KPK: Moving Toward Solutions

  • Home
  • KPK: Moving Toward Solutions

KPK: Moving Toward Solutions Share your problems and post possible cost effective solution for it so that KPK govt should make it

28/12/2025
25/12/2025

عوامی مسائل کو سامنے لانے والا ایک غیر جانبدار پلیٹ فارم۔
ہم سڑکوں، تعلیم، صحت، انصاف، سرکاری غفلت اور روزمرہ عوامی مسائل پر آواز اٹھاتے ہیں۔

📹 ہمیں اپنی ویڈیوز بھیجیں
اگر آپ کے علاقے میں کوئی مسئلہ ہے،
یا کسی قسم کی بدعنوانی، ناانصافی، نااہلی یا عوامی مسئلہ درپیش ہے تو:

➡️ براہِ کرم ویڈیو ثبوت کے ساتھ ہمیں میسج کریں۔
➡️ ویڈیو کے ساتھ جگہ، مسئلے کی تفصیل اور تاریخ ضرور لکھیں۔

🔒 آپ کی شناخت مکمل طور پر محفوظ رکھی جائے گی۔

ہم آپ کی آواز متعلقہ حکام تک پہنچائیں گے اور عوام تک سچ لائیں گے۔

بولیے، دکھائیے، تبدیلی لائیے۔

📩 رابطہ کریں: ان باکس / میسنجر

📢 عوامی شکایت – سڑک کی خراب حالت کے بارے میںالسلام علیکم،یہ پوسٹ ہم اپنے علاقے کے ایک نہایت سنگین مسئلے کی طرف توجہ دلان...
25/12/2025

📢 عوامی شکایت – سڑک کی خراب حالت کے بارے میں

السلام علیکم،

یہ پوسٹ ہم اپنے علاقے کے ایک نہایت سنگین مسئلے کی طرف توجہ دلانے کے لیے کر رہے ہیں۔

📍 مقام:
ورسک روڈ، شیر کلی
یونین کونسل گھری شیر داد – وی سی دھری کلی، پشاور

ہمارے علاقے کی سڑک انتہائی خستہ حال ہو چکی ہے۔ تقریباً 800 میٹر سے 1 کلومیٹر تک سڑک مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
بچے اسکول نہیں جا پا رہے، مریضوں کو اسپتال پہنچانے میں شدید دشواری پیش آ رہی ہے، اور بارش کے دنوں میں صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے۔

ہم نے متعدد بار چیئرمین انعام صاحب اور متعلقہ حکام کو آگاہ کیا، مگر افسوس کہ اب تک کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔

ہم متعلقہ اداروں سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ:

➡️ فوری طور پر اس سڑک کی مرمت کا کام شروع کیا جائے
➡️ کم از کم 800 میٹر تا 1 کلومیٹر سڑک قابلِ استعمال بنائی جائے

اگر کوئی ذمہ دار ادارہ یا فرد ہماری مدد کر سکتا ہے تو براہِ کرم آگے بڑھے۔

شکریہ۔


عرفان خان
(رہائشی: شیر کلی، پشاور)

25/12/2025

📣 عوامی اعلان – عوامی مسائل کے لیے پلیٹ فارم

اہم اعلان!

اب ہم اپنے علاقے کے عوام کے مسائل کو اجاگر کریں گے اور متعلقہ اداروں تک پہنچائیں گے۔

اگر آپ کو درج ذیل میں سے کسی بھی مسئلے کا سامنا ہے تو ہم سے رابطہ کریں:

✅ ہم درج ذیل مسائل اٹھائیں گے:

🛣️ سڑکوں اور گلیوں کے مسائل

🏫 اسکول اور تعلیمی مسائل

🏥 اسپتال اور صحت سے متعلق مسائل

💧 پانی، بجلی اور گیس کے مسائل

⚖️ پولیس اور عدالتی معاملات

🗑️ صفائی اور کوڑا کرکٹ کے مسائل

🚧 نکاسی آب (سیوریج) کے مسائل

🚌 ٹرانسپورٹ اور عوامی سہولیات

🏘️ علاقائی ترقی اور سرکاری غفلت

آپ کا مسئلہ — ہماری آواز

براہِ کرم اپنا مسئلہ مکمل تفصیل کے ساتھ ان باکس کریں یا کمنٹ میں لکھیں۔

مل کر اپنے علاقے کو بہتر بنائیں گے، ان شاء اللہ۔

07/10/2025

آئینہ اور پتھر

مقصود ہمیشہ ہر بحث جیتنا چاہتا تھا۔
جب وہ کسی کو چپ کرا دیتا، تو اُس کے اندر ایک عجیب سا سکون آتا —
جیسے اُس کا غرور مطمئن ہو گیا ہو۔
اُسے یقین تھا کہ اُس کی رائے سب سے درست ہے، اُس کی بات حرفِ آخر ہے۔
اپنی عقل، اپنی نوکری، حتیٰ کہ اپنی ہلکی سی مسکراہٹ پر بھی وہ فخر کرتا۔

مگر اُس فخر کے نیچے ایک چھپا ہوا خوف تھا —
“اگر لوگ میری تعریف کرنا چھوڑ دیں؟ اگر میں کمزور لگوں؟
اگر میری بیوی میری بات نہ مانے؟”

فرشتہ اُس کی دوسری بیوی تھی۔
پہلی بیوی جا چکی تھی۔
مقصود اکثر کہتا،
“وہ میرے قابل نہیں تھی، ہمیشہ کہتی تھی میں نفسیاتی مسئلے میں مبتلا ہوں۔”
مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ اُس کے غرور بھری ماحول میں سانس نہیں لے سکتی تھی۔

شروع میں فرشتہ کے لیے زندگی جیسے خواب تھی —
تحفے، تعریفیں، محبت۔
مگر جلد ہی اُسے احساس ہوا کہ مقصود کے لیے محبت ایک ہتھیار ہے —
جو وہ قابو رکھنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

ایک شام مقصود دفتر سے غصے میں لوٹا۔
ایک کلائنٹ نے اُس کے پروجیکٹ پر سوال اٹھایا تھا۔
وہ صوفے پر بیٹھا، فون گھماتا ہوا بڑبڑانے لگا:
“یہ سب جاہل ہیں، میری قدر کوئی نہیں جانتا!”

در حقیقت، دفتر میں کوئی بھی اُس کے قریب نہیں رہنا چاہتا تھا۔

فرشتہ نے نرمی سے کہا:
“لگتا ہے تم بہت ناراض ہو۔”

مقصود: “ناراض نہیں، بس تنگ آ گیا ہوں۔ تم عورتیں ہر بات دل سے لگاتی ہو،
دنیا عقل سے چلتی ہے، احساسات سے نہیں!”

فرشتہ نے آہستہ سانس لیا۔
“مقصود، جب تم بولتے ہو تو مجھے صرف غصہ نہیں،
بلکہ خوف محسوس ہوتا ہے —
جیسے تم ڈرتے ہو کہ کوئی تمہاری کمزوری دیکھ نہ لے۔”

مقصود کی آنکھوں میں چمک آئی، “تمہیں کچھ نہیں پتا!
بس مجھے نیچا دکھانا چاہتی ہو!”

فرشتہ نے خاموشی سے کہا:
“میں وہ عورت ہوں جو تمہارا غصہ روز سہتی ہے۔
مگر تم مجھے دیکھتے نہیں — صرف اپنا عکس دیکھتے ہو۔
تم نے ایسا آئینہ بنا لیا ہے جس میں صرف تم ہو…
اور میں اُس میں کہیں نہیں ہوں۔”

کمرہ خاموش ہو گیا۔
مقصود کے اندر کچھ ہلنے لگا۔

فرشتہ نے دھیرے سے کہا:
“تم سمجھتے ہو چیخنا طاقت ہے،
مگر اصل میں تم وہ بچہ ہو جو سمجھتا ہے کہ کامل بننا ہی محبت پانے کا راستہ ہے۔
اور میں اب اُس بچے کے زخموں کی قیمت نہیں دے سکتی۔”

وہ اُٹھ کر چلی گئی۔

مقصود اکیلا بیٹھا رہا۔
اُس کے ذہن میں گونجتا رہا — “وہ بچہ…”
اُسے اپنے باپ کی آواز یاد آئی:
“اگر بہترین نہیں بنو گے، تو کچھ نہیں بنو گے!”

پہلی بار، اُس نے اپنے غصے کے پیچھے چھپی شرمندگی کو محسوس کیا۔
اُسے احساس ہوا — وہ آئینہ نہیں، ایک پھٹا ہوا پتھر ہے
جو صرف خود کو دکھاتا ہے۔

اگلی صبح، مقصود آہستہ سے بولا:
“شاید… تم ٹھیک کہہ رہی تھیں، فرشتہ۔”
یہ اُس کی زندگی کا پہلا “شاید” تھا — پہلا لمحہِ عاجزی۔

تبدیلی آہستہ آئی۔
وہ پھسلتا، گرتا، مگر اب رک کر سوچتا۔
اور پہلی بار، اُس نے سُننا سیکھا —
دوسروں کو بھی، اور اپنے اندر کے سچ کو بھی۔

فرشتہ نے اُسے بدلا نہیں،
بس آئینہ دکھایا —
اور اس بار، مقصود نے دیکھنے کی ہمت کر لی۔

04/10/2025

🪳 کاکروچ تھیوری — ایک سبق آموز کہانی

ایک ریستوران میں چند خواتین بیٹھی خوش گپیوں میں مصروف تھیں کہ اچانک کہیں سے ایک کاکروچ اُڑتا ہوا آ کر ایک خاتون کے کندھے پر آ بیٹھا۔
وہ خوف سے چیخ پڑی، کپکپانے لگی، ہاتھ پاؤں مارنے لگی۔ باقی خواتین بھی اُس کے ساتھ چیخنے لگیں، پورا ماحول گھبراہٹ سے بھر گیا۔

بڑی مشکل سے اُس نے کاکروچ جھاڑ دیا — مگر وہ جا کر پاس بیٹھی دوسری خاتون پر آ گرا۔
اب چیخنے کی باری اُس کی تھی۔

اسی دوران ایک ویٹر بھاگتا ہوا آیا تاکہ مدد کرے۔
کاکروچ اُڑ کر ویٹر کی قمیض پر بیٹھ گیا۔
مگر ویٹر پرسکون کھڑا رہا۔ نہ گھبرایا، نہ چیخا۔ اُس نے خاموشی سے دیکھا کہ کاکروچ کہاں جا رہا ہے، پھر بڑے اطمینان سے اُسے اپنی انگلیوں سے پکڑا اور باہر پھینک دیا۔

---

🌿 سوچنے کی بات

اب سوال یہ تھا — کیا واقعی کاکروچ اس ساری افراتفری کا ذمہ دار تھا؟
نہیں۔
اصل مسئلہ کاکروچ نہیں تھا، بلکہ لوگوں کا ردِعمل تھا۔

خواتین نے ردِعمل (Reaction) دیا،
جبکہ ویٹر نے جواب (Response) دیا۔

---

🚗 زندگی کی مثال

زندگی میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے —
مسئلہ شور مچانے والا باس نہیں ہوتا،
بلکہ ہماری برداشت کی کمی ہوتی ہے۔

مسئلہ ٹریفک جام نہیں ہوتا،
بلکہ ہمارا بے صبر ہونا ہوتا ہے۔

ہم جتنا پرسکون رہنا سیکھ جائیں،
اتنا ہی زندگی آسان ہو جاتی ہے۔

---

💡

> “مسئلہ کبھی باہر نہیں ہوتا، مسئلہ ہمیشہ ہمارے ردِعمل میں چھپا ہوتا ہے۔
اگر ہم ویٹر کی طرح سنبھل کر جواب دیں،
تو ہر کاکروچ — چاہے وہ زندگی کا ہو یا حالات کا — خود ہی باہر نکل جائے گا۔”

15/09/2025

امی vs بیوی – اصل گُر"

آدھا ٹائم بیوی ناراض رہتی ہے اور آدھا ٹائم امی۔ بیچ میں بیچارے شوہر کے اعصاب فٹبال بنے رہتے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ مرد فطرتاً ہر بات کا حل نکالنے نکل کھڑا ہوتا ہے۔ بیوی کہے: "آپکی امی نے میری برائی کی" تو وہ فوراً پلان بنانے لگے گا کہ کس دن امی کو سمجھائے۔
امی کہے: "بہو نے کچن صاف نہیں کیا" تو اگلے لمحے بیوی کو لیکچر دے ڈالے گا۔

حالانکہ اصل میں کسی کو حل چاہیے ہی نہیں ہوتا 😅 عورت کو زیادہ تر چاہیے کہ کوئی اسکا دکھ سنے، بس! حل تو وہ خود نکال لیتی ہیں۔

امی چاہتی ہیں کہ ان کی بات کو اہمیت دی جائے، بیوی چاہتی ہے اسکے احساس کو مانا جائے۔
مطلب:

امی کے لئے respect space

بیوی کے لئے emotional space

👂 اب مرد کا گُر یہ ہے کہ بس سنے، دل سے سنے۔
امی کہیں: "کچن صاف نہیں تھا" → جواب: "امی آپکا صفائی پر دھیان واقعی کمال ہے۔"
بیوی کہے: "آپکی امی نے مجھے برا کہا" → جواب: "ہاں، یہ واقعی تکلیف دہ ہے۔"

دیکھیں، نوے فیصد مسئلے ویلیڈیشن سے ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ حل دینے کی جلدی مت کریں، ایک کان سے سن کے دوسرے سے مت نکالیں، بلکہ سن کر احساس دلائیں کہ بات ویلیو رکھتی ہے۔

اور سب سے بڑی بات: کبھی ماں کے کہنے پر بیوی سے نہ لڑیں، اور کبھی بیوی کے کہنے پر ماں سے نہ۔ حالات کو خود دیکھیں اور پھر فیصلہ کریں۔

🔑 آخر میں یہی کہنا ہے کہ مرد اگر ہر وقت "فکسنگ موڈ" سے نکل کر "لسننگ موڈ" میں آ جائیں، تو آدھے جھگڑے وہیں ختم ہو جاتے ہیں۔

07/09/2025

زندگی کے سفر میں رشتے بالکل باغ کے پودوں کی طرح ہوتے ہیں۔ کچھ رشتے گلاب کی مانند خوشبو بکھیرتے ہیں، ان کے پاس بیٹھنے سے دل کو راحت ملتی ہے، جیسے روح کو ٹھنڈی ہوا چھو گئی ہو۔ ان کی باتیں روشنی کی کرن کی طرح انسان کے اندھیروں کو کم کر دیتی ہیں۔ یہ مثبت توانائی رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں، جو نہ صرف اپنے دل کو روشن رکھتے ہیں بلکہ دوسروں کی راہوں کو بھی چراغ دکھاتے ہیں۔

مگر ہر باغ میں کچھ کانٹے بھی ہوتے ہیں۔ کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر قریب دکھائی دیتے ہیں مگر ان کی قربت تھکن، بے سکونی اور اندیشے چھوڑ جاتی ہے۔ یہ منفی توانائی والے لوگ ہوتے ہیں۔ ان کی باتوں میں کاٹ ہوتی ہے، ان کے رویوں میں بوجھ، اور ان کی موجودگی میں انسان کے دل کا سکون چھن جاتا ہے۔

چاہے وہ رشتہ دار ہوں، دوست ہوں یا ساتھی، انسان کے دل اور دماغ پر ان کی توانائی گہرا اثر ڈالتی ہے۔ خوشبو والے رشتے زندگی کو جنت کا ٹکڑا بنا دیتے ہیں، اور زہریلے رشتے زندگی کو دوزخ کا عکس دکھا دیتے ہیں۔

اصل دانشمندی یہی ہے کہ انسان اپنی زندگی میں روشنی بانٹنے والے رشتوں کو قریب رکھے، اور اندھیرا پھیلانے والے رشتوں سے فاصلہ رکھے۔ کیونکہ سکونِ دل اور اطمینانِ روح سب سے قیمتی تحفہ ہے، اور یہ صرف مثبت توانائی والے رشتوں کے پاس رہنے سے ملتا ہے۔

03/09/2025

کہانی .دو کردار 🌑

علی اور فہد بچپن کے دوست تھے۔ دونوں ہی زندگی کے امتحانات سے گزرے مگر مختلف انداز سے۔

علی کی کہانی (Personality Disorder)

علی ہمیشہ رشتوں میں مشکل پیدا کرتا۔ کبھی حد سے زیادہ کنٹرول کرتا، کبھی شک میں مبتلا ہو جاتا، کبھی دوسروں کے احساسات کو بالکل نظرانداز کرتا۔ وہ روزمرہ زندگی میں کام بھی کر لیتا تھا مگر اس کے رویے کی سختیاں رشتوں کو توڑ دیتی تھیں۔ لوگ اکثر کہتے، “یہ بڑا مشکل آدمی ہے، عجیب سا مزاج ہے”۔ اصل میں وہ شخصیت کی خرابی (Personality Disorder) کا قیدی تھا، مگر لوگ اسے پاگل نہیں کہتے تھے کیونکہ وہ حقیقت سے جُڑا ہوا تھا۔

فہد کی کہانی (Psychotic Disorder)

فہد دوسری طرف ایک دن کہنے لگا کہ اسے آوازیں آتی ہیں جو کوئی اور نہیں سنتا۔ کبھی کہتا کہ لوگ اس کے خلاف سازش کر رہے ہیں، کبھی حقیقت اور وہم میں فرق کرنا بھول جاتا۔ اس کے خیالات اور رویے حقیقت سے بالکل کٹ گئے تھے۔ یہی وہ کیفیت تھی جسے لوگ عام زبان میں “پاگل پن” کہتے ہیں، مگر طبّی زبان میں یہ سائیکوسس (Psychotic Disorder) کہلاتی ہے۔

---

📌 فرق سمجھنے کا نکتہ

Personality Disorders:
شخصیت کا مستقل انداز، جو بچپن یا نوجوانی سے ہی جڑ جاتا ہے۔ یہ زیادہ تر رشتوں اور رویوں کو متاثر کرتا ہے، مگر انسان حقیقت سے کٹا ہوا نہیں ہوتا۔
👉 لوگ عام طور پر ایسے مریض کو پاگل نہیں سمجھتے۔

Psychotic Disorders:
حقیقت سے کٹ جانا۔ ہذیان (delusions) یا آوازیں سننا (hallucinations) جیسی علامات۔ انسان کی سوچ اور حقیقت میں فرق مٹ جاتا ہے۔
👉 یہی کیفیت ہے جسے لوگ عموماً “پاگل پن” کہتے ہیں۔

---

💊 علاج (Treatment)

Personality Disorders:

بنیادی علاج سائیکو تھراپی (CBT, DBT, Psychodynamic therapy) ہے۔

دوائیاں عموماً صرف علامات (مثلاً ڈپریشن، انگزائٹی یا غصے) کو کم کرنے کے لیے دی جاتی ہیں۔

دیرپا اور صبر آزما علاج، مگر مؤثر اگر مریض تعاون کرے۔

Psychotic Disorders:

اینٹی سائیکوٹک دوائیں علاج کی بنیاد ہیں (مثلاً Risperidone, Olanzapine وغیرہ)۔

ساتھ میں سائیکو ایجوکیشن اور فیملی سپورٹ بہت اہم ہے۔

بعض صورتوں میں اسپتال میں داخلہ بھی ضروری ہوتا ہے۔

---

🌿 نتیجہ

علی کو ضرورت تھی اپنے رویے کو آئینے میں دیکھنے اور تھراپی کے ذریعے بدلنے کی،
جبکہ فہد کو دوائیوں کے ساتھ حقیقت اور وہم میں فرق بحال کرنے کا علاج درکار تھا۔

یعنی، ہر مشکل انسان پاگل نہیں ہوتا، اور ہر پاگل پن صرف رویے کی خرابی نہیں ہوتا۔ دونوں کا فرق سمجھنا ہی اصل علاج کی پہلی سیڑھی ہے۔

03/09/2025

اے اللہ!
ہمیں ہمارے نفس کی قید سے آزاد کر دے،
ہمارے دل کو غصے، لالچ اور تکبر سے پاک فرما،
اور ہمیں وہ روشنی عطا کر جو صرف تیری قربت سے ملتی ہے۔
آمین 🤲

---

🌑 نفس کا قیدی (کہانی) 🌑

وہ شخص شہر کی روشن گلیوں میں چلتا تو لوگ اسے رشک بھری نظروں سے دیکھتے۔ دولت، شہرت اور طاقت—سب کچھ اس کے پاس تھا۔ مگر دل کی ویرانی کسی کو نظر نہیں آتی تھی۔

دنیا کی ہر لذت کو آزمایا، مگر سکون نہ پایا۔ خواہشوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے وہ اپنے ہی نفس کا قیدی بن گیا۔ جتنا پاتا، اتنی ہی پیاس بڑھتی جاتی۔

ایک دن آئینے کے سامنے کھڑا ہوا تو اپنی آنکھوں میں قید کی زنجیریں دیکھیں۔ سمجھ آیا کہ اصل دشمن باہر نہیں، اندر ہے۔ وہی نفس جو اسے اندھی دوڑ میں لگا کر بربادی کے دہانے تک لے آیا تھا۔

لیکن قید کی چابیاں بھی وہیں تھیں—توبہ، صبر اور اللہ کی یاد میں۔ اس نے پہلا قدم بڑھایا اور زنجیریں ایک ایک کر کے ٹوٹنے لگیں۔

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when KPK: Moving Toward Solutions posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share