12/04/2026
*کشتی ڈوبنے لگی تو ملاح نے سواریوں سے کہا* :
بچنے کی ایک ہی صورت ہے، ہم اپنی زندگی کے بڑے گناہوں کا اعتراف کرلیں.
کشتی میں سوار *سوداگر* نے کہا: میرا کروڑوں کا کاروبار ہے لیکن اس میں میرے چند لاکھ روپے ہیں باقی میں نے اپنے دوست کو دھوکہ دے کر اپنا کاروبار عروج پہ پہنچایا
*دوسرے سوارنے* کہا: ہماری وارثتی زمین ساری ہی میں نے ہڑپ کرلی، اپنے سگے بھائی کو م روا دیا کہ اس کا حصہ بھی مجھے مل جائے
کشتی میں *سوار عورت* نے کہا: میرے پانچ بچے ہیں جن میں سے تین میرے خاوند سے نہیں ۔پڑوسی سے ہیں
ملاح نے ان تینوں کی باتیں سن کے انہیں بغور دیکھا اور کہا مجھے 30 سال کشتی چلاتے ہوگئے ہیں لیکن آج تک تم جیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یکوں کا ٹولہ ایک ساتھ سوار نہیں ہوا. 🤣🤣