15/06/2026
قصور میں عدالتی نظام نے تنگ اکر درخواست گزار نے کمرہ عدالت میں گولی چلا کر عدالتی سٹاف کو ہی مار دیا ۔۔
نوجوان درخواست گزار کہنا ہے کہ کام کاج چھوڑ کر ا جاتا ہوں کبھی کہتے ہو یہ ڈاکومنٹ پکڑو اور جاو کبھی تاریخ دے دیتے ہو ۔
ذرا سوچیں ایک انسان جو مہینوں سے نہیں بلکہ برسوں سے عدالت کے چکر لگا رہا ہے۔ صبح سویرے گھر سے نکلتا ہے جیب میں مشکل سے اتنے پیسے ہوتے ہیں کہ رکشے کا کرایہ ادا کر سکے۔
وکیل کی فیس الگ عدالت کی بھیڑ الگ اور پھر وہ لمحہ جب جج صاحب کا منشی سرکاری لہجے میں کہتا ہے اگلی تاریخ آٹھ ہفتے بعد۔ یہ لمحہ کسی کو توڑ دیتا ہے۔ قصور میں یہی ہوا۔ برداشت کی ڈور ٹوٹی تو گولی چلی اور جج کے سٹینو کی لاش فرش پر گر گئی۔
انتہای قابل مذمت واقعہ ہے یہ سب نہی ہونا چاہیے تھا ۔ یہ واقعہ صرف ایک ق ت ل نہیں یہ اس نظام کا آئینہ ہے جو عشروں سے عوام کو پیس رہا ہے۔
پہلا سوال یہ ہے کہ آخر تاریخ پر تاریخ کیوں ملتی ہے۔ اس کا جواب سب جانتے ہیں مگر کوئی بولتا نہیں۔ ایک جج کے سامنے پانچ سو سے زیادہ مقدمات ہوتے ہیں۔ عدالتیں عملے کی کمی کا شکار ہیں۔ سماعت کا وقت اتنا کم ہے کہ ہر مقدمے کو صرف منٹوں میں نمٹانا پڑتا ہے اور پھر اگلی تاریخ دے دی جاتی ہے۔ یہ انصاف نہیں یہ انصاف کا ڈھونگ ہے۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ اس نظام سے کون فائدہ اٹھاتا ہے۔ جواب صاف ہے وہ فریق جو طاقتور ہے اور جس کے پاس وسائل ہیں۔ وہ سالوں تک مقدمہ کھینچ سکتا ہے کیونکہ اس کا وکیل مہنگا ہے اور اس کی جیب گہری ہے۔ غریب آدمی کی ہمت ٹوٹتی رہتی ہے اور آخرکار یا تو وہ سمجھوتہ کر لیتا ہے یا وہ کر گزرتا ہے جو قصور میں ہوا۔
تیسرا سوال جو سب سے بڑا ہے وہ یہ ہے کہ اس نظام کو کسی نے بدلنے کی ضرورت کیوں نہیں سمجھی۔ برطانوی دور کے قوانین آج بھی لاگو ہیں۔ ضابطہ فوجداری وہی ہے جو انگریز چھوڑ گیا۔ ٹیکنالوجی سے استفادہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اوپر سے بار اور بنچ کے درمیان ایسے مفادات پیوستہ ہیں کہ اصلاح کی ہر کوشش دم توڑ دیتی ہے۔
سٹینو بے قصور تھا مگر یاد رہے وہ اس نظام کا حصہ تھا جس نے ایک شخص کو اس حد تک توڑا کہ اس نے ہتھیار اٹھا لیا۔
اصل مجرم وہ لوگ ہیں جنہوں نے دہائیوں تک اس نظام کو جوں کا توں رکھا۔ وہ حکمران وہ قانون ساز اور وہ ادارے جن کا کام اصلاح تھا مگر جنہوں نے صرف اپنے مفادات کی حفاظت کی۔
جب تک پاکستان میں انصاف سستا تیز اور سب کے لیے برابر نہیں ہوگا ایسے واقعات ہوتے رہیں گے ۔