Jaag News

Jaag News Jaag TV is a D I Khan news channel that provides live and updated coverage of current affairs

20/09/2026

چشمہ رائٹ بینک کنال کیوں ٹوٹی؟
اصل محرکات کیا ہیں؟
شہریوں کے نقصان کا ازالہ کون کرے گا؟
ذمہ داروں کا تعین کب ہوگا؟
کسان اتحاد میدان میں آ گیا
چشمہ رائٹ بینک کنال کی ٹوٹ پھوٹ پر کسان اتحاد کا احتجاج

19/09/2026

ڈیرہ اسماعیل خان میں چشمہ رائٹ بینک کینال میں پڑنے والے بڑے شگاف نے کسانوں اور قریبی آبادیوں کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ نہر میں شگاف کے باعث پانی کا اخراج جاری ہے، فصلیں متاثر ہوئی ہیں جبکہ آبادیوں میں بھی پانی داخل ہونے سے شہریوں کو اپنے گھروں اور مال مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ نہر کی فوری اور مضبوط بنیادوں پر مرمت نہ کی گئی تو چاول، گنے اور دیگر فصلوں کے ساتھ آئندہ گندم کی کاشت بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

18/09/2026

کوہاٹ۔ ڈی ایچ کیو اسپتال میں 21 لاشیں موجود

کوہاٹ۔ 81 زخمی زیر علاج ہیں۔

کوہاٹ۔ 10 شدید زخمیوں کو پشاور منتقل کر دیا گیا۔

کوہاٹ: پرانا پولیس لائن کے قریب دھماکہ، متعدد افراد زخمی، ہلاکتوں کا خدشہ۔

کوہاٹ: عینی شاہد کے مطابق دھماکہ مسجد میں ہوا، پولیس اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ کی جانب روانہ۔

کوہاٹ: دھماکے کی نوعیت اور زخمیوں کی تعداد سے متعلق مزید معلومات کا انتظار، پولیس۔

#کوہاٹ #دھماکہ #پولیس #ریسکیو1122

18/09/2026

کوہاٹ۔ پرانا پولیس لائن کے قریب دھماکہ۔ متعدد زخمی

*ڈیرہ اسماعیل خان: ٹی ایم او عبدالرحمان تنخواہوں اور پنشن کے لیے بڑی گرانٹ کے حصول کی خاطر پشاور روانہ*ڈیرہ اسماعیل خان:...
16/09/2026

*ڈیرہ اسماعیل خان: ٹی ایم او عبدالرحمان تنخواہوں اور پنشن کے لیے بڑی گرانٹ کے حصول کی خاطر پشاور روانہ*

ڈیرہ اسماعیل خان:
ٹی ایم اے ڈیرہ اسماعیل خان کے غریب ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کے دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے ٹی ایم او ڈیرہ اسماعیل خان عبدالرحمان بڑی گرانٹ کے حصول کی غرض سے پشاور روانہ ہو گئے۔ذرائع کے مطابق ٹی ایم او عبدالرحمان پشاور میں سیکرٹری بلدیات، ڈائریکٹر جنرل بلدیات اور وزیر بلدیات سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے اور ٹی ایم اے ڈیرہ اسماعیل خان کو درپیش مالی مشکلات سے آگاہ کریں گے۔ٹی ایم او کی جانب سے ملازمین کے دیرینہ مالی مسائل کے حل اور ان کے جائز حقوق کی فراہمی کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ پشاور میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران ٹی ایم اے کے لیے بڑی مالی گرانٹ کے حصول، ملازمین کی واجب الادا تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی سمیت دیگر مالی معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹی ایم اے ملازمین طویل عرصے سے تنخواہوں اور پنشن کی بروقت ادائیگی کے منتظر ہیں، جس کے باعث انہیں شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسے میں گرانٹ کا حصول ملازمین کو فوری مالی ریلیف فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ٹی ایم او عبدالرحمان کی جانب سے اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں اور مسلسل رابطوں کے ذریعے اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ غریب ملازمین اور پنشنرز کو ان کی تنخواہیں اور پنشن فوری طور پر ادا کی جا سکیں۔ملازمین نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ ٹی ایم او عبدالرحمان کی کوششوں اور متعلقہ حکام کے تعاون سے ٹی ایم اے ڈیرہ اسماعیل خان کا مالی بحران کم ہوگا اور ملازمین کو ان کے واجب الادا حقوق کی ادائیگی ممکن ہو سکے گی۔



























#پنشن


#پشاور
#خیبرپختونخوا

ڈیرہ اسماعیل خان: ڈی ایس پی سٹی صغیر گیلانی کی انتھک محنت رنگ لے آئی، کینٹ پولیس کی بڑی کارروائیاں، متعدد ملزمان گرفتار،...
15/09/2026

ڈیرہ اسماعیل خان: ڈی ایس پی سٹی صغیر گیلانی کی انتھک محنت رنگ لے آئی، کینٹ پولیس کی بڑی کارروائیاں، متعدد ملزمان گرفتار، چوری شدہ موٹر سائیکلیں برآمد

ڈیرہ اسماعیل خان: جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں کامیابی، ڈی ایس پی سٹی صغیر گیلانی کی مسلسل نگرانی، انتھک محنت، دن رات کی کاوشوں اور مؤثر حکمتِ عملی کے نتیجے میں تھانہ کینٹ کی حدود میں مختلف مقدمات میں مطلوب متعدد ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے چوری شدہ موٹر سائیکلیں برآمد کرلی گئیں۔ ڈی ایس پی سٹی صغیر گیلانی کی جانب سے جرائم کے خاتمے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے خصوصی توجہ اور مسلسل فالو اَپ کے باعث پولیس کو اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق حالیہ کارروائیوں کے دوران موٹر سائیکل چوری، نقب زنی اور دیگر جرائم سے متعلق مختلف مقدمات میں مطلوب ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جبکہ ان کے قبضے سے CD-70، ہونڈا 125 اور دیگر موٹر سائیکلیں برآمد ہوئیں۔ برآمد ہونے والی موٹر سائیکلوں میں پولیس ریکارڈ کے مطابق رجسٹریشن نمبر 9675-DHQ، 6044-F، 762-BKU، 3328-3 اور 2669-AAJ سمیت دیگر موٹر سائیکلیں شامل ہیں۔

گرفتار ہونے والے ملزمان میں عمر فاروق ولد محمد یوسف، اسد اللہ ولد شفقت اللہ، شکیل احمد ولد قبل محمد، وقار حسن ولد محمد بشیر اور دیگر شامل ہیں۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق ان ملزمان کے خلاف مختلف مقدمات درج تھے، جن پر کارروائی کرتے ہوئے انہیں قانون کی گرفت میں لایا گیا اور چوری شدہ موٹر سائیکلوں کی برآمدگی عمل میں لائی گئی۔

ان کامیاب کارروائیوں کے پیچھے ڈی ایس پی سٹی صغیر گیلانی کی مسلسل محنت اور ذاتی دلچسپی کو بنیادی عنصر قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈی ایس پی سٹی نے جرائم کے خاتمے کو ترجیح دیتے ہوئے پولیس افسران و اہلکاروں کو مطلوب ملزمان کی گرفتاری، چوری شدہ موٹر سائیکلوں کی برآمدگی اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے خصوصی ہدایات جاری کیں اور کارروائیوں کی مسلسل نگرانی کی۔ مقدمات کی پیش رفت سے لے کر ملزمان کی گرفتاری اور برآمدگی تک ڈی ایس پی سٹی کی جانب سے مسلسل فالو اَپ کیا گیا، جس کے نتیجے میں یہ اہم کامیابیاں سامنے آئیں۔

ڈی ایس پی سٹی صغیر گیلانی کی دن رات کی محنت اور جرائم کے خلاف واضح عزم نے پولیس کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا ہے۔ مختلف مقدمات میں مطلوب افراد کی گرفتاری اور چوری شدہ موٹر سائیکلوں کی برآمدگی سے نہ صرف جرائم پیشہ عناصر کے خلاف پولیس کی گرفت مضبوط ہوئی بلکہ شہریوں میں بھی تحفظ اور اعتماد کا احساس پیدا ہوا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور امکان ہے کہ تفتیش کے دوران مزید وارداتوں، چوری شدہ موٹر سائیکلوں اور دیگر جرائم میں ملوث عناصر کے حوالے سے بھی اہم معلومات سامنے آئیں گی۔ پولیس کی جانب سے برآمد شدہ موٹر سائیکلوں کے اصل مالکان کا تعین کرکے انہیں قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد واپس کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

شہری حلقوں نے ڈی ایس پی سٹی صغیر گیلانی کی کارکردگی کو بھرپور انداز میں سراہتے ہوئے کہا ہے کہ جرائم کے خلاف کارروائیوں میں ڈی ایس پی سٹی کی مسلسل دلچسپی اور ذاتی نگرانی قابلِ تحسین ہے۔ شہریوں کے مطابق موٹر سائیکل چوری جیسے جرائم شہریوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن سکتے ہیں، تاہم چوری شدہ موٹر سائیکلوں کی برآمدگی اور ملزمان کی گرفتاری سے جرائم پیشہ عناصر کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی سٹی صغیر گیلانی کی انتھک محنت، مسلسل نگرانی اور مؤثر حکمتِ عملی کے نتیجے میں جرائم کے خلاف پولیس کی کارروائیوں میں نمایاں بہتری دکھائی دے رہی ہے۔ شہریوں نے اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جرائم کے خلاف مؤثر کردار ادا کرنے والے پولیس افسران کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ مزید جذبے کے ساتھ شہریوں کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں۔

دوسری جانب ڈی پی او ڈیرہ اسماعیل خان اور آر پی او ڈیرہ ریجن کی جانب سے بھی ضلع میں جرائم کے خاتمے، امن و امان کے قیام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پولیس کو مؤثر اقدامات کی ہدایات جاری ہیں۔ پولیس حکام کی پالیسی کے تحت جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ڈی ایس پی سٹی صغیر گیلانی کی جانب سے ان ہدایات پر بھرپور عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
ڈی ایس پی سٹی صغیر گیلانی کی ان مسلسل کاوشوں اور کامیاب کارروائیوں پر شہریوں کی جانب سے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جرائم کے خلاف اگر اسی جذبے، عزم اور محنت کے ساتھ کارروائیاں جاری رہیں تو ڈیرہ اسماعیل خان میں جرائم کے خاتمے اور شہریوں کو محفوظ ماحول کی فراہمی میں مزید نمایاں کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔
























14/09/2026

*علی امین گنڈاپور کے حلقۂ انتخاب میں ٹی ایم اے ملازمین سات ماہ سے تنخواہوں کے منتظر، حکمرانی کے دعووں پر بڑا سوال*

ڈیرہ اسماعیل خان: سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈاپور کے حلقۂ انتخاب کی تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے اہلکار گزشتہ سات ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث شدید مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔ شدید گرمی میں شہر کے پارکوں، گرین بیلٹس اور دیگر عوامی مقامات کی دیکھ بھال کرنے والے یہ ملازمین اپنی محنت کی اجرت کے لیے دفاتر کے چکر لگانے اور دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں، جبکہ ملازمین کے مطابق بعض گھروں میں فاقوں تک نوبت پہنچ چکی ہے۔یہ صورتحال سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے لیے ایک سنجیدہ سیاسی سوال بن کر سامنے آ رہی ہے۔ جس حلقے کی نمائندگی خود علی امین گنڈاپور کر چکے ہیں، وہاں ٹی ایم اے کے غریب ملازمین اگر سات ماہ تک اپنی تنخواہوں سے محروم رہیں تو سوال یہ ہے کہ ان ملازمین کی آواز آخر کس نے سننی ہے؟علی امین گنڈاپور کے دورِ حکومت میں صوبے میں گڈ گورننس، عوامی ریلیف اور عام آدمی کے مسائل حل کرنے کے دعوے کیے جاتے رہے، لیکن ان کے اپنے سیاسی حلقۂ اثر میں بلدیاتی ادارے کے ملازمین کا کئی ماہ تک تنخواہوں سے محروم رہنا ان دعووں پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کے کارکن نہیں بلکہ ٹی ایم اے کے اہلکار ہیں اور روزانہ اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ شدید گرمی میں شہر اور پارکوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں، مگر جب اپنے بچوں کے لیے راشن اور ضروریاتِ زندگی خریدنے کی باری آتی ہے تو ان کی جیب خالی ہوتی ہے۔تنقیدی سوال یہ بھی ہے کہ سیاسی قیادت کے لیے بڑے بڑے ترقیاتی دعوے اپنی جگہ، لیکن کیا ایک غریب مالی کو سات ماہ کی تنخواہ دلوانا بھی حکومت اور سیاسی قیادت کی ترجیحات میں شامل نہیں؟مذکورہ تحصیل میں علی امین گنڈاپور کے بھائی کے تقریباً چار سال تک تحصیل میئر رہنے کا حوالہ دیتے ہوئے ملازمین اور مقامی حلقے یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ بلدیاتی ادارے کے معاملات میں طویل سیاسی اثر و رسوخ کے باوجود آج یہی ادارہ اپنے نچلے درجے کے ملازمین کو بروقت تنخواہیں دینے میں کیوں ناکام دکھائی دے رہا ہے۔ملازمین کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت اور بلدیاتی اداروں کے درمیان مالی یا انتظامی معاملات میں اگر کوئی اختلاف یا رکاوٹ ہے تو اس کا بوجھ غریب ملازمین پر نہیں ڈالا جانا چاہیے۔ حکومتیں اور سیاسی قیادتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، مگر ملازم کے گھر کا چولہا ہر ماہ تنخواہ سے جلتا ہے۔مالیوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ انہیں طویل عرصے سے مقررہ اجرت سے کم تنخواہ دی جا رہی ہے، جبکہ بعض ایسے ملازمین کو بھی تنخواہیں ملنے کا الزام عائد کیا گیا ہے جو مبینہ طور پر باقاعدگی سے ڈیوٹی انجام نہیں دیتے۔ ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ ان معاملات کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی سطح پر بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ملازمین نے واضح کیا کہ ان کا احتجاج کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ اپنی تنخواہوں کے حصول کے لیے ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ موجودہ تنخواہ فوری جاری کی جائے اور گزشتہ سات ماہ کے تمام بقایاجات کی ادائیگی کے لیے واضح اور قابلِ عمل شیڈول دیا جائے۔علی امین گنڈاپور کے لیے اصل سیاسی امتحان بھی یہی ہے کہ اپنے حلقۂ انتخاب کے ان غریب ملازمین کی آواز کب سنی جاتی ہے۔ اگر ایک مالی اپنی سات ماہ کی تنخواہ کے لیے سڑک پر احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائے اور اس کے گھر میں فاقوں کی نوبت آ جائے تو یہ محض ایک ملازم کا مسئلہ نہیں بلکہ انتظامی ترجیحات اور سیاسی جواب دہی کا سوال بن جاتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ علی امین گنڈاپور اور موجودہ صوبائی و بلدیاتی حکام ان ملازمین کی فریاد سنتے ہیں یا یہ غریب اہلکار اپنی محنت کی اجرت کے لیے مزید عرصہ دربدر کی ٹھوکریں کھاتے رہیں گے۔






#خیبرپختونخوا




















زیادہ مؤثر شارٹ سیٹ:
#خیبرپختونخوا

*سابق ٹی ایم او حنیف خان  کی واپسی کی مبینہ کوششیں، شہری و جمالی کا کردار بھی سوالیہ نشان*ڈیرہ اسماعیل خان: تحصیل میونسپ...
13/09/2026

*سابق ٹی ایم او حنیف خان کی واپسی کی مبینہ کوششیں، شہری و جمالی کا کردار بھی سوالیہ نشان*

ڈیرہ اسماعیل خان: تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن میں سابق تحصیل میونسپل آفیسر حنیف خان چغتائی کی دوبارہ تعیناتی یا واپسی کے لیے مبینہ طور پر کوششیں تیز کیے جانے کی اطلاعات نے شہری حلقوں میں ایک بار پھر کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ذرائع کے مطابق حنیف خان چغتائی کی واپسی کے لیے بعض بااثر حلقوں کی جانب سے مبینہ طور پر رابطے اور کوششیں کی جا رہی ہیں، جبکہ اسی سلسلے میں شہری اور جمالی کے نام بھی مختلف حلقوں میں زیرِ بحث ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ افراد کے سابق ٹی ایم او کے ساتھ مبینہ روابط اور کردار کی بھی چھان بین ضروری ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ حنیف خان کی واپسی کے لیے کون سرگرم ہے اور اس کے پسِ پردہ اصل مقاصد کیا ہیں۔اس معاملے میں 50 لاکھ روپے ماہانہ مبینہ پیشکش کی بات بھی سامنے آ رہی ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق یا اس حوالے سے کوئی مستند دستاویزی ثبوت تاحال سامنے نہیں آیا۔ اگر ایسی کوئی پیشکش یا مالی معاملہ حقیقت میں موجود ہے تو اس کی مکمل تحقیقات کے ذریعے حقیقت عوام کے سامنے لائی جانی چاہیے۔یہ معاملہ اس لیے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ حنیف خان چغتائی کے سابق دور سے متعلق ٹی ایم اے کے مالی و انتظامی معاملات پر پہلے ہی مختلف سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ایک ایسے افسر کی واپسی کے لیے غیر معمولی سرگرمیاں کی جا رہی ہیں تو سب سے پہلے اس کے سابق دور کا مالی ریکارڈ، ٹھیکہ جات، خریداریوں، سرکاری ادائیگیوں اور آمدن و اخراجات کا مکمل جائزہ لیا جانا چاہیے۔خصوصاً یہ بھی تحقیقات کی جائیں کہ شہری اور جمالی کا سابق ٹی ایم او حنیف خان چغتائی کے ساتھ کیا انتظامی یا دیگر نوعیت کا تعلق رہا، کن معاملات میں ان کا رابطہ یا کردار رہا اور آیا موجودہ مبینہ واپسی کی کوششوں میں بھی ان کا کوئی کردار ہے یا نہیں۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ان تمام معاملات میں کوئی حقیقت موجود ہے تو اسے سیاسی یا ذاتی مخالفت کے بجائے ریکارڈ اور دستاویزات کی بنیاد پر سامنے لایا جائے۔ اینٹی کرپشن حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سابق ٹی ایم او کے دور کے اہم مالی معاملات کی چھان بین کے ساتھ ساتھ ان کی دوبارہ تعیناتی کے لیے ہونے والی مبینہ سرگرمیوں اور اس میں شامل افراد کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے۔دوسری جانب عوام کا بنیادی سوال بدستور موجود ہے کہ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن، جو صوبے کی زیادہ آمدن رکھنے والی ٹی ایم ایز میں شمار ہوتی ہے، مالی بحران اور انتظامی زوال کا شکار کیوں ہے؟ اگر ادارے کے پاس کروڑوں روپے کی آمدن کے ذرائع موجود ہیں تو پھر ملازمین کی تنخواہوں، پنشن، ترقیاتی کاموں اور دیگر بنیادی ذمہ داریوں کے لیے مالی مشکلات کیوں پیدا ہوتی ہیں؟شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ چند سال کے دوران ٹی ایم اے کی آمدن، اخراجات، ٹھیکوں، نیلامیوں، مشینری کی خریداری، سرکاری ادائیگیوں اور دیگر مالی معاملات کا خصوصی آڈٹ کرایا جائے اور اگر کسی مرحلے پر بے ضابطگی یا اختیارات کے غلط استعمال کے شواہد ملیں تو ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ علی امین برادران اگر ان معاملات سے متعلق کسی قسم کی معلومات رکھتے ہیں تو تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ سابق ٹی ایم او کی واپسی کے لیے کون سرگرم ہے، مبینہ مالی پیشکش کی حقیقت کیا ہے اور ٹی ایم اے کے موجودہ مالی بحران کی اصل وجوہات کیا ہیں۔متعلقہ افراد کا مؤقف تاحال دستیاب نہیں ہو سکا۔ ان کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔

*بریکنگ تحقیقات جاری ہیں۔*🔴 سابق تحصیل میونسپل افسران کے مبینہ منظورِ نظر ٹھیکیدار کون تھے؟ سوال اٹھنے لگے؟❓ تحصیل میونس...
13/09/2026

*بریکنگ تحقیقات جاری ہیں۔*

🔴 سابق تحصیل میونسپل افسران کے مبینہ منظورِ نظر ٹھیکیدار کون تھے؟ سوال اٹھنے لگے؟

❓ تحصیل میونسپل کے کروڑوں کے ٹھیکے کس کو اور کس طریقہ کار کے تحت دیے گئے؟

❓ ٹینڈر ہوا یا ٹھیکے پہلے ہی طے تھے؟ سرکاری ریکارڈ کیا کہتا ہے؟

❓ کس ٹھیکیدار کو کتنا کام ملا اور کتنی رقم ادا کی گئی؟

❓ ٹھیکوں کی اصل لاگت اور ادا کی گئی رقم میں کتنا فرق ہے؟

❓ کیا بعض ٹھیکیداروں کو کام مکمل ہونے سے پہلے ایڈوانس ادائیگیاں کی گئیں؟

❓ ایڈوانس رقم کی ادائیگی کے بعد ٹھیکے کی رقم میں مبینہ طور پر دگنا ایڈجسٹمنٹ کیسے ہوئی؟

❓ بنگلے کے نام پر کون کون سے ٹھیکے جاری ہوئے؟ ریکارڈ سامنے لانے کا مطالبہ؟

❓ بنگلے کے کاموں پر کتنی رقم منظور ہوئی اور حقیقت میں کتنی خرچ ہوئی؟

❓ دریاخان والی سرکار کے دور میں کن ٹھیکیداروں کو بڑے ٹھیکے ملے؟

❓ دریاخان والی سرکار کے دور کے ٹھیکوں کی ادائیگیوں کی تفصیلات کیا ہیں؟

❓ ظفرآباد والی سرکار کے دور میں کون سے ٹھیکے کس کے حصے میں آئے؟

❓ ظفرآباد والی سرکار کے دور میں ٹھیکوں کی منظوری اور ادائیگی کس نے کی؟

🔴 ٹھیکیدار کون؟ منظوری دینے والا کون؟ ادائیگی کس نے کی؟ مکمل ریکارڈ کی چھان بین شروع؟

❓ ورک آرڈر، ٹینڈر، ایم بی اور بلوں میں کیا تفصیلات درج ہیں؟

❓ کیا تمام ٹھیکوں میں ٹینڈرنگ اور سرکاری قواعد پر مکمل عملدرآمد ہوا؟

🔴 سابق افسران کے دور کے ٹھیکوں کا آڈٹ ہو تو کیا کیا سامنے آئے گا؟

🔴 ٹھیکوں کی فائلیں کھلیں گی تو راز کھلیں گے؟ اصل حقائق کیا ہیں؟

🔥 کس نے کیا لیا، کس کو کیا ملا؟ سوالات کی زد میں تحصیل میونسپل کے ٹھیکے؟

🔴 تحصیل میونسپل کے ٹھیکوں کی مکمل چھان بین کا مطالبہ—ذمہ دار کون؟

#خیبرپختونخوا #پشاور #نیب #تحقیقات #احتساب
#پشاور #نیب

Address

Dera Ismail Khan

29050

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jaag News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share