Herat Kada

Herat Kada Providing serious yet interesting information...We've something for everyone...!!!

آخر کوئی وجہ تو ہے کہ پورے کرہ ارض پر امریکہ ہی واحد ملک ہے جسے خوابوں کی سرزمین کہا جاتا ہے؛ایسی دھرتی جہاں آپ اپنی محن...
10/11/2016

آخر کوئی وجہ تو ہے کہ پورے کرہ ارض پر امریکہ ہی واحد ملک ہے جسے خوابوں کی سرزمین کہا جاتا ہے؛ایسی دھرتی جہاں آپ اپنی محنت کے بل پر کوئی بھی مقام حاصل کر سکتے ہیں۔آپ گیراج میں کام شروع کر کے ایپل کے سٹیو جابز بن سکتے ہیں، آپ ایک چھوٹے سے کمرے سے کام شروع کر کے بل گیٹس بن سکتے ہیں اور آپ کینیا میں مقیم ایک سیاہ فام مسلمان کے پوتے ہوتے ہوئے امریکہ کے صدر بن سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور کچھ نہیں تو فریڈ کی مثال لے لیں ؛جسکے والدین انیسویں صدی میں یورپ سے امریکہ منتقل ہوئے تھے۔
یہ فریڈ صرف تیرہ سال کا تھا جب اُسکا باپ فوت ہو گیا۔امریکہ اُسکے لیے ایک اجنبی دھرتی تھی جہاں اُسکے خاندان کے بہت کم لوگ موجود تھے کیونکہ باقی سب تو یورپ میں ہی رہ گئے تھے۔اپنے گھرانے کے سربراہ سے محروم اس خاندان کی مدد کرنے والا وہاں کوئی نہیں تھا ،سو صرف تیرہ سال کی عمر میں وہ مزدوری کرنے پر مجبور ہو گیا۔وہ سکول جاتا، وہاں پڑھتا اور واپس آ کر آرام کرنے کی بجائے مزدوری پر چلا جاتا۔اُس نے اپنی زندگی کا ابتدائی حصہ محنت اور مشکل میں گزارا۔وہ عمر جب زیادہ تر بچوں کی ٹینشن صرف ہوم ورک تک محدود ہوتی ہے، فریڈ روزگار کی فکر میں گم تھا۔اُس نے مزدوری بھی کی اور بڑھئی کے طور پر بھی کام کیا لیکن لڑکا با ہمت تھا،وہ اپنے لیے کام کرنا چاہتا تھا،اپنا باس خود بننا چاہتا تھا اور خوشحال ہونا چاہتا تھا۔اُسنے اپنی والدہ سے آٹھ سو ڈالر قرض لیااور رئیل اسٹیٹ کے بزنس میں کود پڑا،اِن آٹھ سو ڈالرز کی ابتدائی سرمایہ کاری سے اُس نے ایک گھر بناکرسات ہزار ڈالر میں بیچ دیا۔یہ اُسکے کاروبار کا نقطہ آغاز تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اُس وقت اُسکی عمر اتنی بھی نہیں ہوئی تھی کہ وہ قانونی طور پر چیک سائن کر سکتا اس لیے اُسے اپنی ماں کو پارٹنر کے طور پر فرم میں شامل کرنا پڑا جو اُسکے لیے چیک کاٹا کرتی تھی۔
بائیس سال کی عمر میں، جب عام نوجوان یونیورسٹی سے فارغ ہو کر ابھی عملی زندگی میں داخل ہونے کے منصوبے ہی بنا رہے ہوتے ہیں، فریڈ اپنی باقاعدہ فرم بنا چکا تھا۔
زندگی گزرتی رہی، فریڈ ایک کے بعد ایک رئیل اسٹیٹ بزنس وینچر کا آغاز کرتا رہا،کامیابیاں حاصل کرتا رہا ،حتیٰ کہ ۱۹۹۹میں اپنی موت کے وقت وہ تیس کروڑ ڈالر کا مالک تھا۔
ایک بے سہارا یتیم بچے کا غربت سے تیس کروڑ ڈالر تک کا سفر کچھ کم کامیابی نہیں تھا لیکن فریڈ کی زندگی کی مشقت کا حاصل اُسکی بزنس امپائر کے علاوہ کچھ اور بھی تھا۔یہ اُسکی اولاد تھی۔
اُسکی بڑی بیٹی ماریانہ بیری نے قانون کی تعلیم حاصل کی، دلجمی سے وکالت کی ، اُسکی محنت رنگ لائی، وہ ارباب اختیار کی نظروں میں آگئی اور صدر ریگن نے اُسے نیو جرسی ڈسٹرکٹ کورٹ کی جج کے طور پر نامزد کر دیا۔بعد میں صدر کلنٹن کے دور میں وہ کورٹ آف اپیل کی جج بھی بن گئی۔ماریانہ ایک بھرپور کیرئیر کے بعد پانچ سال قبل ریٹائر ہوئی۔ماریانہ کی کامیابی اپنی جگہ لیکن فریڈ کے دوسرے بیٹے نے تو کمال ہی کر دیا۔وہ ایک مزاحیہ سانوجوان تھا لیکن ایک ذہین کاروباری تھا۔ اُسنے جب اپنے باپ کے تیس کروڑ ڈالر کے کاروبار کو سنبھالا تو اُسے تین ارب تیس کروڑ ڈالر تک لے گیا۔وہ امریکہ کے چند امیر ترین اور کامیاب ترین بزنس ایگزیکٹوز میں سے ایک بنا۔لیکن بات یہاں بھی ختم نہیں ہوتی۔فریڈ کے اِس بظاہر بڑبولے اور غیر سنجیدہ بیٹے نے آج سے صرف پندرہ مہینے پہلے یہ اعلان کیا کہ وہ امریکہ کے اگلے صدارتی الیکشن میں حصہ لے گا۔ایک خالص کاروباری، غیر سیاسی اوربڑی حد تک ایک مضحکہ خیز شخص کے اِس بیان کوکسی نے سنجیدگی سے نہیں لیا لیکن مشکلات سے لڑ کر آگے آنا شاید اُسکے جینز میں شامل ہو چکا تھا۔وہ اپنی جگہ ڈٹا رہا۔مشکلیں بہت آئیں،حتیٰ کہ شروع شروع میں تو یہ لگا کہ شاید وہ اپنی پارٹی کی جانب سے نامزدگی حاصل کرنے میں بھی کامیاب نہ ہو سکے لیکن وہ نہ صرف اپنی پارٹی کی نامزدگی لے اُڑا بلکہ تمام تر توقعات کو روندتے ہوئے الیکشن میں بھی اُس امیدوار کو کامیابی سے پچھاڑ ڈالا جو امریکی اسٹیبلشمنٹ ، امریکی میڈیا اور بزنس کلاس کی پسندیدہ امیدوار تھی۔
فریڈ ٹرمپ کا یہ بیٹا ڈونلڈ ٹرمپ آج سے تقریباً دو ماہ بعد امریکہ کے صدر کا حلف اُٹھائے گا۔
اس بات سے قطع نظر کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت امریکہ یا دنیا کے لیے کیسی ثابت ہوتی ہے، ذرا ایک لمحے کے لیے فریڈ ٹرمپ کی زندگی پر نگاہ دوڑائیں، اُسکی کامیابی کا سکیل دیکھیں اور معترف ہوں امریکی معاشرے کے اُس منفرد جوہر کے جو ایک اجنبی کلچر سے تعلق رکھنے والے تیرہ سالہ یتیم لڑکے کوبھی آگے بڑھنے کے لیے برابر مواقع فراہم کرتا ہے، اُسے کروڑ پتی بناتا ہے، اُسکی بیٹی کو جج شپ کے باوقار منصب پر فائز کرتا ہے اور اُسکے بیٹے کو امریکہ کا صدر بنادیتا ہے۔
یہی امیر یکن ڈریم ہے۔۔۔!
اور یہی امریکہ ہے؛جسے ہم جتنی بھی گالیاں دیں،دنیا کے لیے وہ آج بھی’’مواقع کی سرزمین‘‘ہے۔

Koromo جاپان کا ایک عام سا قصبہ تھا جسکی واحد وجہ شہرت اُس علاقے میں تیار ہونے والا خالص ریشم تھا۔یہاں پر ریشم کے دھاگے ...
22/09/2013

Koromo جاپان کا ایک عام سا قصبہ تھا جسکی واحد وجہ شہرت اُس علاقے میں تیار ہونے والا خالص ریشم تھا۔یہاں پر ریشم کے دھاگے سے کپڑا تیار کرنے کی ملیں بھی تھیں اور اُن ٹیکسٹائل ملز کو مشینیں سپلائی کرنے کے لیے اِسی قصبے کے کِسی گوشے میں ایک چھوٹی سی انڈسٹری وہ بھی تھی جہاں پر وہ مشینیں( پاور لومز) تیار ہوتی تھیں۔
1930 کی دہائی میں جب دُنیا بھر میں روائتی اندازفکر کو خیر آباد کہا جانے لگا، ویسے ہی ریشم کا وہ کپڑا جو کسی زمانے میں امارت کی پہچان تھا اُسے بھی فراموش کیا جانے لگا۔دُنیا بھر کی طرح جاپان میں بھی ریشم کی مانگ کم ہونے لگی تو ریشم کی صنعت پر گزارا کرنے والاKoromo نام کا وہ قصبہ بھی دھیرے دھیرے زوال کی طرف لڑھکنے لگا۔
لیکن اِس سے پہلے کہ یہ قصبہ مکمل گمنامی میں چلا جاتا، پاور لومز بنانے والی اُس انڈسٹری کے مالک نے بدلتی ہوئی دُنیا کو بھانپا اور اپنا کاروبار تبدیل کرنے کی سوچی۔یہ عین وہی دور تھا جب سعودی عرب میں تیل کے بہت بڑے بڑے ذخائر دریافت ہوئے تھے جو اکیلے ہی پوری دُنیا کی تیل کی ضروریات کو کئی دہائیوں تک پوری کرنے کے لیے کافی تھے۔اُس شخص نے، کہ وہ بہر حال ایک ذہین کاروباری تھا،اِس ساری صورتحال سے یہ جان لیا کہ آنے والے وقتوں میں ذاتی کاروں کا زمانہ آنے والا ہے ۔سو اُس نے اپنی فیکٹری کو ایک automobile کمپنی میں بدل دیا۔
یہ TOYOTA کمپنی کا نقطہ آغاز تھا۔اور یہیں سے Koromo نامی اُس قصبے کا بھی ایک نیا اور شاندار جنم ہوا۔
TOYOTA کمپنی کے بینر تلے جو کاریں وہاں تیار ہوئیں وہ پوری دُنیا میں مڈل کلاس طبقوں کی پسندیدہ ترین کاروں میں شامل ہونے لگیں اورچند دہائیوں کے اندر ہی TOYOTA دُنیا کی چند عظیم ترین کار کمپنیز میں سے ایک بن گئی۔کاروں کی بے پناہ کھپت کی وجہ سے فیکٹری پھلتی پھولتی گئی اور علاقے میں روزگار کے نئے نئے مواقع نکلے،کار مینو فیکچرنگ سے وابستہ بے شمار چھوٹے چھوٹے کاروبار پنپنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ چھوٹا سا قصبہ ایک ماڈرن شہرمیں بدل گیا۔چونکہ شہر کی یہ صورت صرف اور صرف TOYOTA کے دم سے تھی سو 1959 کا سال شروع ہوتے ہی، یکم جنوری کو ایک رسمی تقریب میں شہر کا نام بدل دیا گیا۔
Koromo نام کا وہی چھوٹا سا قصبہ اب سرکاری طور پر TOYOTA کہلاتا ہے۔

بالآخر ایک عہد کا خاتمہ ہوا۔وہ شخص جو تن تنہا موسیقی، فلم اور سینما کی دُنیا کا محسن تھا ؛ وہ جس نے ہمارے کانوں کو بہتری...
15/09/2013

بالآخر ایک عہد کا خاتمہ ہوا۔
وہ شخص جو تن تنہا موسیقی، فلم اور سینما کی دُنیا کا محسن تھا ؛ وہ جس نے ہمارے کانوں کو بہترین کوالٹی کی آواز سننے کا عادی بنایا؛ وہ Ray Dolby دو روز چل بسا۔

کم ہی لوگ اُسے نام سے جانتے تھے،لیکن ہم میں سے شائد ہی کوئی ایسا ہو جِس نے Dolby Surround Sound کا وہ مشہور لوگو نہ دیکھا ہو جو آج ہر فلم کے کریڈٹس میں، ہر اچھے سینما میں، ہر ہوم تھیٹر اور ہر ساؤنڈ سسٹم پر، حتیٰ کہ ہر ملٹی میڈیا لیپ ٹاپ پر بھی موجود ہے۔

آواز کی دُنیا سے اُسکا تعلق بہت قدیم تھا۔یہ 50 کی دہائی تھی۔ Ampex نامی ایک امریکی کمپنی دُنیا کے پہلے ویڈیو ٹیپ ریکارڈر پر کام کر رہی تھی۔ رے ڈولبی(جو اُس وقت ایک نوجوان طالبِ علم تھا) نے اپنے کیرئیر کا آغاز اُس ٹیم میں ایک کنسلٹنٹ کے طور پر شامل تھا۔جب کئی سال کی محنت اور تحقیق کے نتیجے میں 1956 میں اِس ٹیم نے دنیا کا پہلا ویڈیو ٹیپ ریکارڈر Quadruplex ریلیز کیا تو یہ فوراً ہی ایک سپر ہٹ آئیٹم بن گیا۔صِرف اِس ایک ایجاد نے ٹیلی ویژن براڈ کاسٹنگ کی دُنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔

لیکن ڈاکٹر ڈولبی کی اصل وجہ شہرت Dolby Noise Reduction کا وہ سسٹم ہے جس نے فلموں کی ساؤنڈ مکسنگ کے طریقہ کار کو بالکل بدل کر رکھ دیا۔1970 کی دہائی کی فلموں کی ساؤنڈ کوالٹی بہت بُری ہوتی تھی۔ڈولبی نے اس مسئلے کو حل کرنے کی ٹھانی اور اِس معاملے پر ریسرچ میں جُت گیا۔نتیجے کے طور پر Dolby Noise Reduction کا وہ طریقہ کار ایجاد ہوا جو آج بھی اچھی آواز کی پہچان ہے ۔ڈولبی کی اِس دریافت کی وجہ سے بہت سی ایسی فلموں کی پروڈکشن ممکن ہو گئی جن کے بارے میں اُس سے پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔۔مثلاً 1977 میں بننے والی Star Wars فلم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر Noise Reduction کا وہ طریقہ کار ایجاد نہ ہوا ہوتا تو اِس فلم کی پروڈکشن کے بارے میں سوچا بھی نہ جا سکتا تھا۔

ڈاکٹر ڈولبی کے نام تقریباً پچاس پروڈکٹس کے پیٹنٹ موجود ہیں اور اِن ایجادات نے اُسے دُنیا کے امیر ترین انسانوں میں سے ایک بنایا تھا۔وہ ڈھائی ارب ڈالر کے اثاثوں کا مالک تھا۔لیکن وہ کبھی پیسے کے لیے کام نہیں کرتا تھا۔وہ موسیقی اور فلم سے اپنے عشق کی وجہ سے اِس فیلڈ میں تھا۔

فلم اور میوزک انڈسٹری پر یہ اُسکے احسانات کا ہی صلہ تھا کہ ڈاکٹر ڈولبی کو ایک نہیں بلکہ دو مرتبہ آسکر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

یہ میریسا مئیرہیں ۔سیلیکون ویلی کی سب سے طاقتور خاتون !!!اور مشہور زمانہ Forbes میگزین کے مُطابق دُنیا کی 32ویں طاقتور ت...
13/09/2013

یہ میریسا مئیرہیں ۔سیلیکون ویلی کی سب سے طاقتور خاتون !!!
اور مشہور زمانہ Forbes میگزین کے مُطابق دُنیا کی 32ویں طاقتور ترین خاتون !!!
آج سے بہت پہلے اُنہوں نے اُس وقت گوگل میں کام کا آغاز کیاتھا جب گوگل نے انٹرنیٹ کی دُنیا میں قدم رکھا تھا۔وہ تیرہ سال تک وہاں ایک محنتی ورکر کے طور پر کام کرتی رہیں۔گوگل میں کام کے دوران میریسا نے انجینئر، ڈیزائنر اور پراڈکٹ مینیجر کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے گوگل سرچ، گوگل امیج، گوگل میپس، گوگل بُکس، گوگل ٹول بار، جی میل اور آئی گوگل پر کام کیا تھا۔حتیٰ کہ گوگل سرچ کے اُس مشہورِ زمانہ رنگ برنگے لیکن سادہ ہوم پیج کا ڈیزائن بھی میریسا مئیر کی زیرِ نگرانی ہی تیار ہوا تھا جِس سے آج ہم سب واقف ہیں۔
اُسی میریسا مئیر نے پچھلے سال Yahoo کو جوائن کیا۔آج صرف 38 سال کی عُمر میں وہ اِس وقت کمپیوٹر ورلڈ کی چند طاقتو ر ترین کمپنیز میں سے ایکYahoo! کی چیف ایگزیکٹو ہیں۔لیکن کمپیوٹر ورلڈ کے سب سے بڑے سٹیک ہولڈر گوگل میں کام کرنے والی میریسا کو اپنے ساتھ کام کرنے کے لیے آمادہ کرناYahoo جیسی بڑی کمپنی کے لیے بھی آسان نہیں تھا۔
اِسکے لیے مریسا مئیر نے Yahoo سے بہت ٹھیک ٹھاک پیکج ڈیمانڈ کیا۔یہ اُسی پیکج کی مہربانی ہے کہ مئیر نے پہلے چھ ماہ میں Yahoo سے جو رقم وصول کی ہے وہ پاکستانی کرنسی میں ساڑھے تین ارب روپے سے بھی زیادہ بنتی ہے۔یعنی دو کروڑ روپے روزانہ۔میریسا کو Yahoo ساڑھے چار لاکھ ڈالر ماہانہ تنخواہ دے رہا ہے۔اِس تنخواہ کے علاوہ میریسا مئیر نے تقریباً بارہ لاکھ ڈالر بونس بھی کمایا۔لیکن اُنہیں اصل فائدہ اور آمدنی ساڑھے تین کروڑ ڈالر کے اُن شئیرز کی صورت میں ہوا جو کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ہونے کی حیثیت سے Yahoo نے اُنہیں دیے تھے۔
میریسا مئیر کِسی بھی Fortune 500 کمپنی کی کم عُمر ترین خاتون چیف ایگزیکٹو ہیں۔

سائنسدان بھی کِسی صوفی ، درویش کی مانند ہی ہوتے ہیں۔سر جھکا کر اپنے کام میں لگے یہ لوگ چاہے جس بھی فیلڈ میں ہوں،اُنکی تح...
13/09/2013

سائنسدان بھی کِسی صوفی ، درویش کی مانند ہی ہوتے ہیں۔سر جھکا کر اپنے کام میں لگے یہ لوگ چاہے جس بھی فیلڈ میں ہوں،اُنکی تحقیق اور زندگیوں کا بنیادی مقصد انسان کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے۔
آپ کینیا ہی کی مثال لے لیں۔
کینیا افریقہ کا ایک غریب اور پسماندہ ملک ہے جہاں عرصہ دراز سے قحط سالی کا راج ہے۔بارشیں نہ ہوں تو زمین بانجھ ہو جاتی ہے اور آبادیاں ویرانوں میں بدل جاتی ہیں۔کینیا میں گزشتہ طویل عرصہ سے جاری قحط سالی کی وجہ سے تقریباً ایک کروڑ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔یعنی کینیا کا ہر چوتھا باشندہ اِس کے اثرات بھگت رہا ہے۔کینیا کے بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں ہر تیسرا شخص بھوک کا شکار ہے۔وہا ں زراعت کے لیے پانی ملنا تو ایک نا ممکن سی عیاشی ہے لیکن پینے کے پانی کے لیے بھی لوگوں کو دس دس میل تک چلنا پڑتا ہے۔اور پینے کا پانی مل بھی جائے تو ایسے ملک میں اُسکا کیا فائدہ جہاں پانی کی کمی کی وجہ سے زراعت ہی دم توڑ چکی ہو،کہ پانی صرف پیاس بجھاسکتا ہے، بھوک کو مٹانا اِسکے بس سے باہر ہے۔
لیکن اللہ نے انسان کو ہر جگہ میں ہر طرح کے حالات کیلئے تمام تر وسائل فراہم کیے ہیں،یہ اور بات ہے کہ اُنہیں کھوجنے کی ذمہ داری خود انسان پر چھوڑ دی کہ اپنی عقل استعمال کرے اور اِن وسائل کو اپنے لیے استعمال کرے۔اِسی عقل کو استعمال کرنے والے جیولوجی کے ماہرین نے صدیوں تک مسلسل تحقیق کے بعد کِسی حد تک اِس بات پر دسترس حاصل کر لی ہے کہ زمین کے اندر موجود قدرتی خزانوں کی کھوج لگا سکے۔
کینیا کے لوگوں کی دہائیوں پر مبنی اذیت کو دیکھتے ہوئے یونیسکو نے جاپانی حکومت کی فنڈنگ سے ایک بہت بڑے پراجیکٹ پر کام شروع کیا۔اُنہوں نے پورے کینیا کی خاک چھانی اور ایک بہت تفصیلی سروے کیا تاکہ زمین کی تہوں کے نیچے پانی کی موجودگی کے امکانات کو کھوجا جا سکے۔ابھی دو دِن پہلے اِس سروے کے نتائج کو عام کیا گیا ہے اور یہ کینیا کے باشندوں کے لیے حیران کن حد تک بڑی خوشخبری لے کر آئے ہیں۔کینیا کے سب سے گرم اور سب سے خشک صحرائی علاقے ’’ترکانا‘‘ کی بنجر زمین کے نیچے پانی کا اِتنابڑا ذخیرہ دریافت ہوا ہے جو وہاں کی ستر سال کی ضرورت کے لیے کافی ہے۔زمین کی ساڑھے تین سو میٹر موٹی پرت کے اندر، صحراؤں کی گرم ریت کے بہت نیچے تازہ صاف پانی کے ڈھائی کھرب مکعب میٹر ذخائر موجود ہیں۔ پانی کے اِس عظیم ذخیرے کی بدولت پورے کینیا کی قسمت بدل سکتی ہے۔اِس سے نہ صرف وہاں میں زراعت کی ترقی ہو گی بلکہ سر سبز کھیت اور جنگل مزید بارشوں کا باعث بنیں گے۔اُمید ہے کہ پانی کے اِس ذخیرے کی بدولت آنے والے سالوں میں کینیا کی غربت خوشحالی میں بدلنے والی ہے۔

ریسرچ پر وقت لگانا اور ٹیکنالوجی ڈویلپ کرنے پر پیسہ لگانا کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔یہ کبھی نہ کبھی ضرور فائدہ پہنچاتا ہے۔ی...
12/09/2013

ریسرچ پر وقت لگانا اور ٹیکنالوجی ڈویلپ کرنے پر پیسہ لگانا کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔یہ کبھی نہ کبھی ضرور فائدہ پہنچاتا ہے۔
یہ 1980 کی دہائی تھی جب دُنیا کی چند بڑی آئل کمپنیز میں سے ایک SHELL نے اندازہ لگایا کہ سمندر کی تہہ میں بھی تیل کے وسیع ذخائر ہو سکتے ہیں۔لیکن اُس وقت ایسی کوئی ٹیکنالوجی نہیں تھی جو انسان کو سمندر کی گہرائی میں ڈرلنگ کرنے کے قابل بناتی۔لیکن Shell نے ایک دلیر فیصلہ کیا۔کمپنی نے اِس بات کی ریسرچ پر اربوں ڈالرزبہا دیے کہ سمندروں کے نیچے ٹھوس زمین کے اندر تیل کی موجودگی کے کِتنے امکانات ہیں اور اگر وہ ڈرلنگ کرتے ہیں تو سمندروں کی گہرائیوں میں ہونے والی یہ ڈرلنگ کِس قدر فائدہ مند ہو سکتی ہے۔اور جب یہ بات کنفرم ہو گئی کہ سمندر کے اندر بھی بے شمارتیل کے ذخائر موجود ہیں تو اگلے مرحلے میں اربوں ڈالرز اِس ریسرچ پر خرچ ہوئے کہ ایک ہزار میٹر گہری پانی کی چادر کو چیرتے ہوئے سمندر کی تہہ تک کیسے پہنچا جائے، سمندر کے نمکین پانی (جس سے دھات کے آلات بہت جلدی خراب ہو جاتے ہیں) سے اپنی مشینری کو کیسے بچایا جائے، اور سمندر کی تہہ تک پہنچنے کے بعد مزید ڈھائی تین ہزار میٹر کھدائی کر کے تیل کے ذخائر تک کیسے پہنچا جائے۔Shell نے اس تمام عمل کے دوران پندرہ سال تک صبر کیا،ایک بالکل نئی فیلڈ میں قدم رکھا،ایک ایسی نئی ٹیکنالوجی کی ڈویلپمنٹ کے لیے اربوں ڈالرز لگا دیے جسکے بارے میں وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے تھے کہ یہ کامیاب بھی ہو گی یا نہیں۔لیکن کہتے ہیں کہ Luck favors the brave سو ، شیل کمپنی نے وقت اور پیسے کی قربانی دے کر جو رسک لیا تھا وہ کامیاب رہا۔ اور آج کمپنی اِس قابل ہے کہ سمندر کے اندر موجود ایک ایک آئل رِگ سے اربوں ڈالرز کما رہی ہے۔

بہت سے لوگ ڈیتھ ویلی کے نام اور وجہ شہرت سے آگاہ ہیں۔امریکا کے ایک ہولناک اورچہار جانب پھیلے پُر ہیبت صحراMojave desert ...
12/09/2013

بہت سے لوگ ڈیتھ ویلی کے نام اور وجہ شہرت سے آگاہ ہیں۔امریکا کے ایک ہولناک اورچہار جانب پھیلے پُر ہیبت صحراMojave desert میں واقع اِس وادی کو ڈیتھ ویلی کا نام وہاں پڑنے والی شدید ترین گرمی اور انتہائی خشک موسم کی وجہ سے دیا گیا ہے۔ یہ ڈیتھ ویلی ہی ہے جہاں دس جولائی 1913کی ایک جھلسا دینے والی دوپہر کو معلوم انسانی تاریخ کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا ہے۔اُس دِن وہاں درجہ حرارت 56.7ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیاتھا۔آج تک دُنیا میں کِسی اور جگہ پر اِتنا درجہ حرارت نہیں پایا گیا۔
لیکن اب ڈیتھ ویلی کی واحد وجہ شہرت یہ تپتا ہوا جہنم زار نہیں رہا۔بلکہ یہ اب دُنیا بھر کے فلکیات دانوں کے لیے پسندیدہ ترین مقام بن گیا ہے۔
ڈیتھ ویلی میں حالات ایسے نہیں کہ وہاں کوئی آبادی ہو۔۔۔ سو 34لاکھ ایکڑ کے وسیع رقبہ پر پھیلی ہوئی ڈیتھ ویلی میں ۔۔۔کچھ مقامی قبائل کو چھوڑ کر۔۔۔ دور دور تک کوئی آباد نہیں۔دُنیا میں چند ہی جگہیں ایسی ہیں جہاں سینکڑوں میل تک ایسی ویرانی ہو۔اِسی ویرانی کی وجہ سے نہ تو وہاں کوئی فضائی آلودگی ہے، نہ فیکٹریوں اور گاڑیوں کا دھواں ہے۔ دور دور تک کِسی انسانی آبادی کے نہ ہونے کی وجہ سے ایک ٹمٹماتی ہوئی مشعل تک کی روشنی دکھائی نہیں دیتی۔اِن فیکٹرز کی وجہ سے رات کے وقت ڈیتھ ویلی کا آسمان دُنیا کا صاف ترین اور تاریک ترین آسمان بن جاتا ہے۔اِتنا شفاف اور اِتنا تاریک کہ وہ سینکڑوں ستارے، سیارے، کہکشاؤں کی وہ سفید گرد، شہابِ ثاقب کی مسلسل جاری رہنے والی بمباری، قدرت کی صناعی کے شاہکار اور کائنات کی وہ وسعتیں۔۔۔جو دُنیا میں اور کہیں دکھائی نہیں دیتیں۔۔۔وہ ڈیتھ ویلی میں ننگی آنکھ سے بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
ڈیتھ ویلی کی اِس خصوصیت کی وجہ سے ڈیتھ ویلی نیشنل پارک کو اب ڈارک سکائی پارک(Dark Sky Park)کا نام بھی دے دیا گیا ہے۔یہاں جو کُچھ دیکھا جا سکتا ہے وہ دُنیا میں اور کہیں اِتنی سہولت سے دکھائی نہیں دے سکتا۔اگرچہ دشوار گُزار برف پوش پہاڑی سلسلوں کے بارے میں بھی یہ بات کہی جا سکتی ہے۔۔۔کہ وہاں بھی دور دور تک نہ کوئی آبادی ہے نہ آلودگی۔۔۔ لیکن وہاں تک جانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔صِرف کائنات کا مُشاہدہ کرنے کے لیے برف پوش پہاڑوں ایسی مشکل جگہوں تک جانا کیونکہ آسان نہیں اِس لیے ڈیتھ ویلی نیشنل پارک ہی فلکیات دانوں اور فلکیات سے دلچسپی رکھنے والوں کی پہلی پسند بنتا جا رہا ہے۔برف پوش پہاڑوں کے مقابلے میں ڈیتھ ویلی کی اہمیت اِس لیے بھی زیادہ ہے کہ ڈیتھ ویلی میں مہینوں بلکہ کبھی کبھار تو سالوں تک بادل کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا تک دکھائی نہیں دیتا اِسلئے وہاں کا آسمان ستاروں کے مشاہدہ کے لیے آئیڈیل جگہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ڈارک سکائی پارک کی انتظامیہ نے ڈیتھ ویلی کے گرد موجود بستیوں۔۔۔جو اگرچہبہت دور ہیں۔۔۔کے باسیوں سے استدعا کی ہے کہ وہ اپنے قصبوں میں ایسی لائٹس نہ لگائیں جنکی روشنیاں آسمانوں کی تاریکی کو متاثر کریں۔

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ہماری زمین کے گرد گردش کرنے کے لیے اگر چاند نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ایک فرق تو ظاہر ہے ہماری شاعری پر...
11/09/2013

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ہماری زمین کے گرد گردش کرنے کے لیے اگر چاند نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟
ایک فرق تو ظاہر ہے ہماری شاعری پر پڑتا کیونکہ اردو شاعری کا اچھا خاصا حصہ ماہتاب رخوں کے تذکروں سے بھرا پڑا ہے۔
لیکن سائنسی لحاظ سے دیکھا جائے تو چاند نہ ہونے کا سب سے بڑا فرق ہمارے سمندروں کو پڑتا جِن میں باقاعدگی سے آنے والی مدو جزر کی کیفیت چاند کی بدولت ہی ہے۔سمندروں میں اُٹھنے والی طاقتور منہ زور لہریں اپنی آدھی سے زیادہ شدت و جسامت کھو بیٹھتیں کیونکہ سمندروں میں اُبھرنے والی ستر فیصد لہریں براہِ راست چاند کی کشش ثقل کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
اگر اِسے سے بھی بڑے پیرائے میں دیکھیں تو زمین پر پڑنے والے اثرات ہمہ گیر ہوں گے۔چاند ، اگرچہ ہماری زمین سے بہت چھوٹا ہے اور ہماری زمین کے گرد چکر لگانے کے لیے بھی ہماری زمین کی ہی کشش ثقل کا مرہونِ منت ہے۔ لیکن اِسکے باوجود چاند اپنی کشش ثقل بھی رکھتا ہے اور ہماری زمین کو بھی اپنی جانب کھینچتا ہے۔ اُسکی یہی gravitational pull ہماری زمین پر مثبت انداز میں اثر انداز ہوتی ہے۔یہ چاند کی کشش ثقل ہی ہے جسکی وجہ سے ہماری زمین ہر وقت 23 ڈگری کے زاویے پر جھُکی رہتی ہے۔ہماری زمین پر موسموں کی تبدیلی اور کُرہ ارض پر ایسا مناسب درجہ حرارت جو زندگی کے پنپنے کے لیے ضروری ہے وہ اِسی 23 ڈگری کے جھکاؤ کی وجہ سے ہے۔لیکن اگر چاند نہ ہو گا تو زمین 23 ڈگری پر رکے رہنے کی بجائے 15 ڈگری سے 35 ڈگری کے جھکاؤ کے درمیان See-Saw کی مانند ڈولتی رہے گی۔اگرچہ ایک بار پندرہ ڈگری کے زاویے سے پینتیس ڈگری تک جانے میں ہزاروں سال لگ جائیں گے لیکن اِسکے نتیجے میں ہماری زمین شدید موسموں کی لپیٹ میں آ جائے گی۔اگر ایک وقت پوری دُنیا کو منفی ایک سو ڈگری سینٹی گریڈ کی جہنم زار سردی سہنی پڑے گی تو ہزاروں سال بعد ایسی گرمی پڑے گی کہ گویا سورج سوا نیزے پر آ گیا ہو۔اِس کا منطقی نتیجہ یہ نکلے گا کہ زمین پر زندگی کا وجود نا ممکن ہو جائے گا۔
کچھ ماہرین فلکیات کے مطابق زمین کے گرد چاند کی گردش اِس وجہ سے بھی بہت اہم ہے کہ خلا میں آوارہ پھرتے کھربوں شہابِ ثاقب ایسے ہیں جو ہماری زمین کے لیے شدید خطرہ بن سکتے ہیں لیکن چاند کی کشش ثقل کی وجہ سے وہ ہماری زمین پر گرنے کی بجائے چاند پر جا گرتے ہیں۔اگر چاند نہ ہو گا تو ہماری زمین ایسے شہابیوں کے براہِ راست حملوں کی زد میں آ جائے گی۔اور یہ بات جان لیں کہ صرف آپ کے ڈرائنگ روم کے سائز کا ایک شہابِ ثاقب بھی اگر ہزاروں میل فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین سے ٹکرا جائے تو کِسی ایٹم بم سے کم تباہی نہیں مچائے گا۔جبکہ خلا میں تو پورے پورے شہروں کے سائز کے شہابِ ثاقب بھی اربوں کی تعداد میں گردش کر رہے ہیں۔آج سے کروڑوں سال پہلے جب ڈائنو سارس اِس دُنیا پر حکومت کرتے تھے تو اُن کا وجود ختم کرنے کے لیے صِرف چھ میل کے سائز کا ایک شہابِ ثاقب ہی کافی ثابت ہوا جِس نے ڈائنو سارس کی پوری نسل کو ختم کر دیا تھا۔

اگرچہ بہت سے لوگ علم الاعداد پر یقین نہیں رکھتے لیکن بعض اوقات کچھ اتفاقات اتنے حیران کن ہوتے ہیں کہ اعداد کی اہمیت مانت...
31/12/2012

اگرچہ بہت سے لوگ علم الاعداد پر یقین نہیں رکھتے لیکن بعض اوقات کچھ اتفاقات اتنے حیران کن ہوتے ہیں کہ اعداد کی اہمیت مانتے ہی بنتی ہے۔ابھی ایک دِن پہلے پاکستان نے انڈیا کو میچ میں ہرایا ہے۔اس میچ کے مین آف دی میچ مہندرا سنگھ دھونی تھے۔سال 1981 کے ساتویں مہینے کی سات تاریخ کو پیدا ہونے والے دھونی کل کے میچ میں سات نمبر کی قمیض پہنے ہوئے تھے اور ساتویں نمبر پر ہی بیٹنگ کرنے آئے۔اِس نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے اُنہوں نے انڈیا کی جانب سے ساتویں وکٹ کی سب سے بڑی پارٹنر شپ کا ریکارڈ بنایا۔اِس دوران دھونی نے کل سات چوکے مارے ۔صرف یہی نہیں بلکہ اس یادگار اننگ کے دوران دھونی نے اپنے ون ڈے کیرئیر کے سات ہزار رنز بھی پورے کیے۔

ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ دنیا کی مشہور ترین عمارتوں میں سے ایک ہے۔اسےMother of all sky scrapers کہا جاتا ہے۔لیکن کیا آپ جانتے...
25/11/2012

ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ دنیا کی مشہور ترین عمارتوں میں سے ایک ہے۔اسےMother of all sky scrapers کہا جاتا ہے۔لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ سکائی سکریپرز کا نانا کہلانے والی ایک عمارت بھی دنیا میں موجود ہے۔
یہ 1797ء میں تعمیر ہونے والی ایک فیکٹری ’’فلیکس مِل‘‘ ہے۔یہ فیکٹری اگرچہ صرف پانچ منزلہ بلڈنگ پر مشتمل ہے لیکن یہ دنیا کی پہلی اونچی عمارت تھی جس میں لوہے کا استعمال کیا گیا تھا۔اس سے پہلے کسی عمارت میں مضبوطی اور لچک کے لیے لوہے کا استعمال نہیں ہوا تھا۔یہ بالکل نئی ٹیکنالوجی تھی اور اسی ٹیکنالوجی کے استعمال نے آج کے دور کی جدید ترین سینکڑوں میٹر بلند عمارتوں کی تعمیر ممکن بنائی۔یہی وجہ ہے کہ اسے Grandfather of all sky scrapers کہتے ہیں۔فلیکس مِل نے انجینئرنگ کی بہت سی گُتھیوں کو سُلجھا دیا اور اونچی سے اونچی عمارتوں کا خواب دیکھنے والوں کو ایک راستہ دِکھایا۔اس بلڈنگ کی اہمیت اِس بات سے بھی سمجھی جا سکتی ہے کہ یہ اُن Listed Buildings میں شامِل ہے جنہیں دُنیا کے تہذیبی ورثہ کی حیثیت حاصِل ہے۔یہ عمارت اِس وقت برطانویDepartment of Heritage کے کنٹرول میں ہے۔

Sam Walton ایک معمولی کسان کا بیٹا تھا۔اُسکا باپ اپنی لگی بندھی آمدن سے تنگ تھا۔ اچھے مستقبل کی تلاش میں اُسکے باپ نے یک...
24/11/2012

Sam Walton ایک معمولی کسان کا بیٹا تھا۔اُسکا باپ اپنی لگی بندھی آمدن سے تنگ تھا۔ اچھے مستقبل کی تلاش میں اُسکے باپ نے یکے بعد دیگرے کئی شہراِس لیے بدلے کہ کہیں تو بہتر روزگار کا کوئی انتظام ہو لیکن وہ ناکام ہی رہا۔ویسے بھی یہ Great Depression کا وہ دور تھا جب دنیا بھر میں ادارے دیوالیہ ہو رہے تھے، کمپنیاں بیٹھ رہی تھیں اور لوگ کروڑوں کی تعداد میں بے روزگار ہو رہے تھے۔لیکن اس سب کے باوجود Sam میں ایک بڑا آدمی بننے کے گُن شروع سے ہی موجود تھے۔وہ محنت میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا تھا۔اُسنے اپنی نوجوانی کے دور میں گوالے کے طور پر بھی کام کیا اور اخباریں بھی بیچتا رہا۔سکول لائف میں وہ بوائے سکاؤٹس میں شامل ہوا تو اُس کے سب سے قابلِ احترام اعزازEagle Scout Award کا حقدار ٹھہرایا گیا۔یہ اسکی شخصیت کی اثر انگیزی تھی کہ جب وہ سکول سے فارغ ہوا تو اُسے سکول کے سب سے ورسٹائل سٹوڈنٹ کے طور پر چُنا گیااور جب کالج سے فارغ ہوا تو اُسے کلاس کے Permanent President کا خطاب دیا گیا۔وہ کالج کی پڑھائی کے دوران ویٹر کے طور پر بھی کام کرتا رہا اور اِس کام کے عوض اُسے صرف خوراک ہی ملتی تھی۔دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی تو وہ فوج میں بھرتی ہو گیا اور کیپٹن کے عہدے تک پہنچا۔فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد اُسنے اپنی جمع پونجی سے ایک چلتا ہوا سٹور خرید لیا۔یہ Sam کا عروج کی جانب سفر کا آغاز تھا۔اگرچہ اُسکی راہ میں ابھی بھی کافی مشکلات آنی باقی تھیں لیکن بہر حال یہ سٹور Sam Walton کے پورے خاندان کی زندگی بدل دینے والا تھا ۔ اُس نے محنت جاری رکھی، ایک کے بعد ایک سٹور کھولتا گیا اور انہیں کامیاب کرنے کے لیے نت نئے انداز اپناتا رہا اور ترقی کے زینے چڑھتا رہا۔
غربت کے عالم میں اپنے خاندان کے ساتھ کِسی خانہ بدوش کی طرح شہر شہر پھرنے والا یہی Sam Walton جب 1992 میں فوت ہوا تو اُسکی کمپنیWal-Mart کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں تھا۔پورے کرہ ارض میں بکھرے ہوئے Wal-Mart سٹورز پر مبنی اُسکی بزنس ایمپائر اُس وقت دُنیا کی سب سے بڑی کمپنی تھی جس کے ملازمین کی تعداد چار لاکھ کے قریب تھی۔اسنے بے پناہ دولت بھی کمائی اور مسلسل چھ سال تک امریکہ کا امیر ترین آدمی رہا۔ آج جبکہ Sam کا انتقال ہوئے بیس سال ہو چُکے ہیں، اُسکی بنائی کمپنی اب بھی دنیا کی دوسری سب سے بڑی ، امیر اور کامیاب کمپنی ہے۔

دنیا میں اونچی عمارتیں تو ہزاروں سال سے تعمیر ہو رہی ہیں، لیکن ان سب کا استعمال محدود تھا۔اہرامِ مصر ہوں یا اٹلی کے شہر ...
22/11/2012

دنیا میں اونچی عمارتیں تو ہزاروں سال سے تعمیر ہو رہی ہیں، لیکن ان سب کا استعمال محدود تھا۔اہرامِ مصر ہوں یا اٹلی کے شہر بولوگنا کے Twin Towers ان میں سے کوئی بھی رہائشی مقصد کے لیے نہیں تھا۔رہائشی عمارتوں کے لیے سب سے پہلے سکائی سکریپر کی بات ہو تو ذہن میں سکاٹ لینڈکا خوبصورت شہر ایڈن برگ آتا ہے۔ سترہویں صدی میں ایڈن برگ کو محفوظ بنانے کے لیے اس دور کے رواج کے مطابق ایک قلعہ تعمیر کیا گیا۔قلعہ کی مضبوط دیوار نے شہر کو محفوظ تو بنا دیا لیکن اِس فصیل کی وجہ سے شہر کے پھیلاؤ کے سب راستے بند ہو گئے۔اب شہر کو ہر صورت قلعہ کی چار دیواری کے اندر اندر ہی رہنا تھا اور آبادی بڑھتی یا کوئی اور ضرورت آ پڑتی، قلعہ کے اندر موجود جگہ سے ہی کام چلانا تھا کیونکہ قلعہ کی دیوار کو گِرا کر آس پاس کی خالی زمینوں کو شہر میں شامِل کرنااور پھر قلعہ کی دیوار کو دوبارہ تعمیر کرنا قابلِ عمل نہ تھا ۔اِس دوران کوئی بھی بیرونی حملہ آور موقع کا فائدہ اُٹھانے کے لیے شہر پر حملہ کر سکتا تھا۔سو جیسے جیسے شہر میں جگہ کم پڑنے لگی، عمارتوں کا رُخ آسما ن کی جانِب ہونے لگا اور کئی منزلہ رہائشی عمارتیں بننے لگیں۔ اُس دور کے ایڈن برگ میں گیارہ منزلہ رہائشی عمارتیں عام پائی جاتی تھیں اور کُچھ عمارتیں تو چودہ منزلوں تک بُلند تھیں۔آج سے ساڑھے تین سو سال پہلے چودہ منزلہ عمارت کی تعمیر بِلا شُبہ ایک کارنامہ کہی جا سکتی ہے۔
لیکن ایڈن برگ کی اُس عمارت کی تعمیر تک بھی جو بنیادی مسئلہ آتا رہا وہ یہ تھا کہ اُس وقت تک عمارتوں میں سٹیل بیم، سریا اور لوہا وغیرہ استعمال کرنے کی تکنیک ایجاد نہیں ہوئی تھی سو یہ سب کی سب عمارتیں بھاری پتھروں اور اینٹوں کی مدد سے بنائی جاتی تھیں۔یہی وجہ تھی کہ اُن عمارتوں کی اونچائی کی بھی ایک حد تھی۔سٹیل اور کنکریٹ کے بغیر مضبوطی کے لیے اِن عمارتوں کا نِچلا حِصہ اِتنا بھاری بھرکم رکھا جاتا تھا، اور بُنیا د اِتنی زیادہ چوڑی اُٹھائی جاتی تھی کہ اِن کا عمومی استعمال زیادہ مقبول نہ ہو سکا۔یہ عمارتیں چونکہ صرف ضرورت کے تحت تعمیر ہوئی تھیں اور زیادہ پریکٹیکل نہیں تھیں ، لہٰذا ایڈن برگ کی ان تعمیرات کی دُنیا میں اور کہیں نقل نہ کی گئی۔

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Herat Kada posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share