Life in Islamic

  • Home
  • Life in Islamic

Life in Islamic Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Life in Islamic, Digital creator, .

Day and Night view of the Royal Clock Tower.🌿🩷🩷
24/03/2026

Day and Night view of the Royal Clock Tower.🌿🩷🩷

Shawwal crescent and the Green dome🩷🌿🩷
23/03/2026

Shawwal crescent and the Green dome🩷🌿🩷

Over 33.8 Million Iftar Meals Served at the Two Holy Mosques during Ramadan 1447 AH🩷🌿🌿
23/03/2026

Over 33.8 Million Iftar Meals Served at the Two Holy Mosques during Ramadan 1447 AH🩷🌿🌿

Day and night view of the Royal Clock Tower 🌙🩷🌿🩷
22/03/2026

Day and night view of the Royal Clock Tower 🌙🩷🌿🩷

Day and night view of the Royal Clock Tower🩷🌿🩷
21/03/2026

Day and night view of the Royal Clock Tower🩷🌿🩷

Makkah view 🕋A Rare Astronomical EventTomorrow (Friday) at 6:09 AM, Jupiter will align directly above the Holy Kaaba  an...
21/03/2026

Makkah view 🕋
A Rare Astronomical Event
Tomorrow (Friday) at 6:09 AM, Jupiter will align directly above the Holy Kaaba and you can see it with the naked eye.🌿🩷🌿

🌿🩷🌿Day and night view of the Royal Clock Tower 🌙
21/03/2026

🌿🩷🌿
Day and night view of the Royal Clock Tower 🌙

Todaybest    #
21/03/2026

Todaybest #

🌙حضرت سلیمانؑ اور ملکہ بلقیس — قرآن کا ایک حیرت انگیز واقعہ🩷🌿🩷تاریخِ انسانیت میں کچھ شخصیات ایسی گزری ہیں جنہیں اللہ تعا...
21/03/2026

🌙حضرت سلیمانؑ اور ملکہ بلقیس — قرآن کا ایک حیرت انگیز واقعہ🩷🌿🩷

تاریخِ انسانیت میں کچھ شخصیات ایسی گزری ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی نعمتیں عطا فرمائیں۔ انہی عظیم ہستیوں میں ایک نام حضرت سلیمان علیہ السلام کا ہے۔🩷

حضرت سلیمانؑ اللہ کے جلیل القدر نبی بھی تھے اور ایک عظیم بادشاہ بھی۔ وہ حضرت داؤد علیہ السلام کے بیٹے تھے اور بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی سلطنت عطا فرمائی جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں بہت کم ملتی ہے۔🌿

اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمانؑ کو نہ صرف انسانوں پر حکومت دی بلکہ جنات، پرندوں اور ہوا تک کو ان کے تابع کر دیا تھا۔ قرآن مجید میں اس عظیم نعمت کا ذکر یوں آتا ہے:🩷

وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ ۖ وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَيْءٍ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ
(سورۃ النمل: 16)🌿

ترجمہ:
“اور سلیمان، داؤد کے وارث ہوئے اور انہوں نے کہا: اے لوگو! ہمیں پرندوں کی زبان سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر چیز میں سے دیا گیا ہے، بے شک یہ کھلا فضل ہے۔”🩷

حضرت سلیمانؑ کے لشکر میں انسان بھی تھے، جنات بھی اور پرندے بھی، اور سب ایک نظم و ضبط کے ساتھ ان کے حکم کے تابع تھے۔

قرآن مجید اس منظر کو یوں بیان کرتا ہے:🌿

وَحُشِرَ لِسُلَيْمَانَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ وَالطَّيْرِ فَهُمْ يُوزَعُونَ
(سورۃ النمل: 17)

ترجمہ:
“اور سلیمان کے لیے اس کے لشکر جمع کیے گئے جن میں جنات، انسان اور پرندے تھے اور سب ترتیب کے ساتھ رکھے جاتے تھے۔”🩷

اسی لشکر میں ایک خاص پرندہ بھی تھا جسے ہدہد کہا جاتا ہے۔ ایک دن حضرت سلیمانؑ نے اپنے لشکر کا جائزہ لیا تو انہیں ہدہد نظر نہ آیا۔

انہوں نے فرمایا:🌿

وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِيَ لَا أَرَى الْهُدْهُدَ أَمْ كَانَ مِنَ الْغَائِبِينَ
(سورۃ النمل: 20)

ترجمہ:
“اور انہوں نے پرندوں کا جائزہ لیا تو کہا: کیا بات ہے کہ میں ہدہد کو نہیں دیکھ رہا؟ کیا وہ غائب ہے؟”🩷

کچھ ہی دیر بعد ہدہد حاضر ہوا اور اس نے ایک حیرت انگیز خبر سنائی۔ اس نے بتایا کہ وہ ایک ایسی قوم کے پاس گیا ہے جس کا نام سبا ہے اور وہاں ایک عورت حکومت کرتی ہے جس کے پاس عظیم سلطنت اور بڑا تخت ہے۔

ہدہد نے کہا:

إِنِّي وَجَدتُّ امْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ وَأُوتِيَتْ مِن كُلِّ شَيْءٍ وَلَهَا عَرْشٌ عَظِيمٌ
(سورۃ النمل: 23)🌿

ترجمہ:
“میں نے ایک عورت کو پایا جو ان پر حکومت کرتی ہے اور اسے ہر چیز میں سے دیا گیا ہے اور اس کا ایک عظیم تخت ہے۔”

مگر سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کے بجائے سورج کی عبادت کرتے تھے۔

یہ سن کر حضرت سلیمانؑ نے فوراً فیصلہ کیا کہ اس قوم تک اللہ کا پیغام پہنچایا جائے۔ انہوں نے ہدہد کے ذریعے ایک خط بھیجا جس میں نہایت مختصر مگر طاقتور الفاظ تھے:🩷

إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
أَلَّا تَعْلُوا عَلَيَّ وَأْتُونِي مُسْلِمِينَ
(سورۃ النمل: 30-31)

ترجمہ:
“یہ سلیمان کی طرف سے ہے اور یہ کہ: اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور فرمانبردار ہو کر میرے پاس آ جاؤ۔”

جب یہ خط ملکہ بلقیس تک پہنچا تو اس نے اپنے درباریوں اور مشیروں کو جمع کیا اور ان سے مشورہ طلب کیا۔ اس نے کہا کہ میرے پاس ایک نہایت اہم خط آیا ہے اور میں تمہاری رائے کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہتی۔

یہ وہ لمحہ تھا جہاں سے ایک ایسا واقعہ شروع ہونے والا تھا جو قرآن مجید میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔🌿

ایک دن جب حضرت سلیمانؑ نے اپنے لشکر کا جائزہ لیا تو ہدہد غائب تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہ حاضر ہوا اور اس نے ایک حیرت انگیز خبر سنائی۔

ہدہد نے کہا کہ میں ایک ایسے علاقے سے آیا ہوں جس کے بارے میں آپ کو خبر نہیں۔ میں سبا نامی ایک قوم کے پاس گیا تھا جہاں ایک عورت حکومت کرتی ہے۔ اس عورت کو اللہ نے بڑی طاقت اور بڑی سلطنت دی ہے اور اس کے پاس ایک عظیم تخت بھی ہے۔🩷

قرآن مجید اس منظر کو یوں بیان کرتا ہے:

إِنِّي وَجَدتُّ امْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ وَأُوتِيَتْ مِن كُلِّ شَيْءٍ وَلَهَا عَرْشٌ عَظِيمٌ
(سورۃ النمل: 23)

ترجمہ:
“میں نے ایک عورت کو پایا جو ان پر حکومت کرتی ہے اور اسے ہر چیز میں سے دیا گیا ہے اور اس کا ایک عظیم تخت ہے۔”🌿

یہ عورت دراصل ملکہ بلقیس تھی، جو سبا کی حکمران تھی۔ اس کی سلطنت بہت مضبوط، مالدار اور منظم تھی۔ اس کے دربار میں بڑے بڑے مشیر اور طاقتور سردار موجود تھے۔

مگر ہدہد نے جو اگلی بات بتائی وہ سب سے زیادہ افسوسناک تھی۔

اس نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کی عبادت نہیں کرتے بلکہ سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔🩷

قرآن مجید میں ہدہد کی زبان سے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں:

وَجَدتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِن دُونِ اللَّهِ
(سورۃ النمل: 24)

ترجمہ:
“میں نے اسے اور اس کی قوم کو دیکھا کہ وہ اللہ کے بجائے سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔”🌿

یہ سن کر حضرت سلیمانؑ کے دل میں فوراً یہ احساس پیدا ہوا کہ اس قوم تک اللہ کا پیغام پہنچنا چاہیے۔ کیونکہ ایک نبی کی ذمہ داری صرف حکومت کرنا نہیں بلکہ لوگوں کو حق کی طرف بلانا بھی ہوتی ہے۔

حضرت سلیمانؑ نے فوراً ایک خط لکھا اور ہدہد کے ہاتھ ملکہ بلقیس کی طرف بھیج دیا۔🩷

قرآن مجید میں اس خط کے الفاظ بھی محفوظ ہیں:

إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
أَلَّا تَعْلُوا عَلَيَّ وَأْتُونِي مُسْلِمِينَ
(سورۃ النمل: 30-31)

ترجمہ:
“یہ سلیمان کی طرف سے ہے اور یہ کہ: اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور فرمانبردار ہو کر میرے پاس آ جاؤ۔”

یہ ایک مختصر مگر انتہائی طاقتور دعوت تھی۔

اب ہدہد یہ خط لے کر ایک لمبا سفر طے کرنے والا تھا…
ایک ایسی ملکہ کے دربار تک جس کے پاس عظیم سلطنت، بے شمار دولت اور طاقتور لشکر تھا۔

مگر جب یہ خط ملکہ بلقیس تک پہنچا تو اس نے ایسا فیصلہ کیا جو تاریخ میں ایک مثال بن گیا۔🌿

ملکہ بلقیس نے اپنے درباریوں اور مشیروں سے مشورہ کیا اور یہ فیصلہ کیا کہ وہ براہِ راست حضرت سلیمانؑ سے ملاقات کرے گی تاکہ جنگ کے بجائے امن کا راستہ اپنایا جا سکے۔
ملکہ بلقیس نے اپنے دربار میں کہا کہ ہمیں حضرت سلیمانؑ کے حکم کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کے سامنے اپنی طاقت اور دولت کا مظاہرہ کرنا بہتر ہوگا تاکہ ان کی حکمت کو پرکھ سکیں۔ یہ حکمت اور دور اندیشی کا لمحہ تھا جس میں اس نے اپنے فیصلے کی سنگینی اور عزم دکھایا۔
حضرت سلیمانؑ نے بھی اس ملاقات کی تیاری میں اپنا علم اور قدرت استعمال کیا۔ انہوں نے حکم دیا کہ ملکہ بلقیس کا تخت چند لمحوں میں ان کے سامنے پہنچایا جائے، تاکہ وہ خود دیکھے کہ یہ سب اللہ کی قدرت سے ممکن ہوا ہے۔ قرآن مجید میں اس واقعے کا ذکر یوں آیا:
أَيَّمُن قَادِرٌ عَلَى أَنْ يَأْتِيَ بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ إِلَيْهِ مُسْلِمِينَ
(سورۃ النمل: 40)
ترجمہ:
“کون ایسا طاقتور ہے جو اس کا تخت میرے پاس آنے سے پہلے لے آئے؟”
حضرت سلیمانؑ کے علم اور حکمت کے نتیجے میں چند لمحوں میں تخت ان کے سامنے آ گیا۔ ملکہ بلقیس نے یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئی اور اس نے نہ صرف حضرت سلیمانؑ کی طاقت بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت بھی محسوس کی۔
حضرت سلیمانؑ نے ایک اور شاندار منظر پیش کیا، جو ملکہ بلقیس کے سامنے شیشے کا محل تھا۔ یہ محل ظاہر کرتا تھا کہ دولت، طاقت اور حکمت سب اللہ کی عطا ہیں اور جو اسے حق کے لیے استعمال کرے وہ کامیاب ہوتا ہے۔ یہ سب دیکھ کر ملکہ بلقیس کا دل نرم ہوا اور وہ حق کی طرف راغب ہونے لگی۔ قرآن مجید میں اس کا ذکر ہے:
رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ🩷
(سورۃ النمل: 44)
ترجمہ:
“اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور حضرت سلیمانؑ کے ساتھ اللہ کی راہ میں تسلیم ہو گئی۔”
یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ طاقت اور دولت اللہ کی عطا ہیں، حکمت اور علم کے ساتھ حق کو اپنانا سب سے بہتر ہے، اور عاجزی و قبولیت ایمان کو مضبوط کرتی ہے۔
اب ملکہ بلقیس نہ صرف حق کی طرف راغب ہوئی بلکہ اس نے حضرت سلیمانؑ کے سامنے اپنے دربار اور سلطنت کے ساتھ نرمی اور حکمت کا مظاہرہ کیا۔ ہدہد نے جو خط پہنچایا وہ ایک چھوٹی سی خبر تھی مگر اس کے اثرات نے سبا کی سلطنت میں ایک نیا باب کھول دیا۔

خط میں حضرت سلیمانؑ نے اللہ کے نام سے فرمایا کہ وہ سرکشی نہ کرے اور فرمانبردار ہو کر آئیں۔ ملکہ بلقیس نے سوچا کہ یہ ایک موقع ہے جس میں وہ نہ صرف اپنی سلطنت کو بچا سکتی ہے بلکہ حکمت اور امن کے راستے پر بھی چل سکتی ہے۔

ملکہ بلقیس نے اپنے لشکر کے ساتھ سفر شروع کیا، ایک لمبا اور تھکا دینے والا راستہ طے کرتے ہوئے۔ راستے میں قدرتی مناظر، صحرا کی خاموشی اور ہوا کی سرسراہٹ اسے سوچنے پر مجبور کرتی رہی کہ واقعی یہ سب اللہ کی قدرت ہے۔ اس نے اپنے مشیروں سے کہا کہ ہم تخت، دولت اور لشکر کے باوجود حضرت سلیمانؑ کی حکمت اور علم کو پرکھیں گے۔

اس دوران حضرت سلیمانؑ اپنے لشکر کی نگرانی کر رہے تھے، جن میں انسان، جنات اور جانور شامل تھے۔ جب وہ چیونٹیوں کی وادی سے گزر رہے تھے تو ایک چیونٹی بولی:🌿

يَا أَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاكِنَكُمْ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَانُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
(سورۃ النمل: 18)

ترجمہ:
“اے چیونٹیو! اپنے گھروں میں چلو تاکہ سلیمان اور اس کا لشکر تمہیں بے خبری میں روند نہ ڈالے۔”

حضرت سلیمانؑ نے یہ سن کر مسکرا کر دعا کی:

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِن قَوْلِهَا
(سورۃ النمل: 19)

یہ منظر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حضرت سلیمانؑ کی حکمت اور علم تمام مخلوقات تک اثر ڈالتی تھی اور ہر ایک کے لیے انصاف و حکمت کا خیال رکھتے تھے۔

جب ملکہ بلقیس حضرت سلیمانؑ کے دربار پہنچی تو اس نے نہ صرف اپنے دربار اور تخت کے ساتھ آمد دکھائی بلکہ اپنے چہرے کے تاثرات میں غور و فکر، خوف اور حکمت کا امتزاج بھی تھا۔ اس نے اپنے مشیروں سے کہا کہ وہ کوئی فیصلہ اس خط کے بغیر نہیں کرے گی۔ مشیروں نے مختلف مشورے دیے، کچھ جنگ کے حق میں تھے اور کچھ امن کے، مگر ملکہ نے حکمت اور امن کے راستے کو ترجیح دی۔🩷

قرآن مجید میں اس کا ذکر یوں آیا:

قَالَتْ رَبِّ أَفْرِغْ عَلَيَّ صَبْرًا وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِن لِسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي
(سورۃ طہ: 25-28)

ترجمہ:
“اے میرے رب! مجھ پر صبر ڈال، اور میرے کام کو آسان فرما، اور میری زبان کی گرہ کھول تاکہ وہ میرے کلام کو سمجھیں۔”

حضرت سلیمانؑ کی حکمت اور علم کے سامنے ملکہ بلقیس نے اپنا دل نرم کر دیا اور فرمایا:

رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
(سورۃ النمل: 44)

ترجمہ:
“اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور حضرت سلیمانؑ کے ساتھ اللہ کی راہ میں تسلیم ہو گئی۔”

یہ منظر نہ صرف ملکہ بلقیس کی حکمت اور ایمان کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس بات کا بھی سبق دیتا ہے کہ علم، حکمت اور حق کی دعوت سب پر اثر ڈالتی ہے، چاہے وہ انسان ہوں، جانور ہوں یا پرندے۔🌿

اس نے ایک وفد اور قیمتی تحائف کے ساتھ حضرت سلیمانؑ کی طرف سفر شروع کر دیا۔

جب حضرت سلیمانؑ کو معلوم ہوا کہ ملکہ بلقیس اپنے درباریوں کے ساتھ ان کی طرف آ رہی ہے تو انہوں نے اپنے دربار میں موجود جنات، انسانوں اور اہلِ علم کو جمع کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ایک ایسا سوال کیا جس نے سب کو حیران کر دیا۔

قرآن مجید اس منظر کو یوں بیان کرتا ہے:

قَالَ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَنْ يَأْتُونِي مُسْلِمِينَ
(سورۃ النمل: 38)

ترجمہ:
“انہوں نے فرمایا: اے درباریو! تم میں سے کون ہے جو اس کا تخت میرے پاس لے آئے اس سے پہلے کہ وہ لوگ فرمانبردار ہو کر میرے پاس پہنچیں؟”

ملکہ بلقیس کا تخت نہایت عظیم، قیمتی اور مضبوط تھا۔ اسے اس کے محل میں سخت حفاظت کے ساتھ رکھا جاتا تھا۔ عام حالات میں اسے وہاں سے لانا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا تھا۔

مگر حضرت سلیمانؑ کے دربار میں جنات بھی موجود تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی طاقت دی تھی۔

قرآن مجید بتاتا ہے کہ ایک طاقتور جن نے فوراً جواب دیا:

قَالَ عِفْرِيتٌ مِّنَ الْجِنِّ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ تَقُومَ مِن مَّقَامِكَ وَإِنِّي عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٌ
(سورۃ النمل: 39)

ترجمہ:
“جنات میں سے ایک طاقتور جن بولا: میں اسے آپ کے پاس لے آؤں گا اس سے پہلے کہ آپ اپنی مجلس سے اٹھیں، اور میں یقیناً اس پر طاقت بھی رکھتا ہوں اور امانت دار بھی ہوں۔”

یہ یقیناً ایک حیرت انگیز بات تھی، مگر ابھی اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز واقعہ ہونے والا تھا۔

اسی دربار میں ایک ایسا شخص بھی موجود تھا جس کے پاس کتاب کا علم تھا۔ اس نے کہا:

قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ
(سورۃ النمل: 40)

ترجمہ:
“اس شخص نے کہا جس کے پاس کتاب کا علم تھا: میں اسے آپ کے پاس لے آؤں گا اس سے پہلے کہ آپ کی آنکھ جھپکے۔”

یہ ایک ایسا دعویٰ تھا جسے سن کر دربار کے لوگ حیران رہ گئے۔

اور پھر قرآن مجید بتاتا ہے کہ پلک جھپکنے سے پہلے ہی وہ عظیم تخت حضرت سلیمانؑ کے سامنے موجود تھا۔

یہ منظر دیکھ کر حضرت سلیمانؑ نے فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور فرمایا:

هَٰذَا مِن فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ
(سورۃ النمل: 40)

ترجمہ:
“یہ میرے رب کے فضل میں سے ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری۔”

یہ حضرت سلیمانؑ کی عظمت اور عاجزی کی علامت تھی کہ اتنی بڑی نعمت دیکھ کر بھی انہوں نے اسے اپنی طاقت نہیں بلکہ اللہ کا فضل قرار دیا۔

پھر حضرت سلیمانؑ نے حکم دیا کہ ملکہ بلقیس کے تخت میں تھوڑی سی تبدیلی کر دی جائے تاکہ جب وہ آئے تو دیکھا جائے کہ وہ اسے پہچانتی ہے یا نہیں۔

قرآن مجید میں فرمایا گیا:🩷

قَالَ نَكِّرُوا لَهَا عَرْشَهَا نَنظُرْ أَتَهْتَدِي أَمْ تَكُونُ مِنَ الَّذِينَ لَا يَهْتَدُونَ
(سورۃ النمل: 41)

ترجمہ:
“انہوں نے فرمایا: اس کے تخت کو کچھ بدل دو تاکہ ہم دیکھیں کہ وہ پہچان لیتی ہے یا نہیں، یا وہ ان لوگوں میں سے ہے جو ہدایت نہیں پاتے۔”

اب سب کی نظریں اس لمحے پر تھیں جب ملکہ بلقیس حضرت سلیمانؑ کے دربار میں پہنچے گی اور اپنے تخت کو وہاں دیکھے گی۔🌿

یہ واقعہ صرف ایک معجزاتی طاقت کی کہانی نہیں بلکہ یہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اصل عظمت طاقت میں نہیں بلکہ اللہ کی نعمت کو پہچاننے اور اس کا شکر ادا کرنے میں ہے۔🩷

اب وہ لمحہ قریب آ چکا تھا جب ملکہ بلقیس حضرت سلیمانؑ کے دربار میں پہنچنے والی تھی۔

جب وہ اپنے درباریوں کے ساتھ حضرت سلیمانؑ کے عظیم الشان محل میں داخل ہوئی تو اس نے وہاں ایک ایسا منظر دیکھا جو اس کے لیے انتہائی حیران کن تھا۔

اس کے سامنے ایک شاندار تخت رکھا ہوا تھا جو بالکل اس کے اپنے تخت جیسا دکھائی دیتا تھا، مگر اس میں کچھ معمولی سی تبدیلیاں بھی کی گئی تھیں۔

حضرت سلیمانؑ نے ملکہ بلقیس سے پوچھا:🩷

قَالَ أَهَكَذَا عَرْشُكِ
(سورۃ النمل: 42)

ترجمہ:
“پوچھا گیا: کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے؟”

ملکہ بلقیس نے جب اس تخت کو غور سے دیکھا تو وہ حیران رہ گئی۔ کیونکہ یہ تخت واقعی اس کے تخت سے بہت زیادہ مشابہت رکھتا تھا۔

مگر اس کی دانشمندی اور عقل مندی یہاں بھی ظاہر ہوئی۔ اس نے جلدی میں قطعی جواب دینے کے بجائے نہایت حکمت سے کہا:🌿

قَالَتْ كَأَنَّهُ هُوَ
(سورۃ النمل: 42)

ترجمہ:
“وہ بولی: گویا یہی ہے۔”

یعنی اس نے صاف الفاظ میں یہ نہیں کہا کہ یہ میرا ہی تخت ہے، بلکہ بڑی سمجھ داری سے کہا کہ یہ اسی جیسا معلوم ہوتا ہے۔

یہ جواب سن کر حضرت سلیمانؑ کے دربار میں موجود لوگ اس کی ذہانت پر حیران رہ گئے۔

قرآن مجید اس موقع پر ایک اور اہم حقیقت بیان کرتا ہے کہ اس سے پہلے ہی اسے علم اور سمجھ کی کچھ روشنی مل چکی تھی۔

وَأُوتِينَا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ🩷
(سورۃ النمل: 42)

ترجمہ:
“اور ہمیں اس سے پہلے ہی علم دیا گیا تھا اور ہم فرمانبردار تھے۔”

مگر ابھی بھی ملکہ بلقیس کے دل میں کچھ سوال باقی تھے۔ اس کی قوم سورج کی عبادت کرتی تھی اور وہ اسی ماحول میں پلی بڑھی تھی۔

قرآن مجید بتاتا ہے کہ اصل رکاوٹ یہ تھی کہ وہ ایک ایسی قوم میں پروان چڑھی تھی جو اللہ کے بجائے سورج کو سجدہ کرتی تھی۔

وَصَدَّهَا مَا كَانَت تَّعْبُدُ مِن دُونِ اللَّهِ ۖ إِنَّهَا كَانَتْ مِن قَوْمٍ كَافِرِينَ
(سورۃ النمل: 43)

ترجمہ:
“اور اسے اس چیز نے روک رکھا تھا جس کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتی تھی، بے شک وہ ایک کافر قوم میں سے تھی۔”🩷

اب حضرت سلیمانؑ چاہتے تھے کہ ملکہ بلقیس اپنی آنکھوں سے اللہ کی قدرت اور حقیقت کو دیکھے تاکہ اس کے دل سے ہر شک دور ہو جائے۔

اسی مقصد کے لیے حضرت سلیمانؑ نے اسے اپنے محل کے ایک اور حصے کی طرف لے جانے کا حکم دیا جہاں ایک اور حیرت انگیز منظر اس کا انتظار کر رہا تھا۔

یہ وہ منظر تھا جو ملکہ بلقیس کی زندگی بدل دینے والا تھا۔🌿

جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا یہ تمہارا تخت ہے تو اس نے بڑی دانشمندی سے جواب دیا: “گویا یہی ہے”۔ اس جواب سے اس کی عقل اور سمجھ کا اندازہ ہو گیا۔

مگر حضرت سلیمانؑ صرف اس کی ذہانت ہی نہیں دیکھنا چاہتے تھے بلکہ وہ چاہتے تھے کہ ملکہ بلقیس اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک اور حیرت انگیز منظر دیکھے تاکہ اس کے دل سے ہر شک دور ہو جائے۔

اسی مقصد کے لیے حضرت سلیمانؑ نے اسے اپنے محل کے ایک اور حصے کی طرف لے جانے کا حکم دیا۔

قرآن مجید اس منظر کو یوں بیان کرتا ہے:🩷

قِيلَ لَهَا ادْخُلِي الصَّرْحَ
(سورۃ النمل: 44)

ترجمہ:
“اس سے کہا گیا: محل کے صحن میں داخل ہو جاؤ۔”

یہ صحن دراصل حضرت سلیمانؑ کے محل کا ایک حیرت انگیز حصہ تھا۔ اس کا فرش شیشے کا بنا ہوا تھا اور اس کے نیچے صاف پانی بہہ رہا تھا جس میں مچھلیاں تیرتی نظر آتی تھیں۔

جب ملکہ بلقیس نے اس شفاف فرش کو دیکھا تو اسے یوں محسوس ہوا جیسے سامنے پانی ہی پانی ہو۔

قرآن مجید اس کیفیت کو یوں بیان کرتا ہے:🌿

فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً
(سورۃ النمل: 44)

ترجمہ:
“جب اس نے اسے دیکھا تو اسے گہرا پانی سمجھا۔”

اسی خیال سے اس نے اپنے کپڑے کو تھوڑا سا اوپر اٹھایا تاکہ پانی میں قدم رکھتے وقت اس کے کپڑے بھیگ نہ جائیں۔

قرآن مجید میں فرمایا گیا:🩷

وَكَشَفَتْ عَن سَاقَيْهَا

ترجمہ:
“اور اس نے اپنی پنڈلیاں کھول لیں۔”

یہ دیکھ کر حضرت سلیمانؑ نے فوراً اسے حقیقت بتائی کہ یہ پانی نہیں بلکہ شیشے کا بنا ہوا فرش ہے۔

قرآن مجید میں ہے:🌿

قَالَ إِنَّهُ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّن قَوَارِيرَ
(سورۃ النمل: 44)

ترجمہ:
“انہوں نے فرمایا: یہ تو شیشے کا ہموار فرش ہے۔”

یہ منظر دیکھ کر ملکہ بلقیس حیرت میں ڈوب گئی۔ اس نے سمجھ لیا کہ یہ عام بادشاہت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک غیر معمولی سلطنت ہے۔

اب اس کے دل میں حق کی روشنی واضح ہونے لگی تھی۔🩷

اسے احساس ہو گیا تھا کہ جس طاقت کے سامنے وہ کھڑی ہے وہ صرف دنیاوی طاقت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت اور سچائی کی علامت ہے۔

یہی وہ لمحہ تھا جب اس کے دل میں ایک بڑی تبدیلی پیدا ہونے والی تھی۔

ملکہ بلقیس شیشے کے فرش پر قدم رکھ کر حیران رہ گئی اور حضرت سلیمانؑ نے اسے بتایا کہ یہ فرش شیشے کا بنا ہوا ہے، پانی نہیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب اس کے دل میں حق کی روشنی جگنے لگی۔🌿
اب ملکہ بلقیس حضرت سلیمانؑ کے محل میں مکمل طور پر حاضر تھی۔ اس کے سامنے اس کا تخت رکھا ہوا تھا، جسے حضرت سلیمانؑ نے پلک جھپکنے سے بھی کم وقت میں وہاں پہنچایا۔ تخت میں کچھ معمولی تبدیلیاں کر دی گئی تھیں تاکہ ملکہ بلقیس کی عقل اور دانشمندی کو پرکھا جا سکے۔
ملکہ بلقیس کے دل میں حیرت اور تجسس کی ملی جلی کیفیت تھی۔ اسے سمجھ آ گئی کہ یہ بادشاہت صرف دنیاوی طاقت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ غیر معمولی نعمت ہے۔🩷
حضرت سلیمانؑ نے ملکہ بلقیس کو محل کے ایک اور حصے کی طرف لے جانے کا حکم دیا، جہاں شیشے کا فرش تھا اور نیچے پانی کے اندر مچھلیاں تیر رہی تھیں۔ ملکہ نے جب قدم رکھا تو اسے لگا جیسے وہ پانی میں چل رہی ہے۔
قرآن میں بیان ہے:
فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَكَشَفَتْ عَن سَاقَيْهَا
(سورۃ النمل: 44)
ترجمہ:
“جب اس نے اسے دیکھا تو اسے گہرا پانی سمجھا اور اس نے اپنی پنڈلیاں اٹھا لیں۔”
حضرت سلیمانؑ نے فوراً اسے بتایا:
قَالَ إِنَّهُ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّن قَوَارِيرَ🌿
ترجمہ:
“یہ شیشے کا ہموار فرش ہے، پانی نہیں۔”
یہ منظر دیکھ کر ملکہ بلقیس نے حضرت سلیمانؑ کی قدرت اور حکمت کی مکمل پہچان کی۔ اس نے اپنے دل میں فیصلہ کیا کہ اب وہ حق کو قبول کرے گی اور اپنے ماضی کے تعصبات چھوڑ دے گی۔
پھر قرآن مجید میں ملکہ بلقیس کا ایمان لانے والا وہ لمحہ بیان ہوا:
فَقَالَتْ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ🩷
(سورۃ النمل: 44-45)
ترجمہ:
“اس نے کہا: اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کی طرف فرمانبردار ہو گئی۔”
یہ وہ تاریخی لمحہ تھا جب ملکہ بلقیس نے اسلام قبول کیا اور حق کے راستے پر قدم رکھا۔ اس کے بعد حضرت سلیمانؑ نے نہ صرف اس کے ایمان کی تصدیق کی بلکہ اسے یقین دلایا کہ اللہ کی عطا کردہ طاقت اور علم کے ذریعے وہ صحیح راستے پر آئی ہے۔🌿
اس ایمان افروز واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:
حقیقی طاقت اللہ کی نعمت کو پہچاننے اور اس کے شکر گزار ہونے میں ہے۔
حق کو پہچاننے والا دل ہمیشہ اللہ کی روشنی میں روشن ہوتا ہے۔
عاجزی اور دانشمندی کے ساتھ فیصلے انسان کو عظمت عطا کرتے ہیں۔
📖 اس پورے واقعے کی تفصیل قرآن مجید میں سورۃ النمل (آیات 38 تا 45) میں بیان ہوئی ہے۔🩷
✨ اس سیریز کا اختتام ہمیں یہ سکھاتا ہے:
• حضرت سلیمانؑ کی حکمت اور اللہ کی قدرت
• ملکہ بلقیس کا ایمان قبول کرنا
• حق، علم، اور عاجزی کی بلند مثال
یہ قسط نہ صرف تاریخی واقعہ ہے بلکہ ایمان، حکمت، اور حق کو پہچاننے کی سب سے بڑی تعلیم بھی ہے۔🌿

✨ اگر آپ نے یہ سیریز پڑھی اور آپ کو پسند آئی تو میرے پروفائل کو فالو کرنا نہ بھولیے۔
اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں کسی اور واقعے یا کسی اور پوسٹ پر بھی ایسی دلچسپ اور ایمان افروز سیریز لکھوں تو مجھے ضرور بتائیں۔
اختتام… 🩷🌿🩷

21/03/2026

🩷All friends EID MUBARAK🩷

20/03/2026
schedules a few days before the festival, depending on when they spot the new moon.II. What's the deal with Eid al-Fitr ...
20/03/2026

schedules a few days before the festival, depending on when they spot the new moon.

II. What's the deal with Eid al-Fitr traditions?

Eid al-Fitr usually goes on for about 3 days, and here's what people do:
1️⃣ Eid Prayer: Early morning on the festival day, Muslims head to the mosque for this special prayer.
2️⃣ Visiting family and friends: Lots of families visit each other and have big meals together, kinda like those family reunions during Chinese New Year.
3️⃣ Giving kids red envelopes (Eidiya): Older folks usually give money or gifts to kids, and the little ones get to wear new clothes for the celebration.
4️⃣ Charity and giving: Before Eid al-Fitr, Muslims give a special charity donation to help people who need it.
5️⃣ Festival food: Many families make sweet treats and traditional dishes, like date pastries and nut desserts.
Lots of malls also have holiday events, and the city vibe gets super lively.

III. How does this affect work in the Middle East?

If you're doing business or working with Middle Eastern clients, here's what you should know about Eid al-Fitr:
✔ Government offices are closed: Stuff like visa applications and document approvals might get put on hold.
✔ Company offices are on holiday: Lots of companies shut down for about 3 days.
✔ Business communication slows down: You might notice emails taking longer to get replies.
✔ Malls and restaurants are more crowded: People actually spend more during the holiday period.

IV. What should businesses and teams keep in mind?

If you're working with the Middle Eastern market, here's some advice:
• Try to get contracts signed or approved before the holiday
• Make sure your project plans include time for the holiday
• You can send holiday wishes to clients: Eid Mubarak (Happy Eid al-Fitr)

Respecting local religious culture and holiday traditions can really help build better working relationships.

Lots of people visiting the Middle East for the first time find it pretty interesting: Even though the news might show things as tense, the cities stay bright and lit up, with people shopping, eating out, and celebrating the holiday.

That's just part of life in the Middle East.

#🌿🩷🌿

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Life in Islamic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share