10/05/2026
وہ لڑکی شروع سے ایسی نہیں تھی
بچپن میں وہ بہت بولتی تھی۔
ہنستی تھی… کھلکھلاتی تھی…
اور ہر بات پر سوال کرتی تھی۔
"امی، آسمان نیلا کیوں ہوتا ہے؟"
"ابو، بارش کہاں سے آتی ہے؟"
لیکن پھر آہستہ آہستہ…
اس کے سوال ختم ہو گئے۔
اور ایک دن… اس کی آواز بھی۔
اس کا نام عائشہ تھا۔
گھر میں سب اسے "گڑیا" کہتے تھے۔
کیونکہ وہ واقعی گڑیا جیسی تھی—خاموش، سجی ہوئی، اور دوسروں کے ہاتھوں میں۔
وقت گزرتا گیا،
اور اس نے سیکھ لیا کہ
کچھ باتیں کہنے کے لیے نہیں ہوتیں…
بس سہنے کے لیے ہوتی ہیں۔
کالج میں اس کی ملاقات **احمد** سے ہوئی۔
وہ مختلف تھا۔
وہ عائشہ کو دیکھ کر نظریں نہیں جھکاتا تھا،
بلکہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر مسکراتا تھا۔
پہلی بار کسی نے اس سے پوچھا:
"تم اتنی خاموش کیوں رہتی ہو؟"
عائشہ نے جواب نہیں دیا…
مگر اس دن کے بعد، وہ سوال اس کے دل میں گونجتا رہا۔
احمد اسے روز لائبریری میں دیکھتا۔
وہ ایک ہی کونے میں بیٹھتی، کتاب کھولتی… مگر پڑھتی نہیں تھی۔
ایک دن احمد اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
"تمہیں پتہ ہے، کچھ لوگ کتابیں نہیں پڑھتے…
وہ خود ایک کہانی ہوتے ہیں۔"
عائشہ نے پہلی بار سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
اور نہ چاہتے ہوئے بھی…
اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
وہ چھوٹی سی مسکراہٹ
احمد کے لیے پوری دنیا بن گئی۔
دن گزرتے گئے۔
اب وہ دونوں ساتھ بیٹھتے،
کم بولتے… مگر بہت کچھ محسوس کرتے۔
احمد اسے کہانیاں سناتا،
اور عائشہ خاموشی سے سنتی۔
ایک دن احمد نے آہستہ سے کہا:
"اگر تم کبھی بولنا چاہو…
میں سننے کے لیے ہمیشہ یہاں ہوں۔"
یہ پہلی بار تھا
کہ عائشہ کو لگا
کہ شاید…
وہ بول سکتی ہے۔
مگر زندگی ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔
گھر والوں نے اس کی شادی طے کر دی۔
وہی پرانی کہانی…
وہی خاموشی…
عائشہ نے احمد کو کچھ نہیں بتایا۔
بس ایک دن…
وہ کالج آنا چھوڑ گئی۔
احمد روز اس کا انتظار کرتا رہا۔
وہی کرسی… وہی کونا…
مگر عائشہ نہیں آئی۔
کچھ مہینوں بعد،
ایک خط آیا۔
"احمد،
میں نے کبھی بولنا نہیں سیکھا…
کیونکہ مجھے کبھی سننے والا نہیں ملا۔
تم پہلے شخص تھے
جس نے میری خاموشی کو بھی سمجھا۔
میں نہیں جانتی کہ زندگی مجھے کہاں لے جائے گی…
مگر تم نے مجھے یہ احساس دیا
کہ میں صرف ایک گڑیا نہیں ہوں۔
اگر کبھی اگلی زندگی ہوئی…
تو میں بولوں گی۔
اور تم سننا۔