Pakistan Now

Pakistan Now Online Media
Connecting Voices

جسم مٹتا ہے، نظریہ نہیںاقبال عیسیٰ خان 3 فروری 2026شہادت کسی رہنما کے جسم کو مٹا سکتی ہے، اُس کے نظریے کو نہیں۔ نظریہ نہ...
03/03/2026

جسم مٹتا ہے، نظریہ نہیں

اقبال عیسیٰ خان
3 فروری 2026

شہادت کسی رہنما کے جسم کو مٹا سکتی ہے، اُس کے نظریے کو نہیں۔ نظریہ نہ تو گولی سے ڈرتا ہے اور نہ تلوار سے جھکتا ہے۔ وہ انسان کے دل میں اتر جائے تو سانسوں کے ساتھ چلتا ہے، خوابوں کے ساتھ پلتا ہے، اور ضمیر کے ساتھ جاگتا ہے۔ کسی قائد کو خاموش کر دینا اُس فکر کو خاموش کرنا نہیں ہوتا جس نے دلوں میں جگہ بنا لی ہو۔ نظریہ کوئی نام نہیں، ایک امانت ہے، جو روحوں میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔
جب کوئی رہنما قربان ہوتا ہے تو دل زخمی ضرور ہوتا ہے، مگر امید مرتی نہیں۔ آنکھوں کے آنسو عزم میں ڈھل جاتے ہیں۔ دکھ ایک خاموش عہد بن جاتا ہے کہ سچائی کو زندہ رکھا جائے گا۔ کیونکہ نظریہ شخص سے بڑا ہوتا ہے، اور جب وہ عوام کے شعور میں بس جائے تو اُس کی بقا کسی ایک وجود کی محتاج نہیں رہتی۔
قیادت کی اصل طاقت اُس کی فکر میں ہوتی ہے، نہ کہ اُس کی موجودگی میں۔ اگر نظریہ عوام کے دلوں میں اُتر جائے تو وہ ایک اجتماعی ذمہ داری بن جاتا ہے۔ تب قومیں کسی ایک چہرے پر نہیں بلکہ اصولوں پر کھڑی ہوتی ہیں۔ قیادت کا کمال یہی ہے کہ وہ اپنے بعد بھی راستہ روشن چھوڑ جائے، تاکہ سفر رکے نہیں، بلکہ اور پختہ ہو۔
نظریہ طاقت کے استعمال سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ جبر وقتی خاموشی تو لا سکتا ہے، مگر سوچ کو نہیں روک سکتا۔ جنگ کبھی حل نہیں ہوتی، جنگ صرف خون بہاتی ہے اور انسانیت کو زخمی کرتی ہے۔ بارود مسائل کو جلا سکتا ہے، مگر دلوں کو نہیں جیت سکتا۔ پائیدار امن صرف اُس وقت ممکن ہے جب ہم اختلاف کو دشمنی میں نہ بدلیں اور طاقت کو انصاف کے تابع رکھیں۔
دنیا کی بقا تنوع میں ہے۔ ہر انسان کا وجود اپنی جگہ اہم ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم خود بھی سکون سے جئیں اور دوسروں کو بھی سکون سے جینے دیں، تو ہمیں دوسرے کے حقِ وجود کو تسلیم کرنا ہوگا۔ انسانیت کو مقدم رکھنا ہی اصل دانش ہے۔ نظریات، سیاست، مفادات سب اپنی جگہ، مگر سب سے پہلے انسان۔ جب انسانیت پیچھے رہ جائے تو نظریے بھی انتہا پسندی میں بدل جاتے ہیں۔
امن کوئی کمزور راستہ نہیں، بلکہ سب سے مضبوط حکمتِ عملی ہے۔ برداشت، مکالمہ اور باہمی احترام وہ ستون ہیں جن پر دیرپا معاشرے قائم ہوتے ہیں۔ اگر ہم واقعی ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں دلوں کو جوڑنا ہوگا، دیواریں نہیں اٹھانی ہوں گی۔ کیونکہ جو قومیں جنگ کو راستہ بناتی ہیں، وہ صرف زخم سمیٹتی ہیں؛ اور جو قومیں انسانیت کو ترجیح دیتی ہیں، وہ مستقبل سنوارتی ہیں۔
نظریہ شہادت سے ختم نہیں ہوتا، بلکہ اور گہرا ہو جاتا ہے۔ وہ دلوں میں زندہ رہتا ہے، ضمیروں میں بولتا ہے، اور نسلوں تک منتقل ہوتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کون زندہ ہے اور کون نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم انسانیت کو زندہ رکھ پا رہے ہیں؟ اگر ہم نے انسان کو مقدم رکھ لیا، تو نظریہ بھی زندہ رہے گا، امن بھی قائم رہے گا، اور دنیا بھی محفوظ رہے گی۔



Best Regards,
Iqbal Essa Khan

Pakistan Now

اسماعیلی مسلمان ایک عالمی، پُرامن اور مہذب جماعت ہیں! دنیا بھر کے اسماعیلیوں کو یومِ امامت مبارک ہو۔اقبال عیسیٰ خان 4 فر...
04/02/2026

اسماعیلی مسلمان ایک عالمی، پُرامن اور مہذب جماعت ہیں! دنیا بھر کے اسماعیلیوں کو یومِ امامت مبارک ہو۔

اقبال عیسیٰ خان
4 فروری 2026

آج دنیا بھر میں اسماعیلی مسلمان یوم امامت دلی عقیدت اور احترام سے منا رہے ہیں، اسماعیلی مسلمان محض ایک مذہبی جماعت نہیں بلکہ ایک عالمگیر جماعت ہیں، جو دنیا کے ہر کونے میں آباد ہے اور جہاں بھی موجود ہے اپنے کردار، نظم و ضبط اور مثبت طرزِ فکر سے پہچانی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسی کمیونٹی ہے جو خاموشی سے مگر مضبوطی کے ساتھ معاشروں کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالتی ہے۔ اسماعیلی مسلمان حالات کے شور میں گم ہونے کے بجائے عمل، حکمت اور استقامت کے ذریعے اپنی شناخت بناتے ہیں، اور یہی وصف انہیں دنیا کی مہذب اور پُرامن قوموں میں نمایاں مقام دیتا ہے۔
امامتِ اسماعیلیہ نے ہمیشہ اپنے پیروکاروں کو علم، محنت اور خدمتِ انسانیت کا راستہ دکھایا ہے۔ یہ قیادت جذباتی فیصلوں کے بجائے طویل المدت وژن پر یقین رکھتی ہے، اسی لیے تعلیم، صحت، غربت کے خاتمے، خواتین کو بااختیار بنانے اور سماجی ترقی کے میدان میں اسماعیلی ادارے دنیا بھر میں ایک مثال سمجھے جاتے ہیں۔ یہ وہ قیادت ہے جو صرف ہدایت نہیں دیتی بلکہ عملی نمونہ پیش کرتی ہے۔
اسماعیلی جماعت ایک غیر معمولی توازن کی عکاس ہے۔ مختلف ممالک، ثقافتوں اور نظاموں میں رہتے ہوئے بھی ایک مشترکہ اخلاقی فریم ورک کے تحت جینا آسان نہیں، مگر اسماعیلی مسلمان اسے اپنی محنت، پیشہ ورانہ رویے اور نظم و ضبط سے ممکن بناتے ہیں۔ وہ تصادم کے بجائے مکالمے، نفرت کے بجائے خدمت، اور تنہائی کے بجائے شراکت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی حکمتِ عملی انہیں ایک عالمی مگر مربوط کمیونٹی بناتی ہے۔
اسماعیلی مسلمان علم کو بنیاد اور عقل کو رہنما مانتے ہیں۔ اعلیٰ شرحِ خواندگی، تحقیق، سیکھنے اور سکھانے کا جذبہ اس کمیونٹی کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ یہ لوگ مہذب شہری ہیں، قانون کا احترام کرتے ہیں، معاشرے میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہیں اور پیشہ ورانہ زندگی میں دیانت، معیار اور محنت کو اپنا شعار بناتے ہیں۔ اسی لیے دنیا بھر میں اسماعیلی مسلمان قابلِ اعتماد، مہذب اور باوقار شہری سمجھے جاتے ہیں۔
انسانیت سے محبت اسماعیلی فکر کا مرکزی ستون ہے۔ رضاکارانہ خدمات، کمیونٹی ورک، قدرتی آفات میں امداد، ماحول کے تحفظ اور فطرت سے ہم آہنگ طرزِ زندگی اس جماعت کی عملی ترجیحات میں شامل ہیں۔ اسماعیلی مسلمان نہ صرف انسان دوست ہیں بلکہ فطرت سے پیار کرتے ہیں اور ماحول دوست بھی ہیں، جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر دنیا چھوڑنے پر یقین رکھتے ہیں۔
بلاشبہ اسماعیلی مسلمان ایک عالمی، پُرامن اور مہذب جماعت ہیں جو اپنے کردار، محنت، علم اور خدمت کے ذریعے دنیا کو ایک مثبت پیغام دیتی ہے۔ یومِ امامت ہمیں یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ جب قیادت بصیرت رکھتی ہو اور جماعت شعور، اخلاق اور انسانیت سے جڑی ہو تو وہ دنیا کے لیے روشنی بن جاتی ہے۔ ایک بار پھر، یومِ امامت مبارک ہو۔


Aga Khan Development Network
The Ismaili

[email protected]

Pakistan Now

گلگت بلتستان، چترال اور کوہستان میں گرین انٹرپرانیورشپ کے مواقع اقبال عیسیٰ خان 26 جنوری 2026گلگت بلتستان، چترال اور کوہ...
26/01/2026

گلگت بلتستان، چترال اور کوہستان میں گرین انٹرپرانیورشپ کے مواقع

اقبال عیسیٰ خان
26 جنوری 2026

گلگت بلتستان، چترال اور کوہستان صرف قدرتی حسن سے بھرپور علاقے نہیں، بلکہ گرین انٹرپرینیورشپ کے لیے وہ زمین ہیں جہاں اگر ہم سمجھداری، مقصد اور پائیداری کو ملائیں تو روشن مستقبل بنایا جا سکتا ہے۔ میرا یقین ہے کہ آج کے نوجوان اور بزنس لیڈرز اگر ماحول، کمیونٹی اور منافع کو ایک ساتھ رکھتے ہوئے کام کریں تو یہ خطے نہ صرف ترقی کریں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی سبز کاروباری ماڈلز کی مثال بن سکتے ہیں۔
یہ تینوں علاقوں میں سب سے واضح اور وسیع موقع پائیدار سیاحت ہے۔ ایکو ٹورازم اور ایڈونچر ٹورز جیسے معیاری ٹریکنگ، کلائمٹ فرینڈلی کیمپنگ اور مقامی ثقافت کے تجربات مقامی معیشت کو تقویت دیتے ہیں۔ ہوم اسٹے اور کمیونٹی بیسڈ ہوٹل مقامی گھرانوں کو ٹورزم چین میں شامل کرتے ہیں اور رہائش و کھانے کے تجربات فراہم کرتے ہیں۔ ماحولیاتی گائیڈ سروسز، کم اثر والے راستے، سمارٹ شیڈولنگ اور فضلہ مینجمنٹ کے نظام اس بزنس کو طویل مدتی فائدہ مند بناتے ہیں اور مقامی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں۔
ان علاقوں میں پانی اور سورج کی دستیابی کی وجہ سے قابل تجدید توانائی اور مائیکرو گرڈز کے شعبے میں بھی مواقع بے پناہ ہیں۔ چھوٹے پن بجلی گھروں کے ذریعے مقامی کمیونٹیز کو بجلی فراہم کی جا سکتی ہے، رورل علاقوں میں سولر پینلز اور بیٹری اسٹوریج بزنس ماڈل متعارف کرائے جا سکتے ہیں، اور گھر و کاروبار کے لیے توانائی بچانے والی ٹیکنالوجی استعمال کی جا سکتی ہے۔ یہ اقدامات توانائی کا خرچ کم کرنے کے ساتھ مستقل اور ماحول دوست حل فراہم کرتے ہیں۔
زرعی شعبے میں ماحولیاتی کاروبار بھی ایک مضبوط موقع ہے۔ آرگینک فارمنگ جیسے خشک میوہ جات، سبزیاں اور جڑی بوٹیاں پیدا کی جا سکتی ہیں۔ کولڈ چین اور بہتر پیکیجنگ کے ذریعے پھل و سبزی کی واپسی سے پہلے تحفظ ممکن ہے، اور ایگرو ویلیو ایڈیشن کے ذریعے مقامی مصنوعات کو عالمی معیار کی شکل دی جا سکتی ہے، جیسے آرگینک جیم یا خشک پھل کا برانڈنگ۔ یہ مقامی معیشت کو فائدہ پہنچانے کے ساتھ بیرونی مارکیٹوں میں برآمدات کے مواقع بھی بڑھاتا ہے۔
سیاحت اور رہائش کے بڑھتے دباؤ کے پیش نظر ویسٹ مینجمنٹ اور ری سائیکلنگ کے شعبے میں بھی کاروباری مواقع موجود ہیں۔ پلاسٹک، گلاس، کاغذ اور میٹل کے ری سائیکلنگ سینٹرز، نامیاتی فضلہ سے کمپوسٹ بنانا، اور مقامی کمیونٹی کو ری سائیکلنگ ٹیکنیکس سکھانا نہ صرف ماحولیاتی نقصان کو کم کرتا ہے بلکہ منافع بخش کاروبار بھی پیدا کرتا ہے۔
سبز کاروبار کی کامیابی کے لیے تعلیم، اسکل ڈیویلپمنٹ اور ٹیک سینٹرز انتہائی اہم ہیں۔ گرین ٹیکنالوجی ٹریننگ سینٹرز، انکیوبیٹرز اور مینٹورشپ پروگرامز نوجوانوں کو خود مختار بناتے ہیں اور مقامی بزنس کو مضبوط کرتے ہیں۔ عالمی پارٹنرشپس کے ذریعے یونیورسٹیز اور اداروں کے ساتھ کورسز کی بدولت نوجوان مستقبل کے لیے تیار ہوتے ہیں۔
ڈیجیٹل دور میں جغرافیہ رکاوٹ نہیں بلکہ موقع ہے۔ ای کامرس پلیٹ فارمز کے ذریعے مقامی مصنوعات کی آن لائن فروخت، ورچوئل ٹور گائیڈز کے ذریعے آرٹس اور ہسٹری کی تشہیر، اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ و برانڈنگ سروسز مقامی بزنسز کو عالمی مارکیٹ تک پہنچا سکتی ہیں۔
ماحول دوست کاروبار عالمی سطح پر 6.5 ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور ہر سال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پائیدار سیاحت میں اضافہ سالانہ 10–12 فیصد تک ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں ماحول اور ثقافت محفوظ ہیں، اور جنوبی ایشیا میں رینیوایبل انرجی سیکٹر میں سرمایہ کاری 15–20 فیصد سالانہ بڑھ رہی ہے، جو کہ مائیکرو گرڈ ماڈلز کے لیے موزوں ہے۔
گرین انٹرپرینیورشپ صرف ایک ٹرینڈ نہیں بلکہ ضرورتِ وقت ہے۔ گلگت بلتستان، چترال اور کوہستان وہ جغرافیائی اور انسانی وسائل رکھتے ہیں جو پائیدار، ماحولیاتی، اور معاشی ترقی کے قابل بزنس ماڈلز کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم ماحول، معاشرت اور منافع کو ایک ساتھ لے کر ایسے اسٹارٹ اپس بنائیں جو صرف آج نہیں بلکہ کل تک چلیں، ایک مضبوط، صاف، اور سبز مستقبل کی ضمانت۔



Best Regards,
Iqbal Essa Khan

[email protected]

وادی چپورسن پکار رہا ہے، کیا کوئی سننے والا ہے؟اقبال عیسیٰ خان 20 جنوری 2026کیا کوئی عملی طور پر وادی چپورسن کے زلزلہ مت...
20/01/2026

وادی چپورسن پکار رہا ہے، کیا کوئی سننے والا ہے؟
اقبال عیسیٰ خان
20 جنوری 2026

کیا کوئی عملی طور پر وادی چپورسن کے زلزلہ متاثرین کی مدد کرے گا یا اس بار بھی صرف بیانات ہی دیے جائیں گے؟
یہ سوال آج وادی چپورسن کی منجمد فضاؤں میں گونج رہا ہے۔ یہ کوئی تجزیاتی سوال نہیں، یہ ان ماؤں کی آہ ہے جو کھلے آسمان تلے بچوں کو سینے سے لگائے بیٹھی ہیں۔ یہ ان بزرگوں کی خاموش فریاد ہے جن کی سانسیں سردی کی شدت میں لرز رہی ہیں۔ یہ ان نوجوانوں کی چیخ ہے جو بغیر آلات، بغیر وسائل، صرف جذبے کے سہارے اپنے لوگوں کی مدد میں کھڑے ہیں۔
درجہ حرارت منفی پندرہ سے منفی پچیس ڈگری سینٹی گریڈ تک جا چکا ہے۔ یہ محض موسم کی خبر نہیں، یہ زندگی اور موت کے درمیان کھڑی ایک حقیقت ہے۔ زلزلے نے گھروں کو ناقابل رہائش بنا دیا ہے۔ دیواریں کھڑی ہیں مگر تحفظ ختم ہو چکا ہے۔ چھتیں موجود ہیں مگر اعتماد ٹوٹ چکا ہے۔ لوگ خیموں میں نہیں، کھلے آسمان تلے ہیں، جہاں ہر آفٹر شاک کے ساتھ خوف دوبارہ جنم لیتا ہے اور ہر سرد رات جسم اور حوصلہ دونوں کو منجمد کر دیتی ہے۔
بچے سردی سے نیلے پڑ رہے ہیں، خواتین مسلسل خوف اور بے بسی کے عالم میں ہیں، بزرگ جن کی زندگی کا بیشتر حصہ اس وادی میں گزرا، آج سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔ ایک طرف مسلسل زلزلے، دوسری طرف شدید سردی۔ یہ دوہرا عذاب ہے، جس کا مقابلہ خالی ہاتھ نہیں کیا جا سکتا۔
سڑکیں بند ہیں۔ امداد رک گئی ہے۔ کچھ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد ضرور دی گئی، مگر یہ کافی نہیں۔ انہیں تفصیلی طبی معائنوں کی ضرورت ہے۔ سرد موسم میں معمولی چوٹ بھی جان لیوا ہو سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ صحت کا نظام کہاں ہے؟ ایمبولینس کہاں ہیں؟ ڈاکٹر اور طبی ٹیمیں کب پہنچیں گی؟
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ متعلقہ محکمے، چاہے وہ سرکاری ہوں یا غیر سرکاری، اس وقت بھی خاموش ہیں۔ جیسے یہ سانحہ کسی دور دراز نقشے پر بنا ایک نشان ہو، جہاں انسانی جانوں کی قیمت کم ہو جاتی ہے۔ اس خلا کو اس وقت صرف مقامی رضاکار پُر کر رہے ہیں۔ وہی نوجوان، وہی دیہاتی، جن کے پاس نہ مشینری ہے، نہ حفاظتی آلات، نہ مناسب وسائل۔ صرف ایک چیز ہے اور وہ ہے ذمہ داری کا احساس۔
لیکن جذبہ اکیلا کافی نہیں ہوتا۔ بند سڑکیں جذبے سے نہیں کھلتیں، ملبہ ہاتھوں سے نہیں ہٹتا، بحالی صرف دعاؤں سے نہیں ہوتی۔ اس کے لیے ریاستی مشینری درکار ہے۔ اس کے لیے فیصلہ سازی، فوری احکامات اور میدان میں موجودگی ضروری ہے۔
یہ براہ راست پکار ہے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے لیے، چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کے لیے، ڈی جی جی بی ڈی ایم اے کے لیے۔ یہ اپیل ہے آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک، آغا خان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ کے ریجنل ہیڈ، محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کے لیے۔ وقت بیانات کا نہیں، عمل کا ہے۔ وقت فائلوں کا نہیں، فیلڈ کا ہے۔
مشینری فوراً روانہ کی جائے تاکہ سڑکیں کھل سکیں۔ عارضی مگر محفوظ رہائش فراہم کی جائے۔ ہیٹر، کمبل، خیمے اور خوراک پہنچائی جائے۔ میڈیکل ٹیمیں تعینات ہوں، خاص طور پر بچوں، خواتین اور بزرگوں کے لیے۔ بحالی کا واضح اور فوری منصوبہ سامنے لایا جائے تاکہ لوگ یہ جان سکیں کہ ریاست انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔
چپورسن کے لوگ کسی خصوصی رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ وہ صرف وہی مانگ رہے ہیں جو ایک شہری کا بنیادی حق ہے۔ تحفظ، علاج اور عزت کے ساتھ جینے کا حق۔
اگر اس بار بھی جواب صرف بیانات کی صورت میں آیا، تو یہ صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں ہوگی، یہ ایک اخلاقی شکست ہوگی۔ تاریخ یاد رکھتی ہے کہ مشکل وقت میں کون کھڑا ہوا اور کون خاموش رہا۔ فیصلہ آج ہونا ہے، کیونکہ چپورسن میں سردی انتظار نہیں کرتی، اور زندگی بھی نہیں۔




Best Regards,
Iqbal Essa Khan

[email protected]

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی نے ڈاکٹر تصورالرحیم بیگ کی بطور ڈائریکٹر ایڈوانسڈ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ تقرری کا اعلان کر دیا ہے۔...
09/01/2026

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی نے ڈاکٹر تصورالرحیم بیگ کی بطور ڈائریکٹر ایڈوانسڈ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ تقرری کا اعلان کر دیا ہے۔ اس تقرری کے ساتھ ہی یونیورسٹی میں تحقیق اور اعلیٰ تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ایک نیا باب شروع ہو گیا ہے۔
ڈاکٹر تصورالرحیم بیگ کو اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر 22 برس سے زائد کا نمایاں تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے امریکہ میں فل برائٹ پروگرام کے تحت ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، جبکہ سویڈن سے ماسٹرز کی تعلیم مکمل کی، جو ان کے مضبوط عالمی تعلیمی اور تحقیقی پس منظر کی عکاسی کرتا ہے۔
ڈاکٹر تصورالرحیم بیگ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے پہلے استاد بھی ہیں جنہیں 2004 میں بیسٹ ٹیچر ایوارڈ سے نوازا گیا، جو تدریسی معیار، علمی قیادت اور طلبہ کی رہنمائی کے حوالے سے ان کی خدمات کا اعتراف ہے۔
یونیورسٹی کی انتظامیہ اور تعلیمی برادری نے ڈاکٹر تصورالرحیم بیگ کو اس اہم ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد دی ہے اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ان کی قیادت میں KIU میں تحقیق، اختراع اور تعلیمی معیار کو مزید فروغ ملے گا۔

Pakistan Now

Mountaineer Samina Baig from the northern areas of Pakistan has etched her name into history by successfully skiing to t...
17/12/2025

Mountaineer Samina Baig from the northern areas of Pakistan has etched her name into history by successfully skiing to the South Pole. With unwavering courage, resilience, and determination, she becomes the first Ismaili woman to achieve this extraordinary feat.
From the mighty mountains of Pakistan to the frozen extremes of Antarctica, her journey is a powerful reminder that no dream is too distant and no boundary too harsh. Samina Baig continues to inspire millions by redefining what is possible for women, for Pakistan, and for the global mountaineering community.
A moment of pride, perseverance, and purpose


Samina Baig
Pakistan Now

جدید دور کے وژنری نوجوان لیڈر،گلگت بلتستان، چترال، کوہستان اور کشمیر کی ناگزیر ضرورتاقبال عیسیٰ خان 17 دسمبر 2025دنیا ای...
17/12/2025

جدید دور کے وژنری نوجوان لیڈر،
گلگت بلتستان، چترال، کوہستان اور کشمیر کی ناگزیر ضرورت

اقبال عیسیٰ خان
17 دسمبر 2025

دنیا ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ قیادت کا مفہوم بدل چکا ہے، سیاست کی لغت نئی ہو رہی ہے، اور ترقی کے پیمانے اب صرف نعروں سے نہیں بلکہ وژن، علم، ٹیکنالوجی اور کردار سے ناپے جا رہے ہیں۔ ایسے میں گلگت بلتستان، چترال، کوہستان اور کشمیر جیسے خوبصورت مگر مسلسل نظرانداز کیے گئے خطوں کے لیے جدید دور کے وژنری نوجوان لیڈر محض ایک خواہش نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت بن چکے ہیں۔
ان خطوں کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ ان کی ثقافت، روایات، سماجی ڈھانچہ، ذہنی ساخت، تاریخ اور وسائل باقی دنیا سے یکسر مختلف ہیں۔ یہاں کے پہاڑ، وادیاں اور قدرتی وسائل صرف جغرافیہ نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ حیات ہیں۔ اسی لیے یہاں قیادت کا ماڈل بھی درآمد شدہ نہیں ہو سکتا۔ ان علاقوں کو ایسے مقامی، indigenous وژنری نوجوان لیڈروں کی ضرورت ہے جو اس زمین کی خوشبو کو سمجھتے ہوں، جنہوں نے ان پہاڑوں میں آنکھ کھولی ہو، جو یہاں کے مسائل کو کتابوں سے نہیں بلکہ زندگی سے جانتے ہوں، اور جو ترقی کو ثقافت سے جوڑ کر آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
یہ خطے قدرتی وسائل، ذہین نوجوانوں اور بے پناہ پوٹینشل سے مالا مال ہیں، مگر بدقسمتی سے یہاں قیادت کا تسلسل اکثر ماضی کے تصورات، وقتی مفادات اور محدود سوچ کے گرد گھومتا رہا ہے۔ آج کا نوجوان مختلف ہے۔ وہ ڈیجیٹل دنیا میں سانس لیتا ہے، عالمی معیشت کو سمجھتا ہے، موسمیاتی تبدیلی، گورننس، تعلیم، صحت اور روزگار جیسے چیلنجز کو محض مسائل نہیں بلکہ حل کے مواقع کے طور پر دیکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ قدرتی وسائل صرف نکالنے کے لیے نہیں بلکہ پائیدار ترقی، ویلیو ایڈیشن اور آنے والی نسلوں کی امانت ہیں۔
جدید دور کا وژنری نوجوان لیڈر وہ ہے جو صرف اقتدار نہیں بلکہ اثر چاہتا ہے۔ جو تقریروں کے بجائے پالیسی کی زبان بولتا ہے، جو سوشل میڈیا کو الزام تراشی کے لیے نہیں بلکہ آگاہی، مکالمے اور نالج شیئرنگ کے لیے استعمال کرتا ہے، اور جو قومیت، مسلک اور علاقے کی تنگ لکیر سے اوپر اٹھ کر انسان، ریاست اور مستقبل کی بات کرتا ہے۔ ایسے لیڈر کے لیے سیاست خدمت ہے، تجارت استحکام ہے، قدرتی وسائل ذمہ داری ہیں، اور تعلیم سب سے بڑی سرمایہ کاری۔
گلگت بلتستان اور چترال کے پہاڑ، کوہستان کی وادیاں اور کشمیر کی سرسبز زمینیں اس بات کی متقاضی ہیں کہ یہاں ایسی قیادت ابھرے جو ماحول دوست ترقی، سیاحت، انٹرپرینیورشپ، اسکل ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل اکانومی اور AI جیسے جدید تقاضوں کو مقامی حقیقتوں کے ساتھ ہم آہنگ کر سکے۔ جو نوجوانوں کو صرف سرکاری نوکری کے محدود خواب سے نکال کر بزنس، اسٹارٹ اپس اور عالمی مارکیٹس سے جوڑ سکے۔ جو خواتین کو محض نعرہ نہیں بلکہ فیصلہ سازی، معیشت اور لیڈرشپ کا فعال حصہ بنائے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب تک نوجوانوں کو قیادت کے حقیقی مواقع نہیں ملیں گے، مایوسی، ہجرت اور بے اعتمادی بڑھے گی۔ جدید دنیا میں قیادت عمر کی محتاج نہیں، وژن اور اہلیت کی محتاج ہے۔ تجربہ قابلِ احترام ہے، مگر تبدیلی ہمیشہ نئی سوچ، جدید مہارت اور جرات مند فیصلوں سے جنم لیتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پالیسی ساز، سیاسی جماعتیں اور معاشرہ مجموعی طور پر مقامی نوجوان قیادت پر اعتماد کرے، انہیں سنے اور آگے بڑھنے کا حقیقی راستہ دے۔
آج اگر ہم نے ان پہاڑوں، وادیوں اور وسائل سے جڑی نوجوان لیڈرشپ کو جگہ نہ دی تو کل تاریخ ہم سے یہ سوال ضرور کرے گی کہ جب وقت نے پکارا تو ہم نے خاموشی کیوں اختیار کی۔ گلگت بلتستان، چترال، کوہستان اور کشمیر کا مستقبل روشن، باوقار اور خودمختار ہو سکتا ہے، بشرطیکہ قیادت کا چراغ اسی سرزمین سے اٹھنے والی نئی نسل کے ہاتھوں میں دیا جائے۔ یہ نسل صرف تبدیلی کا خواب نہیں دیکھتی، اسے حقیقت میں بدلنے کی مکمل صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
یہ وقت انتخاب کا ہے۔ ماضی کی تکرار یا مستقبل کی تعمیر۔ اور مستقبل، بلاشبہ، ان ہی علاقوں سے جنم لینے والے وژنری نوجوان لیڈروں کا منتظر ہے۔



Best Regards,
Iqbal Essa Khan

[email protected]

ایران کی خاتون محقق نے امریکا کا سائنسدانوں کا عالمی ایوارڈ اپنے نام کرلیا امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایجادات کے بین ال...
17/12/2025

ایران کی خاتون محقق نے امریکا کا سائنسدانوں کا عالمی ایوارڈ اپنے نام کرلیا
امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایجادات کے بین الاقوامی فیسٹیول میں، سائنسی تحقیقات و ایجادات کا عالمی ایوارڈ اور سونے کا تمغہ ایران کی خاتون محقق کو دیا گیا۔
ارنا کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی خاتون محقوق ڈاکٹر مریم نوری بالانجی نے دانشوروں اور سائںسدانوں کا عالمی امریکی ایوارڈ حاصل کرلیا۔
ایران کی اس نوجوان خاتون محقق نے جن کا تعلق ایران کے فری زون قشم سے ہے، دواؤں میں اپنی تحقیق اور ایجاد سے دوسری بار یہ با وقار ایوارڈ حاصل کیا ہے۔
انھوں نے جو دوا ایجاد کی ہے وہ کینسر کے خلیوں کے رشد کو روکنے اور انواع و اقشام کے ٹیومر کے علاج میں موثر ہے ۔
ان کی ایجاد کردہ یہ دوا اورل بھی ہے اور اس کا انجکشن کی شکل میں بھی ہے۔
ایران کی اس نوجوان خاتون محقق نے ایک ٹیم کے ساتھ مل کر یہ دوا ایجاد کی ہے اور ان کی ٹیم میں کینیڈین ماہرین بھی شامل ہے۔
کیلیفورنیا کے ایجادات کے 2025 کے بین الاقوامی فیسٹیول میں ان کی پوری ٹیم کو ایجادات کا پہلا انعام اور سونے کا تمغہ دیا گیا ۔

Pakistan Now

نفرت سے نکل کر امن کی طرف بڑھیں، گلگت بلتستان کی پکار!!!!اقبال عیسیٰ خان 9 دسمبر 2025خدا را… گلگت بلتستان کے لوگوں پر رح...
11/12/2025

نفرت سے نکل کر امن کی طرف بڑھیں، گلگت بلتستان کی پکار!!!!

اقبال عیسیٰ خان
9 دسمبر 2025

خدا را… گلگت بلتستان کے لوگوں پر رحم کریں۔ اس خطے کے باسی اس وقت جن حالات سے گزر رہے ہیں، وہ صرف مسائل نہیں بلکہ ایک اجتماعی درد کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ یہاں نہ بجلی ہے، نہ پانی، نہ صحت کی قابلِ اعتماد سہولت، نہ نوجوانوں کے لئے روزگار، نہ ہی زندگی کی بنیادی ضروریات۔ مگر افسوس کہ ان حقیقی اور سنگین مسائل کے باوجود نفرت، انتشار اور تقسیم کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ نفرت کیوں پھیلائی جا رہی ہے؟ جذبات کو کیوں بھڑکایا جا رہا ہے؟ یہاں کے لوگوں کو آپس میں لڑانے سے کیا فائدہ ملتا ہے؟ وہ لوگ جو پہلے ہی غربت اور مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، جن کے گھروں میں چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں، جن کی ماؤں کی آنکھوں میں فکروندام کا سایہ ہے، جن کے نوجوان بے روزگاری سے ٹوٹ رہے ہیں… کیا انہیں مزید انتشار کا بوجھ اٹھانا چاہیے؟
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بے روزگاری اور غربت نے لوگوں کو خودکشی جیسے انتہائی قدم تک پہنچا دیا ہے۔ ہسپتالوں میں مشینری نہ ہونے سے مریض دم توڑ دیتے ہیں۔ ادویات تک دستیاب نہیں۔ سرکاری اداروں میں رشوت کے بغیر کام نہیں ہوتا۔ یہ سب مسائل لوگوں کی زندگی اور مستقبل دونوں کو نگل رہے ہیں۔
اگر اس خطے کی قیادت، سیاسی و مذہبی شخصیات، اور بااثر طبقات ان بنیادی انسانی حقوق پر آواز اٹھائیں، احتجاج کریں، تو یقین جانیے اس خطے کا ہر غریب، ہر مظلوم، ہر نوجوان آپ کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ کیونکہ یہ آواز ان کی زندگی بدلنے کی آواز ہوگی۔
اس خطے کی اصل ضرورت امن ہے۔ امن وہ بنیاد ہے جس پر ترقی کا ہر ستون کھڑا ہوتا ہے۔ امن نہ ہو تو نہ تعلیم زندہ رہتی ہے، نہ روزگار کے مواقع جنم لیتے ہیں، نہ کاروبار چلتا ہے، نہ گھروں میں سکون۔ امن کے بغیر سب کچھ بکھر جاتا ہے۔ خدا را… گلگت بلتستان کو شام، عراق یا کسی بھی انتشار زدہ ملک جیسا نہ بننے دیں۔ یہاں کے لوگوں کا حوصلہ بہت ہے مگر برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔
ہمیں فخر ہے کہ ہمارے معزز علمائے دین، بزرگ علماء اور معتبر شخصیات نے ہمیشہ امن اور اتحاد کو ترجیح دی ہے۔
گزشتہ مہینے رونما ہونے والےدلخراش واقعے پر محترم مولانا قاضی نثار اور محترم آغا راحت حسین الحسینی نے جس حکمت، بردباری اور بالغ نظری سے حالات کو قابو میں کیا، وہ اس خطے کی تاریخ کا روشن باب ہے۔ انہوں نے امن اور اتحاد کا پرچم بلند رکھا، سازشوں کو ناکام بنایا، اور اس خطے کو ایک بڑے تصادم سے بچایا۔ یہی اصل قیادت ہے، یہی اصل بصیرت، یہی وہ درویشانہ فراست ہے جو قوموں کو بچاتی ہے۔
ہمیں امید ہے کہ آج بھی ہمارے معزز علماء، ہمارے بزرگ، ہمارے نوجوان اور تمام اسٹیک ہولڈرز یک آواز ہو کر امن، اتحاد اور ترقی کے راستے پر کھڑے ہوں گے۔ ہر سازش کو ناکام بنائیں گے۔ ہر نفرت کو دفن کریں گے۔ اور ہر اس آواز کو مضبوط کریں گے جو بھائی چارے، شعور، تعلیم، ٹیکنالوجی، تحقیق اور ترقی کی طرف بلاتی ہے۔
نوجوانوں کو نفرت نہیں، کردار سازی، ای آئی، جدید ٹیکنالوجی، علم، تحقیق اور نظم و ضبط کی ضرورت ہے۔ یہ خطہ ذہانت میں کم نہیں۔ صرف سمت اور امن چاہیے، اور یہی وہ دو چیزیں ہیں جو ہمیں دوبارہ اٹھا کھڑا کر سکتی ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ گلگت بلتستان کے تمام باسیوں کو، امن کا سفیر بنائے، ان کے قدم مضبوط کرے، اور گلگت بلتستان کو ہمیشہ اپنی امان میں رکھے۔ آمین۔
امن کو جینے دیں۔ یہی ہماری بقا ہے، یہی ہماری امید ہے، یہی ہمارا مستقبل ہے۔
سب سے پہلے گلگت بلتستان

20/11/2025

کیا یہ گلگت بلتستان کی ثقافت ہے؟ یہ واقعی افسوسناک ہے, ایسے نام نہاد پولو کھلاڑیوں کا رویہ کھیل کی روح اور کھیل کے اصولوں کی مکمل توہین ہے۔


Pakistan Now

12/11/2025

اگر آپ اس ٹرک ڈرائیور کی جگہ ہوتے تو آپ کیا کرتے؟
آپ کے خیال میں یہ جگہ کون سی ہے؟










Pakistan Now

دریائے سندھ پر زیرِ تعمیر دیامر بھاشا ڈیم دنیا کا بلند ترین آر سی سی ڈیم قرار ,272 میٹر بلندی کے ساتھ تعمیراتی کام دن را...
02/11/2025

دریائے سندھ پر زیرِ تعمیر دیامر بھاشا ڈیم دنیا کا بلند ترین آر سی سی ڈیم قرار ,
272 میٹر بلندی کے ساتھ تعمیراتی کام دن رات جاری۔
منصوبے کی تکمیل پر ڈیم 81 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے اور 4500 میگاواٹ سستی پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔
تعمیراتی سرگرمیوں میں ڈیم پٹ، لیفٹ ایبٹمنٹ اور پاور انٹیک اسٹرکچر سمیت دیگر اہم مقامات پر تیزی سے کام جاری ہے۔



Pakistan Now

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Now posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Pakistan Now:

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share