ضلع لاہور اور ملتان میں 𝟐𝟒 نومبر تک:
▪️تمام سرکاری اور نجی یونیورسٹیاں، کالجز اور سکولز آن لائن منتقل۔
▪️تمام تعمیراتی کاموں پر مکمل پابندی ہوگی۔ قومی سطح کے تعمیراتی کاموں کو اجازت ہوگی۔
▪️ہیوی ٹرانسپورٹ کے داخلے پر مکمل پابندی۔
▪️اینٹوں کے بھٹوں اور فرنس آئل پر چلنے والی فیکٹریاں بند۔
▪️ریسٹورنٹ شام 4 بجے تک کھلے رہیں گے اور رات 8 بجے تک ٹیک آوے کی اجازت ہوگی۔
▪️ضلع لاہور میں فائر ورکس پر 31 جنوری تک پابندی ہوگی۔
ضلع لاہور، ملتان، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں 𝟐𝟒 نومبر تک:
▪️تمام آؤٹ ڈور سرگرمیاں جیسے کہ کھیل ،نمائش اور فیسٹیولز پر پابندی۔
▪️تمام مارکیٹیں، دکانیں اور شاپنگ مالز رات آٹھ بجے بند۔
▪️نجی اور سرکاری دفاتر میں پچاس فیصد عملہ آن لائن منتقل 31 دسمبر تک۔
ضلع فیصل آباد، گوجرانوالہ اور پنجاب کے دیگر تمام اضلاع میں 𝟐𝟒 نومبر تک:
▪️بارہویں جماعت/ اے لیولز تک نجی و سرکاری تعلیمی ادارے اور ٹیوشن سنٹرز بند اور آن لائن منتقل۔
ضلع لاہور، ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، قصور، ننکانہ صاحب، گجرات، حافظہ آباد، منڈی بہاالدین، سیالکوٹ، نارووال، چنیوٹ، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، لودھران، وہاڑی، خانیوال میں 𝟐𝟒 نومبر تک:
▪️تمام پارکس (پبلک اور پرائیوٹ)، چڑیا گھر، عجائب گھر، کھیلوں کے میدان، تاریخی مقامات میں شہریوں کے جانے پر مکمل پابندی عائد۔
ضلع مری تمام تر پابندیوں سے مستثناء ہوگا۔
12/11/2024
ماڈل ٹاؤن اور کینٹ کورٹس بارز کو لاء اینڈ پارلیمنٹ آفیئرز ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ آف پنجاب نے نوٹیفکیشن میں تحصیل بارز ظاہر کردیا
05/11/2024
سپریم کورٹ، جوڈیشل کمیشن اجلاس کا اعلامیہ جاری
جسٹس امین الدین خان آئینی بینچ کے سربراہ ہونگے،جبکہ
جسسٹس جمال خان مندوخیل ،جسٹس محمد علی مظہر،
جسٹس عائشہ ملک ،جسٹس حسن رضوی، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل ہیں
چاروں صوبوں کی نمائیندگی سے بینچ کے ججز کی دو ماہ کیلئے منظوری دی گئی
آئینی بینچ کے ججز کی منظوری سات ،پانچ کے تناسب سے کی گئی ہے۔
05/11/2024
**پراپرٹی خریدتے وقت کیش میں ادائیگی سے پرہیز کریں!**
پراپرٹی کی خرید و فروخت میں کی جانے والی ایک چھوٹی سی غلطی آپ پر غیر ضروری ٹیکس کا بوجھ ڈال سکتی ہے۔ اس پوسٹ میں ہم ان نکات کا جائزہ لیں گے جو پراپرٹی خریدتے وقت مدنظر رکھنا لازمی ہیں۔ ایک خاص نکتہ ایسا ہے جس پر توجہ دے کر آپ تقریباً 20 فیصد ٹیکس بچا سکتے ہیں۔ نیز، جانیں گے کہ خرید و فروخت میں کتنی ادائیگی کیش میں کرنے کی اجازت ہے۔
جولائی 2024 سے پہلے، پراپرٹی پر کیپٹل گین ٹیکس (CGT) مختلف سلیبز میں لاگو تھا اور اگر کوئی شخص پراپرٹی کو چھے سال تک ہولڈ کرتا تھا تو CGT کی چھوٹ دی جاتی تھی۔ تاہم، جولائی 2024 کے بعد خریدی گئی پراپرٹی پر آپ کو 15 فیصد CGT دینا ہوگا، چاہے آپ پراپرٹی اگلے ہی دن بیچیں یا دس سال بعد۔ اس نئی شق کے باعث پراپرٹی کا کاروبار شدید متاثر ہوا ہے۔ یہاں ہم دیکھیں گے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2024 کے بعد پراپرٹی خریدتے وقت کن امور کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 75-A کے مطابق، اگر آپ 5 ملین (پچاس لاکھ) یا اس سے کم قیمت کی پراپرٹی خرید رہے ہیں تو آپ اس کی قیمت کیش میں ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی پراپرٹی کی قیمت 50 لاکھ سے زیادہ ہو جائے گی، اس کی رقم کیش میں ادا نہیں کی جا سکتی۔ اس صورت میں، خریدار کو بینک کے ذریعے ادائیگی کرنا ہوگی، چاہے چیک ہو یا پے آرڈر۔ اکثر لوگوں کو اس قانون کا علم نہیں ہوتا، جس کے باعث ایف بی آر کے نوٹسز اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آئیے ایک مثال سے اس بات کو سمجھتے ہیں۔
فرض کریں آپ نے 40 لاکھ کی پراپرٹی X خریدی اور اس کی رقم کیش میں ادا کردی۔ دو سال بعد اسے 60 لاکھ میں بیچ دیا۔ اب خرید و فروخت کے درمیان 20 لاکھ کا فرق آیا، جسے کیپٹل گین کہا جاتا ہے۔ اس 20 لاکھ پر آپ نے 15 فیصد CGT ادا کر دیا، اور چونکہ خرید و فروخت کی مکمل تفصیلات قانونی ہیں، تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
دوسری مثال میں ایک پراپرٹی Y ہے، جسے آپ نے 70 لاکھ میں خریدا اور کیش میں ادائیگی کی۔ کچھ وقت بعد اسے 90 لاکھ میں بیچ دیا اور 20 لاکھ کے کیپٹل گین پر 15 فیصد ٹیکس بھی ادا کر دیا۔ مگر یہاں ایک بڑا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ چونکہ آپ نے 70 لاکھ کی پراپرٹی کیش میں خریدی تھی اور ٹرانزیکشن کا کوئی ریکارڈ نہیں تھا، اس لیے ایف بی آر آپ کو نوٹس بھیجے گا اور اس پر ٹیکس عائد کرے گا۔ اگر آپ کے پاس اس کیش ٹرانزیکشن کا بینک ریکارڈ نہیں ہے، تو ایف بی آر اس پراپرٹی کو 70 لاکھ کا کیپٹل گین تصور کرے گا اور آپ کو اس پوری رقم پر ٹیکس دینا پڑے گا۔ اس چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے آپ نے جائز کام کو بھی مسئلہ بنا لیا۔
یاد رکھیں، 50 لاکھ سے زائد کی پراپرٹی کی خریداری ہمیشہ بینک کے ذریعے کریں تاکہ آپ کے پاس مکمل ریکارڈ موجود ہو اور غیر ضروری ٹیکس سے بچ سکیں۔
یہاں بات ختم نہیں ہوتی۔ اگر آپ نے پچاس لاکھ کی پراپرٹی کیش میں خریدی، تو نہ صرف 15 فیصد ٹیکس دینا پڑے گا بلکہ مزید 5 فیصد جرمانہ بھی ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یوں آپ کا سارا منافع ٹیکس اور جرمانے میں جا سکتا ہے۔ متعدد افراد کو اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑا ہے اور انہیں بعد میں پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ملا۔ لہٰذا، اپنی ٹیکس ریٹرنز اور مالی امور ہمیشہ ایک پروفیشنل ٹیکس کنسلٹنٹ کی رہنمائی سے مکمل کریں تاکہ بڑی مشکلات سے محفوظ رہ سکیں۔
31/10/2024
26/10/2024
۔چیف جسٹس،جسٹس یحییٰ آفریدی کے حلف اٹھانے کے بعد پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی نئی تشکیل کا نوٹیفکیشن ، سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر اب کمیٹی کے ممبر ہوں گے۔
25/10/2024
جسٹس سید منصور علی شاہ کا رجسٹرار سپریم کورٹ آف پاکستان کو کھلا خط
24/10/2024
ایف بی آر نے سال 2024 کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والے تمام افراد کا فائلر سٹیٹس Active کردیا ہے اب پراپرٹی خریدنے یا بیچنے پر انکو %3 withholding ٹیکس ادا کرنا پڑے گا.
20/10/2024
سپریم کورٹ کے تمام اہم اختیارات آئینی بینچ کو منتقل ہوں گے اور اس آئینی بینچ کی سربراہی بینچ میں شامل تمام ججز میں سے سینئر موسٹ جج پریزائیڈنگ جج آف آئینی بینچ ہو گا جس کا تقرر جوڈیشل کمیشن کرے گا، یوں چیف جسٹس سے زیادہ اختیارات اس پریزائیڈنگ جج کے ہوں گے
20/10/2024
آئینی ترامیم کے تناظر میں اہم
چیف جسٹس آف پاکستان کی تین سینئر ججز میں سے نامزدگی کے لیے پارلیمانی کمیٹی قومی اسمبلی سے 8
سینیٹ سے 4 ممبران سیاسی جماعتوں کی متناسب نمائندگی سے بنے گی
مخصوص نشستیں اگر پی ٹی آئی کو ملتی ہیں تو ان کو نمائندگی زیادہ ملے گی
اگر حکمران اتحاد کو ملتی ہیں تو ان کی نمائندگی زیادہ ہو گی کیونکہ چیف جسٹس کی تعیناتی دو تہائی اکثریت سے ہونی ہے جس میں متناسب نمائندگی سے اکثریت اقلیت اور اقلیت اکثریت کی مرضی پر اثر اندازہ ہو سکتی ہے اور یہ کمیٹی کل ہی نوٹی فائی بھی ہونے کا امکان ہے کیونکہ اجلاس بلا کر 22 اکتوبر رات بارہ بجے سے پہلے نام فائنل کرنا ہے
Be the first to know and let us send you an email when Awami Lawyers Movement Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.