10/11/2016
آخر کوئی وجہ تو ہے کہ پورے کرہ ارض پر امریکہ ہی واحد ملک ہے جسے خوابوں کی سرزمین کہا جاتا ہے؛ایسی دھرتی جہاں آپ اپنی محنت کے بل پر کوئی بھی مقام حاصل کر سکتے ہیں۔آپ گیراج میں کام شروع کر کے ایپل کے سٹیو جابز بن سکتے ہیں، آپ ایک چھوٹے سے کمرے سے کام شروع کر کے بل گیٹس بن سکتے ہیں اور آپ کینیا میں مقیم ایک سیاہ فام مسلمان کے پوتے ہوتے ہوئے امریکہ کے صدر بن سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور کچھ نہیں تو فریڈ کی مثال لے لیں ؛جسکے والدین انیسویں صدی میں یورپ سے امریکہ منتقل ہوئے تھے۔
یہ فریڈ صرف تیرہ سال کا تھا جب اُسکا باپ فوت ہو گیا۔امریکہ اُسکے لیے ایک اجنبی دھرتی تھی جہاں اُسکے خاندان کے بہت کم لوگ موجود تھے کیونکہ باقی سب تو یورپ میں ہی رہ گئے تھے۔اپنے گھرانے کے سربراہ سے محروم اس خاندان کی مدد کرنے والا وہاں کوئی نہیں تھا ،سو صرف تیرہ سال کی عمر میں وہ مزدوری کرنے پر مجبور ہو گیا۔وہ سکول جاتا، وہاں پڑھتا اور واپس آ کر آرام کرنے کی بجائے مزدوری پر چلا جاتا۔اُس نے اپنی زندگی کا ابتدائی حصہ محنت اور مشکل میں گزارا۔وہ عمر جب زیادہ تر بچوں کی ٹینشن صرف ہوم ورک تک محدود ہوتی ہے، فریڈ روزگار کی فکر میں گم تھا۔اُس نے مزدوری بھی کی اور بڑھئی کے طور پر بھی کام کیا لیکن لڑکا با ہمت تھا،وہ اپنے لیے کام کرنا چاہتا تھا،اپنا باس خود بننا چاہتا تھا اور خوشحال ہونا چاہتا تھا۔اُسنے اپنی والدہ سے آٹھ سو ڈالر قرض لیااور رئیل اسٹیٹ کے بزنس میں کود پڑا،اِن آٹھ سو ڈالرز کی ابتدائی سرمایہ کاری سے اُس نے ایک گھر بناکرسات ہزار ڈالر میں بیچ دیا۔یہ اُسکے کاروبار کا نقطہ آغاز تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اُس وقت اُسکی عمر اتنی بھی نہیں ہوئی تھی کہ وہ قانونی طور پر چیک سائن کر سکتا اس لیے اُسے اپنی ماں کو پارٹنر کے طور پر فرم میں شامل کرنا پڑا جو اُسکے لیے چیک کاٹا کرتی تھی۔
بائیس سال کی عمر میں، جب عام نوجوان یونیورسٹی سے فارغ ہو کر ابھی عملی زندگی میں داخل ہونے کے منصوبے ہی بنا رہے ہوتے ہیں، فریڈ اپنی باقاعدہ فرم بنا چکا تھا۔
زندگی گزرتی رہی، فریڈ ایک کے بعد ایک رئیل اسٹیٹ بزنس وینچر کا آغاز کرتا رہا،کامیابیاں حاصل کرتا رہا ،حتیٰ کہ ۱۹۹۹میں اپنی موت کے وقت وہ تیس کروڑ ڈالر کا مالک تھا۔
ایک بے سہارا یتیم بچے کا غربت سے تیس کروڑ ڈالر تک کا سفر کچھ کم کامیابی نہیں تھا لیکن فریڈ کی زندگی کی مشقت کا حاصل اُسکی بزنس امپائر کے علاوہ کچھ اور بھی تھا۔یہ اُسکی اولاد تھی۔
اُسکی بڑی بیٹی ماریانہ بیری نے قانون کی تعلیم حاصل کی، دلجمی سے وکالت کی ، اُسکی محنت رنگ لائی، وہ ارباب اختیار کی نظروں میں آگئی اور صدر ریگن نے اُسے نیو جرسی ڈسٹرکٹ کورٹ کی جج کے طور پر نامزد کر دیا۔بعد میں صدر کلنٹن کے دور میں وہ کورٹ آف اپیل کی جج بھی بن گئی۔ماریانہ ایک بھرپور کیرئیر کے بعد پانچ سال قبل ریٹائر ہوئی۔ماریانہ کی کامیابی اپنی جگہ لیکن فریڈ کے دوسرے بیٹے نے تو کمال ہی کر دیا۔وہ ایک مزاحیہ سانوجوان تھا لیکن ایک ذہین کاروباری تھا۔ اُسنے جب اپنے باپ کے تیس کروڑ ڈالر کے کاروبار کو سنبھالا تو اُسے تین ارب تیس کروڑ ڈالر تک لے گیا۔وہ امریکہ کے چند امیر ترین اور کامیاب ترین بزنس ایگزیکٹوز میں سے ایک بنا۔لیکن بات یہاں بھی ختم نہیں ہوتی۔فریڈ کے اِس بظاہر بڑبولے اور غیر سنجیدہ بیٹے نے آج سے صرف پندرہ مہینے پہلے یہ اعلان کیا کہ وہ امریکہ کے اگلے صدارتی الیکشن میں حصہ لے گا۔ایک خالص کاروباری، غیر سیاسی اوربڑی حد تک ایک مضحکہ خیز شخص کے اِس بیان کوکسی نے سنجیدگی سے نہیں لیا لیکن مشکلات سے لڑ کر آگے آنا شاید اُسکے جینز میں شامل ہو چکا تھا۔وہ اپنی جگہ ڈٹا رہا۔مشکلیں بہت آئیں،حتیٰ کہ شروع شروع میں تو یہ لگا کہ شاید وہ اپنی پارٹی کی جانب سے نامزدگی حاصل کرنے میں بھی کامیاب نہ ہو سکے لیکن وہ نہ صرف اپنی پارٹی کی نامزدگی لے اُڑا بلکہ تمام تر توقعات کو روندتے ہوئے الیکشن میں بھی اُس امیدوار کو کامیابی سے پچھاڑ ڈالا جو امریکی اسٹیبلشمنٹ ، امریکی میڈیا اور بزنس کلاس کی پسندیدہ امیدوار تھی۔
فریڈ ٹرمپ کا یہ بیٹا ڈونلڈ ٹرمپ آج سے تقریباً دو ماہ بعد امریکہ کے صدر کا حلف اُٹھائے گا۔
اس بات سے قطع نظر کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت امریکہ یا دنیا کے لیے کیسی ثابت ہوتی ہے، ذرا ایک لمحے کے لیے فریڈ ٹرمپ کی زندگی پر نگاہ دوڑائیں، اُسکی کامیابی کا سکیل دیکھیں اور معترف ہوں امریکی معاشرے کے اُس منفرد جوہر کے جو ایک اجنبی کلچر سے تعلق رکھنے والے تیرہ سالہ یتیم لڑکے کوبھی آگے بڑھنے کے لیے برابر مواقع فراہم کرتا ہے، اُسے کروڑ پتی بناتا ہے، اُسکی بیٹی کو جج شپ کے باوقار منصب پر فائز کرتا ہے اور اُسکے بیٹے کو امریکہ کا صدر بنادیتا ہے۔
یہی امیر یکن ڈریم ہے۔۔۔!
اور یہی امریکہ ہے؛جسے ہم جتنی بھی گالیاں دیں،دنیا کے لیے وہ آج بھی’’مواقع کی سرزمین‘‘ہے۔