میراچونیاں کا باقاعدہ آغاز 14 اگست 2014 کو ہوا۔ یہ چونیاں شہر اور ضلع قصور میں اپنی نوعیت کا واحد اور پہل اسوشل میڈیا گروپ ہے جو کہ شہری وسائل اور مسائل پر بات کر رہا ہے
میراچونیا ںنوجوان طبقہ خصوصاً طالب علموں کے لیے ایک ایسا موقع فراہم کر رہا ہے جہاں وہ اپنی صلاحییتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک باوقار شہری کے طور پر ملک و قوم کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ میراچونیاں اس بات پر مصمم
یقین رکھتا ہے کہ صرف نوجوانوں اور فریش ٹیلینٹ کے ذریعے ہی منفرد اور اچھوتے آئیڈیاز کو سکرین کا حصہ بنایا جاسکتا ہے کیونکہ اِنکے خیالات تعمیری سوچ سے لبریزاور جذبات حب الوطنی سے سرشار ہوتے ہیں
میراچونیاں وہ واحد سوشل میڈیا گروپ ہے جو نہ صرف بڑھتی ہوئی معاشرتی برائیوں اور مسائل کی نشاندہی کررہا ہے بلکہ ان کے حل کے لیے بھی میدانِ عمل میں آیا ہے۔ سوچ میڈیا نوجوانوں کے ذریعے ملکِ پاکستان کا خوش اخلاق چہرہ دنیا پر عیاں کرنے کے لیے سر گرم عمل ہے۔ آئیے اس کے اس مشن کا حصہ بنئیے کیونکہ اس جدوجہد کو کامیاب بنانے کے لیے سوچ کو آپ کے بھرپور تعاون کی ضرورت ہے۔
میراچونیاں کی ٹیم اس کے مقصد کو پورا کرنے کے لیے دن رات مصروفِ عمل ہے۔ اگر آپ کوئی تجویزیا رائے دینا چاہیں تو ہمیں ضرور آگاہ کیجئیے۔ آپ کی قیمتی آراء اور تجاویز سوچ کو بہتر سے بہترین بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں
ٹیم سٹی
23/12/2025
Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Umar Farooq Kailani, Hamza Nisar, Muhammad Umar
23/12/2025
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری کا عمل ملکی تاریخ کے ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ ادارہ صرف ایک تجارتی کمپنی نہیں بلکہ پاکستان کی پہچان، قومی وقار اور سفری تاریخ کی علامت رہا ہے۔ حالیہ پیش رفت کے تحت عارف حبیب کنسورشیئم کی جانب سے پی آئی اے کے اکثریتی حصص حاصل کرنا ایک ایسا فیصلہ ہے جس پر ملک بھر میں بحث جاری ہے۔ عارف حبیب کنسورشیئم پاکستان کے معروف کاروباری اور مالیاتی اداروں پر مشتمل ایک اتحاد ہے، جس کی قیادت ممتاز صنعت کار اور سرمایہ کار عارف حبیب کر رہے ہیں۔ یہ کنسورشیئم سرمایہ کاری، مالیاتی نظم و نسق اور بڑے اداروں کی بحالی کا وسیع تجربہ رکھتا ہے، اور یہی تجربہ اب قومی ائیر لائن کی بہتری کے لیے بروئے کار لانے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔
چیئرمین عارف حبیب کنسورشیئم، عارف حبیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس تاثر کو واضح کیا کہ پی آئی اے کی اصل طاقت اس کا انسانی سرمایہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس اعلیٰ معیار کے پروفیشنلز موجود ہیں اور کنسورشیئم کی اولین ترجیح یہی ہوگی کہ انہی لوگوں کو آگے بڑھنے کا پہلا موقع دیا جائے۔ ان کے مطابق پی آئی اے کو باہر سے نہیں بلکہ اندر سے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، اور اگر موجودہ عملہ خلوص، دیانت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ کام کرے تو ادارے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ عارف حبیب نے اعتماد کا اظہار کیا کہ پی آئی اے اسی اسٹاف کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے، کیونکہ تجربہ کار افرادی قوت کسی بھی ادارے کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب پی آئی اے کے پاس نہ صرف بہتر کیپٹل موجود ہے بلکہ ایسا اسٹاف بھی ہے جو ایوی ایشن کے شعبے میں برسوں کا تجربہ رکھتا ہے۔ ماضی میں مالی بحران، سیاسی مداخلت اور انتظامی کمزوریوں کے باعث یہ صلاحیتیں صحیح طور پر استعمال نہ ہو سکیں، تاہم اب حالات بدلنے کی گنجائش موجود ہے۔ عارف حبیب کے مطابق نجکاری کا اصل مقصد ادارے کو منافع بخش بنانا ہی نہیں بلکہ اسے ایک مستحکم، بااعتماد اور جدید ایئرلائن کے طور پر دوبارہ کھڑا کرنا ہے۔
انہوں نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ کنسورشیئم مستقبل میں پی آئی اے کے باقی 25 فیصد شیئرز کے حوالے سے بھی پروفیشنل انٹرنشنل ایئر لائن اور متعلقہ فریقین سے بات چیت کر سکتا ہے، تاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے تجربات اور آراء سے استفادہ کیا جا سکے۔ ان کے نزدیک اجتماعی دانش اور شراکت داری ہی بڑے اداروں کو کامیاب بناتی ہے، اور پی آئی اے جیسے حساس قومی ادارے میں یکطرفہ فیصلوں کے بجائے مشاورت زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
سیاسی بھرتیوں سے متعلق سوال کے جواب میں عارف حبیب کا مؤقف خاصا واضح تھا۔ انہوں نے کہا کہ کنسورشیئم کی کوشش ہوگی کہ اسٹاف اپنی ترجیحات کو درست سمت میں رکھے اور ذاتی یا سیاسی وابستگیوں کے بجائے پی آئی اے کی بہتری کو مقدم سمجھے۔ ان کے بقول اگر عملہ ادارے کے ساتھ مخلص ہو کر کام کرے تو نہ صرف سروس کا معیار بہتر ہوگا بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہو گا، جو کسی بھی قومی ادارے کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پی آئی اے کا بحران صرف مالی نہیں بلکہ انتظامی اور طرزِ فکر کا بحران بھی رہا ہے۔ ایسے میں عارف حبیب کنسورشیئم کی جانب سے پیش کیا جانے والا ماڈل، جس میں سرمایہ، تجربہ اور مقامی پروفیشنلز پر اعتماد شامل ہے، ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ یہ وعدے کس حد تک عملی شکل اختیار کرتے ہیں اور کس حد تک سیاسی اثر و رسوخ سے پاک فیصلے کیے جاتے ہیں۔
پی آئی اے کی بحالی صرف ایک کمپنی کی کامیابی نہیں بلکہ یہ پاکستان کے بین الاقوامی تشخص، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے اعتماد اور قومی خودداری سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اگر عارف حبیب کنسورشیئم واقعی پیشہ ورانہ بنیادوں پر اصلاحات نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پی آئی اے ایک بار پھر وہ مقام حاصل کر سکتی ہے جو کبھی اس کا طرۂ امتیاز تھا۔ بصورت دیگر یہ نجکاری بھی محض ایک مالی معاہدہ بن کر رہ جائے گی۔ آنے والا وقت ہی فیصلہ کرے گا کہ یہ قدم قومی ائیر لائن کے لیے نئی پرواز ثابت ہوتا ہے یا ایک اور آزمائش۔
21/12/2025
چائے سردی کی شام اور دوست
21/12/2025
🌟 𝐂𝐇𝐀𝐌𝐏𝐈𝐎𝐍𝐒 🌟
Pakistan clinch the ACC Men's U19 Asia Cup 2025 title! 🏆
| |
20/12/2025
ریحان ملک کب سے سعودی عرب میں ہے؟
16/12/2025
بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا بے وفائی نہ تھی
10/12/2025
ریاض میں زروا الافکار کمپنی کی جانب سے صحافتی کمیونٹی کے اعزاز میں عشائیہ میں شرکت کی۔ ریسٹورنٹ کا وزٹ بے حد خوشگوار رہا — کھانے کا ذائقہ، ماحول، اور گفتگو ہر لحاظ سے شاندار تھی۔ صحافتی احباب سے ملاقات نے اس وزٹ کو مزید یادگار بنا دیا
خصوصی طور پر میں محترم سید ثاقب زبیر صاحب کا شکریہ آپ نے شاندار میٹ اپ کا اہتمام کیا۔ محترم طلحہ زبیر، محترم ابراہیم جٹ، محترم مروت گیلانی اور پوری ٹیم کا بھی خصوصی شکریہ جنہوں نے بہترین انتظامات سے پروگرام کو کامیاب بنایا۔
اللہ کریم زروا الافکار کے ریسٹورنٹ اور کمپنی کے تمام پراجیکٹس میں کامیابیاں، آسانیاں اور برکتیں عطا فرمائے۔ آمین۔
یہ بات باعثِ فخر ہے کہ زروا الافکار کمپنی ایک پاکستانی کمپنی ہے جو سعودی عرب میں فارن انویسٹمنٹ پروگرام کے تحت ہولڈر MISA لائسنس کمپنی اس وقت درج ذیل شعبوں میں نمایاں خدمات سرانجام دے رہے ہے:
تعمیراتی شعبہ (Construction)
ہیوی ایکوئپمنٹ (Heavy Equipment)
کنٹریکٹنگ (Contracting)
ٹرانسپورٹ (Transport)
ریسٹورنٹ اور ہاسپٹیلٹی (Restaurant & Hospitality)
کمپنی کی بہترین سروس، اعتماد اور پیشہ ورانہ طریقہ کار قابلِ تحسین ہے — یہی وجہ ہے کہ زروا الافکار سعودی مارکیٹ میں تیزی سے اپنی جگہ بنا رہی ہے۔
Zarwa Al Afkar Contracting Grill & Chill Saqib Zubair Muhammad Ibraheem Jutt
09/12/2025
تیسری انٹرنیشنل پنجابی کانفرنس لاہور
تحریر کامران اشرف
تیسری انٹرنیشنل پنجابی کانفرنس 5 دسمبر سے 7 دسمبر تک لاہور میں منعقد ہوئی جو تین روز جاری رہنے کے بعد کامیابی سے اختتام پذیر ہوگئی۔ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج، آرٹ اینڈ کلچر (پِلاک) اور پنجابی پرچار، پنجابی لوک لہر اور دوسری پنجابی تنظمیوں کے تعاون سے ہونے والی اس بین الاقوامی علمی و ثقافتی تقریب میں دنیا بھر سے محققین، شاعروں، ادیبوں، صحافیوں، سیاسی رہنماؤں، بیوروکریٹس، اساتذہ اور نوجوانوں نے بھرپور شرکت کی۔ ’’آؤ پنجاب تے پنجابی دی گل کرئیے‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اس عالمی اجتماع نے پنجابی زبان، ادب، ثقافت، تاریخ اور موجودہ سیاسی و تہذیبی بیانیے پر گہرے مباحث کا موقع فراہم کیا۔
احمد رضا پنجابی، ناصر ڈھلوں اور پوری ٹیم نے بھرپور محنت سے کانفرنس کا انعقاد کیاممتاز شخصیات نے اپنے خطابات میں پنجابی شناخت، تہذیبی ورثے اور معاصر سیاسی بیانیے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پنجابی زبان ایک قدیم تہذیب کی امین ہونے کے ساتھ جدید دور کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ کانفرنس کے دوران مختلف ڈسکشن پینل منعقد کیے گئے جن میں زبان کی ترقی، تحقیق، نصاب، سرکاری پالیسی، دیاسپورا پنجابی اور ثقافتی بقا جیسے اہم موضوعات زیرِ بحث آئے۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مادری زبانیں معاشروں کی فکری و سیاسی سمتوں کا تعین کرتی ہیں اور پنجابی زبان کو تعلیمی و سرکاری سطح پر وہ مقام ملنا چاہیے جس کی وہ مستحق ہے۔
کانفرنس صرف علمی مباحث تک محدود نہ رہی بلکہ تھیٹر پرفارمنسز، لوک سنگیت، بھنگڑا، جھومر، دستاویزی فلموں اور کتاب میلے نے اسے ایک بھرپور ثقافتی رنگ بھی بخشا۔ پنجاب کے لوک فنکاروں کی پیشکشوں نے شرکاء کو پنجاب کی صدیوں پرانی روایات اور ورثے سے جوڑے رکھا۔ تھیٹر گروپس کی جانب سے پیش کیے گئے سماجی و ادبی موضوعات پر مبنی ڈراموں نے حاضرین کی توجہ حاصل کی، جبکہ کتاب میلے میں مختلف مصنفین کی پنجابی کتب اور تحقیقی ذخیرے کی نمائش نے اہلِ علم کو متاثر کیا۔
پنجابی پرچار، پنجابی لوک لہر اور دیگر تنظیموں نے کانفرنس کے انتظامی و فکری پہلوؤں میں بھرپور کردار ادا کیا اور اسے عالمی سطح پر متعارف کرانے میں اہم حصہ ڈالا۔ ان تنظیموں کی کوششوں سے یہ کانفرنس صرف ایک سالانہ تقریب نہیں بلکہ پنجابی زبان اور ثقافت کی نئی تحریک کا مرکز بن چکی ہے۔
پلاک لاہور میں ہونے والی یہ کانفرنس دراصل اس سفر کا تسلسل ہے جو 2023 میں پہلی بین الاقوامی پنجابی کانفرنس سے شروع ہوا اور 2024 میں دوسری کانفرنس تک وسعت اختیار کرتا گیا۔ اس بار بھی دنیا کے مختلف خطوں سے آئے مندوبین نے یہ ثابت کیا کہ پنجابی زبان کا دائرہ صرف برصغیر تک محدود نہیں بلکہ یہ عالمی سطح پر پہچان رکھنے والی ایک بھرپور ثقافتی زبان ہے۔
اختتامی اجلاس میں پیش کیے گئے ’’پنجابی اعلامیہ 2025‘‘ میں زبان کے فروغ، تحقیقی منصوبوں کے آغاز، تعلیمی نصاب میں مادری زبان کی شمولیت، نئی پبلی کیشنز، ڈیجیٹل آرکائیوز اور نوجوانوں کے لیے تربیتی پروگراموں کی سفارشات شامل تھیں۔ شرکاء نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پنجابی زبان کا مستقبل روشن ہے بشرطیکہ ادارے، تعلیمی شعبہ، میڈیا اور سماجی تنظیمیں مشترکہ طور پر عملی اقدامات کریں۔
کانفرنس کے اختتام پر یہ احساس نمایاں تھا کہ لاہور ایک بار پھر پنجابی ثقافت اور علمی تحریک کا مرکز بن کر ابھرا ہے۔ ’’آؤ پنجاب تے پنجابی دی گل کرئیے‘‘ محض ایک عنوان نہیں بلکہ زبان و شناخت کے تحفظ کی نئی تحریک کا پیغام بن چکا ہے، جسے آنے والے برسوں میں مزید تقویت ملنے کی توقع ہے۔
Nasir Dhillon
Ahmad Raza Punjabi
Be the first to know and let us send you an email when Kamran Ashraf posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.