Jamaat-e-Islami TV

  • Home
  • Jamaat-e-Islami TV

Jamaat-e-Islami TV A Facebook Channel

میرا بچپن : سید ابولاعلیٰ مودودیؒ(انٹرویو 1970ء) تلاش و کتابت : عبیدللہ کیہر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔...
12/01/2025

میرا بچپن : سید ابولاعلیٰ مودودیؒ
(انٹرویو 1970ء)
تلاش و کتابت : عبیدللہ کیہر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا بچپن ریاست حیدرآباد دکن کے مشہور شہر اورنگ آباد میں گزرا ہے۔ میرا خاندان تو دہلی کا تھا لیکن میرے والد مرحوم دہلی سے اورنگ آباد چلے گئے تھے، اس وجہ سے میری زندگی کے ابتدائی تیرہ چودہ سال اورنگ آباد ہی میں بسر ہوئے۔ جو لوگ ایک ہی جگہ پل کر جوان ہوئے ہیں اور ساری عمر اپنے پیدائشی وطن ہی میں رہے ہیں وہ اس بات کا پورا اندازہ نہیں کر سکتے کہ آدمی کو اس جگہ سے کتنی گہری محبت ہوتی ہے جہاں اس کا بچپن گزرا ہو۔ تیرہ چودہ سال کی عمر تک میں وہیں رہا۔ پھر میرا یہ پیدائشی وطن مجھ سے ہمیشہ کے لیے چھوٹ گیا۔ برسوں کے بعد جب جوانی کی عمر میں ایک دفعہ مجھے پھر اورنگ آباد جانے کا اتفاق ہوا تو میرے اوپر عجیب کیفیت گزری۔ جوں جوں شہر قریب آتا جاتا تھا میری بے چینی بڑھتی جاتی تھی۔ میں محسوس کر رہا تھا کہ ریل بہت سست چل رہی ہے۔ میرا جی چاہتا تھا کہ ریل پر سے کود جاؤں اور بھاگ کہ شہر میں جا پہنچوں۔ بچپن کی دیکھی ہوئی ہر ایک چیز کو میں پہچاننے کی کوشش کرتا تھا اور میرا دل بے اختیار کھنچنے لگتا تھا ۔ اس وقت مجھے محسوس ہوا کہ آدمی کو اُس جگہ سے کتنی محبت ہوتی ہے جہاں اس کا بچپن گزرا ہو۔ ایک عجیب بات جو میں نے وہاں جا کر محسوس کی وہ یہ تھی کہ بچپن کی دیکھی ہوئی اب کوئی چیز بھی اتنی بڑی نہیں رہی تھی جتنی چند سال پہلے تھی۔ سڑکیں، بازار، گلیاں، عمارتیں سب پہلے سے چھوٹی اور تنگ تنگ سی ہو گئی تھیں ۔ میں جن گھروں میں پہلے رہا تھا یا اکثر جایا کرتا تھا وہ بھی پہلےبڑے بڑے تھے اور اب سکڑ کر بالکل چھوٹے چھوٹے ہو گئے تھے۔ میں حیران تھا کہ جس چیز کو بھی اپنی یاد کے نقشے سے ملا کر دیکھتا ہوں وہ ہے تو اپنی جگہ ہی مگر پہلے سے چھوٹی ہو کر رہ گئی ہے۔ آخر غور کرنے سے معلوم ہوا کہ یہ سارا فرق جو مجھے محسوس ہو رہا ہے دراصل ان چیزوں میں نہیں ہوا بلکہ خود میرے اندر ہو گیا ہے ۔ جب تک میں بچہ تھا میری نگاہ چھوٹی تھی اور چیزیں بڑی نظر آتی تھیں۔ جب میں بڑا ہو گیا اور میری نگاہ بھی بڑی ہو گئی اور اسی لحاظ سے چیزیں چھوٹی نظر آنے لگیں۔
مجھے اپنی بہت چھوٹی عمر کی باتیں ابھی تک یاد ہیں۔ مجھے اپنی وہ حیرت اب تک یاد ہے جو پہلی مرتبہ یہ سن کر ہوئی تھی کہ ابا کے ابا کو دادا اور ابا کی اماں کو دادی کہتے ہیں۔ میرا دل یہ یقین کرنے کو کسی طرح تیار نہ تھا کہ ابا بھی کسی کے بیٹے ہو سکتے ہیں۔ اور نہ میں یہ تصور کر سکتا تھا کہ میرے والد بھی کبھی میری طرح بچے ہوں گے۔ اس نئی معلومات پر میں بہت دنوں تک غور کرتا رہا اور یہ بات بڑی تحقیقات کے بعد میری سمجھ میں آئی کہ جتنے لوگ اب بڑے بوڑھے ہیں یہ سب کبھی بچے تھے اور ان کے بھی کوئی ماں باپ تھے۔ اس سے بھی زیادہ چھوٹی عمر کا ایک اور خیال مجھے اب تک یاد ہے۔ میں ابا اور اماں کے کوئی معنی نہیں جانتا ۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ کون لوگ ہیں اور میں ان کے پاس کیسے آگیا ہوں؟ ۔۔۔ البتہ میں یہ ضرور محسوس کرتا تھا کہ یہ ہیں بڑے اچھے لوگ۔ اپنے والد کو دنیا کا سب سے اچھا آدمی او اپنی والدہ کو سب سے اچھی عورت سمجھتا تھا۔ مجھے سب سے زیادہ لطف اس وقت آتا تھا جب میں بیمار ہو جاتا یا مجھے کوئی چوٹ لگ جاتی تھی اور میرے والدین میرے لیے پریشان ہوتے تھے۔ اسی لطف کی خاطر میں کبھی کبھی جان بوجھ کر بھی اپنے آپ کو خطرے میں ڈالتا تھا۔ اس وقت جو بے چینی میری والدہ اور والد کے دل میں پیدا ہوتی تھی اس سے میرے دل کو یہ احساس ہوتا تھا کہ انہیں میری بہت فکر ہے۔ ان تجربات سے ماں اور باپ کے معنی میری سمجھ میں آئے اور مجھ کو یہ بھی معلوم ہوا کہ ماں باپ اور دوسرے لوگوں میں کیا فرق ہوتا ہے۔
میں اپنے گھر میں سب سے چھوٹا تھا۔ میرے ایک بھائی مجھ سے تین چار سال بڑے تھے۔ مجھے کھانے کی جو چیز ملتی تھی میں اسے فوراً کھا لیتا تھا مگر بھائی صاحب سنبھال کر کسی اچھے وقت پر کھانے کے لیے اُٹھا رکھتے تھے۔ اسی طرح جو پیسے مجھے ملتے تھے انہیں بھی فوراً خرچ کر ڈالتا تھا مگر بھائی صاحب انہیں جمع کرکے کبھی کوئی اچھی چیز خرید لاتے تھے۔ بس یہ میرے اور ان کے درمیان جھگڑے کی بنیاد تھی۔ میں ہمیشہ ان کے حصے میں سے اپنا حق وصول کرنے کی کوشش کرتا اور وہ ہمیشہ تھوڑی دیر تک مقابلہ کرنے کے بعد کچھ نہ کچھ میرے حوالے کرنے پر مجبور ہو جاتے۔
اول تو میں سمجھا کرتا تھا کہ اس طرح میں انہیں شکست دے کر مال غنیمت حاصل کرتا ہوں، مگر بعد میں مجھے معلوم ہو گیا کہ بڑے بھائی کو مجھ سے محبت ہے اور انہیں خود بھی اسی میں مزہ آتا ہے کہ میں اُن سے لڑ بھڑ کر اپنا حصہ وصول کر لیا کروں۔ اسی طرح میں والدین کے عطیوں میں سے 70 فیصدی کا مالک ہوتا تھا۔ 50 فیصدی اپنے حساب میں اور 25 فی صدی بڑے بھائی صاحب کے حساب میں سے۔ مشہور بات تو یہ ہے کہ ”سگ باش ، برادرِ خورد مباش“ یعنی چھوٹا بھائی ہونے سے کتا بننا بہتر ہے، مگر میرا تجربہ اس کے خلاف ہے۔
میرے والد مرحوم نے میری تربیت بڑے اچھے طریقے پر کی تھی۔ وہ دہلی کے شرفاء کی نہایت ستھری زبان بولتے تھے۔ انہوں نے ابتداء سے یہ خیال رکھا کہ میری زبان بگڑنے نہ پائے۔ جب کبھی میری زبان پر کوئی غلط لفظ چڑھ جاتا یا کوئی بازاری لفظ میں سیکھ لیتا تو وہ مجھے ٹوک دیتے اور صحیح بولنے کی عادت ڈالتے۔ یہی وجہ ہے کہ دکن میں پرورش پانے کے باوجود میری زبان محفوظ رہی۔ بعد میں مجھ کو ہندوستان کے مختلف شہروں میں رہنے کا اتفاق ہوا ہے۔ مگر بچپن میں جو زبان پختہ ہو چکی تھی اس پر کسی جگہ کی بولی کا اثر نہ پڑ سکا۔ وہ راتوں کو مجھے پیغمبروں کے قصے، تاریخِ اسلام اور تاریخِ ہندوستان کے واقعات اور سبق آموز کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ اُس کا مفید اثر میں آج تک محسوس کرتا ہوں۔ وہ میرے اخلاق کی درستی کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔ انہوں نے مجھے ایسے بچوں کے ساتھ نہیں کھیلنے دیا جن کی عادتیں بگڑی ہوئی ہوں۔ جب کبھی میں کوئی بری عادت سیکھتا تو بڑی کوشش سے اس کو چھڑاتے تھے۔ ایک مرتبہ میں نے ایک ملازمہ کے بچے کو مارا تو انہوں نے اس بچے کو بلا کر کہا تو بھی اسے مار۔ اس سے مجھے ایسا سبق ملا کہ پھر میرا ہاتھ کسی زیردست پر تمام عمر نہیں اُٹھا۔ وہ مجھے زیادہ تر اپنے دوستوں کی صحبت میں لے جاتے تھے اور ان کے دوست سب کے سب سنجیدہ، شائستہ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ اُن کی صحبتوں میں بیٹھنے کی وجہ سے میں مہذب عادات سیکھ گیا اور بڑی بڑی باتوں کو سمجھنے کے قابل ہو گیا۔ میری طبیعت میں جتنی شوخی تھی والدِ مرحوم کی اس تربیت کی وجہ ہے وہ شرارتوں اور دنگے فساد کی بجائے ظرافت کی شکل میں ڈھل گئی۔ مجھے یاد ہے کہ بچپن میں مجھ سے بڑی عمر کے لوگ مجھ میں بہت دلچسپی لیا کرتے تھے کیونکہ میں شرارتیں کرنے کی بجائے بہت مزے مزے کی باتیں کیا کرتا تھا ۔
میرے والد مرحوم نے میری ابتدائی تعلیم کا انتظام گھر پہ کیا تھا۔ غالبا وہ میری زبان کی حفاظت اور مجھے بری صحبتوں سے بچانے کے لیے مدرسہ بھیجنا نہیں چاہتے تھے۔ گھر کی اس تعلیم میں مجھ کوبہت سے استادوں سے سابقہ پیش آیا۔ بعض استاد ایسے تھے جنہوں نے مجھے کند ذہن بنانے کی کوشش کی اور ان کے اثر سے مجھے خود اپنے اوپر ہی یہ شک ہونے لگا کہ شاید میں کچھ پڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ بعض استادوں نے مجھے اس سے زیادہ پڑھانے کی کوشش کی جتنا میں اپنی عمر کے لحاظ سے پڑھ سکتا تھا۔ البتہ بعض استادوں نے مجھے بہت اچھی تعلیم دی اور مجھے جو کچھ حاصل ہوا وہ ان ہی کا فیض تھا۔ مجموعی طور پر اسے میں اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ گھر کی تعلیم میرے لیے مدرسے کی بہ نسبت زیادہ مفید ثابت ہوئی۔ پانچ چھ سال کی اس تعلیم میں مجھ کو اتنا علم حاصل ہو گیا کہ جتنا دوسرے بچوں کو آٹھ سال میں ہوتا ہے۔ بلکہ مجھ کو جب گیارہ سال کی عمر میں مدرسے کی آٹھویں جماعت میں داخل کیا گیا تو اکثر مضامین میں میری معلومات اپنے ہم جماعتوں سے زیادہ تھیں۔ حالانکہ میں اپنی آٹھویں کلاس میں سب سے چھوٹی عمر کا طالب علم تھا۔
میری ابتدائی تعلیم میں ایک خرابی ایسی تھی جس کو بعد میں میں نے بری طرح محسوس کیا۔ وہ خرابی یہ تھی کہ عام دستور کے مطابق پہلے بغدادی قاعدہ پڑھوا کر قرآن پڑھوا دیا گیا۔ یہ غلطی عام طور پر مسلمان اُس زمانے میں بھی کرتے تھے اور آج تک کئے جا رہے ہیں۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ بچہ دنیا کی اور ساری چیزیں تو سمجھ کر پڑھتا ہے مگر صرف قرآن ہی کے متعلق وہ یہ خیال کرتا ہے کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جسے سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس اس کے الفاظ پڑھ لینے کافی ہیں۔
اس غلط طریقے کی وجہ سے مجھے بے سمجھے قرآن پڑھنے کی ایسی عادت پڑی کہ آگے چل کر جب میں نے عربی زبان پڑھ لی اس وقت بھی برسوں تک قرآن کو بغیر سمجھے ہی پڑھتا رہا۔ اکیس برس کی عمر میں مجھ کو پہلی مرتبہ اپنی اس غلطی کا احساس ہوا اور میں نے قرآن کو سمجھنے کی کوشش کی۔ میں چاہتا ہوں کہ اب مسلمان بچوں کو اس غلطی سے بچایا جائے اور انہیں قرآن اس وقت پڑھایا جائے جب وه کم از کم اتنی اردو پڑھ لیں کہ قرآن کا ترجمہ بھی ساتھ ساتھ پڑھ سکیں۔
اب میں تھوڑا سا حال اپنے مدرسے کا بیان کرتا ہوں۔ گیارہ برسں کی عمر میں جب مجھ کو ہائی اسکول کی آٹھویں جماعت میں داخل کیا گیا تو اس وقت مجھے پہلی مرتبہ اپنے ہم عمر لڑکوں سے میل جول کا موقع ملا۔ کیونکہ اس سے پہلے تک تو میں زیادہ تر بڑوں کی صحبت میں رہا کرتا تھا۔ مدر سے میں تھوڑے دنوں تک تو میں اجنبی رہا۔ پھر میں نے مدرسے کی اس شریف ٹولی سے دوستانہ تعلقات پیدا کر لیے جس میں سنجیدہ اور شوقین طالب علم شامل تھے۔ لیکن اس کے ساتھ میں نے محض اپنی ظرافت کے ذریعے سے شریر ٹولی کے دو تین سرغنوں کو بھی دوست بنا لیا تھا۔ میں ان کی شرارتوں میں تو شریک نہیں ہوتا تھا مگر مذاق اور لطیفہ گوئی کی وجہ سے میں نے ان کو رام کر لیا تھا۔ اس طرح میں شریف ٹولی کا دوست بھی رہا اور شریر ٹولی سے بھی تعلقات نہیں بگڑے۔ استادوں میں سے اکثر میرے اوپر بہت مہربان تھے۔ خصوصاً ایک استاد تو ایسے شفیق بن گئے کہ آج تک ان کے خاندان سے میرے تعلقات قائم ہیں اور ان کے صاحبزادے کو میں اپنے بھائی کی طرح عزیز رکھتا ہوں۔ مدرسے ہی میں مجھ کو پہلی مرتبہ مضامین لکھنے اور تقریری مباحثوں میں حصہ لینے کا موقع ملا۔ اس سے مجھ کو احساس ہوا کہ مجھ میں زبان اور قلم سے کام لینے کی کچھ صلاحیت ہے۔ مدرسے کی زندگی میں چند مہینے ہی گزارنے کے بعد مجھے اس سے اتنی دلچسپی پیدا ہو گئی کہ چھٹی کا دن مجھ کو سخت ناگوار ہوتا تھا اور جب لمبی چھٹیاں آتی تھیں تو پہلے ہی سے ہم چند لڑکے آپس میں یہ پروگرام طے کر لیا کرتے تھے کہ روزانہ ایک جگہ جمع ہوا کریں گے، مطالعہ کیا کریں گے اور مل کر تفریح بھی کریں گے۔
کھیل سے مجھے ابتدائی عمر میں بہت کم دل چسپی تھی۔ جب کچھ ہوش سنبھالا تو بِنّوٹ کے فن سے کچھ دلچسپی پیدا ہو گئی۔ میری والدہ صاحبہ کے خاندان میں یہ فن بہت مقبول تھا۔ خصوصاً میرے ماموں اس کے بہت ماہر تھے۔ میں نے اپنے خالہ زاد بھائیوں سے یہ فن سیکھا اور کچھ مدت تک میں یہی میرا کھیل رہا۔ مدر سے میں داخل ہونے کے بعد مجھے فٹ بال اور کرکٹ سے بھی دلچسپی پیدا ہوئی مگر میں صرف تفریح کے لیے اس میں شریک ہوتا تھا۔
٭٭٭

08/03/2024
سفرنامہ سعودی عرب (پانچویں قسط)عبیداللہ کیہرجس دن ہماری جدہ کی فلائٹ تھی اس دن اسلام آباد میں موسلادھار بارش ہو رہی تھی۔...
04/03/2024

سفرنامہ سعودی عرب (پانچویں قسط)
عبیداللہ کیہر
جس دن ہماری جدہ کی فلائٹ تھی اس دن اسلام آباد میں موسلادھار بارش ہو رہی تھی۔ فلائٹ کا ٹائم ہوا تو ہم رن وے پر تیز بارش میں بھیگتے ہوئے بڑی مشکل سے جہاز تک پہنچے۔ کچھ ہی دیر میں جہاز نے اڑان بھری اور سوئے حرم روانہ ہو گیا۔ یہ طیران الخلیج کی فلائٹ تھی جس میں جاتے ہوئے ابوظہبی ایئرپورٹ پر تین گھنٹے کا ٹرانزٹ بھی تھا۔ جہاز پہلا ڈیڑھ گھنٹہ تو پاکستانی سرزمین پر اڑتا رہا، پھر بحیرہ عرب کے اوپر آیا اور گھنٹہ بھر مزید پرواز کرتے ہوئے خلیج فارس کو عبور کرکے متحدہ عرب امارات میں ابوظہبی کے ایئرپورٹ پر اتر گیا۔ یہاں ہمیں تین گھنٹے ٹرانزٹ لاؤنج میں گزارنے تھے جس میں ایئر لائن کی طرف سے دوپہر کا کمپلی منٹری کھانا بھی تھا اور یہیں پر احرام بھی پہن لینا تھا کیونکہ یہاں سے اڑنے والی فلائٹ کو ہوا ہی میں میقات سے گزر کر جدہ پہنچ جانا تھا۔
میں اور اماں ابوظہبی ایئرپورٹ کی گہما گہمی اور بین الاقوامی چہل پہل دیکھنے لگے۔ اگلی فلائٹ کا وقت قریب آنے لگا تو میں نے ایئرپورٹ کے غسل خانے میں جا کر احرام پہن لیا۔ احرام پوش ہو کر واپس آیا تو دیکھا کہ ہماری فلائٹ کے ٹرانزٹ مسافروں میں لنچ بکس تقسیم کئے جا رہے تھے۔ ابھی ہم نے لنچ کا ارادہ کیا ہی ہوگا کہ اگلی فلائٹ کا اعلان ہو گیا۔ چنانچہ مسافر کھانا ملتوی کر کے اپنے اپنے لنچ بکس ہاتھوں میں اٹھائے اٹھائے لشٹم پشٹم جہاز کی طرف دوڑ پڑے۔ پرواز شروع ہوتے ہی ہم نے لنچ بکس کھولا اور کھانا کھا لیا۔ لیکن ابھی وہ کھانا کھائے چند ہی منٹ گزرے ہونگے کہ عرب ایئرہوسٹس پھر کھانا تقسیم کر گئی۔ مجبوراً وہ بھی کھانا پڑا۔
جہاز سرزمینِ عرب کے لق و دق صحراؤں پر اڑتا ہوا جب جدہ کے قریب پہنچا تو دور سے ہی بحیرہ احمر کی جھلک نظر آنا شروع ہوگئی۔ ساحلِ سمندر کے قریب آ کر جہاز نے شہر کے اوپر ایک گول موڑ لیا اور جدہ ایئرپورٹ پر اترگیا۔ کسٹم و امیگریشن کے خواہ مخواہ طویل مرحلوں سے گزر کر ہم جیسے ہی ایئرپورٹ سے باہر نکلے تو یہاں دو پارٹیاں ہمیں لینے کی منتظر تھیں۔ ایک تو وہ ٹریول ایجنٹ کہ جس کے ذریعے ہم عمرہ کرنے آئے تھے۔ اس کی گاڑی ہمیں براہ راست مکہ لے جانے کیلئے تیار کھڑی تھی۔ ایجنٹ کے نمائندے نے ہمارے باہر آتے ہی ہم سے پاسپورٹ لے لئے۔ لیکن جو دوسری پارٹی ہمیں لینے آئی تھی وہ امی کے رشتے کے بھائی عرض محمد تھے جو اپنے بیٹے اور ممانی سمیت ہمارے استقبال کیلئے یہاں موجود تھے اور اس بات کیلئے بالکل بھی تیار نہ تھے کہ ان کی بہن جدہ میں ان کے گھر جائے بغیر سیدھی مکہ روا نہ ہوجائے۔ ماما عرض محمد ہمارے بچپن میں ہی پاکستان چھوڑ کر سعودی عرب آ گئے تھے اور اب یہاں کے قدیم باسی تھے۔ عمرہ پر روانہ ہونے سے پہلے میں نے جہاں سعودی عرب میں مقیم دیگر دوستوں کو اطلاع دی تھی وہیں ماما عرض محمد کو بھی ایک فون کر دیا تھا۔ انہیں جب سے پتہ چلا تھا کہ ادی حمیدہ (یعنی اماں) سعودیہ آ رہی ہیں تب سے وہ بے چینی کے ساتھ ہمارے منتظر تھے۔ جیسے ہی انہوں نے ہمیں آتا دیکھا تو کئی سالہ وقفے کے باوجود امی کو فوراً پہچان لیا اور والہانہ ہماری طرف لپک آئے۔
اس وقت عازمینِ عمرہ کیلئے سعودی قانون یہ تھا کہ وہ جس ایجنٹ کے ذریعے آئے ہوں گے، ایئرپورٹ سے صرف وہی ان کو ریسیو کر سکے ہوگا۔ اب ماما کا اصرار یہ کہ وہ پہلے ہمیں جدہ میں اپنے گھر لے جائیں، جبکہ ایجنٹ کے نمائندے کی ضد کہ وہ ہمیں ان کے ساتھ جانے کی اجازت اس وقت تک نہیں دے گا جب تک کہ ہیڈ آفس سے بات نہ ہو جائے۔ بالآخر طے پایا کہ ہم پہلے ایجنٹ آفس جائیں گے تاکہ وہاں بات کرکے دیکھا جائے۔ اگر اجازت مل گئی تو ہم جدہ میں ان کے گھر ایک رات رک کر اگلے دن صبح کو عمرہ کیلئے مکہ روانہ ہو جائیں گے۔
اب صورت حال یہ تھی کہ ہم احرام کی حالت میں تھے۔ میری اور امی کی خواہش تو یہی تھی کہ ہم بغیر کسی توقف کے فوراً مکہ مکرمہ روانہ ہو جائیں، عمرہ ادا کریں اور اس کے بعد جدہ واپس آکر ماموں کے ہاں کچھ دن قیام کریں۔ لیکن ماما عرض محمد سندھ کی روایتی مہمان نوازی کے پاسدار .... ان کے سامنے ہماری ایک نہ چلی۔ آگے آگے ہم ایجنٹ کی گاڑی میں ہیڈ آفس کی طرف چل دیئے اور ماما کا بیٹا عبدالرحمٰن ہمارے تعاقب میں تیز رفتاری سے گاڑی چلاتا ہوا پیچھے لگا آیا۔ ایجنٹ آفس جدہ ایئرپورٹ اور شہر کے درمیان کسی جگہ تھا۔ آفس پہنچ کر پہلے تو کچھ بحث اور گرما گرمی ہوئی، پھر ماما نے اپنے سعودی اقامے کی فوٹو کاپی ان کے پاس جمع کروائی اور بالآخر ہم جدہ میں ان کے گھر جا رہے تھے۔
(جاری ہے)

سفرنامہ سعودی عرب (چوتھی قسط)عبیداللہ کیہرپچاس ساٹھ کی دہائی میں زمینی سفر اتنا آسان نہیں تھا۔ سفر کا بس ایک ہی ذریعہ ہو...
01/03/2024

سفرنامہ سعودی عرب (چوتھی قسط)
عبیداللہ کیہر
پچاس ساٹھ کی دہائی میں زمینی سفر اتنا آسان نہیں تھا۔ سفر کا بس ایک ہی ذریعہ ہوتا تھا .... ریل گاڑی .... اور وہ بھی اس زمانے میں آہستہ آہستہ چلتی تھی اور ہر اسٹیشن پہ رکتی تھی۔ بلکہ جا بہ جا بغیر اسٹیشن کے بھی کھڑی ہو جایا کرتی تھی۔ چنانچہ ذرا ذرا سے فاصلوں میں بھی پورا پورا دن لگ جاتا تھا۔ اس لئے لوگ عام طور پر سفر سے گھبراتے تھے۔ چنانچہ ہمارے رشتے دار بھی بہت کم ہمارے پاس کراچی آتے تھے۔ بس خط و کتابت کے ذریعے جو رابطہ ہو جاتا وہ ہو جاتا۔ ہاں البتہ ایک سفر ایسا ضرور تھا کہ دشواریوں اور مشکلات کے باوجود ہر شخص کے دل میں اس سفر پہ جانے کی تمنا شدت سے موجزن رہتی تھی، اور وہ تھا حج کا سفر۔ ان دنوں لوگ عام طور پر بحری جہاز کے ذریعے ہی حج پر جاتے تھے۔ اس کیلئے ملک بھر سے حاجیوں کو کراچی آنا پڑتا تھا کیونکہ بندرگاہ کراچی میں تھی۔ سفینہ حجاج، سفینہ عرب اور سفینہ عابد، یہ تینوں اس زمانے کے معروف مسافر بردار بحری جہاز ہوتے تھے جو ہر سال ہزاروں حاجیوں کو بھر بھر کر کراچی سے جدہ پہنچاتے تھے۔ آج کے حساب سے سوچا جائے تو اس زمانے کا حج سستا لگے گا، لیکن ہمیں یاد ہے کہ اس وقت بھی لوگ مہنگائی سے پریشان ہو کر کانوں کو ہاتھ لگاتے تھے۔ حاجی بھی یہی کہتے کہ حج مہنگا ہو گیا ہے۔ لیکن ہمارے ماما امام بخش کیہر نے ایک دن انکشاف کیا کہ حج تو سستا ہوتا جا رہا ہے! .... ہم تو بڑے حیران ہوئے اور پوچھا کہ وہ کیسے؟ .... کہنے لگے :
”سیدھی سی بات ہے۔ پہلے چار سو من دھان بیچ کر حج ہوتا تھا، اب تین سو من دھان کے پیسوں میں ہی حج ہو جاتا ہے .... تو حج سستا ہوا کہ مہنگا؟....“
بحری سفر کے حوالے سے اکثر لوگوں کے دل میں یہ خوف بھی ہوتا تھا کہ جہاز دورانِ سفر کہیں ڈوب نہ جائے، اور دوسرا غمگین کرنے والا خیال یہ ہوتا تھا کہ خدانخواستہ اگر کوئی دوران سفر بیمار ہو کر انتقال کر گیا تو اس کا جسد قبر میں دفن کرنے کی بجائے سمندری لہروں کے حوالے کر دیا جائے گا، جہاں اس کا نصیب بس مچھلیوں کی خوراک بننا ہی ہوگا۔چنانچہ ان بحری مسافر حاجیوں کی روانگی کے وقت خوب رونا دھونا مچتا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان تمام تر خدشات پر خدا کے گھر پہنچنے کی آرزو ہی غالب رہتی تھی۔
ہمارے رشتے داروں میں بھی ہر سال کوئی نہ کوئی ضرور حج پرجاتا تھا اور ہم سارا سال ان دنوں کا انتظار کرتے تھے، کیونکہ ان حاجیوں کے ساتھ گاؤں سے کچھ الوداع کرنے والے بھی ضرور آیا کرتے تھے اور ان کے آنے سے گھر میں کئی دن رونق میلہ لگا رہتا تھا۔ حاجی عام طور پر اپنی ضروریات کا تمام سامان یہیں سے اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ کپڑے، کھانے پینے کی اشیاء، خشک راشن، گھی تیل، مصالحے، دوائیں، صابن، سرمہ اور اللہ جانے کیا کیا۔ اماں اکثر حاجانیوں کو اپنے ذاتی جوڑے دے کر کہتیں کہ یہ تم وہاں سوتے وقت پہننے کیلئے استعمال کرنا اور جب میلے ہو جائیں تو انہیں دھونا مت، پھاڑ کر ان کی کترنیں وہیں حرمین کی فضاؤں میں اڑا دینا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ بوسیدہ کترنیں کبھی مجھے بھی وہاں اپنے پاس بلا لیں۔ یہ کہتے کہتے اماں رونا شروع ہو جاتی تھیں۔
اماں کو تو حج کا موقع نہیں ملا، البتہ ہمارے ابا 1980ء میں حج کر آئے۔ وہ ہوائی جہاز سے گئے تھے اور ان کا چالیس دن کا حج تھا۔ اس وقت یہ آج کل کے سوشل میڈیائی روابط تو موجود ہی نہیں تھے ۔ بس بندہ گیا تو اللہ ہی کے حوالے ہو جاتا تھا۔ فون بھی بہت مہنگا ہوتا تھا اس لئے اس کے ذریعے بھی رابطہ مشکل ہوتا تھا ۔ بس کوئی چاہے تو خط و کتابت کر لے۔ پھر یہ خطوط بھی عام طور سے بہت دنوں بعد ہی وصول ہوتے تھے، بلکہ اکثر اپنے لکھے ہوئے خطوط خود حاجی ہی واپس آ کر وصول کرتا تھا۔ ابا نے تو وہاں سے جو خطوط پاکستان لکھے سو لکھے، یہاں سے اماں نے بھی کئی خطوط لکھوا بھیجے اور وہ سارے خطوط میں نے ہی لکھے۔
ابا حج سے واپس آئے تو ہم لوگوں کیلئے کئی تحائف بھی لائے، جن میں سب سے نمایاں چیزیں زوردار الارم والا جرمنی کا مشہور ٹائم پیس وہرلے، نیشنل پاناسونک کا اسٹیریو ساؤنڈ ٹیپ ریکارڈر اور مکے مدینے کی رنگین تھری ڈی تصویروں والا دوربین نما ویو ماسٹر۔ مجھے تو سب سے زیادہ یہ ویو ماسٹر پسند آیا۔ میں ان تھری ڈی تصویروں کو بار بار دیکھتا رہتا اور بس یہی خواہش پیدا ہوتی رہتی کہ ایک نہ ایک دن میں بھی یہ مقدس مقامات دیکھنے ضرور جاؤں گا۔
ابا ساٹھ کی دہائی میں خیرپور کے ایک مدرسے میں عربی قرآن کے استاد رہے تھے ۔ اماں بھی گھر میں بچیوں کو قرآن پڑھایا کرتی تھیں۔ ابا کو وہاں مدینہ منورہ میں اپنے اور اماں کے کچھ پرانے شاگرد مل گئے جو وہیں سعودیہ میں ملازم تھے۔ انہوں نے ابا کی بڑی مہمان نوازی کی۔ پھر جہاں انہوں نے ابا کو ہمارے لئے کئی تحائف دیئے وہیں اماں کیلئے اپنے صوتی پیغامات کے کئی کیسٹ بھی ریکارڈ کر کے بھیجے۔ ابا نے اپنے لائے ہوئے ٹیپ ریکارڈر پر سب سے پہلے جو کیسٹ چلائے وہ انہی محبت بھرے صوتی پیغامات کے تھے ۔ اماں اپنے شاگردوں کی محبت بھری باتوں کو سنتی رہتیں اور آنسو بہاتی رہتیں۔
ابا کے حج کو 24 سال گزر گئے اور آج 29 جولائی 2004ء کے دن مَیں اماں کے ساتھ سرزمینِ حرمین کی طرف روانہ ہو رہا تھا۔ مکے مدینے کے صحراؤں میں ہواؤں کے دوش پر اڑتی اماں کے بوسیدہ کپڑوں کی کترنوں نے بالآخر ان کو اپنے پاس بلا لیا تھا۔
(جاری ہے)

سفرنامہ سعودی عرب (تیسری قسط)عبیداللہ کیہراسی دوران ایک دن مجھے اخبار میں اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت FAO کا ایک ...
29/02/2024

سفرنامہ سعودی عرب (تیسری قسط)
عبیداللہ کیہر
اسی دوران ایک دن مجھے اخبار میں اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت FAO کا ایک اشتہار نظر آیا جس میں ادارے کو اپنے آزاد کشمیر میں ایک پروجیکٹ کیلئے ایک نیشنل کنسلٹنٹ کی ضرورت تھی۔ میں نے فوراً اپلائی کر دیا۔ چند دن بعد انٹرویو کال آگئی۔ میں نے ادارے کے اسلام آباد آفس میں جا کر انٹرویو تو دے دیا لیکن مجھے یقین نہیں تھا کہ یہ نوکری مجھے مل جائے گی۔
ابھی یہ انتظار جاری ہی تھا کہ ایک دن مجھے اپنی شفاء ہسپتال والی نوکری ختم ہونے کا نوٹس مل گیا۔ یعنی وہی ہوا کہ جس کا مجھے خدشہ تھا۔ میں تو بڑا پریشان ہو گیا۔ نوٹس لے کر گھر آیا اور خدا کو یاد کرتا ہوا سو گیا۔ اگلے ہی دن صبح آٹھ بجے میرا فون بجا۔ ایف اے او سے رئیس صاحب کا فون تھا۔ مجھے پروجیکٹ کیلئے منتخب کر لیا گیا تھا۔ میں نے اسی دن جا کر آفس جوائن کیا اور اگلے دن مظفرآباد روانہ ہو گیا۔
یہ پروجیکٹ وقفے وقفے سے تین سال جاری رہا۔ اس پروجیکٹ میں مجھے اتنا اچھا معاوضہ ملا کہ 2004ء میں پروجیکٹ کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے پر میں نے اسلام آباد کے مضافات میں موٹروے کے قریب ڈھائی لاکھ روپے کا ایک پلاٹ خرید لیا اور پروجیکٹ میں وقفہ آتے ہی اس پر اپنا مکان بھی بنوانا شروع کر دیا۔ اسلام آباد کرایہ داروں اور مالک مکانوں کا شہر ہے۔ یہاں رہنے والا ہر کرایہ دار ہمہ وقت اس پریشانی کا شکار رہتا ہے کہ سال بعد کرایہ بڑھ جائے گا اور اگر میں وہ دینے کے قابل نہ ہوا تو مالک مکان کی طرف سے گھر خالی کرنے کا نوٹس مل جائے گا۔ یہی خدشہ مجھے بھی رہتا تھا۔ چنانچہ میں مستقل اس کوشش میں لگا رہتا کہ اسلام آباد کی مضافاتی کم قیمت آبادیوں میں ہی کوئی ذاتی ٹھکانہ بنا لوں تاکہ مالک مکان کے مطالبوں سے بچ سکوں۔
مکان کی تعمیر کا کام شروع کئے ابھی کچھ ہی دن گزرے ہونگے کہ کراچی سے اماں میرے پاس اسلام آباد آئیں اور آتے ہی یہ مطالبہ رکھ دیا کہ انہیں عمرے پر جانا ہے اور میرے ہی ساتھ جانا ہے۔ وہ غالباً چھوٹے بیٹے حبیب اللہ کی ناگہانی موت کے صدمے اور مستقل غم کو اللہ کے گھر جا کر اللہ کے سامنے پیش کر کے اپنے لئے صبر و استقامت کی دعائیں کرنا چاہتی تھیں۔
اب صورتحال یہ تھی کہ میں مکان کی تعمیر میں پوری طرح پھنسا ہوا تھا اور مالی صورتحال بھی نازک تھی۔ ان حالات میں سب کام چھوڑ چھاڑ کر عمرے کیلئے روانہ ہو جانا ممکن نظر نہیں آتا تھا۔ لیکن ایک بات تو یہ کہ اماں کا حکم تھا اور دوسری بات یہ کہ یہ جو مکے مدینے کے سفر ہوتے ہیں، ان کا منصوبہ ہم نہیں بناتے، یہ کہیں اور بنتا ہے۔ اللہ جس کو جب چاہتا ہے اپنے گھر بلا لیتا ہے۔ چنانچہ یہی ہوا کہ امی کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے اپنا کام چھوڑ کر ساری توجہ عمرے کی تیاری پر مرکوز کر دی۔ سب سے پہلے ایک ٹریول ایجنٹ سے رابطہ کیا اور پاسپورٹ وغیرہ اس کے پاس جمع کروا دیئے۔ چونکہ ہمارابلاوا آچکا تھا اس لئے ویزا بھی بغیرکسی رکاوٹ کے چند ہی دن میں لگ گیا۔ یعنی اب تو جانا ہی جانا تھا۔ چنانچہ میں نے اور اماں نے تیاریاں شروع کردیں۔
مکے مدینے کی داستانیں ہم بچپن سے سنتے چلے آ رہے تھے۔ ہوش سنبھالتے ہی حج کی جو سب سے پہلی روداد سنی وہ ہمارے اپنے نانا جان کی داستان تھی۔ میرے نانا داوؤد کیہر، جنھیں لوگ داؤ فقیر کہتے تھے، ایک آزاد منش شخص تھے۔ وہ رہتے تو جیکب آباد کے ایک گاؤں ہی میں تھے لیکن وہاں ان کی اپنی کوئی زمین یا جائیداد نہیں تھی۔ گزر اوقات کیلئے وہ شکار اور لوہار کا کام کرتے تھے۔ وہ ہلوں کے آہنی پھل بنانے، فصل کاٹنے والی درانتیاں تیار کرنے اور بندوقوں کی مرمت وغیرہ کے ماہر تھے۔ انہوں نے گوٹھ کے قریب سے گزرنے والی نہر کے کنارے پر ایک جھونپڑی بنا رکھی ہوتی تھی جہاں لوہا پگھلانے کی بھٹی بھی لگا رکھی تھی۔ یہاں وہ لوگوں کے اوزار مرمت بھی کیا کرتے تھے اور نئے اوزار بھی تیار کرتے تھے۔ جھونپڑی کے اطراف میں انہوں نے طرح طرح کی سبزیاں اگا رکھی ہوتی تھی جن سے وہ روزانہ سبزیاں توڑ کر اپنے گھر کیلئے بھی لاتے تھے اور گاؤں والوں میں بھی تقسیم کرتے تھے۔ ہم جب بھی گاؤں جاتے تو میں موقع پاتے ہی بھاگ کر سیدھا نانا کی جھونپڑی پہنچ جاتا۔
ماہر آہن گرہونے کے ساتھ ساتھ نانا ایک مشاق شکاری بھی تھے۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں جیکب آباد کے اطراف میں کئی جنگلات تھے جن میں طرح طرح کی جنگلی حیات پائی جاتی تھی۔ جا بہ جا جھیلوں کے اندر مرغابیوں اور دیگر آبی پرندوں کا شکار ہوتا تھا۔ جنگلی جھاڑیوں میں تیتر، بٹیر، چکور سمیت طرح طرح کے پرندوں کی بہتات تھی۔ جھیلوں، تالابوں اور ندیوں میں اعلیٰ قسم کی مچھلی شکار ہوتی تھی۔ ہرن، خرگوش، گیدڑ، بھیڑیئے، سور اور دیگر طرح طرح کے جنگلی جانور بھی بکثرت تھے۔ مچھلیاں ، تیتر، بٹیر، ہرن، خرگوش .... اماں کہتی تھیں کہ جب تک نانا زندہ رہے ہم نے کبھی کسی قسم کا گوشت بازار سے خرید کر نہیں کھایا۔ اماں نانا کا یہ قصہ بھی اکثر سناتی تھیں کہ ایک مرتبہ ایک بڑا افسر اس علاقے میں شکار کیلئے آیا تو اس کے ساتھ مددگار شکاری کے طور پر نانا کو بھی لیا گیا۔ وہ افسر نانا کی شکاری مہارت سے اس قدر متاثر اور خوش ہوا کہ جاتے وقت نانا سے بولا :
”میں تمہیں انعام دینا چاہتا ہوں۔ کوئی زمین کا ٹکڑا لینا چاہو، مویشی چاہئیں یا کوئی بندوق، جو خواہش ہو پوری کروں گا۔“
نانابولے : ”میری تو بس ایک ہی خواہش ہے۔“
اس نے پوچھا کیا؟.... تو نانا بولے کہ مجھے بس حج کروا دیں، یہ آپ کا مجھ پر بہت بڑا احسان ہوگا۔
افسر تو یہ بات فوراً ہی مان گیا۔ وہ پچاس ساٹھ کی دہائی تھی۔ اس زمانے میں حج ہزاروں لاکھوں نہیں بلکہ سینکڑوں روپوں میں بھی ہو جاتا تھا۔ چنانچہ اگلے ہی سال نانا کے حج کا انتظام ہو گیا۔ نانا کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری ہو گئی اور وہ بحری جہاز کے ذریعے غالباً ساڑھے سات سو روپے کے مجموعی اخراجات میں حاجی بن کر واپس آگئے۔ لیکن حج کرنے کے بعد بھی ان کا نام ”داؤ فقیر“ ہی رہا، انہوں نے اپنے نام کے ساتھ ”حاجی“ کبھی نہیں لگایا۔
نانا حج کر کے واپس تو آ گئے، لیکن اپنا دل وہیں مکے مدینے میں چھوڑ آئے۔ اب ان کا دل یہاں نہیں لگتا تھا۔ وہ زندگی میں کم از کم ایک بار اور مکہ مدینہ جانے کیلئے بے چین رہنے لگے۔ لیکن اب روز روز تو اُس سرکاری افسر جیسے مہربان نہیں ملتے کہ اپنے خرچ پرحج کروا دیں۔ خود نانا بیچارے تو غریب آدمی تھے۔ ان کے پاس اپنی یہ خواہش پوری کرنے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ وہ پیدل ہی حج کرنے نکل جائیں۔ چنانچہ ایک دن انہوں نے کچھ زادراہ ساتھ لیا اور گھر سے سرزمینِ عرب کا قصد کر کے نکل گئے۔ اندازہ یہی ہے کہ وہ جیکب آباد سے کوئٹہ، پھر آگے مستونگ، نوشکی، چاغی، دالبندین اور تفتان کے راستے ایرانی سرحد تک گئے ہوں گے۔ نہ ان کے پاس ویزا تھا نہ کوئی پروانہ راہداری۔ بس کسی نہ کسی طرح چھپ چھپا کر سرحد عبور کی اور ایران کے جنوبی صحراؤں کی خاک چھانتے ہوئے عراقی سرحد تک پہنچ گئے۔ لیکن وہاں انہیں عراقی سرحدی اہلکاروں نے کاغذات نہ ہونے پر گرفتار کر لیا اور کچھ دن بعد ایران کی طرف واپس بھیج دیا۔ نانا دل براشتہ و دل گرفتہ واپس تو آ گئے، مگر بقیہ زندگی اسی غم میں گزار دی۔ یہ قصہ میری پیدائش سے بھی پہلے کا تھا اور اسے ہم نے اماں کی زبانی اسی طرح سنا تھا۔

سفرنامہ سعودی عرب (پہلی قسط)عبیداللہ کیہرمجھے تا دمِ تحریر حج کرنے کا موقع تو نہیں ملا، البتہ عمرہ اللہ کی مہربانی سے تی...
27/02/2024

سفرنامہ سعودی عرب (پہلی قسط)
عبیداللہ کیہر
مجھے تا دمِ تحریر حج کرنے کا موقع تو نہیں ملا، البتہ عمرہ اللہ کی مہربانی سے تین بار کر چکا ہوں۔ اگر کوئی مسلمان اپنے کسی سفر میں سرزمینِ عرب پر سے پرواز کرتا ہوا گزرے مگر اس کے دل میں حرمین کی زیارت کا خیال نہ آئے تو اسے اپنے ایمان پر غور کرنا چاہئے۔ مسلمان جب بھی کسی غیر ملکی سفر کا ارادہ کرتا ہے تو ایسا ٹریول پلان بنانے کی کوشش کرتا ہے کہ جس میں وہ جاتے ہوئے یا واپسی پر سعودی عرب میں اتر کر عمرہ و زیارتِ مدینہ کی سعادت ضرور حاصل کرے۔
1995ء میں مَیں نے بھی اپنے پہلے غیر ملکی ہوائی سفر کے وقت یہی سوچا تھا۔ ویسے تو میری زندگی کا اولین غیر ملکی سفر 1987ء میں چین کا تھا مگر وہ ایک زمینی سفر تھا۔ کراچی سے سنکیانگ کے شہر کاشغر تک وہ سفر میں نے بائی روڈ شاہراہ قراقرم کے راستے کیا تھا۔ اس کے پانچ سال بعد اگلا غیر ملکی سفر ایران کا تھا مگر وہ سفر بھی بائی روڈ ہی تھا جس میں مَیں کراچی سے کوئٹہ، تفتان، زاہدان، اصفہان اورتہران سے ہوتے ہوئے شمالی ایران میں بحیرہ کیسپیئن کے ساحلوں تک گیا تھا۔
میرا پہلا غیر ملکی ہوائی سفر 1995ء میں ترکی کا تھا۔ میں نے تو چونکہ یہی سوچ رکھا تھا کہ جب بھی مجھے ہوائی جہاز کے ذریعے کسی بین الاقوامی سفر کا موقع ملا اور میرا جہاز سرزمین ِ عرب پر سے اڑتا ہوا گزرا تو میں لازماً حرمین کی زیارت کروں گا، بیت اللہ میں عمرہ ادا کروں گا اور مدینے میں حاضری دوں گا۔ یہ موقع مجھے اپنے ترکی کے پہلے سفر میں مل رہا تھا۔ چنانچہ ترکی کا ویزہ لگتے ہی میں نے استنبول سے واپسی میں عمرہ کرنے کی نیت سے سعودی ویزا اپلائی کردیا۔ چونکہ ترکی کا ویزا لینے کیلئے ایئر ٹکٹ پہلے لینا پڑتا تھا، اس لئے وہ میں پہلے ہی لے چکا تھا اور فلائٹ کا دن بھی طے ہو چکا تھا۔ عمرے کا ویزا البتہ ابھی نہیں لگا تھا۔ جس دن فلائٹ تھی اس سے ایک دن پہلے عمرے کا ویزا پاسپورٹ پر لگ کر آنا تھا، لیکن اسی دن مجھے ٹریول ایجنٹ نے فون کر کے بتایا کہ میری ویزا ایپلیکیشن میں وہ لوگ غلطی سے میرے شناختی کارڈ کی کاپی لگانا بھول گئے تھے۔
اس نے کہا کہ میں فوراً کاپی لے کر سعودی سفارت خانے پہنچ جاؤں تاکہ آج ہی ویزا لگ جائے۔ میں تو گھبرا ہی گیا اور فوراً سفارت خانے پہنچا جہاں میرا ٹریول ایجنٹ پہلے ہی پہنچ چکا تھا۔ لیکن وہاں کافی دیر انتظار کرنے کے بعد بتایا گیا کہ آج کسی وجہ سے ویزا نہیں لگ سکتا، کل آئیں ویزا لینے کیلئے۔ لیکن صورتحال یہ تھی کہ اگلے دن میرے لئے ویزا لینا ممکن ہی نہیں تھا کیونکہ میری فلائٹ آج رات ہی کی تھی۔ چنانچہ ایک بجھے ہوئے دل کے ساتھ میں نے اپنا پاسپورٹ واپس لیا اور اس رات سیدھا ترکی چلا گیا۔ترکی اسی دن جانا اس لیے بھی ضروری تھا کہ مجھے وہاں عام انتخابات سے دو دن پہلے استنبول پہنچنا تھا۔ اگر میں عمرہ ویزا کیلئے دو دن مزید انتظار کرتا تو ویزا تو شاید لگ جاتا لیکن جس مقصد کی خاطر مجھے ترکی جانا تھا وہ فوت ہو جاتا۔
بہرحال وہ سال تو گزر ہی گیا اور پھر مزید آٹھ سال بھی گزر گئے۔ 2001ء میں میری ملازمت اسلام آباد کے ایک معروف ہسپتال میں ہو گئی چنانچہ میں کراچی سے اسلام آباد منتقل ہو گیا۔ 2003ء کا جون تھا۔ اسلام آباد میں شدید گرمی پڑ رہی تھی۔ ایک لانگ ویک اینڈ آیا تو میں نے والدہ اور بچوں کو گاڑی میں بٹھایا اور ہم سوات کیلئے روانہ ہو گئے۔ اٹک پل سے دریائے سندھ کو عبور کرنے کے بعد ہم جی ٹی روڈ پر نوشہرہ کی طرف چلنے کی بجائے جہانگیرہ سے صوابی کی طرف مڑ گئے۔ میرا خیال تھا کہ ہم صوابی سے مردان پہنچیں گے اور پھر آگے تخت باہی، درگئی اور ملاکنڈ سے ہوتے ہوئے سوات جائیں گے۔ ہم صوابی سے آگے آگئے اور مردان سے ابھی کچھ پیچھے ہی تھے کہ اچانک میرے موبائل فون کی گھنٹی بجی۔ کراچی سے میرے بڑے بھائی کا فون تھا۔ انہوں نے یہ دردناک اطلاع دی کہ چھوٹے بھائی حبیب اللہ کو شدید ہارٹ اٹیک ہوا ہے اور وہ ہسپتال میں کومے میں ہے۔ میں تو سناٹے میں آ گیا۔ اماں کو ڈرتے ڈرتے یہ بات بتائی تو وہ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے گھٹی گھٹی آواز کے ساتھ رونا شروع ہو گئیں۔
میں نے گاڑی وہیں سے موڑی۔ اسلام آباد پہنچتے ہی جہاز سے دو سیٹیں بک کروائیں اور بچوں کو یہیں چھوڑ کر اماں اور میں رات تک کراچی پہنچ گئے۔ یہاں ہمارے گھر میں ایک کہرام مچا ہوا تھا کیونکہ ڈاکٹرز نے حبیب اللہ کے حوالے سے تقریباً مایوسی کا اظہار کر دیا تھا۔ صورتحال انتہائی غیر یقینی تھی چنانچہ اگلے دو چار روز میں میں نے بچوں کو بھی اسلام آباد سے بلا لیا۔ حبیب اللہ لیاقت نیشنل ہسپتال میں ایڈمٹ تھا اور ہمارا کام صرف گھر سے ہسپتال اور ہسپتال سے گھر کے چکر لگانا تھا۔ ایک مہینہ بائیس دن کی مسلسل بے ہوشی کے بعد حبیب اللہ نے جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی اور ہماری کتابِ زندگی میں ایک درد انگیز باب کا اضافہ کر کے چلا گیا۔
نوکری سے دو تین ماہ کی غیر حاضری کے بعد بالآخر میں اسلام آباد واپس آ گیا۔ نوکری دوبارہ شروع تو کر دی لیکن آفس کے ماحول میں مجھے کچھ بے چینی محسوس ہونے لگی۔ مجھے خدشہ ہوا کہ کسی دن نوکری سے نکال نہ دیا جائے۔ یہ شک اس قدر بڑھا کہ میں نے چپکے چپکے دوسری نوکری کی تلاش بھی شروع کر دی۔ ایک دن مجھے اخبار میں سعودی عرب کے معروف ”سعودی جرمن ہسپتال“کیلئے مدینہ منورہ میں آڈیوویژؤل منیجر کی ویکنسی نظر آئی۔ میں نے فوراً اپلائی کر دیا اور مقررہ دن ایجنٹ آفس جا کر انٹرویو بھی دے دیا۔ لیکن کافی عرصہ انتظار کے باوجود اس کا انٹرویو کا کوئی جواب نہ آیا۔
(جاری ہے)

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamaat-e-Islami TV posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share