمات کے بارے میں سن کر دل میں رشک پیدا ہوتا ہے، جبکہ ان سے ذاتی ملاقات نہ ہو پانے کا احساس ہمیشہ ایک حسرت کے طور پر باقی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ مرحومین نے عملی طور پر ثابت کیا کہ *اقوام کی تعمیر بلند کردار، دیانت اور خدمتِ خلق سے ہوتی* ہے۔
مشتاق احمد بٹ نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے زور دیا کہ وہ آگے بڑھ کر مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کو عالمی برادری کے سامنے مؤثر انداز میں بے نقاب کریں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری بھقوم کی بہادری، شجاعت اور استقامت قابلِ فخر ہے، جو نہتے ہونے کے باوجود خود کو سپر پاور کہلانے والے بھارت کے سامنے سینہ سپر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کشمیری عوام پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے گئے، انہیں خریدنے کے لیے خزانوں کے منہ کھولے گئے، مگر نہ قوم جھکی، نہ رکی اور نہ ہی اپنی قیادت سمیت بکی۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج کشمیر میں اسلام، کشمیری مسلمانوں کا تشخص اور ان کی اجتماعی شناخت شدید خطرات سے دوچار ہے۔ بھارت منظم اور منصوبہ بند طریقے سے کشمیر کے مسلم تشخص کو مٹانے اور اسے ایک ہندو ریاست میں تبدیل کرنے کے ایجنڈے پر تیزی سے عمل پیرا ہے، جو بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بنیادی انسانی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے۔

مشتاق احمد بٹ نے حکومتِ پاکستان کی مسلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں ان کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کے محسن، وکیل اور اس تنازعے کے ایک فریق کی حیثیت سے بھارت کے غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کو روکنے کے لیے سفارتی، سیاسی اور اخلاقی کردار مذید موثر بنائے۔

ریفرنس کے اختتام پر شرکاء نے مرحوم چوہدری حمیداللّٰہ کے درجات کی بلندی، مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی، جبکہ ان کی قومی، سماجی اور انسانی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مرحوم کے مشن اور خدمات کو جاری رکھا جائے گا۔
مقررین میں سابق وزیر حکومت سردار میر اکبر خان صاحب حریت رہنما سید گلشن احمد مرکزی مسلم کانفرنس صدر مشتاق نیر معروف قانون دان منظور احمد ایڈوکیٹ معروف کا قانون دان چوہدری حق نواز جنرل سیکرٹری بار ایسوسییشن شجا ع منگول ممبر ضلع کونسل جاوید عارف عباسی ممبر ممبر ضلع کونسل سردار افتاب سابق ایڈمنسٹریٹر بلدیہ باغ ملک افتاب صدر ایپکا سردار افتخار سجادہ نشین دربار عالیہ بڑالی شریف ، محمد لطیف لون،ارشاد احمد بٹ، چوہدری اشفاق ،اکسیر احمد اعوان،محمد شفیع کشمیری،،فاروق احمد بٹ،چوہدری اشفاق،مجاہد رضا ،سابق امید وار اسمبلی محسن عزیز ، اور دیگر عمائدین شامل ہیں

*سرد راتیں، ٹوٹے گھر — کشمیریوں کو برفباری میں بے گھر کرنے کا سنگدل ترین منظر*  *مشتاق احمد بٹ* *کشمیر آج انسانی تاریخ ک...
17/12/2025

*سرد راتیں، ٹوٹے گھر — کشمیریوں کو برفباری میں بے گھر کرنے کا سنگدل ترین منظر*
*مشتاق احمد بٹ*

*کشمیر آج انسانی تاریخ کا وہ زخمی صفحہ ہے جہاں درندگی قانونی حکم بن چکی ہے اور انسانیت ایک سرد لاش کی طرح برف میں پڑی کانپ رہی ہے** ۔ یہ *وہ وادی ہے جہاں انسان زندہ ہیں مگر زندگی مر چکی ہے۔ جہاں سانسیں چلتی ہیں مگر خوف نے دل اور دماغ جکڑ رکھے ہیں۔ دس لاکھ سے زیادہ مسلح فوجی ہر گلی، ہر چھت، ہر دروازے کے سامنے اس طرح کھڑے ہیں جیسے ایک پوری قوم کو اجتماعی حراست میں رکھا گیا* ہو۔ لیکن *بندوقوں سے زیادہ خوفناک وہ پالیسیاں ہیں جو سچ کو دفن کرنے، آوازوں کو توڑنے اور ذہنوں کو غلام بنانے کے لیے بنائی* گئی ہیں۔

*سچ یہاں لفظ نہیں—جرم ہے۔ اور اس جرم کی سزا کبھی ٹوٹا ہوا گھر ہے، کبھی ماں کی دہلیز پر گرتی ہوئی دیواریں، کبھی بچوں کا سردی میں کھلے آسمان کے نیچے ٹھٹھرتا جسم، اور کبھی عمر بھر کی خاموش چیخیں جنہیں دنیا سننا** ہی نہیں چاہتی۔

صحافی محمد افراز ڈینگ کے گھر کی مسماری صرف ایک عمارت کا انہدام نہیں تھا—یہ اعلان تھا کہ اگر سچ لکھو گے تو برفانی راتیں بھی تمہاری پناہ نہیں رہیں گی۔ کشمیر میں گھر گرانا زمین خالی کرنے کا عمل نہیں—یہ لوگوں کی ریڑھ کی ہڈی توڑنے، عزت پامال کرنے اور نسلوں کو خوف میں دفن کرنے کا ہتھیار ہے۔
کشمیر ٹائمز جیسے اداروں کو کارروائیوں کے ذریعے خاموش کرنا اسی پالیسی کا حصہ ہے: سچ نہ لکھو، جھوٹ سے سمجھوتہ کرو، ورنہ باقی ماندہ سانسیں بھی ضبط کر لی جائیں گی۔

آج *کشمیر میں چھاپے محض چھاپے نہیں—وہ روزانہ کی وہ اذیت ہیں جو گھروں کی دیواروں میں، بچوں کی نیندوں میں اور بوڑھوں کی آنکھوں کی نمی میں ٹھہر گئی ہیں۔ ہر رات دروازے پر پڑنے والی دستک موت کے قدموں کی آواز لگتی* ہے۔ عورتیں اپنے بچوں کو سینے سے چمٹا کر ساری رات اس دعا میں جاگتی ہیں کہ شاید یہ رات خیر سے گزر جائے۔
پورے علاقے میں ایسا خاموش خوف پھیل چکا ہے جسے نہ سنا جا سکتا ہے، نہ دیکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے، لیکن وہ ہر سانس میں محسوس ہوتا ہے۔ بھارت نے کشمیر کو اب بندوقوں کے بعد ذہنی شکنجے میں قید کر رکھا ہے— *اس قید میں نہ دن دن ہے، نہ رات رات۔*
*صرف انتظار ہے—اگلے چھاپے کا، اگلے دھماکے کا، اگلے جنازے کا* ۔

اور یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب کشمیر پر سردی کے بے رحم نیزے برس رہے ہیں۔ برفباری کی آمد آمد ہے اور یخ بستہ ہوائیں کا حملہ آور ہیں،ایسے موسم میں گھر گرایا جانا انسانیت کی توہین نہیں—انسانیت کا قتل ہے۔ بے گھر ہونے والا ہر خاندان برف میں ایک نئی قبر ہے۔
سوال یہ نہیں کہ وہ کہاں جائیں گے۔
سوال یہ ہے: دنیا کیوں نہیں جاگتی؟
کس عدالت میں ان ٹھٹھرتے بچوں کے لیے کوئی قانون ہے؟ کس عالمی ضمیر میں اتنی رمق باقی ہے کہ ان گھروں کی راکھ سونگھ کر اسے شرم آئے؟

اقوامِ متحدہ کی قراردادیں کتابوں میں پڑی دھول بن چکی ہیں۔ عالمی طاقتیں کشمیریوں کی چیخیں سنتی تو ہیں مگر ان کے کان وعدوں کی دیوار میں دفن ہیں۔ *یہ خاموشی محض غفلت نہیں—یہ شریکِ جرم ہونا ہے۔ جب مظلوم کی آواز نہ سنی جائے، تو ظالم کو طاقت نہیں—اختیار مل جاتا ہے۔ کشمیر میں آج اختیار ظلم کا* ہے اور دنیا اس کے سامنے خاموش کھڑی تماشائی بنی ہوئی ہے۔

**بھارت حقیقت سے خوفزدہ ہے، اسی لیے وہ گھر بھی گراتا ہے، قبرستان بھی بڑھاتا ہے، اور صحافیوں کے قلم بھی توڑتا ہے۔ مگر سچ کبھی مر نہیں سکتا۔ وہ راکھ سے بھی اٹھتا ہے، ملبے سے بھی ابھرتا ہے، اور آخرکار وہی تختوں کو گراتا ہے* جنہوں نے اسے دبانے کی کوشش کی ہوتی ہے۔

لیکن سب سے تلخ سوال یہ نہیں کہ سچ کب فتح پائے گا۔
سب سے تلخ سوال یہ ہے:
اس وقت تک کتنے گھر برف کی قبریں بنیں گے؟
کتنے بچے آدھی رات کی ٹھنڈ میں ماں کی گود میں آخری سانس لیں گے؟
کتنی عورتوں کی چیخیں دیواروں سے ٹکرا کر مر جائیں گی؟
اور دنیا کب تک اپنی شرم کا جنازہ اٹھاتی رہے گی؟
کشمیر چیخ رہا ہے۔
اگر دنیا پھر بھی سوتی رہی تو یاد رکھے:
*ظلم پر خاموش رہنے والے، ظلم کرنے والوں سے کم مجرم نہیں ہوتے* ۔

11/12/2025

بین الاقوامی انسانی حقوق کے دن کے موقع پر
سینئر حریت رہنما محمود احمد ساغر ایک درد بھری روداد بیان کرتے ہوئے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کشمیر کی ایک بے بس ماں، جس کا جوان بیٹا جموں کی کوٹ بلوال جیل میں قید ہے، دور دراز کپواڑہ سے سینکڑوں میل کا سفر پیدل طے کرکے اپنے لختِ جگر سے ملاقات کے لیے روانہ ہے۔
یہ منظر صرف ایک ماں کا دکھ نہیں، بلکہ کشمیر کی پوری قوم کے زخموں کی علامت ہے۔

ساغر صاحب آبدیدہ ہو کر دنیا سے اپیل کرتے ہیں کہ اس ماں کے سفر میں چھپے درد کو محسوس کریں—
وہ تھکن سے چور، خوف سے لرزتی، اور امید کے سہارے چلتی ہر وہ ماں ہے جس کا بیٹا قید ہے…
وہ ہر وہ بہن ہے جو برسوں سے اپنے بھائی کی راہ تک رہی ہے…
وہ ہر وہ بیٹی ہے جو اپنے باپ کی واپسی کو ترس رہی ہے…
اور وہ ہر وہ بیوی ہے جو اپنے شوہر کی جدائی میں زندگی کے بوجھ تلے ٹوٹ رہی ہے۔

کشمیر کی خواتین—چاہے وہ ماں ہوں، بہنیں ہوں، بیٹیاں یا بیویاں—بھارتی جبر و بربریت کا سب سے زیادہ نشانہ بنتی رہی ہیں۔
ان کی آنکھوں کی نمی، ان کے قدموں کی لرزش، اور ان کے دلوں کی دھڑکنیں دنیا کے ہر فورم پر سوال اٹھاتی ہیں کہ
انسانی حقوق کی عالمی اقدار آخر کب کشمیر کی خواتین تک پہنچیں گی؟

اس عالمی انسانی حقوق کے دن، محمود احمد ساغر دنیا کے رہنماؤں، انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی ضمیر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ:

کشمیر کی ماؤں کی سسکیوں کو سنیں،

ان کے بیٹوں کی بے جا قید پر سوال اٹھائیں،

اور ان خواتین کے دکھ کو وہ توجہ دیں جس کی وہ دہائیوں سے مستحق ہیں۔

کشمیر کے درد کو محسوس کرنا انسانیت کی بنیادی ترین ذمہ داری ہے—آج بھی، اور ہر روز
انہوں نے کہا کہ بھارت جتنا بھی ظلم کریں اور جتنی اور بھی فوج مقبوضہ کشمیر میں جمع کریں پھر بھی کشمیری ان کے ان سے آزادی مانگے گے اور ان کے ساتھ نہیں رہینگے

*“ کشمیر کی ماں کا گرفتار بیٹے سے ملنے کے لئے پیدل سفر… اور ایک قوم کا اجتماعی درد جسے دنیا نے کبھی سننے کی کوشش نہیں کی...
11/12/2025

*“ کشمیر کی ماں کا گرفتار بیٹے سے ملنے کے لئے پیدل سفر… اور ایک قوم کا اجتماعی درد جسے دنیا نے کبھی سننے کی کوشش نہیں کی”*
*مشتاق احمد بٹ*
*بین الاقوامی انسانی حقوق کے دن کی گہماگہمی میں جب دنیا بھر میں قراردادیں، تقاریر اور بیانات گونج رہے تھے،*
*کشمیر کی برف پوش وادیوں سے اُبھرتی ایک ماں کی بے بسی ایسی سچائی لے کر سامنے آئی جس نے ہر دعوے اور ہر تقریر کو بے نقاب کر دیا۔ بڈگام سے تعلق رکھنے والی یہ ماں اپنے قید بیٹے سے ملنے کے لیے جموں کی کوٹ بلوال جیل تک سینکڑوں میل کا سفر پیدل طے کرنے نکلی* — *نہ ساتھ کوئی سہارا، نہ کوئی وسیلہ، نہ کوئی آواز۔ اس کی کہانی صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں، بلکہ پوری دنیا کے اجتماعی ضمیر کے لیے آئینہ* ہے۔

یہ ماں اپنے بیٹے کی تصویر کو کپڑوں میں لپیٹ کر سینے سے چپکائے ایسے چل رہی تھی جیسے ہر قدم کے ساتھ اس کے وجود کا ایک حصہ ٹوٹ رہا ہو۔ راستہ مشکل، موسم سخت، لیکن ماں کی آنکھوں میں ایک ہی تمنّا—صرف ایک بار اپنے بیٹے کو دیکھ لینا۔ *یہی وہ لمحہ ہے جہاں انسانیت کی تعریفیں چھوٹی پڑ جاتی ہیں، اور انسانی حقوق کے سارے بیانیے کھوکھلے لگنے لگتے* ہیں۔

لیکن *یہ کہانی صرف ایک ماں تک محدود نہیں۔ کشمیر میں ایسے ہزاروں بیٹے ہیں جو بھارت کی دور دراز ریاستوں کی جیلوں میں بند ہیں—کچھ راجستھان میں، کچھ اَسام میں، کچھ اتر پردیش کے کسی ایسے جیل خانے* میں جہاں ان کے گھر والوں کے پاس پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں۔ *ان میں سے اکثر غریب، سفید پوش خاندان ہیں جن کے پاس سفر کا خرچ تک نہیں۔ وہ قرض لیتے ہیں، اپنا گھر کا سامان بیچتے ہیں، مویشی گروی رکھتے ہیں، صرف اس امید پر کہ شاید اپنے بیٹے کی ایک جھلک مل سکے۔ مگر وہاں پہنچ کر انہیں بتایا جاتا ہے: “آپ کا بیٹا یہاں نہیں، اسے کسی اور ریاست منتقل کیا گیا ہے۔”*
یہ جملہ ان مفلس والدین پر قیامت بن کر گرتا ہے۔ وہ ایک سفر کے قرض میں ڈوبے ہوتے ہیں، اب دوسرے سفر کا بوجھ کیسے اٹھائیں؟ وہ گھر لوٹتے ہیں مگر ٹوٹے ہوئے دلوں کے ساتھ، اور یہ جانتے ہوئے کہ ان کا دکھ سننے والا کوئی نہیں۔ *کشمیر میں ہر دروازے پر ایسی ایک دل سوز کہانی موجود ہے—ایک ایسا انتظار جس کو نہ کوئی نام دیا جا سکتا ہے نہ کوئی تسلی۔*

یہ *سب محض اتفاق نہیں۔ یہ وہ قیمت ہے جو کشمیری صرف اپنی آزادی مانگنے کے “جرم” میں ادا کر رہے ہیں۔* جیلوں کی اس لا متناہی دوری کا مقصد ہی یہی ہے کہ *خاندان ٹوٹ جائیں، امیدیں بجھ جائیں اور جدوجہد کو کمزور کیا جائے* ۔ لیکن والدین کے دلوں میں بسنے والا پیار ایسا قیدی نہیں جو خوف کی دیواروں میں بند ہو سکے۔ وہ چلتے ہیں، گرتے ہیں، پھر اٹھتے ہیں— *کیونکہ ماں باپ کا پیار کسی دفتر کے حکم نامے سے کمزور نہیں ہوتا۔*

*کشمیر میں مائیں، بہنیں، بیٹیاں اسی دکھ کا حصہ ہیں۔ کوئی اپنے لاپتہ بھائی کی قبر ڈھونڈ رہی ہے، کوئی اپنے شوہر کی تصویر تھامے برسوں سے دروازے پر کھڑی* ہے، *کوئی اپنی ماں کی جدائی کے درد سے خود ماں بننے سے ڈرتی* ہے۔ ظلم کی لمبی رات نے ان کے خوابوں کو اس طرح داغ دار کیا ہے کہ وہ صرف درد کا رنگ پہچانتی ہیں۔ پھر بھی جیتی ہیں، چلتی ہیں، اُمید کرتی ہیں— **کیونکہ ان کا جینا ہی انکار ہے، ان کا سانس لینا ہی مزاحمت ہے۔*
*
دنیا بھر کے ایوانوں میں کشمیر کو شاید اب ایک سیاسی فائل سمجھا جاتا ہے—اعداد و شمار، دفعات، قراردادیں، مذاکرات۔ لیکن اس فائل کے اندر *ایک ماں کے آنسو بھی ہیں، ایک بچھڑے بیٹے کی صدا بھی، ایک مفلس باپ کی ٹوٹی ہوئی امید بھی، اور ایک معصوم بچی کی خاموشی بھی۔ بین الاقوامی برادری کے لیے یہ محض الفاظ نہیں ہونے چاہئیں۔ یہ انسانی وقار، انصاف اور بنیادی حقِ زندگی کا سوال ہے،* جس کا جواب ہر ذی شعور کو دینا ہوگا۔

*کشمیر کی مائیں آج بھی راستوں میں محو انتظار ہیں۔ اُن کے قدم سست ہیں مگر ارادے مضبوط۔ وہ چاہتی ہیں کہ دنیا انہیں دیکھے* ، ان کے بیٹوں کو پہچانے، ان کی تکلیف کو سمجھے۔ وہ چاہتی ہیں کہ انسانیت کی عالمی لغت میں کشمیر کے دکھ کو بھی جگہ ملے۔ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی پکار دیواروں سے ٹکرا کر واپس نہ آجائے— *بلکہ دلوں تک پہنچے* ، *ضمیروں کو ہلائے، فیصلوں کو بدل دے۔*

اُن کا ہر قدم دنیا کے نام ایک سوال ہے:
*کیا انسانیت واقعی زندہ ہے* ؟
*مشتاق احمد بٹ*
سکریٹری اطلاعات کل جماعتی حریت کانفرنس

16/11/2025
مظفرآباد (پریس ریلیز)  " *مقبوضہ کشمیر میں بھارتی چھاپوں کی یلغار* — *کل جماعتی حریت کانفرنس کا شدید احتجاج* "کل جماعتی ...
11/11/2025

مظفرآباد (پریس ریلیز)
" *مقبوضہ کشمیر میں بھارتی چھاپوں کی یلغار* — *کل جماعتی حریت کانفرنس کا شدید احتجاج* "

کل جماعتی حریت کانفرنس کے سیکرٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے جاری وسیع پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیوں، گھر گھر تلاشیوں، رات گئے محاصروں اور چادر و چار دیواری کی بے حرمتی کے مسلسل واقعات کو انتہائی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں نہ صرف کشمیری عوام کو خوف اور دہشت میں مبتلا کرنے کی کھلی کوشش ہیں بلکہ عالمی انسانی حقوق، جنیوا کنونشنز، اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی واضح خلاف ورزی بھی ہیں۔ *انہوں نے کہا کہ پچھلے کئی دنوں سے وادی کے مختلف علاقوں میں بھارتی فورسز جس بے رحمی، جارحیت اور منظم طریقے سے محاصرے اور چھاپہ مار کارروائیاں انجام دے رہی ہیں، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کشمیریوں کو اجتماعی سزا دینے، ان کے حوصلے پست کرنے اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو کمزور کرنے کے لیے ہر ممکن ہتھکنڈہ استعمال کر رہا ہے۔ گھروں کے دروازے توڑے جا رہے ہیں، خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بزرگ شہریوں کی تذلیل کی جا رہی ہے، نوجوانوں کو بلاجواز گرفتار کیا جا رہا ہے* ، اور بستیوں کو مکمل فوجی محاصروں میں جکڑ کر عوام کو ذہنی و جسمانی اذیت میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔

سیکرٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ نے کہا کہ *بھارت دنیا کو یہ تاثر دینے کی ناکام کوشش کر رہا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں امن ہے، مگر یہ چھاپے، یہ مسلسل عسکری کریک ڈاؤن اور یہ وحشیانہ محاصرے دنیا کو یہ حقیقت بتا رہے ہیں کہ کشمیر ایک ایسی محصور وادی بن چکی ہے جسے دنیا کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے* ۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کا یہ جھوٹا بیانیہ کہ آرٹیکل 370 اور 35A کے خاتمے کے بعد کشمیر میں امن قائم ہو گیا ہے، بری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔ *اگر واقعی امن قائم ہوتا تو لاکھوں کی تعداد میں فوجی تعینات کرنے، روزانہ گھروں پر چھاپے مارنے، نوجوانوں کو اٹھانے اور چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ کشمیر میں آج بھی عوام کی زندگی اس قدر اجیرن بنا دی گئی ہے کہ بنیادی انسانی، مذہبی اور سیاسی حقوق تک سلب کر لیے گئے* ہیں۔

مشتاق احمد بٹ نے *دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت کو نوشتۂ دیوار پڑھ لینا چاہیے۔ گزشتہ 78 برسوں میں بھارت نے طاقت کے تمام ہتھیار استعمال کر لیے دس سے بارہ لاکھ فوج، قتل عام ، جابرانہ قوانین، محاصرے، گرفتاریاں، تشدد، اقتصادی دباؤ مگر اس کے باوجود وہ کشمیریوں کے عزم، استقلال اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو نہیں جھکا سکا اور نہ جھکا سکے گا*
۔ انہوں نےکہا کہ بھارتی ریاست نے جب سے کشمیر پر قبضہ کیا ہے تب سے کشمیریوں کو جھکانے کے لیے ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے مگر کشمیریوں نے کبھی غلامی قبول نہیں کی اور نہ آئندہ کریں گے۔ کشمیری عوام پر ہر دور میں جبر آزمایا گیا، مگر ان کی جدوجہد آج بھی اتنی ہی توانا ہے جتنی پہلے دن تھی۔

سیکرٹری اطلاعات کل جماعتی حریت کانفرنس نے *عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، یورپی یونین، اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، اور تمام انصاف پسند قوتوں سے پُرزور اپیل کی* کہ وہ بھارتی قابض افواج کی بڑھتی ہوئی درندگی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا بھرپور نوٹس لیتے ہوئے بھارت پر عملی دباؤ ڈالیں کہ وہ کشمیریوں پر ظلم و ستم کا یہ سلسلہ بند کرے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی فورمز کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت سے جواب طلب کریں کہ وہ چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی کیوں کر رہا ہے، کیوں نوجوانوں کو غائب کیا جا رہا ہے، کیوں پوری آبادی کو مسلسل محاصروں میں رکھا جا رہا ہے، اور کیوں کشمیریوں کا بنیادی حق—حقِ خودارادیت—پورا نہیں کیا جا رہا جس کا وعدہ خود بھارت نے دنیا کے سامنے کیا تھا۔

اپنے بیان کے اختتام پر مشتاق احمد بٹ نے کہا کہ کشمیر آج بھی ایک فوجی قید خانہ ہے، مگر اس قید اور جبر کے باوجود کشمیریوں کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ *کشمیریوں کی جدوجہد کسی طاقت کے خلاف بغاوت نہیں بلکہ اپنے ناقابلِ تنسیخ، عالمی سطح پر تسلیم شدہ حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے ہے، اور دنیا کی کوئی طاقت اس جائز، اصولی اور تاریخی جدوجہد کو ختم نہیں کر سکتی۔* کشمیر کے لوگ آج بھی اسی پختہ یقین کے ساتھ کھڑے ہیں کہ *آزادی ان کا مقدر ہے اور وہ ایک دن ضرور حاصل ہو کر رہے گی۔*

*مظفرآباد* *سکریٹری اطلاعات کل جماعتی حریت کانفرنس مشتاق احمد بٹ کا اسٹوڈنٹس ونگ تحریک شباب المسلمین کی شوریٰ سے خطاب* ک...
10/11/2025

*مظفرآباد*

*سکریٹری اطلاعات کل جماعتی حریت کانفرنس مشتاق احمد بٹ کا اسٹوڈنٹس ونگ تحریک شباب المسلمین کی شوریٰ سے خطاب*
کل جماعتی حریت کانفرنس کے سکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ نے تحریک شباب المسلمین کے اسٹوڈنٹس ونگ کی شوریٰ کے اجلاس میں خصوصی شرکت کی اور نوجوان کارکنان سے ایک نہایت اہم اور حساس خطاب کیا۔
انہوں نے 27 اکتوبر کل جماعتی حریت کانفرنس کے احتجاجی مظاہروں اور *6 نومبر یومِ شہدائے جموں کے موقع پر حریت کانفرنس کے بینر تلے مظفرآباد میں ایک کامیاب، منظم اور اثر انگیز پروگرام کے انعقاد پر* اسٹوڈنٹس ونگ کے عہدیداران اور کارکنان کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔

*مشتاق احمد بٹ نے نوجوانوں پر واضح کیا کہ آج کل جماعتی حریت کانفرنس کو نوجوانوں کے مضبوط کندھوں کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت* ہے۔
انہوں نے کہا کہ *ریاست جموں و کشمیر تاریخ کے ایک ایسے نازک ترین موڑ پر کھڑی ہے جہاں ہماری قومی شناخت، مذہبی تشخص، تہذیبی وجود اور اجتماعی بقا شدید ترین خطرات سے دوچار ہیں* ۔

انہوں نے خبردار کیا کہ:
"آج کشمیر میں ہماری شناخت پر حملہ ہورہا ہے"
" *کشمیر کا مسلمان خطرے میں ہے"*
*"ہمارا دین، ہماری سرزمین اور ہمارا وجود ایک ہمہ جہت یلغار کی زد میں ہے"*
مشتاق احمد بٹ نے نوجوانوں سے کہا کہ *یہ بیداری کا وقت ہے، بے حسی اور خاموشی کی کوئی گنجائش باقی نہیں* رہی۔ انہوں نے کہا کہ *آج بھارت کی جانب سے کشمیر میں جو منصوبہ بند تبدیلیاں لائی جارہی ہیں، وہ ہمیں اندلس (غرناطہ) کی تاریخ کی یاد دلاتی ہیں، جہاں خاموشی اور انتشار نے ایک تہذیب کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا۔*

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا:
" *اگر آج ہم غفلت میں رہے، خاموش رہے، منتشر رہے تو نہ تاریخ ہمیں معاف کرے گی، نہ مقبوضہ کشمیر کی نہتی اور مظلوم عوام، اور نہ ہی اللہ ربّ ذوالجلال کی بارگاہ میں ہمیں کوئی عذر قبول ہوگا* ۔"
مشتاق احمد بٹ نے نوجوانوں پر زور دیا کہ:
عوام میں جائیں
بار بار دروازے کھٹکھٹائیں
لوگوں کو بیدار کریں
موجودہ حالات کے حقیقی خطرات سے آگاہ کریں
اور اس ظلم عظیم کے خلاف متحد، منظم اور یکسو ہوکر کھڑے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ آج کشمیر کو مثالی اتحاد، فکری استقامت، اور عملی جدوجہد کی ضرورت ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ:
*"آپ ہی یہ ملت کا مستقبل ہیں۔ آپ ہی وہ قوت ہیں جو اس اندھیرے کو چیر سکتی ہے۔ آپ ہی وہ آبرو ہیں جس پر ریاست اپنی امیدیں قائم کیے ہوئے ہے۔"*

آخر میں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حریت کانفرنس نوجوانوں کے ساتھ قدم بہ قدم کھڑی ہے، اور وہ ہر اس کوشش کی سرپرستی جاری رکھے گی جو کشمیر کی شناخت، آزادی اور وقار کے تحفظ کے لیے کی جائے۔
اجلاس کے دوران اسٹوڈنٹس ونگ کے عہدیداران نے مشتاق احمد بٹ کو یقین دلایا کہ ہم کشمیر کی آزادی کے لئے ہر اول دستے کا کردار انشاء اللہ ادا کرینگے

مظفرآباد (تاریخ)کل جماعتی حریت کانفرنس کے سیکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ سے معروف سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ضمیر ناز نے مظفرآبا...
08/11/2025

مظفرآباد (تاریخ)
کل جماعتی حریت کانفرنس کے سیکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ سے معروف سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ضمیر ناز نے مظفرآباد کے اسپاٹ لائٹ ہوٹل میں تفصیلی ملاقات کی۔ ملاقات میں بھارتی مقبوضہ کشمیر کی سنگین سیاسی، انسانی اور سماجی صورتحال، بھارتی ریاستی جبر، اور کشمیری قوم کی آئینی و انسانی شناخت کو مٹانے کی منظم پالیسیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مشتاق احمد بٹ نے اس موقع پر کہا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو مٹانے کے لیے آبادی کے تناسب کی تبدیلی، سیاسی انجینئرنگ، ماورائے عدالت قتلِ عام، اور حریت قائدین کو برسوں تک قید رکھنا ایک سوچی سمجھی ریاستی حکمتِ عملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال نہ صرف کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی کھلی پامالی ہے بلکہ عالمی ضمیر کے لیے بھی ایک چیلنج ہے۔

ملاقات میں اس بات پر خصوصی زور دیا گیا کہ نوجوان اس وقت کشمیری قوم کے معمار ہیں—یہ وہ نسل ہے جو سچائی کو دنیا تک پہنچانے کا جدید ترین اور موثر ترین ذریعہ رکھتی ہے۔ نوجوانوں کی سوچ، شعور، اور سوشل میڈیا پر موجودگی عالمی رائے عامہ کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔ مشتاق احمد بٹ نے کہا کہ:

"آج کے دور میں سوشل میڈیا صرف ایک تفریحی پلیٹ فارم نہیں، بلکہ اقوام کی آواز اور جدوجہد کا سب سے توانا ہتھیار ہے۔ کشمیری نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ قلم، کیمرے، تحقیق اور سچائی کے ہتھیار سے بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کریں۔"

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارتی فوج کے ہاتھوں نوجوانوں کی گرفتاری، جبری گمشدگیاں، گھروں کی مسماری، ماورائے عدالت قتل اور جھوٹے مقدمات جیسے جرائم کو عالمی برادری تک پہنچانے میں نوجوانوں کا کردار فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ مستند معلومات، حقائق پر مبنی رپورٹس، تاریخی اسناد اور زمینی حالات کی درست ترجمانی کو اپنی آن لائن کاوشوں کا حصہ بنائیں، تاکہ بھارت کی پروپیگنڈا مشینری کا موثر جواب دیا جا سکے۔

ملاقات میں صدر اسٹوڈنٹس ونگ تحریک شباب المسلمین ریاض احمد اعوان اور میڈیا ایڈوائزر ارشد اعوان نے بھی حصہ لیا، جنہوں نے نوجوانوں میں سیاسی شعور، جدوجہدِ آزادی سے آگاہی، اور عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کے بیانیے کو مضبوط بنانے کے لیے مربوط میڈیا حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا۔

آخر میں مشتاق احمد بٹ اور ضمیر ناز نے مشترکہ طور پر عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، بین الاقوامی میڈیا اور عالمی طاقتوں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کا سنجیدہ نوٹس لیں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے عملی نفاذ کے لیے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کریں۔

Address

MUZAFFARABAD AJK

Telephone

+923449071866

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shabab News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share