One5one

One5one Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from One5one, Media, .

بھارتی عوام اور بھارتی میڈیا اگر جرأت رکھتے ہیں تو   سے پوچھیں کہ ایک وزیر اعظم کا کیا کام ہے کہ وہ اپنے ملک کے معاملات ...
01/02/2020

بھارتی عوام اور بھارتی میڈیا اگر جرأت رکھتے ہیں تو سے پوچھیں کہ ایک وزیر اعظم کا کیا کام ہے کہ وہ اپنے ملک کے معاملات پر توجہ دینے کے بجائے افغانستان میں بیٹھی کلعدم تنظیموں اور پاکستان مخالف پراکسیاں سر انجام دینے والی ایجنسیوں سے پاکستان مخالف اقدامات پر ملاقات کرے ملاقات میں کلعدم تنظیموں اور پاکستان مخالف ایجنسیوں کو یہ ٹاسک دے کہ اس قوم کی عبادت گاہ پر حملہ کیا جائے جنہوں نے بھارت کو آزاد اپنی لاشوں پر کروایا۔۔۔!!!

یہ قوم صرف پاکستان میں نہی بستی بلکہ اس قوم کا پاکستان سے زیادہ حصہ بھارت میں موجود ہے اور اس قوم کی ماؤں کے لال آج بھی بھارتی افواج میں بارڈر پر بھارت کا دفاع کر رہے ہیں کئیں ایسے لال ہیں جنہوں نے بھارت کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کی ہیں لیکن ایک بے رحم اور درندہ صفت انسان جس کا کوئی خدا کوئی مزہب نہی جس کا خدا صرف ایک کرسی اور مزہب صرف سیاست ہے اس شخص نے اس قوم کی ان تمام قربانیوں کو نظر انداز کر کے پاکستان میں موجود انکی عبادت گاہ پر دہشتگرد حملہ کروانے کی کوشش کی۔۔۔۔!!!

اسی پاکستان میں بسنے والی قوم کو اس شخص کی جانب سے ایک متنازعہ قانون کی مدد سے بھارتی شہریت دینے کی کوشش کی گئی پاکستان میں بسنے پر اگر کوئی شخص اس قسم کی سازش اس قوم کے خلاف رچا سکتا ہے تو ایسا شخص انہے بھارت منتقل کرنے کے بعد انکے ساتھ کیا کچھ کر سکتا ہے یہ سب کچھ آج بھارت میں کشمیر اور اندرونے بھارت دیکھا جا سکتا ہے مسلمانوں کے ساتھ زیادتی اس شخص کی جانب سے اس وجہ سے کی جارہی ہے کہ اس کا ماننا ہے کہ مسلمان دہشتگرد ہیں بھارت میں دہشتگردی کرتے ہیں۔۔۔!!!!

کیا سکھ قوم بھی دہشتگرد ہے جو انکی عبادت گاہ پر دہشتگردی کا حملہ کروانے کے لیے اتنی بڑی سازش رچائی گئی آج بھارتی وزیر اعظم درندگی کی اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ اس نے سکھ قوم کو بھی اپنی سیاست کی آڑ میں نہی چھوڑا بہت جلد بھارت کو یہ وقت بھی دکھائی دے گا کہ اگر کوئی ہندوں شخص بھی نریندر مودی کے خلاف آواز اٹھائے گا وہ اسی وزیر اعظم کی درندگی کی نظر ہو جائے گا۔۔۔!!!

اس سب کو مد نظر رکھا جائے تو سکھ قوم کا آزادی کا مطالبہ 100 فیصد درست ہے دوسرا بھارتی وزیر اعظم کو یہ بھی واضح طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ وہ وقت گیا جس وقت تم افغانستان کی مدد سے من چاہی کروائی پاکستان مخالف کر جاتے تھے امریکا کے ساتھ افغانستان میں ہماری مصرفیات کا تم نے بہت ناجائز فائدہ اٹھایا ہے ابھی بھی وقت ہے باز آجاؤ ورنہ اپنے ملک کے امن کے خلاف کروائی کا حساب ہم سود سمیت واپس لینے کے عادی ہیں اور آج بھارت ہمارا حساب منظر پیش کر رہا ہے۔۔!!!

وسلام۔۔۔!!!

پشتون آزاد نہیں ہوسکے!پاکستان کی شکل میں پشتون نے انگریزوں سے آزادی حاصل کر لی۔ اور ایک طاقتور ریاست کی ملکیت بھی۔ لیکن ...
15/08/2019

پشتون آزاد نہیں ہوسکے!

پاکستان کی شکل میں پشتون نے انگریزوں سے آزادی حاصل کر لی۔
اور ایک طاقتور ریاست کی ملکیت بھی۔

لیکن ایک آفت بدستور ہمارے گلے میں ایسی پڑی ہوئی ہے جو ہماری جان کو آچکی ہے۔ اس کی وجہ سے ہم اپنی آزادی اور حاصل کردہ ریاست سے کماحقہ مستفید نہیں ہوپا رہے۔ انگریزوں نے ہمارا اتنا خون نہیں بہایا جتنا اس نے بہایا۔
اور اب یہ ہماری آزادی کے بھی درپے ہے۔

اس آفت کا نام ہے " سرخا"

"سرخے" کہاں سے آئے؟
اور اب تک پشتونوں کا کتنا خون پی چکے ہیں؟
آج اس پر مختصر سی بات کرتے ہیں۔

سرخوں کی بائبل "داس کیپٹل" کا خالق اور سرخوں کا باوا آدم کارل مارکس جرمنی کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوا۔
پھر کارل مارکس کے نظریات پر روس میں پہلا " سرخ انقلاب" برپا کرنے والا لینن اور اس کا ساتھی اور مددگار ٹراٹسکی دونوں یہودی تھے۔ خاص طور پر لینن نے اپنی زندگی یہودیت اور کمیونزم کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔

ان ہی دونوں صاحبان نے پانچ سو کامریڈوں ( سرخے خود کو کامریڈ کہلانا پسند کرتے ہیں) کی پہلی فوج تیار کی۔

اس سرخ انقلاب نے روس سے عیسائیت یا دوسرے لفظوں میں مذہب کا خاتمہ کر دیا اور مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا۔

یہ اطلاع شائد آپ کے لیے دلچسپ ہو کہ " پشتونستان " نامی نظریے کا خالق کوئی افغانی یا پشتون نہیں بلکہ روس کے یہی "سرخے" تھے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے یہ نظریہ ٹراٹسکی کا تھا تاکہ اس خطے تک کمیونزم اور سرخ انقلاب کے پر پھیلائے جا سکیں۔
اس سرخ نظریے نے پھر پاکستان اور افغانستان میں پشتونوں کی زندگیاں اجیرن کردیں۔

افغانستان میں سرخوں کا پہلا بڑا نمائندہ سردار داؤود تھا۔
وہ جب افغانستان کا حکمران بنا تو اس نے فوری طور پر
ملک میں پردے اور داڑھی پر پابندی لگا دی‘
زنانہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سکرٹ لازمی قرار دے دی‘
مسجدوں پر تالے لگوا دیے اور ملک کے آٹھ بڑے شہروں میں شراب خانے اور ڈسکو کلب بنوائے۔
سردار داؤد کے دور میں کابل دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے عیاشی کا اڈا بن گیا۔
سردار داؤد نے پورے ملک میں سینکڑوں کی تعداد میں عقوبت خانے بھی بنا رکھے تھے اور مخالفین کو قتل کروانا اور ان کے سر قلم کروانا معمول تھا۔
سرخوں کی برپا کردہ اسی بے حیائی اور لادنیت کے خلاف افغانستان کے مسلمانوں نے مزاحمت شروع کی۔
خود غرض اور دنیا پرست کچھ اور سرخوں نے بغاوت کر کے سردار داؤود کو خاندان سمیت قتل کروا دیا۔
کابل کے اقتدار پر قبضہ کرنے والے ان سرخوں نے جلدی جلدی نہ صرف ایک دوسرے کو قتل کیا بلکہ افغانوں کی مزاحمت کے خلاف روس کی ایما پر روس کو افغانستان پر حملے کی دعوت بھی دے دی۔
پھر ایک طویل خانہ جنگی ہوئی۔
اس خانہ جنگی میں مجموعی طور پر کم و بیش 20 لاکھ افغانوں کو قتل کیا گیا۔
60 لاکھ کو مجبوراً ہجرت کرنی پڑی۔

انہی سرخوں نے طالبان کے خلاف امریکہ کو خوش آمدید کہا۔
افغان نیشنل آرمی انہی پر مشتمل ہے جو اس وقت امریکی قبضے کے خلاف مزاحمت کرنے والوں سے برسرپیکار ہے۔
اس جنگ میں بھی ڈیڑھ لاکھ کے قریب ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

لیکن ان سرخوں سے پاکستان بھی محفوظ نہیں رہا۔
پاکستان میں سب سے پہلے فقیر ایپی ان کے ہتھے چڑھا۔ جس نے پشتونستان کے چکر میں فاٹا کے بہت سے پشتونوں کا خون بہایا۔
دوسری جانب باچا خان بظاہر عدم تشدد کی آڑ لے کر ریاست کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کا پہلا تحفہ بابڑہ کا سانحہ تھا جس میں اس کی " خدائی خدمت گار" نامی تحریک کے لیڈران نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر لوگوں کو اکسایا۔
جس کے بعد بابڑہ کے مقام پر جلوس، پولیس ملیشیا فورس کا تصادم ہوا۔
فائرنگ میں بہت سی جانیں گئیں۔ سارے پشتون تھے۔
بلکل وہی جس کا ایکشن ری پلے آج انہوں نے خڑ کمر میں کیا۔

سوائے طالبان کے مختصر سے دور کے افغانستان کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ انہی سرخوں پر مشتمل رہی۔

اس افغان اسٹیبلشمنٹ نے " پشتونستان" کے حصول کے لیے بلوچستان میں دہشت گردانہ تحریکوں سے لے کر فاٹا اور کے پی کے میں دہشت گردوں کو لانچ کرنے تک سب کچھ کیا۔
ٹی ٹی پی انہی لادین سرخوں کی پراکڈکٹ تھی۔

سرخوں کی پاکستان کے خلاف ان پراکسی جنگوں میں اب تک 60 سے 70 ہزار پاکستانیوں کی جانیں جا چکی ہیں۔ پاکستان کی معیشت کو جو نقصان انہوں نے پہنچایا ہے اس کا کوئی حساب نہیں۔

یہ سرخ رنگ کو بطور علامت استعمال کرتے ہیں۔
اے این پی کی سرخ ٹوپی، ٹی ٹی پی کی سرخ ٹوپی اور پی ٹی ایم کی سرخ ٹوپی میں مشابہت اتفاقیہ ہرگز نہیں ہے۔
نہ ہی یہ بات محض اتفاق ہے کہ پاکستان کے خلاف ان کے عزائم اور مقاصد بلکل ایک جیسے ہیں۔
نہ یہ اتفاق ہے کہ ٹی ٹی پی اج اعلانیہ پی ٹی ایم کو سپورٹ کر رہی ہے۔

آپ کا کیا لگتا ہے کہ پی ٹی ایم میں لادینوں کی اتنی بھرمار کیوں ہے؟
منظور اور اس کے ساتھی چی گویرا نامی مشہور مارکسسٹ کمیونسٹ کی ٹوپی پہن کر سلفیاں کیوں بنواتے ہیں؟؟

پی ٹی ایم، پاکستان پر اور خاص طور پر پشتون پر ان سرخوں کا تازہ ترین حملہ ہے۔

یہ زبان و بیان کے ماہر ہوتے ہیں۔
شعلہ بیان مقرریں، شعراء، لکھاریوں اور آرٹ کے ماہرین کی خدمات ان کو حاصل ہوتی ہیں اس لیے یہ بہت جلد معاشرے میں اپنے افکار پھیلانے میں کامیاب رہتے ہیں۔

صہیونی ذہن کی پیدوار یہ تحریک اپنے اصل سے واقف ہے۔
اسرائیلی آرمی زندہ باد کے نعرے،
منظور پشتین اور پشتونستان کو اسرائیلی اخبارات کی خصوصی سپورٹ،
اسرائیلی کمپنیوں کا منظور پشتین کی تصویر والی شرٹس اور ٹوپیاں مفت پروموٹ کرنا،
یہویوں کا پی ٹی ایم سے لائیو ویڈیوز میں اظہار یکجہتی،
اور پی ٹی ایم کی ٹوپی پر صہیونیوں کے امتیازی نشانات اہرام اور ہیکل کی تصویریں،
کیا واقعی آپ کو یہ سب محض اتفاق لگتا ہے؟

کیا آپ کو واقعی نظر نہیں آتا کہ یہ شیطانی تحریک پشتونوں میں خونریزی اور فساد کو بھڑکانے کی کوشش کر رہی ہے،
اس مقصد کے لیے جھوٹ بولتی ہے، پراپگینڈا کرتی ہے،
اور فاٹا میں کچھ بھی اچھا ہونے لگے اس کی ہر ممکن طریقے سے حوصلہ شکنی کرتی ہے۔
ہر معاملے پر ان کا موقف شیطنت اور فساد پر مبنی ہوتا ہے۔

یہ سرخے حقیقتاً ہماری جان کو آگئے ہیں،
ہمارے سب سے بڑے دشمن ہیں،
ہر بار نیا بہروپ بھر کر سامنے آتے ہیں،

ہماری جان، ایمان اور آزادی کے دشمن!
جب تک ہم ان سرخوں سے جان نہیں چھڑا لیتے ہم یہ ہمیں مسلسل اذیت دیتے رہیں گے۔
تب تک ہم آزاد نہیں ہیں۔
اور بدقسمتی سے سرخوں نے سب سے گہرے پنجے پشتونوں میں گاڑ رکھے ہیں۔

تحریر شاہدخان...
اس بار سرخوں سے جان چھڑانے کا عزم کریں۔

سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں ہم ایک ہیں ،،،،،،،،،،،،،،، ہم ایک ہیںیہ کیسی عید ہے ہمارا کشمیر لہو لہو ہے،،،،،!!میں ک...
15/08/2019

سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں
ہم ایک ہیں ،،،،،،،،،،،،،،، ہم ایک ہیں

یہ کیسی عید ہے ہمارا کشمیر لہو لہو ہے،،،،،!!
میں کیسے یومِ آزادی مناؤں میرے کشمیری انڈین کتوں کی درندگی کا شکار ہیں ،،،!!
میری ماوؤں اور بہنوں کی عزتیں محفوظ نہیں ہیں ،،،،،،!!

ہمارے کشمیری بھائیوں پر نماز پھڑھتے فائرنگ کی گئی،،،،،!!

ہمارے کشمیریوں پر قربانی کرنے پر پابندی لگا دی گئی،،،،،!!

انکے جلسوں پر سٹریٹ فائرنگ کی جا رہی ہے،،،،!!

پورے کشمیر میں کرفیو نافذ ہے گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی ،،،!!

گھروں سے کھانے کا سامان ختم ،،،،،!!
انٹرنیٹ سروس بند ،،،!!
موبائل سروس بند،،،!!
جو بچے ہوسٹل میں مقیم تھے وہ وہیں محصور ہو کر رہ گئے ہیں ،،،!!
بھارتی غاصب فوج کی جانب سے مسلسل درندگی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے ،،،!!
حریت رہنما پابندِ سلاسل،،،!!
اقوامِ متحدہ کی آنکھیں اور ہونٹ بند ،،،،!!

حقوق کے الم بردار : ملالہ ، منظورہ اور شمین عبیدہ چنائے خاموش تماشائی،،،،،!!
پاکستان مین عورتوں کے حقوق کے نام پر می-ٹو جیسی بیہودہ کمپین کو پروموٹ کرنے والی لبرل آنٹیوں کو اب کشمیر کی خواتین نظر کیوں نہیں آرہیں ،،،؟؟

اب تو سب کو سمجھ آرہا ہے نا یہ سب حقوق – حقوق کا ڈرامی رچانے والے : کس کی ڈگڈگی پر بندر بن کر ناچ رہے ہیں ،،،،،!!

اب یہ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے ،،،،،!!
ہم کیسے کشمیریوں کی مدد کرسکتے ہیں ،،،!!

ہم انکی مدد تب ہی کر سکتے ہیں جب ہم خود متحد ہوں گے ، ہم خود سیاسی جماعتوں میں بٹ کر رہیں گے تو انکی مدد نہیں کر سکتے۔ہمیں سیاسی جماعتوں سے بالاتر ہو کر مسلمان بن کر سوچنا ہوگا ۔ ہم پہلے پاکستانی بن کر سوچیں گے تو ہی پوری امتِ مسلمہ کو اس معاملے پر متحد کرسکتے ہیں۔،،،!!

ہماری حکومت اس معاملے پر سیریس اقدام لے رہی ہے ہمیں انکا ساتھ دینا ہوگا۔ اس سنگین معاملے میں بھی کچھ لوگ سیاست کر رہے ہیں آپکو حکومت سے بدگمان کر رہے ہیں پلیز انکی باتوں کی طرف دھیان مت دیجیئے گا۔،،،،!!

اس یومِ آزادی پر ہمیں کشمیر کی خاطر متحد ہونا ہوگا تاکہ اگلا یومِ آزادی ہم انکے ساتھ منا سکیں ،،،،!!
ہمیں ثابت کرنا ہوگا کہ ہماری خوشیاں اور غم سانجھے ہیں ،،!!
کچھ لوگ آپکے دماغوں میں یہ بات ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ افواجِ پاکستان اور حکومت کچھ نہیں کر رہی انکی باتوں کی طرف کان مت دھریں ،،،!!
اپنی حکومت اور افواج پر بھروسہ رکھیئے،،،!!

ہمیں خود بھی متحد ہونا ہے اور پوری امتِ مسلمہ کو بھی اس معاملے پر متحد کرنا ہے ،،،،!!

یہ بات ہم جانتے ہیں اور ہم سے بہتر ہمارے دشمن کہ اگر تمام مسلمان متحد ہوجائیں تو تمام سامراجی قوتیں ملکر بھی ہمارا کچھ نہیں بِگاڑ سکتیں ،،اب ہمیں بتانا ہوگا کہ کلمہ کی کیا پاور ہے ،،،اب ہمیں ثابت کرنا ہوگا کہ ایک مسلمان کا درد دوسرے مسلمان کیلیئے کیسا ہوتا ہے ،۔،،،!!

ہمیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ مسلمان واقعی جسدِ واحد کی طرح ہیں اور ایک عضو کی تکلیف سے پورے بدن کو تکلیف ہوتی ہیں ،،پوری دنیا کے مسلمانوں کو اب متحد ہونا ہوگا ،،،!!
اب ہم متحد ہوکر ہی اپنی چھینی ہوئی جنت کو واپس حاصل کرسکتے ہیں !!
ہمیں متحد ہوکر ہی فلسطیینیوں کو بھی اسرائیلیوں کے چُنگل سے بچانا ہے ،،،!!
ہمیں بوسینیا کے مسلمانوں کی بھی مدد کرنی ہے لیکن سب سے پہلے ضرورت ہے اتحاد کی،،،،،!!
پوری امتِ مسلمہ کو اپنی بیٹیوں اور بہنوں کی عزت کی خاطر اٹھنا ہوگا ،،،،!!
ایک بیٹی کی پکار پر محمد بن قاسم آسکتے ہیں تو ہماری ہزاروں بہنوں ہمیں پکار رہی ہیں ہم کیوں نھی مدد کر سکتے،،،؟؟
اب ہی وقت ہے اب ہمیں اٹھنا ہوگا ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی بلکہ اس بے حسی پر ہم خود بھی خود کو معاف نہیں کرسکیں گے،،،،،!!
دعاؤں میں یاد رکھیئے گا
اس امید کے ساتھ اللہ نگہبان کہ کشمیر بنے گا پاکستان ان شاءاللہ
اور ان شاءاللہ بٹ کے رہے گا ہندوستان

پاکستان زندہ باد
پاک فوج پائندہ باد

ہمارے بعد محفل میں فسانے بیاں ہونگے بہاریں ہم کو ڈھونڈیں گی جانے ہم کہاں ہونگے ۔یوم وفات 15 اگست مجاہد اسلام غازی جنرل ح...
14/08/2019

ہمارے بعد محفل میں فسانے بیاں ہونگے
بہاریں ہم کو ڈھونڈیں گی جانے ہم کہاں ہونگے
۔
یوم وفات 15 اگست
مجاہد اسلام غازی جنرل حمید گل رحمتہ اللہ علیہ

ہنسی اس بات پر آتی ہے کہ ساری زندگی نو سے پانچ کی نوکری، آٹھ سے گیارہ کی دکان داری یا چھ سے دس کی چھابڑی چلا کر گزارنے و...
13/08/2019

ہنسی اس بات پر آتی ہے کہ ساری زندگی نو سے پانچ کی نوکری، آٹھ سے گیارہ کی دکان داری یا چھ سے دس کی چھابڑی چلا کر گزارنے والے لوگ، بیگم سے لڑ کر حجام کی دکان، گلی کے نکڑ یا چائے ڈھابے پر آ بیٹھنے والے خشکے انکلز، خود کو ساڑھے تین گریڈ کے افلاطون سمجھنے والے چول جوان، صبح ماں باپ کی گالیاں سن کر اٹھنے والے بے روزگار نوجوان اور AK47 کے علاؤہ کسی اور ہتھیار کا نام لینے پر گوگل سے مدد مانگنے والے سولہ اٹھارہ بیس سال کے بچے بھی چند ہزار سے لیکر سوا لاکھ تک سمارٹ فون ہاتھ میں پکڑ کر چائے کی چسکی، سگریٹ کا کش یا حقے کی چلم منہ میں بھر کر چالیس سال کا پیشہ وارانہ تجربہ، جنگی میدان کے داؤ پیچ سے واقف اور ہر طرح کی پوسٹنگ سے گزر کر آنے والے پچپن اٹھاون سال کے لیفٹیننٹ جنرلز اور جنرلز کو سکھانے کی کوشش کر رہےہیں کہ ان حالات میں کب کیا کرنا ہے۔۔۔۔
تم وہی ہو نا جو اڑتالیس، پینسٹھ، اور نناوے کی جنگ کو انھی جرنیلوں کا مس ایڈونچر کہتے ہو؟
جنگ شروع کرنے پر کہتے ہو کہ جرنیلوں کو کیا۔۔ مرنا تو غریب سپاہیوں نے ہے۔۔۔ ماؤں کی گود اجڑنی ہے۔۔۔ جرنیل تو تمغے حاصل کرلیں گے۔۔۔ اور جنگ نہ کرنے پر تکلیف سے بلبلا کر انھی جرنیلوں پر دشنام طرازی۔۔۔
جنگ ہوگی بھی تمھیں فرق نہیں پڑے گا کیونکہ کہ مرنا کسی اور نے ہے۔۔۔
نہیں ہوگی بھی تمھارے گھر کے چولہے تب بھی جلتے رہیں گے
کیوں کہ کشمیر سے تمھیں دل چسپی نہیں۔۔۔ یہ صرف وردی کا بغض ہے جو کبھی نواز زرداری کی حمایت میں سامنے آتا ہے،کبھی قوم پرستوں کی آواز میں آواز ملانے سے ابل پڑتا ہے اور کبھی وزیرستان اور بلوچستان کے نام نہاد نعرہ برداروں کی صف میں آ کھڑے ہونے پر ٹپکتا ہے۔۔۔
تمھارے نزدیک بھارت کو پٹک پٹک کر مارنے والا ایوب خان بھی غلط، بھارت کو اس کے گھر جاکر وزیراعظم راجیو گاندھی کو براہِ راست ایٹمی حملے کی دھمکی دینے والا اور روس کو افغانستان میں دوڑا دوڑا کر مارنے والا ضیاء الحق اور حمید گل بھی غلط، کارگل میں بھارت کو نرخرے سے پکڑنے والا مشرف بھی غلط، بلیک واٹر کو پاکستان میں جڑ سے اکھاڑنے والا شجاع پاشا بھی نکما، سوات بونیر مالاکنڈ وغیرہ سے فسادیوں کو نیست و نابود کرنے والا ہارون اسلم اور اشفاق کیانی بھی بے کار، شمالی وزیرستان میں خارجیوں کی بیخ کنی کرنے والا راحیل بھی برا، بیک وقت بھارت، افغانستان اور اندر کے فسادیوں سے نبردآزما قمر باجوہ، رضوان اختر، بلال اکبر، فیض حمید بھی تمھارے دشمن۔۔۔ جبکہ جنگ نہ لڑنے والے اسلم بیگ، عبدالوحید کاکڑ، جہانگیر، آصف نواز وغیرہ امن سے رہ کر مدت پوری کرنے والے جرنیل بھی تمھارے نشانے پر۔۔۔
کون لوگ ہو تم
تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ موجودہ جنرل قمر جاوید باجوہ 14 اگست 2013 سے 22 ستمبر 2015 تک کمانڈر ٹینتھ کور رہا ہے۔ جانتے بھی ہو یہ کون سی پوسٹ ہے؟ جی ہاں یہ وہ تھری اسٹار جنرل ہوتا ہے جو لائن آف کنٹرول یعنی کشمیر کے علاقے کے تمام عسکری معاملات دیکھتا ہے۔۔۔ دو سال تک صرف کشمیر کو ڈیل کیا ہے جنرل باجوہ نے۔۔۔ جس میں 2014 میں نواز دور کی پاک بھارت کشیدگی کا دورانیہ بھی شامل ہے۔ اب تم اسی جنرل کو سکھاؤگے کہ کشمیر پر کب کیا کرنا ہے؟
بہت کچھ لکھنا چاہ رہا ہوں۔۔۔ لیکن تربیت اور کچھ قابلِ عزت لوگوں کی فرینڈ لسٹ میں موجودگی مجھے باز رکھ رہی ہے۔۔۔ تھوڑے لکھے کو زیادہ جانو۔۔۔ دماغ پک گیا ہے ایک ہفتے سے گھر بیٹھ کر روٹیاں توڑنے والے دانشگرڈوں کی بکواس پڑھ پڑھ کر۔۔۔۔
پاک_فوج_زندہ_باد😍🌹🇵🇰☝
پاکستان_پائندہ_باد 😍🌹🇵🇰☝

 "میرا ہر خواب ترے خواب پہ قربان وطن..!!!میرا  ہر  عشق  تری  خاک  پہ  واری جائے..!!!"
13/08/2019



"میرا ہر خواب ترے خواب پہ قربان وطن..!!!
میرا ہر عشق تری خاک پہ واری جائے..!!!"

اَلسَلامُ عَلَيْكُم..!!!ہمارا پاکستان جس پوزیشن پر ہے وہ ایک بہت ہی اہم پوزیشن ہے اس کو ڈی سٹیبلائز کرنے کی ہر ممکن کوشش...
13/08/2019

اَلسَلامُ عَلَيْكُم..!!!

ہمارا پاکستان جس پوزیشن پر ہے وہ ایک بہت ہی اہم پوزیشن ہے اس کو ڈی سٹیبلائز کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی- پہلے مرحلے میں کوشش تھی فاٹا کو پاکستان سے کاٹ کر اس کو آزاد یا افغانستان سے ملایا جائے- اس پلان کی کامیابی کے بعد گلگت بلتستان کو کشمیر کا حصہ بنا کر پاکستان سے یہ حصہ واپس لیا جائے-آپکو یاد ہوگا کہ گلگت بلتستان میں ایک وقت ایسا بھی ہوا یکدم دہشت گردی کی لہر شروع ہوگئی تھی لیکن اس کو جلد ہی کنٹرول کرلیا گیا تھا- اس کا مقصد تھا انڈیا کا ڈائریکٹ کنکیشن کسی طرح افغانستان کے ساتھ ہوجائے-

جن کو افغانستان کی اہمیت نہیں پتہ انکو بتاتی چلوں کہ افغانستان ایشیاء کے وسط میں واقع ہے- یعنی یہ ایشیاء کو 2 حصوں میں تقسیم کرتا ہے اور ایشیاء کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں جانے کے لیئے آپ کو افغانستان میں گزرنا ضروری ہے- لہذا تجارت کے لیئے آپ کے افغانستان کی حکومت سے اچھے تعلقات ہونا ضروری ہیں- یہی وجہ ہے کہ پاکستان چین اور روس وہاں اپنی مرضی کی حکومت بنانا چاہتے ہیں اور انڈیا اور امریکہ وہاں اپنی مرضی کی حکومت بنانا چاہتے ہیں-انڈیا کی یہ چال ناکام ہوئی-
بلوچستان کا بارڈر ایران کے ساتھ اور ایران کا بارڈر ترکی کے ساتھ یعنی یورپ میں اینٹری- لہذا اس مقصد کے لیئے ایران کو چاہ بہار کا لالی پاپ دیا گیا- اور یو اے ای کو ساتھ ملایا گیا- 2005 سے لیکر 2014 تک ان پاکستان دشمن ممالک نے بلوچستان میں پاکستان کو تگنی کا ناچ نچایا- بلوچستان کو پاکستان سے کاٹ کر جہاں یورپ تک رسائی تھی وہیں اس کا مقصد یو اے ای اور ایران کی پورٹس کو گوادار کے آپریشنل ہونے سے نقصان کا اندیشہ تھا-لہذا ایک تیر 2 شکار کرنے کی کوشش کی گئی- یہ پلان بھی ناکام ہوا-عنقریب آپ دیکھیں گے بلوچستان میں بھی ایک فل فلیج آپریشن شروع ہوگا-

باقی پاکستان کے پاس صرف کے پی کے اور پنجاب رہ جانا تھا - کے پی کے میں آزاد پختونستان کا نعرے کو 2016 میں دوبارہ لانچ کرنے کی کوشش کی گئی شائد آپکو یاد ہو کہ اسفند یار علی خان کی بہن انڈیا میں کسی سے ملی تھی جس کے بعد آزاد پختونستان تحریک کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی گئی- یہ ساری ڈاکٹرائن کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کہلاتی تھی-
بنیادی طور پر یہ ڈاکٹرائن پاکستان کو اندرونی طور اس قدر کمزور کردیا جائے کہ اس کو نیوکلیئر ہتھیاروں کے استعمال سے روکا جائے-

اب یہ سارے پلان ناکام ہوگئے افغانستان میں طالبان حکومت آنے والی ہے، فاٹا پاکستان کا حصہ بن گیا- گلگت بلتستان میں ہم نے اس لہر پر قابو پالیا- اور بلوچستان میں آخری آپریشن کسی بھی وقت شروع ہوسکتا ہے-لہذا پاکستان طویل مدت سے ملوث ایک جنگ سے بالکل باہر آنے کو ہے۔
جو ڈکٹرائن انڈیا نے ہماری لیئے بنائی وہی ڈاکٹرائن اس پر لگنی تھی- کیسے؟؟ نقشے سے سمجھتے ہیں-

انڈیا کی 4 ریاستیں ہیں جو انڈیا کے شمال کی طرف واقع ہیں- اور یہ 4 ریاستیں بہار سے سیکھم کے راستے ہوئے منی پور، ناگپور، ارونا چل پردیش اور آسام کو انڈیا سے ملاتی ہیں اور انڈیا کو یہ ملانے والا راستہ بہت ہی کم ہے- اس کی پوزیشن کچھ اس طرح ہے کہ اس کے ایک طرف نیپال ہے، دوسری طرف بھوٹان ہے اور نیچے کی طرف بنگلہ دیش ہے اور کچھ حصہ چین کے ساتھ ہے- اگر چین نے صرف اس گزرگاہ پر قبضہ کرلیا- تو انڈیا کی 4 ریاستیں انڈیا سے صرف ایک جھٹکے میں کٹ جایئں گی- اور چین کا انڈیا کے ساتھ اس ایریا میں پھڈا چل رہا ہے-کیونکہ چین کے لیئے اس حصہ کی اہمیت او بی او آر میں بہت ہے- اور انہی 4 ریاستوں میں ماؤ باغیوں اور نکسلیوں نے انڈین فوج کی ناک میں دم کیا ہوا ہے- اور انڈیا اس علاقے پر قابو پانے کی پوری کوشش کررہا ہے لیکن ابھی تک ناکام ہے-

دوسرا انڈین پنجاب جہاں 2020 میں انڈیا کی ہسٹری کا ایک بہت ریفرنڈم ہونے جارہا ہے جو کہ "خالصتان" حاصل کرنے کے لیئے ہے- اور سکھ اس وقت پوری تیاری کررہے ہیں- یعنی یہ مسئلہ پورے زور سے سر اٹھانے کو ہے- اور کشمیر کا راستہ انڈین پنجاب سے ہوکر جاتا ہے-
لہذا انڈیا نے جو قدم آج سے 10 سال بعد اٹھانا تھا وہ مجبوری میں جلد بازی میں اٹھایا گیا- ابھی انڈیا اگر کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے ٹیبل پر خود آئے گا-کشمیر کے فیصلے کے ساتھ پھر خالصتان تو ہے ہی--لہذا جو ٹیسٹ میچ ابھی شروع ہوا اس کودیکھتے جائیں- ان شاء اللہ انڈیا کے ٹکڑے ہم کریں گے اور دنیا دیکھے گی-
ان شاء اللہ....

مسئلہ کشمیر کا ہر ممکن طور پر حل چاہتے ہیں:  #آرمی_چیف❤ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ج...
13/08/2019

مسئلہ کشمیر کا ہر ممکن طور پر حل چاہتے ہیں: #آرمی_چیف❤

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم چھپانے کے لیے ہمیں بھارت کو کوئی بھی موقع فراہم نہیں کرنا۔
کتنا بھی وقت اور کوششیں صرف ہو جائیں ہم ہر چیلنج کا انشاء اللہ برابری سے مقابلہ کرینگے۔ مسئلہ کشمیر کا ہر ممکن طور پر حل چاہتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کنٹرول لائن کے باغ سیکٹر کے دورہ کے موقع پر کیا۔ اور عید باغ سیکٹر میں جوانوں کے ساتھ منائی۔ پاک فوج کی جانب سے کشمیر پر بھارتی تسلط کیخلاف اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے عید سادگی سے منائی گئی۔

آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ بھارت اپنے ناپاک عزائم کے حصول کیلئے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ ہمسایہ ملک کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹا کر کنٹرول لائن اور پاکستان کی طرف کرنا چاہتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا دین ہمیں امن کا درس دیتا ہے، ہمارا مذہب قربانی اور سچ کے ساتھ کھڑے ہونے کا درس بھی دیتا ہے، ہم اپنے کشمیری بھائیوں کیساتھ کھڑے ہیں۔

قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کا ہمارا عزم اتنا ہی مضبوط ہے جتنی ہماری امن کی خواہش ہے، مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے حکومت نے مختلف کوششوں کا آغاز کر دیا.....

13/08/2019

!

15 اگست بلیک ڈے منانے میں سب اپنا کردار ادا کرے خواہ اپ دنیا کے کسی بھی حصے پے موجود ہو سوشل میڈیا اپکے پاس ایٹم بم سے بھی بڑا ہتیار ہے اور اپنے دوشمن کے خلاف اپ کہی سے بھی اپنے ملک کےلیے جنگ میں حصہ ڈال سکتے ہیں
امید ہے اپ سب کشمیریوں اور افواج پاکستان کا ساتھ دینگے
شکریہ
اللہ اکبر
پاکستان زندہ باد
لبیک یا وطن

بارش کے پانی میں کھڑا اپنے جوانوں کی رہنمائ کرنے والا یہ شخص فوج میں جنرل رینک کا افسر ہے۔ایک ایسے وقت میں جب پاکستان پر...
13/08/2019

بارش کے پانی میں کھڑا اپنے جوانوں کی رہنمائ کرنے والا یہ شخص فوج میں جنرل رینک کا افسر ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان پر بیرونی حملے کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ پاک فوج نا صرف سرحدوں پر الرٹ کھڑی ہے بلکہ اندرون ملک بھی فلاحی کاموں کو تسلسل سے جاری رکھے ہوئے ہے۔
فوج آج بھی اس وقت بحالی کے کاموں میں مدد دینے کے لیے پہنچی جب کراچی پانی میں غرق ہوا پڑا ہے۔

وہ تباہ حال کراچی جس کو سنبھالنا سویلین اداروں کا کام ہے لیکن بھٹو زندہ ہونے کے باعث تمام ادارے کرپشن کے کینسر سے مفلوج ہو چکے ہیں۔

کراچی کی عوام کو پوچھنے کے لیے بلاول یا زرداری تو نہیں آیا جن کی سندھ میں حکومت تھی البتہ فوج کے وہ جنرل ضرور عوام کے پاس پہنچے ہیں جن کو بلاول پارٹی دن رات گالیاں دیتے نہیں تھکتے۔

پس یہی فرق ہے ان میں اور فوج میں۔

تحریر- #سعیدغالب

ہمارے پڑوسی ملک بھارت کو پراکسیاں کھیلنے کا بہت شوق رہا ہے اور بھارت کے پاکستان مخالف بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں دہش...
13/08/2019

ہمارے پڑوسی ملک بھارت کو پراکسیاں کھیلنے کا بہت شوق رہا ہے اور بھارت کے پاکستان مخالف بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں دہشتگردی کے اقدامات پراکسی کھیلنے کے شوق کا منہ بولتا ثبوت ہے بھارت نے ہمارے ان دونوں صوبوں کو اپنی پراکسی کی نظر کیا تاکہ پاکستان نا صرف دنیا میں دہشتگرد ملک قرار پائے بلکہ پاکستان کے امن کو تباہ کر کرکے اسے معاشی طور پر بھی نقصانات پہنچائے جا سکیں۔۔۔۔!!!

یہ وجہ تھی کہ بھارت کے وزیراعظم اور نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر متعد بار پاکستان کو تباہ کرنے کے بیانات دے چکے ہیں یہ بیانات بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں بھارتی اقدامات کے یقین پر دیے جاتے تھے لیکن بھارت اس بات سے نا واقف تھا یا اسے بھارت کی بے وقوفی کہا جائے کہ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو پراکسی کھیلنے میں بہت مہارت رکھتا ہے پاکستان کو یہ تجربہ روس امریکہ سے افغانستان میں حاصل ہوا جنہے پاکستان نے افغانستان میں شکست دی ۔۔۔!!!

پاکستان نے بھارت کی مسلط کردہ پراکسی پر کئیں بار کہا کہ بھارت ایسا مت کرے کیونکہ پاکستان اس پراکسی کا رخ موڑنا اچھے سے جانتا تھا اور یہ بھی جانتا تھا کہ اگر اس کا رخ موڑا گیا تو اسکا نقصان بھارتی حکومت یا افواج سے زیادہ عوام بھگتے گی یہ ہی وجہ تھی کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی لیکن بھارت اسے ہماری کمزوری سمجھ بیٹھا اپنے اقدامات سے رکنا تو دور ان میں مزید تیزی برتی ۔۔۔!!!

دوسرا بھارت اور پاکستان دونوں ایٹمی قوت ہے پاکستان اللہ کے فضل سے دنیا کی چوتھی بڑی ایٹمی طاقت ہے آنے والے وقت میں تیسری بڑی طاقت بننے جا رہا ہے پاکستان کے ایٹمی اثاثے دنیا کے محفوظ ترین ہاتھوں میں ہیں یہ بات پاکستان نہی #امریکہ کہتا ہے اب آتے ہیں بھارت کی ایٹمی ٹیکنالوجی پر بھارت کی ایٹمی لیبارٹری میں پاکستان موجود ہے بھارت جس مزائیل پر پاکستان کو دھمکایا کرتا تھا آج اس میزائل کے تمام خفیہء دستاویزات پاکستان کے پاس موجود ہیں بھارتی افواج کے تمام بڑے عہدوں پر آج پاکستان فائز ہے بھارتی فوج نکارہ ہے آج کے دور کی جنگ لڑنے کی صلاحیت نہی رکھتی یہ بیان بھارتی افواج کے ریٹائرڈ افسران دے رہے ہیں ۔۔۔۔!!!

آج پاکستان نے اسی پراکسی کو بھارت کے دروازے پر لاکھڑا کر دیا ہے جو ایک عرصے سے بھارت نے ہم پر مسلط کر رکھی تھی اور پاکستانی عوام یہ دیکھ رہی ہے کہ بھارت کی شلوار اس پراکسی کو دیکھ کر گیلی ہو چکی ہے نا تو بھارت کے پاس پراکسی لڑنے کا تجربہ ہے نا بھارت اس قابل ہے کہ کسی پراکسی وار میں اپنا دفاع کر سکے اب دیکھنا یہ ہے کہ بھارت اس پراکسی کی زد میں کیا کچھ کھوتا ہے ہم نے تو کشمیر واپس لینے تھا وہ تو ہم لے رہے ہیں لیکن کشمیر کے ساتھ ساتھ بھارت اور کتنے ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا ہے یہ آنے والا وقت ثابت کرے گا۔۔۔!!!

12 ہزار کروڑ کے وہ میزائیل خریدنے پر ہم بھارت کو مبارک باد پیش کرتے ہیں جنہے پاکستان 5 ماہ پہلے نکارہ بنا چکا ہے اب بھارتی عوام پر یہ فرض ہے کہ وہ مودی حکومت سے پوچھے کہ یہ 12 کروڑ کے میزائل بھارت کے دفاع کے لیے خریدے گئے ہیں یا پھر اپنی قوم کو 12 ہزار کروڑ کا چونا لگایا ہے ۔۔۔!!!

وسلام ۔۔۔۔!!! ۔!!!

اس وقت اگر دیکھا جائے تو نریندر مودی جو کہ ایک عالمی دہشتگرد ہے بھارت کا وزیراعظم ہے اور اس عالمی دہشتگرد کو ایک شخص بڑی...
13/08/2019

اس وقت اگر دیکھا جائے تو نریندر مودی جو کہ ایک عالمی دہشتگرد ہے بھارت کا وزیراعظم ہے اور اس عالمی دہشتگرد کو ایک شخص بڑی خوبصورتی سے اپنے #کاروبار کے لیے استعمال کر رہا ہے اس شخص کا کاروبار معصوم انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنا ہے اور خون سے ہولی کھیلنے کے بدلے میں اس شخص کو ان ممالک کی جانب سے نوٹ ملتے ہیں جو اس وقت دنیا میں انسانیت کے دشمن اور قتلے عام میں مصروف ہیں ان ممالک میں سر فہرست اسرائیل ہے جو بھارت کا قریب ترین دوست ہے جس شخص کی میں بات کر رہا ہوں اس شخص کا نام ہے جو اس وقت اور گزشتہ مودی کی حکومت میں نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر کے طور پر کام کر رہا ہے اور سابق آئی بی چیف بھی رہ چکا ہے۔۔۔!!!

جہاں اسرائیل انسانیت کا دشمن ہے وہاں اسرائیل پاکستان کا بھی دشمن ہے کیوں کہ پاکستان ہی دنیا میں آج وہ واحد ملک ہے جو انسانیات کی پہچان رکھنے کے ساتھ ساتھ انسانیت سے پیار بھی کرتا ہے اگر اسلام اور کفر کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو بھی اسرائیل اور پاکستان دشمنی کی بنیاد واضح طور پر سامنے آتی ہے اسی طرح اسرائیل نے ہمیشہ پاکستان کو زخم دینے کی بہت کوشش کی ہے کیونکہ اسرائیل اس بات سے آگاہ ہے کہ اگر اسرائیل کو کوئی ملک آنے والے وقت میں تباہ کرے گا تو اس کا نام صرف ور صرف #پاکستان ہے یہ ہی وجہ ہے اللہ پاک نے دنیا کے تمام مسلم ممالک میں سے اپنا راز پاکستان کو چنا اور پاکستان ہی کو ایٹمی قوت سے نوازا ۔۔۔!!!

اسرائیل کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ کبھی کھل دشمن کے خلاف سامنے نہی آتا بلکہ دشمن کو توڑنے کے لیے دشمن کے قریب اپنے دوست تلاش کرتا ہے اور اپنا کام اپنے دوستوں کی مدد سے سر انجام دیتا ہے اسی طرح آج وہ یہ کام پاکستان کی دشمنی میں بھارت سے لے رہا ہے بھارت میں اپنے دو مہرے نریندر مودی اجیت ڈوال کو مسلسل پاکستان مخالف استعمال کر رہا ہے اجیت ڈوال کو پیسے سے عشق ہے اور یہ شخص پیسے کی خاطر اس عورت کو بھی مار سکتا ہے جس نے اسے نو ماہ اپنے پیٹ میں رکھ کر پیدا کیا۔۔۔!!!

اسی اجیت ڈوال نامی شخص نے پاکستان دشمن ممالک سے پیسا لیکر بلوچستان کی سر زمین پر دہشتگرد کاروائیوں سے خون کی ہولی کھیلنے کی کوشش کی لیکن افواج پاکستان اور اس ملک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اجیت ڈوال کو بلوچستان میں نا صرف ناکام کیا بلکہ اس کے بھیجے گئے پالتو کتے کو بھی پکڑا جو اس ملک کے امن سے کھیلنے آیا تھا جو راء کا حاضر سروس ملازم نام کلبھوشن یادیو تھا ۔۔۔۔!!!

جب اجیت ڈووال مودی جیسے دہشتگرد اور اسرائیل کے ٹھیکدار کو بلوچستان کے محاذ پر کوئی کامیابی نا دے سکا تو ان دونوں اشخاص کی جانب سے کشمیر کو چنا گیا ہے بلوچستان ہو یا پھر کشمیر دونوں جگہ اگر ان دونوں اشخاص کی جانب سے کوئی ظلم و ستم کیا جاتا ہے تو زخم پاکستان کو ملتا ہے کیونکہ دونوں جگہ پاکستان بستا ہے یہ وجہ ہے کہ اس بار کشمیر کو چنا گیا ہے تاکہ ان ممالک کی فنڈنگ دوبارہ بحال کروائی جا سکے جنہوں نے انکی فنڈنگ بلوچستان میں ناکامی کی وجہ سے روک دی تھی اگر آج کے معاملات پر اندرونے کشمیر ایک نظر گھمائی جائے تو اس ملک کی عوام دیکھ سکتی ہے کشمیر کو اسرائیلی ماڈل کے طرز پر تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔۔۔۔!!!

اور یہ سب کچھ اجیت ڈوال کی پلیننگ اور کاروبار ہے جسے عالمی دہشتگرد مودی کی جانب سے کھلی حمایت حاصل ہے تاکہ فنڈنگ کا حصہ برابر تقسیم کیا جا سکے جہاں ان دونوں اشخاص کو حرام کے نوٹوں کا چسکا ہے وہاں انڈین ایجنسی راء بھی اس کام میں کسی سے کم نہی یہ ہی وجہ ہے کہ راء بھی خفیہ طور پر اس کاروبار میں ان دونوں دجالی شخصیت کے ساتھ ہے لیکن آج کشمیر میں ان کے کاروبار کا ناکام بنانے والی رکاوٹ صرف اور صرف ہے اور کشمیر کے معاملات میں پاکستانی کردار اس رکاوٹ کا ثبوت ہے جب کاروبار ٹھپ ہوا پڑا ہے تو اور #راء کاروبار کی بحالی کے لیے اس کوشش میں ہیں کہ کشمیر میں پھر سے ایک ایسا ڈرامہ رچایا جائے جس کا الزام پاکستان پر لگایا جائے اور دنیا کو توجہ پاکستان کی جانب مرکوز کر کے اپنے کاروبار کو چلایا جا سکے ۔۔۔۔!!!

لیکن اس کاروبار کا نا تو بھارتی عوام کو علم ہے اور نا ہی اندازہ کہ یہ بھارتی عوام کے لیے کس حد تک نقصان کا باعث بن سکتا ہے انکا ملک کا حد تک نا صرف معاشی تباہی کے قریب ہے بلکہ جس پراکسی کو بھارتی عوام نے اپنے والے کچھ وقت میں برداشت کرنا ہے وہ پراکسی بھارتی عوام کی برداشت سے باہر اور کس حد تک جان لیوا ہے دوسرا میں ان تینوں ناسوروں کو یہ بات واضح طور پر بتا دینا چاہتا ہو کہ آپکی کسی قسم کی مہم جوئی سے پاکستان کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑھنا 27 فروری جو ڈرامہ تم ناسوروں کی جانب سے رچایا گیا اس سے بھارت کی دنیا بھر میں جو ذلالت ہوئی وہ پوری دنیا کے ساتھ بھارتی عوام کے سامنے ہے مزید ذلیل ہونے کا شوق ہے تو ایک بار پھر کر کے دیکھ لو دوسرا کشمیر میں تمہارے خون کی ہولے کھیلنے والے کاروبار کو کسی صورت پاکستان قبول نہی کرتا بلکہ اللہ کے فضل و کرم سے تمہارے کاروبار کے ساتھ تمہے کشمیر کی سر زمین دفن کرے گا اور دفن کرنے کا وقت بہت قریب ہے۔۔۔۔!!!

وسلام


Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when One5one posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share