Shocking Statistics

  • Home
  • Shocking Statistics

Shocking Statistics Amazing and Interesting Stories

03/02/2022
ThreaderSign up آبی کوثر@NaikParveen22‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏نیپال سے واپسی۔۔ 𝗔𝗮𝗯𝗶 𝗸𝗼𝘀𝗮𝗿💕Nov. 02, 2021  5 min read+ Your AuthorsArc...
03/11/2021

ThreaderSign up آبی کوثر@NaikParveen22‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏نیپال سے واپسی۔۔ 𝗔𝗮𝗯𝗶 𝗸𝗼𝘀𝗮𝗿💕Nov. 02, 2021 5 min read+ Your AuthorsArchiveFacebookLinkedInTwitterیہ واقعہ آج سے ساڑھے 3ہزار سال پہلے پیش آیا تھا، فرعون کے ڈوب کر مرنے کے بعد سمندر نے اس کی لاش کو اللہ کے حکم سے باہر پھینک دیا جبکہ باقی لشکر کا کوئی نام و نشان نہ ملا۔مصریوں میں سے کسی شخص نے ساحل پر پڑی اس کی لاش پہچان کر اہل دربار کو بتایا۔ فرعون کی لاش کو محل پہنچایا گیادرباریوں نے مسالے لگا کر اسے پوری شان اور احترام سے تابوت میں رکھ کر محفوظ کر دیا۔حنوط کرنے کے عمل کے دوران ان سے ایک غلطی ہو گئی تھی، فرعون کیوں کہ سمندر میں ڈوب کر مرا تھا اور مرنے کے بعد کچھ عرصہ تک پانی میں رہنے کی وجہ سے اس کے جسم پر سمندری نمکیات کی ایک تہہ جمی رہ گئی تھیمصریوں نے اسکی لاش پر نمکیات کی وہ تہہ رہنےدی اور اسے اسی طرح حنوط کردیا۔وقت گزرتارہا،زمین وآسمان نے بہت سے انقلاب دیکھے جنکی گرد کے نیچے سب کچھ چھپ گیاحتیٰ کہ فرعونوں کی حنوط شدہ لاشیں بھی زمین کی تہوں میں چھپ گئیں،انکے نام صرف کتابوں،انکی تعمیرات اور لوگوں کے ذہنوں میں رہ گئےاس واقعے کے 2ہزار سال بعد اس دنیا میں اللہ کے آخری نبی حضرت محمدؐ تشریف لائے، ان پر نازل ہونے والی آخری کتاب میں فرعونوں کے قصے بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیے گئے اور اسی سلسلے میں اس فرعون کا جسم محفوظ کرنے کی بابت آیت بھی نازل ہوئی تھی جسکی سچائی پر سب اہل ایمان کا پختہ یقین تو تھالیکن وہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ اس خدائی کا دعوے کرنے والے کی لاش کہاں محفوظ کی گئی اور کیسےاسے عبرت کا نشان بنایاجائےگا1871ء میں مصر کے ایک شہر الغورنیہ سے تعلق رکھنے والے غریب اور معمولی چور احمد عبدالرسول کو فرعونوں کی حنوط شدہ لاشوں کیطرف جانے والے خفیہ راستے تک رسائی مل گئیاحمد عبدالرسول نوادرات چوری کرکے بیچا کرتا تھا۔ ایک دن وہ دریائے نیل کے کنارے کے قریب تبیسہ کے مقام پر اسی سلسلے میں پھر رہا تھاجب اسے ایک خفیہ راستے کا پتہ چلا۔ وہاں وہ نوادرات کی چوری کے لئے جگہ کھود رہا تھا کہ اسی دوران اسے کچھ لوگوں نے پکڑ لیا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔وہ جس جگہ کو کھود رہا تھا وہاں سے ملنے والے راستے کی جب مسلسل کھدائی کی گئی۔1891ء کو دوسری ممیوں کے ساتھ اسی غرق ہونے والے فرعون کی لاش بھی مل گئی۔ اس کے کفن پر سینے کے مقام پر اس کا نام لکھا ہوا تھا۔ ان ممیوں کو ماہرین قاہرہ لے گئے۔ جب ان ممیوں کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا توفرعون والی ممی پر جمی نمکیات کی تہہ سے تصدیق ہوگئی کہ یہ وہی فرعون ہے جسے اللہ نے پانی میں غرق کرکے بدترین انجام سے ہمکنار کیا تھا۔یہ بہت بڑا واقعہ تھا اس کی تصدیق کے لیے دنیا بھر کے ماہرین آثار قدیمہ اور سائنسدان مصر کی طرف امڈ پڑے۔ مختلف سائنسی ٹیسٹ کرنے کے بعد دنیا بھر کےسائنسدانوں نے تصدیق کر دی کہ دوسری سب لاشوں کی نسبت صرف فرعون کی لاش پر ہی سمندری نمکیات کی تہہ جمی ہوئی تھی۔ اس تصدیق کے بعد اسے فرعون کی لاش قرار دے کر عجائب گھر میں محفوظ کر دیا گیا۔1982ء میں فرعون کی ممی خراب ہونے لگی تو اس وقت کی مصری حکومت نے فرانس کی حکومت کودرخواست کی کہ فرعون کی ممی کو خراب ہونے سے بچایا جائے نیز جدید سائنسی ذرائع سے اس کی موت کی وجہ بھی معلوم کی جائے چنانچہ مصری اور فرانسیسی حکومت نے مل کر ممی کو فرانس لے جانے کا انتظام کیا،جب فرعون کی لاش کو فرانس پہنچایا گیا تو ائیر پورٹ پر اس دور کے فرانسیسی صدر بذات خودحکومت کے اعلیٰ عہدیداروں، تمام وزراء اور فوج کے افسران کے ساتھ استقبال کے لیے موجود تھے۔فرعون کی لاش کا استقبال کسی عظیم زندہ بادشاہ کی طرح کیا گیا، فوجی دستوں نے سلامی دی۔ فرعون کی ممی کو ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کے حوالے کیا گیا۔ اس ٹیم کی سربراہی ڈاکٹر مورس بوکائے نے کی تھی۔مائیکرو سکوپک ٹیسٹوں کے ذریعے ممی کے تمام اعضاء کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کی لاش اور جسم میں سمندری ذرات ابھی تک موجود ہیں اور موت کی وجہ بھی پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ایک بادشاہ کی موت پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے ہو!یہ ڈاکٹر مورس کے لیےحیرت کی بات تھی۔ اس نے اس ممی کے بارے مزید جاننے کی کوشش کی تو اسے معلوم ہوا کہ اس بادشاہ کی موت کے حالات مسلمانوں کے نبی حضرت محمدؐ پر اتری کتاب قرآن پاک میں تفصیل سے درج ہیں۔ اسے علم تھا کہ جہاں سے یہ لاش ملی ہے وہ ایک اسلامی ملک ہے چنانچہ تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر وہ مصر پہنچاوہ ایک سائنسدان تھا اس نے اس معاملے میں مصر کے ہی ایک سائنسدان سے ملاقات کی۔ اس سائنسدان نے قرآن پاک کھول کر اسے سورۃ یونس کی آیات 90 تا 92 کا ترجمہ لفظ بہ لفظ سنایا۔ فرعون کا خدائی کا دعویٰ، اس کا پانی میں ڈوب کر مرنا اور پھر پانی سے نکال کر اس کی لاش کا حنوط ہو جانا اور پھردوبارہ لاش کا ملنا اور پھر اس کی لاش کو جدید سائنسی دور میں دوبارہ محفوظ کیا جانا۔ سب کا اشارہ ایک جانب تھا اور بہت واضح تھا۔’’تجھے بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت کا نشان بنا دوں گا‘‘۔فرعون کی لاش ایسے محفوظ کرکے دنیا کے سامنے لا کر رکھ دی گئی ہے کہ انٹرنیٹ کی ایک کلک پر،رسائل و جرائد پر، ٹی وی چینلز پر اور عجائب گھر میں اربوں انسانوں کی آنکھوں کے سامنے کریہہ اور پچکی قابل ترس حالت میں موجود ہے۔ عبرت کے لیے، سوچنے کے لیے کہ عبادت کے لائق اور ہمیشہ رہنے والا وہی ہے جو سب کا خالق اور رازق ہے۔ ڈاکٹر مورس نے آیات کا ترجمہ سنا تو اسی وقت پکار اٹھااللہ سچا ہے قرآن سچا ہے اور اللہ کا نبی حضرت محمدؐ سچا ہے، کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گیا۔سرور کونین احمد مجتبی محمد مصطفی سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام ر

یہ واقعہ آج سے ساڑھے 3ہزار سال پہلے پیش آیا تھا، فرعون کے ڈوب کر مرنے کے بعد سمندر نے اس کی لاش کو اللہ کے حکم سے باہر پھینک دیا جبکہ باقی لشکر کا کوئی نام و نشان نہ ملا۔ ...

09/09/2021

. . ***جنگ یمامہ***. .

مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کے نتیجے میں لڑی گئی جہاں 1200 صحابہ کرامؓ کی شہادت ہوئی
اور اس فتنے کو مکمل مٹا ڈالا۔
خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ خطبہ دے رہے تھے: لوگو! مدینہ میں کوئی مرد نہ رہے،اہل بدر ہوں
یا اہل احد سب یمامہ کا رخ کرو"
بھیگتی آنکھوں سے وہ دوبارہ بولے:
مدینہ میں کوئی نہ رہے حتٰی کہ جنگل کے
درندے آئیں اور ابوبکرؓ کو گھسیٹ کر لے جائیں"

صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ اگر علی المرتضیؓ
سیدنا صدیق اکبرؓ کو نہ روکتے تو وہ
خود تلوار اٹھا کر یمامہ کا رخ کرتے۔

13 ہزار کے مقابل بنوحنفیہ کے 70000 جنگجو
اسلحہ سے لیس کھڑے تھے۔
یہ وہی جنگ تھی جس کے متعلق اہل مدینہ کہتے تھے: "بخدا ہم نے ایسی جنگ نہ کبھی پہلے لڑی
نہ کبھی بعد میں لڑی"
اس سے پہلے جتنی جنگیں ہوئیں بدر احد
خندق خیبر موتہ وغیرہ صرف 259
صحابہ کرام شہید ھویے تھے۔ ختم نبوت ﷺ کے دفاع میں 1200صحابہؓ کٹے جسموں کے
ساتھ مقتل میں پڑے تھے۔

اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم_نبوتﷺ کی
اہمیت معلوم نہ ہوئی۔

انصار کا وہ سردار ثابت بن قیس ہاں وہی
جس کی بہادری کے قصے عرب و عجم
میں مشہور تھے
اس کی زبان سے جملہ ادا ہوا:
اےالله ! جس کی یہ عبادت کرتے ہیں میں
اس سے برأت کا اظہار کرتا ہوں"
چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا جب
وہ اکیلا ہزاروں کے لشکر میں گھس گیا اور اس وقت تک لڑتا رہا جب تک اس کے جسم
پر کوئی ایسی جگہ نہ بچی جہاں شمشیر
و سناں کا زخم نہ لگا ہو۔

عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کا لاڈلا بھائی۔۔۔۔ ہاں وہی زید بن خطابؓ جو اسلام لانے میں
صف اول میں شامل تھے انہوں نے مسلمانوں
میں آخری خطبہ دیا:
والله ! میں آج کے دن اس وقت تک کسی سے
بات نہ کرونگا جب تک کہ انہیں شکست
نہ دے دوں یا شہید نہ کر دیا جاؤں"

اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم نبوتﷺ کی
اہمیت معلوم نہ ہوئی۔

وہ بنو حنفیہ کا باغ "حدیقۃ الرحمان" تھا جس میں اتنا خون بہا کہ اسے "حدیقۃ الموت" کہا جانے لگا۔ وہ ایسا باغ تھا جس کی
دیواریں مثل قلعہ کے تھیں
کیا عقل یہ سوچ سکتی ہے کہ ہزاروں کا
لشکر ہو اور براء بن مالکؓ کہے:
*"لوگو! اب ایک ہی راستہ ہے تم مجھے
اٹھا کر اس قلعے میں پھینک دو میں
تمہارے لئے دروازہ کھولونگا"*
اس نے قلعہ کی دیوار پر کھڑے ہو کر
منکرین ختم نبوت کے اس لشکر جرار
کو دیکھا اور پھر تن تنہا اس قلعے میں
چھلانگ لگا دی
قیامت تک جو بھی بہادری کا دعوی کرے گا
یہاں وہ بھی سر پکڑ لے گا!!!
ایک اکیلا شخص ہزاروں سے لڑ رہا تھا
ہاں اس نے دروازہ بھی کھول دیا اور
پھر مسلمانوں نے منکرین ختم نبوتؐ
کو کاٹ کر رکھ دیا

*اے قوم! کاش کہ تم جان لیتے کہ
تمہارے اسلاف نے اپنی جانیں دے کر
رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی
ختم نبوت کا دفاع کیا ہے۔۔۔۔

کاش تمہیں رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم
کے ان صحابہؓ کے جذبوں کا علم ہوتا جو ایک
مٹھی بھر جماعت کے ساتھ حد نگاہ تک
پھیلے لشکر سے ٹکرا گئے۔۔۔۔

قادیانیت ایک بہت بڑے فتنے کی صورت میں نمودار ہے
پس ہر صاحب ایمان کے ذمے ہے کہ وہ
اس کے سدباب کی کوششوں میں شریک ہو.
اے مسلمانوں، تحفظ ختم نبوتؓ کے جہاد میں
اپنا اپنا کردار ادا کرو تا کہ قیامت کے دن خاتم النبیین صلى الله عليه وسلم کی شفاعت نصیب ہو. آخر میں میری آپ سب سے التماس ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اس داستان عشق وقربانی کو تمام مسلمانوں
کے سامنے رکھنے کی غرض سے اس تحریر کو
آگے منتقل کرنے کےلئے اپنا اپنا کردار ادا کیجئے۔
انشااللہ تعالی
حضور ﷺ
خاتم النبین
خاتم المرسلین

کی عزت حرمت اور أبرو کی خاطر جاگتے رھیں کیونکہ
اسی میں نجات ھے

کی محمدﷺ سے وفا تونے تو ھم تیرے ھیں

یہ جہاں چیز ھے کیا لوح و قلم تیرے ھیں.

ایک قرآنی ریسرچ کےمطابق ‘اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں 13 دلوں کا ذکر کیا ہے۔ یہ 13 قسم کے لوگ ہیں۔ آپ اللہ کی طرف سے 13 ...
15/02/2021

ایک قرآنی ریسرچ کےمطابق ‘اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں 13 دلوں کا ذکر کیا ہے۔

یہ 13 قسم کے لوگ ہیں۔ آپ اللہ کی طرف سے 13 لوگوں کی تقسیم ملاحظہ کی۔
قلب سلیم اللہ کی نظر میں پہلا دل قلب سلیم ہے۔

یہ وہ دل(لوگ)ہیں جو کفر‘نفاق اور گندگی سےپاک ہوتے ہیں۔یہ لوگ ذہنی اور جسمانی گندگی بھی نہیں پھیلاتے،خود بھی نفاق اور کفر سےپاک رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی ان سے بچا کر رکھتے ہیں‘ اللہ کو یہ دل اچھے لگتے ہیں۔
(سورۃ الشعراء ، آیت 89)قلب منیب ۔
دوسرا دل قلب منیب ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ سے توبہ کرتے رہتے ہیں اور اس کی اطاعت میں مصروف رہتے ہیں۔آپکو زندگی میں بے شمار ایسے لوگ ملیں گے جو اللہ کی اطاعت میں گم رہتے ہیں۔یہ اللہ سے ہر وقت توبہ کےخواستگار رہتےہیں۔اللہ منیب لوگوں کو بھی پسند کرتا ہے۔
(سورۃ ق ، آیت 33)قلب مخبت
تیسرا دل قلب مخبت ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو جھکےہوئے‘مطمئن اور پرسکون ہوتےہیں۔
میں نےزندگی میں عاجز لوگوں کو مطمئن اور پرسکون پایا‘ عاجزی وہ واحد عبادت ہے جس کےبارےمیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’جو بھی اللہ کےلیےعاجزی اختیار کرتاہے،اللہ اسکو بلند کر دیتا ہے(سورۃ الحج ،آیت 54)
چوتھا دل قلب وجل ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو نیکی کےبعد بھی ڈرتےرہتےہیں کہ اللہ ہماری یہ نیکی قبول کرےیا نہ کرے۔یہ لوگ ہر لمحہ اللہ کےعذاب سےبھی ڈرتےہیں۔یہ جانتےہیں اللہ نےاپنےانبیاء کو بھی غلطیوں کی سزا دی‘چنانچہ یہ اپنی بڑی نیکی کوبھی حقیر سمجھتے ہیں‘اللہ کو یہ لوگ بھی پسند ہیں۔
پانچواں دل قلب تقی ہے،یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرتے ہیں۔ یہ ان شعائر کی عبادت کی طرح تعظیم کرتے ہیں‘ یہ لوگ اگر کسی مجبوری سے عبادت نہ کر سکیں تو بھی روزہ داروں کے سامنےکھاتےپیتے نہیں اور یہ نماز اور اذان کے وقت خاموشی اختیار کرتے ہیں‘ اللہ کو یہ لوگ بھی پسند ہیں۔
چھٹا دل قلب مہدی ہے‘یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے فیصلوں پر بھی راضی رہتے ہیں اور بخوشی قبول کر لیتے ہیں۔ اللہ کو یہ لوگ بھی پسند ہیں۔زندگی میں کبھی ایسے لوگ خسارے میں نہیں ھوتے۔اللہ انکےلیےبرائی کے اندر سے اچھائی نکالتا ہے۔لوگ ان کے لیے شر کرتے ہیں لیکن اللہ اس شر سے خیر نکال دیتا ہے۔
ساتواں دل قلب مطمئن ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ کےذکر سے سکون ملتا ہے۔ یہ دن رات اللہ کا ذکر بھی کرتا رہتے ہیں ہے۔آپ بھی اگر ملال اور حزن سے بچنا چاہتے ہیں تو آپ تسبیح شروع کر دیں‘ آپ کا دل اطمینان اور خوشی سے بھر جائے گا‘ درود شریف اور لاحول ولا قوۃ الاباللہ بہترین تسبیحات ہیں ۔
آٹھواں دل قلب حئی ہے،یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی نافرمان قوموں کا انجام سن کر ان سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ کم تولنا‘جھوٹ‘ شر پھیلانا،شرک‘کفر اور تکبر‘برائی کی ترویج کرنے وغیرہ کو اپنی زندگیاں سے پاک کر لیتے ہیں اللہ کی نظر میں وہ لوگ قلب حئی ہوتے ہیں اور اللہ انھیں بھی پسند کرتا ہے۔
نواں دل قلب مریض ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو شک‘ نفاق‘ بداخلاقی‘ ہوس اور لالچ کا شکار ہوتے ہیں۔ہم لوگ لالچ‘ ہوس‘ بداخلاقی‘ نفاق اور شک کو عادتیں سمجھتے ہیں جب کہ حقیقت میں یہ روح اور دماغ کی بیماریاں ہیں اور جو لوگ ان بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں وہ اذیت ناک زندگی گزارتے ہیں‘اللہ ان لوگوں اور ان کے دلوں کو مریض سمجھتا ہے‘ میرا دعویٰ ہے آپ اپنی زندگی میں صرف شک کا مرض پال لیں آپ چند برسوں میں دل‘ پھیپھڑوں‘گردوں اور جسمانی دردوں کی دوائیں کھانے پر مجبور ہو جائیں گے اور آپ بس شک کی عادت ترک کر دیں آپ کی ادویات کم ہونے لگیں گی‘ آزمائش شرط ہے۔
دسواں دل قلب الاعمی ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو دیکھتےہیں اور نہ سنتےہیں۔ یہ بےحس لوگ ہوتے ہیں۔اللہ انھیں اندھےاور بہرےلوگ کہتا ہے اور مومنوں کو حکم دیتا ہےتم بس انھیں سلام کرو اور آگےنکل جاؤ۔انہیں سمجھانےکی کوشش کریں گےتو آپکا بلڈ پریشر بڑھ جائےگاچنانچہ آپ بھی اللہ کی نصیحت پر عمل کریں ۔
گیارہواں دل قلب اللاھی ہے۔یہ وہ دل ہے جو قرآن سے غافل اور دنیا کی رنگینیوں میں مگن ہے۔اللہ ان غافل لوگوں کو بھی پسند نہیں کرتا اور یہ بھی بالآخر عبرت کا نشان بن جاتے ہیں ۔
بارہواں دل قلب ا لآثم ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو حق پر پردہ ڈالتے اور گواہی چھپاتے ہیں‘ آپ تاریخ پڑھ لیں آپ گواہی چھپانے اور حق پر پردہ ڈالنے والے معاشروں اور لوگوں کو تباہ ہوتے دیکھیں گے‘ اللہ کو یہ لوگ بھی پسند نہیں۔
(اٰثِمٌ قَلْبُهٗ ، سورۃ البقرہ ، آیت 283)
تیرہواں اور آخری دل متکبرہوتا ہے۔یہ لوگ تکبر اور سرکشی میں مبتلا ہوتے ہیں اور اپنی دین داری کو بھی گھمنڈ بنا لیتے ہیں یوں یہ ظلم اور جارحیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔کبر، اللہ کا وصف ہے، اللہ یہ وصف کسی انسان کے پاس برداشت نہیں کرتاچنانچہ معاشرہ ہو‘ ملک ہو یا پھر لوگ ہوں تاریخ گواہ ہے یہ فرعون اور نمرود کی طرح عبرت کا نشان بن جاتے ہیں‘ دنیا میں آج تک کسی مغرور شخص کو عزت نصیب نہیں ہوئی‘ وہ آخر میں رسوائی اور ذلت تک پہنچ کر رہا‘ اللہ کو یہ دل بھی پسند نہیں۔(قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ ، سورۃ المؤمن ، آیت 35)
آپ ان 13 دلوں کو سامنے رکھیں اور اپنے دل کو ٹٹول کر دیکھیں‘ آپ کے سینے میں اگر کوئی برا دل ہے تو آپ توبہ کریں اور اچھے دل کی طرف لوٹ جائیں‘ اللہ تعالیٰ آپ پر اپنے کرم اور فضل کے دروازے کھول دے گا‘آپ یقین کر لیں اللہ کے سوا اس دنیا میں کوئی طاقت نہیں‘ یہ اگر آپ کے ساتھ ہے تو پھر کوئی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور اگر آپ کو اس کاساتھ نصیب نہیں تو پھر آپ کو کوئی نہیں بچا سکتا‘ آپ خواہ فرعون ہوں یا نمرود آپ عبرت بن کر رہیں گے۔ وما علینا الاالبلاغ
(Source: https://threader.app/thread/1360839327069126657)

ایک قرآنی ریسرچ کےمطابق ‘اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں 13 دلوں کا ذکر کیا ہے۔ یہ 13 قسم کے لوگ ہیں۔ آپ اللہ کی طرف سے 13 لوگوں کی تقسیم ملاحظہ کیجیے👇

28/10/2020

Zam Zam Ka Mojza Ghalt Sabit Krny Ki Koshish Phr Allah Ne Kya Dekhaya?

24/10/2020

اللہ اپنی اسکیم میں مداخلت پسند نہیں کرتا !

وہ اپنے ٹارگٹ تک بڑے لطیف اور غیر محسوس طریقے سے پہنچتا ھے !

یوسف کو بادشاھی کا خواب دکھایا ، باپ کو بھی پتہ چل گیا ، ایک موجودہ نبی ھے تو دوسرا مستقبل کا نبی ھے ! مگر دونوں کو ھوا نہیں لگنے دی کہ یہ کیسے ھو گا !

خواب خوشی کا تھا ،، مگر چَکہ غم کا چلا دیا !

یوسف دو کلومیٹر دور کنوئیں میں پڑا ھے ،،خوشبو نہیں آنے دی !

اگر خوشبو آ گئ تو باپ ھے رہ نہیں سکے گا ،، جا کر نکلوا لے گا ! جبکہ بادشاھی کے لئے سفر اسی کنوئیں سے لکھا گیا تھا !

سمجھا دونگا تو بھی اخلاقی طور پہ بہت برا لگتا ھے کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو بادشاہ بنانے کے لئے اسے کنوئیں میں ڈال کر درخت کے پیچھے سے جھانک جھانک کے دیکھ رھا ھے کہ قافلے والوں نے اٹھایا ھے یا نہیں ! لہذا سارا انتظام اپنے ھاتھ میں رکھا ھے !

اگر یوسف کے بھائیوں کو پتہ ھوتا کہ اس کنوئیں میں گرنا بادشاہ بننا ھے اور وہ یوسف کی مخالفت کر کے اصل میں اسے بادشاہ بنانے میں اللہ کی طرف سے استعمال ھو رھے ھیں تو وہ ایک دوسرے کی منتیں کرتے کہ مجھے دھکا دے دو !

یوسف عزیز کے گھر گئے تو نعمتوں بھرے ماحول سے اٹھا کر جیل میں ڈال دیا کہ ، _ان مع العسرِ یسراً_،،

جیل کے ساتھیوں کی تعبیر بتائی تو بچ جانے والے سے کہا کہ میرے کیس کا ذکر کرنا بادشاہ کے دربار میں ،،مگر مناسب وقت تک یوسف کو جیل میں رکھنے کی اسکیم کے تحت شیطان نے اسے بھلا دیا یوں شیطان بھی اللہ کی اسکیم کو نہ سمجھ سکا اور بطورِ ٹول استعمال ھو گیا ،،اگر اس وقت یوسف علیہ السلام کا ذکر ھو جاتا تو یوسف سوالی ھوتے اور رب کو یہ پسند نہیں تھا ،، اس کی اسکیم میں بادشاہ کو سوالی بن کر آنا تھا

اور پھر بادشاہ کو خواب دکھا کر سوالی بنایا اور یوسف علیہ السلام کی تعبیر نے ان کی عقل و دانش کا سکہ جما دیا ،، بادشاہ نے بلایا تو فرمایا میں : _"این آر او"_ کے تحت باھر نہیں آؤں گا جب تک عورتوں والے کیس میں میری بے گناھی ثابت نہ ھو جائے ،،عورتیں بلوائی گئیں،، سب نے یوسف کی پاکدامنی کی گواھی دی اور مدعیہ عورت نے بھی جھوٹ کا اعتراف کر کے کہہ دیا کہ : _انا راودتہ عن نفسہ و انہ لمن الصادقین_ ،،،

وھی قحط کا خواب جو بادشاہ کو یوسف کے پاس لایا تھا ،، وھی قحط ھانکا کر کے یوسف کے بھائیوں کو بھی ان کے دربار میں لے آیا ،، اور دکھا دیا کہ یہ وہ بےبس معصوم بچہ ھے جسے تمہارے حسد نے بادشاہ بنا دیا ، فرمایا پہلے بھی تم میرا کرتہ لے کر گئے تھے ،جس نے میرے باپ کی بینائی کھا لی کیونکہ وہ اسی کرتے کو سونگھ سونگھ کر گریہ کیا کرتے تھے ،، فرمایا اب یہ کرتہ لے جاؤ ،، یہ وہ کھوئی ھوئی بینائی واپس لے آئے گا !
اب یوسف نہیں یوسف کا کرتا مصر سے چلا ھے تو : کنعان کے صحراء مہک اٹھے ھیں، یعقوب چیخ پڑے ھیں : _انی لَاَجِدُ ریح یوسف لو لا ان تفندون_ ،، تم مجھے سٹھیایا ھوا نہ کہو تو ایک بات کہوں " مجھے یوسف کی خوشبو آ رھی ھے : سبحان اللہ ،،جب رب نہیں چاھتا تھا تو 2 کلومیٹر دور کے کنوئیں سے خبر نہیں آنے دی ،،جب سوئچ آن کیا ھے تو مصر سے کنعان تک خوشبو سفر کر گئ ھے !

_واللہ غالبٓ علی امرہ ولٰکن اکثر الناس لا یعلمون_ ! اللہ جو چاھتا ھے وہ کر کے ھی رھتا ھے مگر لوگوں کی اکثریت یہ بات نہیں جانتی !

یاد رکھیں آپ کے دشمنوں کی چالیں اور حسد شاید آپ کے بارے میں اللہ کی خیر کی اسکیم کو ھی کامیاب بنانے کی کوئی خدائی چال ھو ،، انہیں کرنے دیں جو وہ کرتے ھیں، اللہ پاک سے خیر مانگیں !

https://www.youtube.com/user/MrShoaibhameedPlease suscribe this channel
14/09/2020

https://www.youtube.com/user/MrShoaibhameed
Please suscribe this channel

My name is Ebrahim i make videos have not uploaded in a while because i have not much ideas but in 2 or 1 month i will be uploading again

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shocking Statistics posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share