TMK Social Media PMLN Malakand

TMK Social Media PMLN Malakand TMK Social media PMLN Malakand

30/06/2026

ملاکنڈ انتظامیہ سے پرزور مطالبہ: کرایوں کا نرخنامہ آویزاں کیا جائے! 📢
​درگئی، سخاکوٹ، شیرگڑھ، تخت بھائی اور مردان روٹ پر سفر کرنے والے مسافروں کو روزانہ کی بنیاد پر ٹرانسپورٹرز کے ساتھ کرایوں کے تنازع اور بد مزگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
​انتظامیہ سے گزارش ہے کہ:
✅ ہر سٹاف پر بڑے گاڑیوں سے لے کر رکشہ تک کے کرایوں کا باقاعدہ 'نرخنامہ' آویزاں کیا جائے۔
✅ ٹرانسپورٹرز کو سرکاری کرایہ نامے پر عمل درآمد کا پابند بنایا جائے۔
​اس اقدام سے نہ صرف مسافروں کی پریشانی ختم ہوگی بلکہ ٹرانسپورٹرز اور سواریوں کے درمیان خوشگوار ماحول بھی قائم رہے گا۔

30/06/2026

ملاکنڈ میں ٹرانسپورٹرز کا ڈاکہ، ضلعی انتظامیہ خاموش تماشائی! 🚨
​پیٹرول کی قیمتیں کم ہوئیں تو عوام کو امید تھی کہ شاید زندگی کی گاڑی کچھ آسان ہو جائے گی، لیکن ملاکنڈ کے ٹرانسپورٹرز نے "مہنگائی" کو اپنی مستقل عادت بنا لیا ہے۔
​پیٹرول مہنگا ہونے پر راتوں رات کرایوں میں دوگنا اضافہ کرنے والوں کو، اب پیٹرول سستا ہونے پر کرایوں میں کمی کی یاد تک نہیں۔ خاص کر درگئی سے سخاکوٹ (50 روپے) اور درگئی سے شیر گڑھ (100 روپے) تک کا کرایہ، غریب عوام کی جیب پر کسی ڈکیتی سے کم نہیں۔
​قابلِ افسوس صورتحال:
​انتظامی بے بسی: ضلعی انتظامیہ احکامات جاری کرنے کے سوا کچھ نہیں کر پا رہی۔ عملدرآمد کروانا تو دور کی بات، ان ٹرانسپورٹرز کو پوچھنے والا کوئی نہیں۔
​رکشہ مافیا: یہ تیز رفتار رکشے اب شہریوں کی سواری نہیں، بلکہ ان کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے والی ایک ایسی مافیا بن چکے ہیں جو اپنی مرضی کے نرخ وصول کر رہے ہیں۔
​عوام کا استحصال: ایک عام مزدور، طالب علم یا ملازم جو ان راستوں پر سفر کرتا ہے، وہ اس غیر منصفانہ کرائے تلے دب کر رہ گیا ہے۔
​سوال یہ ہے کہ:
کیا ملاکنڈ کی ضلعی انتظامیہ اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ وہ چند ٹرانسپورٹرز کو سرکاری نرخ نامے پر عمل کروانے پر مجبور نہیں کر سکتی؟ کیا عوام کا حق مانگنا اب قانون کی کتاب میں کہیں نہیں لکھا؟
​ہم متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر نوٹس لیا جائے، غیر قانونی کرایوں کا خاتمہ کیا جائے اور سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
​ #ملاکنڈ #درگئی #سخاکوٹ #شیرگڑھ

27/06/2026

عنوان: عوام کا استحصال یا حکومتی سرپرستی؟ ایک لمحہ فکریہ! 💔
​آج پاکستان کا ہر شہری، خاص طور پر نوجوان نسل، ایک گہری مایوسی میں مبتلا ہے۔ امید تھی کہ حالات بدلیں گے، مہنگائی کا طوفان تھمے گا اور عام آدمی کو ریلیف ملے گا، مگر افسوس!
​حقیقت یہ ہے کہ شہباز شریف کی حکومت نے غریب عوام کا ہاتھ تھامنے کے بجائے، ان بڑی کمپنیوں اور مافیاز کا ساتھ دیا ہے جو دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔ جب حکمران طبقہ عام آدمی کے مسائل پر ان طاقتور عناصر کو ترجیح دیتا ہے، تو یہ صرف معاشی نقصان نہیں ہوتا، بلکہ یہ قوم کے ہر بچے کے خوابوں کا قتل ہوتا ہے
​مہنگی بجلی اور پیٹرول نے غریب کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
​بڑے کاروباری اداروں کو نوازنا اور عوام کو دیوار سے لگانا اب معمول بن چکا ہے۔
​آنے والی نسلیں اس معاشی بوجھ کے نیچے دب کر اپنے مستقبل سے مایوس ہو رہی ہیں۔
​سیاست نام ہے عوامی خدمت کا، نہ کہ چند کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کا۔ وقت آ گیا ہے کہ پالیسی ساز اس بات کو سمجھیں کہ جب عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا ہے، تو تاریخ بہت بے رحم ثابت ہوتی ہے۔
​ہم صرف ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں غریب کو بھی جینے کا حق ملے اور انصاف صرف کتابوں میں نہیں، عملی طور پر نظر آئے۔

بجٹ، ڈرامہ بازیاں اور عوامی حقیقت .......​پیپلز پارٹی کے معزز ایم این ایز کا بجٹ اجلاس میں کیا جانے والا حالیہ احتجاج عو...
15/06/2026

بجٹ، ڈرامہ بازیاں اور عوامی حقیقت .......
​پیپلز پارٹی کے معزز ایم این ایز کا بجٹ اجلاس میں کیا جانے والا حالیہ احتجاج عوامی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ ایک طرف ایوان میں ڈرامہ بازیاں کی جا رہی ہیں تو دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ یہ بجٹ آپ ہی کی "ملی بھگت" اور حمایت سے اسمبلی سے پاس ہوا ہے۔
​عوام اب ان منافقانہ رویوں سے بخوبی واقف ہو چکے ہیں۔ اگر واقعی عوام کے درد میں یہ احتجاج ہوتا تو ایوانِ اقتدار میں بیٹھے آپ کے اپنے ساتھی اس کے خلاف ووٹ دیتے۔ یہ بجٹ صرف آپ کی آشیرباد سے منظور ہوا ہے، لہٰذا اب یہ سیاسی ڈرامے بند کر کے عوام کو ریلیف دینے کی سنجیدہ کوشش کریں۔

14/06/2026

کیا 8500 روپے ماہانہ تنخواہ کمانے والا امیر ہے ۔۔۔۔ ؟؟؟
​آج کے مہنگائی کے دور میں، جب اشیائے خوردونوش سے لے کر ایندھن تک سب کچھ آسمان سے باتیں کر رہا ہے، یہ سوال ہر محنت کش کی زبان پر ہے۔ ایک مزدور جو اپنے گھر کی دہلیز سے نکل کر کام کی جگہ تک پہنچتا ہے، صرف اس کے ماہانہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات 10 سے 15 ہزار روپے بنتے ہیں۔
​تو پھر 8500 روپے ماہانہ کمانے والے کو "امیر" قرار دینا، زمینی حقائق سے منہ موڑنے کے مترادف ہے۔ کیا یہ معاشی انصاف ہے؟ یا ہم اب بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے قاصر ہیں کہ ایک عام آدمی کا گزر بسر کرنا محال ہو چکا ہے؟
​حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ اعداد و شمار کے گورکھ دھندوں سے نکل کر عوام کی اصل مشکلات کو سمجھیں اور کم از کم اجرت کا تعین زمینی حقائق کے مطابق کریں۔

14/06/2026
14/06/2026

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام: عوامی ٹیکس یا سیاسی ایجنڈا؟
​کیا غریب کا حق اسی طرح پامال ہوتا رہے گا؟
​آج سوشل میڈیا پر یہ بحث ہر زبان پر ہے کہ "بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام" اپنے اصل مقصد سے کتنا دور ہو چکا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، اس پروگرام کے لیے مختص کردہ خطیر رقم (838 ارب روپے) سے زیادہ تر وہ لوگ مستفید ہو رہے ہیں جو اس کے اہل ہی نہیں، جبکہ اصل حقدار آج بھی امداد کے منتظر ہیں۔
​اہم سوالات جو ہر محب وطن پوچھ رہا ہے:
​حقدار محروم کیوں؟ جب 90 فیصد غیر مستحق افراد اس پروگرام پر قابض ہیں، تو اصل ضرورت مندوں کا کیا قصور ہے؟
​سیاسی بھرتیاں: کیا یہ منصوبہ عوامی فلاح کے بجائے سیاسی مقاصد کے حصول اور مخصوص پارٹی کے لوگوں کو نوازنے کا ذریعہ بن چکا ہے؟
​قومی خزانے پر بوجھ: کیا ہمارے قومی خزانے کا پیسہ اسی طرح سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والوں کی جیبوں میں جاتا رہے گا؟
​یہ کرپشن اور ناانصافی، ملکی معیشت پر ایک بوجھ ہے۔ شفافیت کا تقاضا ہے کہ اس پروگرام کا مکمل آڈٹ کیا جائے اور کرپشن میں ملوث عناصر اور غیر مستحق افراد کو اس فہرست سے نکالا جائے۔
​وقت آ گیا ہے کہ غریب کا حق غریب تک پہنچے۔

10/06/2026

👉🏁🫀
Maulana Fazl ur Rehman

Address

Dargai Malakand
Malakand

Telephone

+923060306079

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when TMK Social Media PMLN Malakand posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share