KPK: Moving Toward Solutions

  • Home
  • KPK: Moving Toward Solutions

KPK: Moving Toward Solutions Share your problems and post possible cost effective solution for it so that KPK govt should make it

16/07/2026

My thoughts....
سب سے بڑی نشانی: زندگی، موت اور خالق کا راز
آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے آپ سے ایک سوال کریں:
"میں کیا ہوں؟"
کیا میں صرف چند عناصر کا مجموعہ ہوں؟
کیا میں صرف carbon, hydrogen, oxygen, nitrogen اور دوسرے atoms اور molecules کا ایک منظم مجموعہ ہوں؟
حیرت کی بات یہ ہے کہ وہی atoms اور molecules جو ایک زندہ انسان کو بناتے ہیں، خود زندہ نہیں ہوتے۔ یہی عناصر مٹی، پتھر، پانی اور کائنات کی دوسری چیزوں میں بھی موجود ہیں۔
لیکن جب یہی بے جان ذرات ایک خاص ترتیب اور نظام کے ساتھ جمع ہوتے ہیں تو وہ ایک ایسا انسان بناتے ہیں جو:
دیکھ سکتا ہے،
سن سکتا ہے،
سوچ سکتا ہے،
محبت کر سکتا ہے،
درد محسوس کر سکتا ہے،
خواب دیکھ سکتا ہے،
اور سب سے بڑھ کر یہ سوال کر سکتا ہے:
"مجھے کس نے پیدا کیا؟"
یہی زندگی کا سب سے بڑا راز ہے۔
زندگی اور موت کا راز
ذرا ایک ایسے انسان کے بارے میں سوچیں جو ابھی ابھی وفات پا گیا ہو۔
جسم وہی ہے۔
دل، پھیپھڑے، دماغ اور دوسرے اعضاء اپنی جگہ موجود ہیں۔
جسم کے atoms اور molecules غائب نہیں ہوئے۔
DNA، proteins اور chemicals بھی موجود ہیں۔
صرف چند لمحے پہلے یہی جسم زندہ تھا، حرکت کر رہا تھا، سوچ رہا تھا، بات کر رہا تھا۔
پھر کیا بدلا؟
مادہ تو وہی ہے۔
عناصر تو وہی ہیں۔
لیکن وہ حیرت انگیز coordination اور organisation ختم ہو گئی۔
وہ کروڑوں خلیے جو ایک مکمل نظام کی طرح مل کر کام کر رہے تھے، اب وہ رابطہ اور ہم آہنگی باقی نہیں رہی۔
دل دھڑکنا چھوڑ دیتا ہے۔
پھیپھڑے oxygen کا تبادلہ بند کر دیتے ہیں۔
دماغ شعوری تجربہ پیدا کرنا بند کر دیتا ہے۔
سوال یہ ہے:
آخر وہ کون سی حقیقت تھی جو ان بے جان atoms کو ایک زندہ انسان بننے پر مجبور کرتی تھی؟
اور موت کے لمحے:
آخر کیا چیز جسم سے جدا ہوئی کہ وہی جسم جو زندگی سے بھرپور تھا، خاموش ہو گیا؟
قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے:
"اور وہ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ دیجیے: روح میرے رب کے حکم سے ہے، اور تمہیں علم میں سے بہت تھوڑا دیا گیا ہے۔"
(سورۃ الإسراء 17:85)
یہ آیت علم حاصل کرنے سے نہیں روکتی، بلکہ انسان کو یاد دلاتی ہے کہ ہماری عقل اور علم، چاہے کتنے ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہو جائیں، پھر بھی محدود ہیں۔
DNA: زندگی کی چھپی ہوئی کتاب
ہر انسانی cell کے اندر DNA موجود ہے۔
یہ صرف ایک chemical molecule نہیں بلکہ ایک حیرت انگیز information system ہے۔
اس میں وہ ہدایات موجود ہیں جو طے کرتی ہیں:
کون سے proteins بنیں گے،
کب بنیں گے،
کہاں بنیں گے،
جسم کے مختلف اعضاء کیسے تشکیل پائیں گے،
immune system کیسے کام کرے گا۔
ایک fertilised cell کے اندر وہ معلومات موجود ہوتی ہیں جو ایک مکمل انسان بنانے کے لیے درکار ہیں:
دماغ، آنکھیں، دل، ہڈیاں، خون، immune system اور پورا جسم۔
انسان جب کوئی کتاب، computer code یا پیچیدہ instruction دیکھتا ہے تو فوراً سمجھتا ہے کہ اس کے پیچھے intelligence موجود ہے۔
تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا زندگی کے اندر موجود یہ عظیم ترین information system بغیر کسی حکمت اور intelligence کے وجود میں آ سکتا ہے؟
جوڑوں (Pairs) میں تخلیق: ایک واضح نشانی
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور ہم نے ہر چیز کو جوڑوں میں پیدا کیا تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔"
(سورۃ الذاریات 51:49)
ہم اپنے اردگرد اس حکمت کو دیکھتے ہیں:
مرد اور عورت — تاکہ زندگی کا سلسلہ جاری رہے۔
دو آنکھیں — تاکہ ہمیں depth perception اور تین جہتی بصارت حاصل ہو۔
دو کان — تاکہ ہم آواز کی سمت پہچان سکیں۔
دو گردے — تاکہ filtration بہتر ہو اور ایک اضافی صلاحیت موجود رہے۔
دو پھیپھڑے — تاکہ oxygen کا موثر تبادلہ ہو۔
تخلیق میں بار بار balance، harmony اور مکمل تعاون نظر آتا ہے۔
سوال یہ ہے:
کیا یہ سب صرف اتفاق ہے، یا یہ کسی حکیم خالق کی نشانی ہے؟
انسانی علم کی حد اور سورۃ الاخلاص کا پیغام
اسلام کے سب سے گہرے عقائد میں سے ایک سورۃ الاخلاص میں بیان ہوا ہے:
"کہہ دیجیے: وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ اور کوئی بھی اس کے برابر نہیں۔"
(سورۃ الاخلاص 112:1-4)
انسان چیزوں کو سمجھنے کے لیے comparison کا سہارا لیتا ہے۔
ہم گرمی کو اس لیے سمجھتے ہیں کیونکہ ہم نے ٹھنڈک کا تجربہ کیا ہے۔
ہم اندھیرے کو اس لیے سمجھتے ہیں کیونکہ ہم روشنی کو جانتے ہیں۔
ہم بلندی کو اس لیے سمجھتے ہیں کیونکہ ہم پستی دیکھ چکے ہیں۔
ہم انسان کو اس لیے سمجھتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ انسان والدین سے پیدا ہوتا ہے۔
ہماری تمام معلومات ہمارے محدود حواس سے آتی ہیں:
آنکھ،
کان،
لمس،
ذائقہ،
خوشبو۔
لیکن ہمارے حواس محدود ہیں۔
ہم بہت سی لہریں نہیں دیکھ سکتے۔
ہم بہت سی آوازیں نہیں سن سکتے۔
ہم حقیقت کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ محسوس کر سکتے ہیں۔
تو جب ہم سوال کرتے ہیں:
"اللہ کیسا نظر آتا ہے؟"
تو ہم ایک ایسا سوال کر رہے ہوتے ہیں جو ہماری مخلوقی سوچ کی حدود کے اندر ہے۔
لیکن اللہ فرماتا ہے:
"اس جیسی کوئی چیز نہیں۔"
(سورۃ الشوریٰ 42:11)
اللہ کسی مخلوق کی طرح نہیں۔
نہ وہ جسم کی حدود میں ہے، نہ وقت و مکان کا محتاج ہے۔
ہم مخلوقات کو مثالوں اور موازنوں سے سمجھتے ہیں، لیکن اللہ وہ خالق ہے جس نے تمام مثالیں اور تمام موازنہ پیدا کیے۔
مخلوق اور خالق کے درمیان فرق
ہر چیز جسے ہم جانتے ہیں کسی نہ کسی کا محتاج ہے:
انسان والدین کا محتاج ہے۔
جانور نسل کے تسلسل کا محتاج ہے۔
اشیاء بنانے والے اور مادے کی محتاج ہیں۔
لیکن اللہ فرماتا ہے:
"نہ وہ پیدا ہوا اور نہ اس کو کسی نے جنا۔"
(سورۃ الاخلاص 112:3)
کیونکہ جو پیدا ہوتا ہے وہ کسی کا محتاج ہوتا ہے۔
اور جو خالق ہے وہ خود کسی کا محتاج نہیں ہو سکتا۔
اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ:
الاول ہے — سب سے پہلے،
الآخر ہے — سب کے بعد باقی رہنے والا،
اور سب کا محتاج نہیں بلکہ سب اسی کے محتاج ہیں۔
آخری غور و فکر
جتنا ہم غور کرتے ہیں:
atom میں،
DNA میں،
cell میں،
انسانی دماغ میں،
زندگی اور موت کے راز میں،
اور پوری کائنات کے نظام میں،
اتنا ہی احساس ہوتا ہے کہ وجود صرف بے مقصد مادہ نہیں۔
ایک مردہ جسم اور زندہ جسم کے atoms ایک جیسے ہو سکتے ہیں، لیکن ایک میں زندگی کی حیرت انگیز تنظیم اور شعور ہوتا ہے اور دوسرے میں نہیں۔
DNA ایک ایسی information رکھتا ہے جس کی گہرائی آج بھی انسان کے لیے حیرت کا باعث ہے۔
تخلیق میں جوڑے، توازن اور حکمت کے آثار نظر آتے ہیں۔
اور پھر بھی خالق خود مخلوق جیسا نہیں۔
اسی لیے قرآن فرماتا ہے:
"ہم عنقریب انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کے اپنے وجود میں بھی، یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ یہی حق ہے۔"
(سورۃ فصلت 41:53)
شاید سب سے بڑی نشانی صرف یہ نہیں کہ ہم کائنات کو دیکھ سکتے ہیں۔
بلکہ یہ ہے کہ:
ہم خود اس قابل بنائے گئے ہیں کہ کائنات کو سمجھنے کی کوشش کریں، سوال کریں، اور اپنے خالق کو تلاش کریں۔
"اور خود تمہارے اپنے وجود میں بھی (نشانیاں ہیں)، کیا تم دیکھتے نہیں؟"
(سورۃ الذاریات 51:21)
یہ دراصل اسلامی فکر کے دو بنیادی تصورات کو جوڑتا ہے: توحید (اللہ کی یکتائی) اور تنزیہ (اللہ کا مخلوق سے بالکل مختلف ہونا)۔

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when KPK: Moving Toward Solutions posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share