Knowledge Insight Hub

  • Home
  • Knowledge Insight Hub

Knowledge Insight Hub "Knowledge is the most powerful weapon which you can use to change the world." Explore trends, insights, and expertise.

Join us to learn, innovate, and lead together."

Bi-lingual clarity: English and Urdu explanations combined!Urdu Unveiled;"سرن" (CERN) تاریخ کا سب سے بڑا انسانی معجزہ ہے...
29/04/2024

Bi-lingual clarity: English and Urdu explanations combined!
Urdu Unveiled;
"سرن" (CERN)
تاریخ کا سب سے بڑا انسانی معجزہ ہے‘،،
سرن انسانی کوششوں کی معراج ہے۔۔
سرن ہے کیا ؟؟
سوئٹزرلینڈ اور فرانس دونوں نے مل کر لیبارٹری بنانا شروع کی‘ یہ لیبارٹری سرن کہلاتی ہے‘ یہ کام دو ملکوں اور چند سو سائنس دانوں کے بس کی بات نہیں تھی چنانچہ آہستہ آہستہ دنیا کے 38 ممالک کی 177 یونیورسٹیاں اور فزکس کے تین ہزار پروفیسر اس منصوبے میں شامل ہو گئے‘
سائنس دانوں نے پہلے حصے میں زمین سے 100 میٹر نیچے 27کلو میٹر لمبی دھاتی سرنگ بنائی۔
اس سرنگ میں ایسے مقناطیس اتارے جو کشش ثقل سے لاکھ گنا طاقتور ہیں‘
مقناطیس کے اس فیلڈ کے درمیان دھات کا 21 میٹر اونچا اور 14 ہزار ٹن وزنی چیمبر بنایا گیا‘ یہ چیمبر کتنا بھاری ہے ؟
دنیا کے سب سے بڑے دھاتی اسٹرکچر کا وزن 7 ہزار تین سوٹن ہے‘ سرن کا چیمبر اس سے دگنا بھاری ہے‘ اس چیمبر کا ایک حصہ پاکستان کے ہیوی مکینیکل کمپلیکس میں بنا اور اس پر باقاعدہ پاکستان کا جھنڈا چھاپا گیا‘
سائنس دانوں کے اس عمل میں چالیس سال لگ گئے‘
یہ چالیس سال بھی ایک عجیب تاریخ رکھتے ہیں۔
ملکوں کے درمیان اس دوران عداوتیں بھی رہیں اور جنگیں بھی ہوئیں لیکن سائنس دان دشمنی‘ عداوت‘ مذہب اور نسل سے بالاتر ہو کر سرن میں کام کرتے رہے‘ یہ دن رات اس کام میں مگن رہے‘ سائنس دانوں کے اس انہماک سے بے شمار نئی ایجادات سامنے آئیں مثلاً انٹرنیٹ سرن میں ایجاد ہوا تھا‘ سائنس دانوں کوآپس میں رابطے اور معلومات کے تبادلے میں مشکل پیش آ رہی تھی چنانچہ سرن کے ایک برطانوی سائنس دان ٹم برنرزلی نے 1989ء میں انٹرنیٹ ایجاد کر لیا یوں www(ورلڈ وائیڈ ویب) سرن میں ’’پیدا‘‘ ہوا اور اس نے پوری دنیا کو جوڑ دیا۔
سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی بھی اسی تجربے کے دوران ایجاد ہوئیں ‘ سرن میں اس وقت بھی ایسے سسٹم بن رہے ہیں جو اندھوں کو بینائی لوٹا دیں گے‘ ایک چھوٹی سی چپ میں پورے شہر کی آوازیں تمام تفصیلات کے ساتھ ریکارڈ ہو جائیں گی‘ ایک ایسا سپرالٹرا ساؤنڈ بھی مارکیٹ میں آرہا ہے جو موجودہ الٹرا ساؤنڈ سے ہزار گنا بہتر ہوگا ‘ ایک ایسا لیزر بھی ایجاد ہو چکا ہے جو غیر ضروری ٹشوز کو چھیڑے بغیر صرف اس ٹشو تک پہنچے گا جس کا علاج ہو نا ہے‘ ایک ایسا سسٹم بھی سامنے آ جائے گا جو پورے ملک کی بجلی اسٹور کر لے گا اور سرن کا گرڈ کمپیوٹر بھی عنقریب مارکیٹ ہو جائے گا‘ یہ کمپیوٹر پوری دنیا کا ڈیٹا جمع کرلے گا۔
یہ تمام ایجادات سرن میں ہوئیں اور یہ اس بنیادی کام کی ضمنی پیداوار ہیں‘ سرن کے سائنس دان اس ٹنل میں مختلف عناصر کو روشنی کی رفتار (ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ) سے لگ بھگ اسپیڈ سے ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں اور پھر تبدیلی کا مشاہدہ کرتے ہیں‘ یہ عناصر ایٹم سے اربوں گنا چھوٹے ہوتے ہیں‘ یہ دنیا کی کسی مائیکرو اسکوپ میں دکھائی نہیں دیتے‘ سائنس دانوں نے 2013ء میں تجربے کے دوران ایک ایسا عنصر دریافت کر لیا جو تمام عناصر کو توانائی فراہم کرتا ہے‘ یہ عنصر ’’گاڈ پارٹیکل‘‘ کہلایا‘ اس دریافت پر دو سائنس دانوں پیٹر ہگس اور فرینکوئس اینگلرٹ کونوبل انعام دیا گیا‘ یہ دنیا کی آج تک کی دریافتوں میں سب سے بڑی دریافت ہے۔
سائنس دانوں کا خیال ہے مادے کی اس دنیا کا آدھا حصہ غیر مادی ہے‘ یہ غیر مادی دنیا ہماری دنیا میں توانائی کا ماخذ ہے‘ یہ لوگ اس غیر مادی دنیا کو ’’اینٹی میٹر‘‘ کہتے ہیں‘یہ اینٹی میٹر پیدا ہوتا ہے‘کائنات کو توانائی دیتا ہے اور سیکنڈ کے اربوں حصے میں فنا ہو جاتا ہے‘ سرن کے سائنس دانوں نے چند ماہ قبل اینٹی میٹر کو 17 منٹ تک قابو رکھا ‘ یہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا‘ یہ لوگ اگر ’’اینٹی میٹر‘‘ کو لمبے عرصے کے لیے قابو کر لیتے ہیں تو پھر پوری دنیا کی توانائی کی ضرورت چند سیکنڈز میں پوری ہو جائے گی‘ دنیا کو بجلی اور پٹرول کی ضرورت نہیں رہے گی‘
سرن ایک انتہائی مشکل اورمہنگا براجیکٹ ہے اور سائنس دان یہ مشکل کام65 سال سے کر رہے رہے ہیں۔
یہ لیبارٹری دنیا کے ان چند مقامات میں شامل ہے جن میں پاکستان اور پاکستانیوں کی بہت عزت کی جاتی ہے‘ اس عزت کی وجہ ڈاکٹر عبدالسلام ہیں‘ ڈاکٹر عبدالسلام کی تھیوری نے سرن میں اہم کردار ادا کیا‘ عناصر کو ٹکرانے کے عمل کا آغاز ڈاکٹر صاحب نے کیا تھا‘ ڈاکٹر صاحب کا وہ ریکٹر اس وقت بھی سرن کے لان میں نصب ہے جس کی وجہ سے انھیں نوبل انعام ملا۔
دنیا بھر کے فزکس کے ماہرین یہ سمجھتے ہیں اگر ڈاکٹر صاحب تھیوری نہ دیتے اور اگر وہ اس تھیوری کو ثابت کرنے کے لیے یہ پلانٹ نہ بناتے تو شاید سرن نہ بنتا اور شاید کائنات کو سمجھنے کا یہ عمل بھی شروع نہ ہوپاتا چنانچہ ادارے نے لیبارٹری کی ایک سڑک ڈاکٹر عبدالسلام کے نام منسوب کر رکھی ہے‘ یہ سڑک آئین سٹائن کی سڑک کے قریب ہے اور یہ اس انسان کی سائنسی خدمات کا اعتراف ہے جسے ہم نے مذہبی منافرت کی بھینٹ چڑھا دیا‘ جسے ہم نے پاکستانی ماننے سے بھی انکار کر دیا تھا۔
سرن میں اس وقت 10 ہزار لوگ کام کرتے ہیں‘ ان میں تین ہزار سائنس دان ہیں یوں یہ دنیا کی سب سے بڑی سائنسی تجربہ گاہ ہے‘یہ تجربہ گاہ کبھی نہ کبھی اس راز تک پہنچ جائے گی جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات تخلیق کی تھی‘ یہ راز جس دن کھل گیا اس دن کائنات کے سارے بھید کھل جائیں گے‘
ہم اس دن قدرت کو سمجھ جائیں گے۔
علامہ عنایت اللّٰہ خان المشرقی نےفرمایاتھا کہ ایک دن انسان قدرت کے تمام بھید جان لےگا اور وہ دن انسانیت کی تکمیل کا دن ہوگا اور اسکےساتھ ہی انسان کو خلیفہ بنانے کا قدرت کا مقصد پورا ہوجائیگا۔
سرن میں ایک نوجوان پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر مہر شاہ بھی کام کرتے ہیں۔‘ یہ بہت متحرک‘ کامیاب اور ایکٹیو قسم کے سائنس دان ہیں‘اللہ نے انھیں ابلاغ کی صلاحیت سے نواز رکھا ہے‘ ڈاکٹر مہر سمیت ہمیں وہاں ہزاروں درویش ملے‘ ایسے درویش جو اس راز کی کھوج میں مگن ہیں جسے آج تک مذہب نہیں کھول سکا‘
یہ لوگ اصل درویش ہیں‘ یہ انسانیت کے بہتر مستقبل کے لیے کام کر رہے ہیں‘
یہ لوگ واقعی عظیم اور قابل عزت ہیں۔
پاکستان بھی سرن کا ممبر ہے‘ حکومت پاکستان ہر سال 22کروڑ روپے فیس ادا کرتی ہے‘ہمیں اس فیس کا فائدہ اٹھانا چاہیے ‘ڈاکٹر مہر کے بقول سرن طالب علموں کومفت تعلیم دیتا ہے‘ ہمارے نوجوانوں کو اس سہولت کا فائدہ اٹھانا چاہیے‘ ہمارے نوجوان ایف ایس سی سے لے کر پی ایچ ڈی تک کے لیے سرن سے وظائف لے سکتے ہیں ‘ دوسرا سرن ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے لیے اوپن ادارہ ہے‘ اس کا ہر ممبر کوئی بھی ٹیکنالوجی حاصل کر سکتا ہے‘ پاکستان کو اس سہولت کا بھی فائدہ اٹھانا چاہیے۔
ہم اگر سرن سے صرف میڈیکل سائنس اور زراعت کی ٹیکنالوجی ہی لے لیں تو یہ بھی ہمارے کے لیے کافی ہو گی ‘ ہمارے بے شمار مسائل حل ہو جائیں گے۔۔
English Unveiled;
"CERN: The Greatest Human Marvel!

CERN is the greatest human-made wonder, a testament to human achievement and scientific progress. It's a laboratory where scientists from around the world collaborate to advance our understanding of the universe. This laboratory was established by Switzerland and France, but it's not just a project of two countries or a few hundred scientists. Over time, 38 countries and 177 universities have joined this project, with over 3,000 physics professors involved.

The scientists first built a 27-kilometer-long metal tunnel 100 meters underground. They then installed powerful magnets inside this tunnel, which are a hundred times stronger than the Earth's magnetic field. A 21-meter-high and 14,000-ton chamber was built in the middle of this magnetic field. This chamber is so heavy that it's twice the weight of the largest metal structure in the world.

Pakistan is also a part of this project, and a component of this chamber was built at the Heavy Mechanical Complex in Pakistan, with the Pakistani flag proudly displayed on it. It took 40 years for scientists to complete this project, and during this time, there were wars and conflicts between countries, but scientists from different countries and religions worked together without any discrimination.

This project has led to numerous innovations, including the internet, CT scans, and MRI technology. The scientists at CERN are working on a system that will store electricity for the entire country, and they are also developing a supercomputer that will collect data from all over the world.

The scientists at CERN are working on a project to collide different elements at a speed of 186,000 miles per second, which is close to the speed of light. They are studying the changes that occur when these elements collide, and this research has led to the discovery of a new element called the "God particle," which provides energy to all elements.

The scientists believe that half of the universe is made up of non-material elements, which are the source of energy for our universe. They have named this non-material element "antimatter," which is produced and then disappears in a fraction of a second. If scientists can control antimatter for a longer period, it will provide enough energy for the entire world, and we will no longer need electricity or petrol.

CERN is a very difficult and expensive project, and scientists have been working on it for 65 years. This laboratory is one of the few places in the world where Pakistan and Pakistanis are highly respected, and this respect is due to Dr. Abdus Salam, who played a crucial role in the discovery of the Higgs boson particle.

Dr. Abdus Salam's theory and work at CERN led to the development of the Large Hadron Collider, which has enabled scientists to study the universe in unprecedented ways. The world's top physicists believe that if Dr. Abdus Salam had not presented his theory and built this plant, CERN would not have been possible, and we would not have been able to understand the universe in the way we do today.

The organization has named a street at the laboratory after Dr. Abdus Salam, which is a recognition of his scientific services. This street is located near Einstein's street, and it's a testament to the fact that we have ignored a great scientist like Dr. Abdus Salam due to religious biases.

Currently, 10,000 people are working at CERN, including 3,000 scientists, making it the largest scientific research center in the world. This research center will one day uncover the secrets of the universe, and we will understand how God created this universe.

Allama Inayatullah Khan Al-Mashriqi said that one day humans will discover all the secrets of the universe, and that will be the day of human completion. And with that, God's purpose of making humans His caliph will be fulfilled.

There is a young Pakistani scientist, Dr. Maher Shah, who is also working at CERN. He is a very active and successful scientist who has been blessed with the ability to communicate complex ideas in a simple way. We met thousands of scientists like him at CERN who are working to uncover the secrets of the universe.

Pakistan is also a member of CERN, and the government pays an annual fee of 22 crores rupees. We should take advantage of this membership and the opportunities it provides. Dr. Maher says that CERN provides free education to students, and our young people can benefit from this opportunity. Additionally, CERN is an open institution for technology transfer, and any member country can acquire any technology from it. Pakistan should also take advantage of this opportunity.

If we can get just medical science and agricultural technology from CERN, it will be enough for us. Our numerous problems will be solved, and we will make progress in many fields."
Writer; Saleem Ullah

Bi-lingual clarity: English and Urdu explanations combined!Urdu Unveiled; آرٹیفیشل انٹیلیجنس کیا چیز ہے؟ قسط نمبر: 1 آج ...
29/04/2024

Bi-lingual clarity: English and Urdu explanations combined!
Urdu Unveiled;
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کیا چیز ہے؟
قسط نمبر: 1

آج کل اے آئی کا بہت شور مچا ہوا ہے۔ ہر ایک چیز میں اے آئی آگئی ہے۔ چاہے سافٹ وئیر ایپلیکیشنز ہو جیسے فیسبک، یوٹیوب، وٹس ایپ، چاہے گاڑیاں ہو جسے ٹیسلا کار، چاہے کھیلونے ہو، چاہے ربوٹس ہو، چاہے گھریلوں ضرورت کے اشیا ہو جیسے واشنگ مشین، اے سی وغیرہ۔ ان ساری اشیا کا کنٹرول دھیرے دھیرے اے آئی کے پاس جارہا ہیں۔ تو چلئے سمجھتے ہیں کہ یہ اے آئی ہے کیا چیز؟

اس سے پہلے کہ ہم آرٹیفیشل انٹیلیجنس سمجھے، ہم صرف انٹیلیجنس سمجھتے ہیں۔ انٹیلیجنس کا مطلب ہے ذہانت۔ ذہانت ایک ایسی چیز ہے جس کی بدولت ہم reasons کے بنا پر judgement کرتے ہیں۔ یعنی کسی مخصوص وجہ/وجوہات کو بنیاد بناکر فیصلہ لیتے ہیں۔
مثال کے طور پر اگر بارش ہو رہی ہے تو ہم فیصلہ لیتے ہیں کہ باہر جانے کیلئے چھتری ساتھ میں لینی ہے۔ چھتری لینے کیلئے وجہ بارش بنی۔
اس طرح ہمارا ہر ایک فیصلہ کسی خاص وجہ/وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے۔ یہاں پر اگر غور کیا جائے تو دو باتیں سامنے آتی ہیں۔ ایک "وجہ" اور دوسرا "فیصلہ"۔
بعض اوقات اگر ہم کوئی فیصلہ لیتے ہیں تو وہ ہمارے لئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے اور بعض اوقات فائدہ مند۔ ایسا کیوں ہے؟
اس کے پیچھے اصل میں وہ وجہ/وجوہات ہوتی ہے جس کو ہم نے بنیاد بنا کر فیصلہ لیا تھا۔

ایک اور مثال دیکھئے۔ دو بندے ہیں اور ان دونوں نے پشاور سے سوات گھومنے جانا ہے۔
ایک بندے نے فیصلہ لیا کہ میں اپنے ساتھ چادر نہیں لے کے جاتا کیونکہ اس سے میرا بیگ بھاری ہوگا اس نے بیگ بھاری ہونے کو وجہ بنا لیا۔ دوسرے نے بیگ بھاری ہونے کی پروا نہیں کی اور چادر اپنے پاس لی۔ اس نے وہاں کے سرد موسم کو وجہ بنالیا۔ جب دونوں وہاں پہنچے تو کافی سردی تھی اور چادر والا بندہ بڑے مزے سے گھوم رہا تھا لیکن بغیر چادر والے کو ایجووائمنٹ کی بنسبت سردی زیادہ لگی۔
اب فیصلہ کس کا ٹھیک تھا؟ یہ آپ جانتے ہونگے۔لیکن یہاں اس کا مطلب یہ ہوا کہ کوئی ایسی وجہ بنیاد بنائی جائے جس کی بنا پر کیا گیا فیصلہ فائدہ مند ثابت ہو۔
اب جس انسان کے پاس کوئی فیصلہ لینے سے پہلے جتنے زیادہ وجوہات ہونگے مطلب کہ علم زیادہ ہوگا، ڈیٹا زیادہ ہوگا تو وہ بہتر فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوگا۔ اسکے علاوہ انسانوں کے فیصلوں میں جزبات اور احساسات بھی ہوتے ہیں لیکن بنیادی وجہ ڈیٹا یا علم ہی ہے۔
یہ تو ہوئی انسانی ذہانت جو قدرت نے دی ہے اور اس پر اللہ کا شکر گزار رہنا چاہئے۔

اب آتے ہیں مصنوعی ذہانت کے بارے میں۔ جیسا آپ جانتے ہیں انسان بھی فیصلہ ڈیٹا یا علم کی بنیاد پر لیتا ہے تو کیوں نہ کمپیوٹر بھی ڈیٹا کو بنیاد بنا کر کوئی فیصلہ لے۔ کیونکہ کمیپیوٹر بھی تو ڈیٹا یعنی پہلے سے دئے گئے معلومات پر چلتا ہے۔ اب یہاں پر آپ کو ایک بات کنفیوز کرہی ہوگی کہ یار کمپیوٹر تو بہت پہلے سے ڈیٹا کی بنیاد پر چلتا ہے۔ تب تو کسی نے نہیں کہا اس میں اے آئی ہے۔ لیکن اب کیوں؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو سافٹ ویئر صرف پہلے سے دئے گئے ڈیٹا کے بنیاد پر چلتے ہیں وہ صرف اور صرف وہی ڈیٹا/احکامات فالو کرتے ہیں۔ کسی بھی جگہ یہ سافٹ وئیرز خود سے کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے۔ مثال کے طور پر پہلے پہلے جو فیسبک تھا وہ صرف پہلے سے دیے گئے کمانڈز پر چلتا تھا۔ مطلب جن لوگوں کو آپ نے فالو کیا تھا صرف انہی کے کانٹینٹ آپ کو دیکھتے تھے۔ اس وقت فیسبکpre Instructions پر چلتا تھا اور خود سے یہ فیصلہ نہیں کرسکتا تھا کہ آپ کو کونسے کانٹینٹ پسند ہونگے۔ مطلب کہ فیسبک کے پروگرام میں یہ بات لکھی گئی تھی جس کو آپ فالو کریں۔ اس کا کانٹینٹ آپ کے سامنے آئے گا۔

لیکن اب جس طرح کے کانٹینٹ آپ دیکھتے ہیں اسی طرح کے اور بھی آپ کے سامنے آتے ہیں۔ خواہ آپ نے کسی کو فالو کیا ہے یا نہیں۔ اب فیسبک میں اے آئی ہے اور وہ خود سے فیصلہ لے سکتا ہے کہ آپ کو مزید کونسی چیزیں پسند آئیں گے۔ یہ فیصلہ فیسبک اپنے سرور پڑے بہت سارے ڈیٹا کی بنیاد پر لیتا ہے۔ کہ اگر کسی بندے نے نیوز کی ویڈیو دیکھی۔ تو جب اور بہت سارے لوگوں نے نیوز کی ویڈیو دیکھی تھی اور اس کے بعد بھی وہ نیوز دیکھتے تھے۔ تو اس ڈیٹا سے فیسبک کا اے آئی الگوریتھم یا پروگرام خود سے فیصلہ کرتا ہے کہ آپ کو بھی مزید نیوز کی ویڈیوز پسند آئینگے۔ اس لئے آپ کو بھی نیوز سجیسٹ کرتا ہے۔
آسان الفاظ میں بات یہ ہے کہ بنا اے آئی والے پروگرام کچھ خاص کنڈیشنز پر کچھ خاص فیصلہ کرتے ہیں۔ یعنی کنڈیشنز اور فیصلے دونوں پہلے سے طے ہوتے ہیں۔ اس میں سافٹ وئیر کا کوئی بس نہیں چلتا کہ وہ پہلے سے طے شدہ فیصلہ تبدیل کرلے۔
لیکن اے آئی سافٹ ویئرز میں فیصلہ پہلے سے موجود نہیں ہوتا۔ ہم سافٹ ویئر کو بہت سارا ڈیٹا سپلائی کرتے ہیں او اس ڈیٹا میں سے اے آئی کو کچھ خاص پیٹرنز ڈھونڈ نکانے کا کہتے ہیں۔ (اس سٹیج کو ٹریننگ کہتے ہیں)۔ اس پیٹرنز کی بنیاد پر اے آئی کوئی فیصلہ لیتا ہے۔
اصل میں اے آئی کا سارا کھیل ڈیٹا کی بنیاد پر چلتا ہے۔

اخر میں یہ بات نوٹ کرلیں کہ اے آئی ساری برابلمز کا حل نہیں ڈھونڈ سکتی۔ اے آئی انسانوں کی محتاج ہے کیونکہ اس کیلئے انسان پری پروسیسڈ ڈیٹا فراہم کرتے ہیں۔ اے آئی اکثر ایسے پرابلمز حل کرنے میں فیل ہوتا ہے جس کے معلومات پہلے سے ڈیٹا میں نہ ہو۔ اسلیے یہ کہنا درست نہیں کہ اے آئی انسانوں کی جگہ لے گی۔
ہاں اے آئی سے چیز تبدیل ہوسکتی ہے۔ پراگرس تیز ہوسکتا ہے لیکن یہ تو ہر ایک ٹیکنالوجی سے ہوتا ہے صرف اے آئی سے نہیں۔

یہ تو ہوئی اے آئی کی آسان الفاظ میں تشریح۔

اگلی قسط میں دیکھتے ہیں کہ اے آئی پرواگرام کیسے بنتے ہیں یعنی اے آئی کی ٹیکنیکل ایسپیکٹ دیکھتے ہیں۔
(جاری ہے)
English Unveiled;
Part (i)
"What is Artificial Intelligence?
Today, AI is making a lot of noise everywhere. AI is everywhere, whether it's software applications like Facebook, YouTube, WhatsApp, cars like Tesla, toys, robots, or household items like washing machines, AC, etc. All of these things are slowly coming under AI control. So let's understand what AI is. Before we understand artificial intelligence, let's first understand intelligence. Intelligence means the ability to make judgments based on reasons. In other words, we make decisions based on specific reasons or causes. For example, if it's raining, we decide to take an umbrella with us because of the rain. Similarly, every decision we make is based on some reason or cause. If we think about it, two things come to mind - the reason and the decision. Sometimes our decisions can be harmful or beneficial. Why is that? It's because of the reasons or causes we based our decisions on.

Now, let's talk about artificial intelligence. Just like humans make decisions based on data or knowledge,
why can't computers make decisions based on data too? Because computers also run on data, i.e., pre-given information. Now, you might be confused thinking, "But computers have been running on data for a long time, so why is it being called AI now?" The answer is that software that only runs on pre-given data can only follow those instructions and can't make decisions on its own. For example, Facebook used to only show content from people you followed, but now it also shows you other similar content that you might like, even if you haven't followed those people. This is because Facebook's AI algorithm makes decisions based on the data it has, such as what you've liked or watched before.

In simple words, AI programs make decisions based on patterns they find in the data they are given. This data is what humans provide to the software. AI can't solve all problems, and it often fails to solve problems that require information that isn't already in the data. So, it's not right to say that AI will replace humans. AI can change things, progress can be made, but it's not just AI that does this, every technology does. That's all for today's episode on AI.
In the next part (ii), we'll see how AI programs are made, i.e., the technical aspects of AI."
(Continue)
Writer; Saleem Ullah

Bi-lingual clarity: English and Urdu explanations combined!Urdu Unveiled;کسی ہیکنگ سسٹم کو آپ کا پاس ورڈ ٹوڑنے میں کتنا ...
28/04/2024

Bi-lingual clarity: English and Urdu explanations combined!

Urdu Unveiled;
کسی ہیکنگ سسٹم کو آپ کا پاس ورڈ ٹوڑنے میں کتنا وقت لگ سکتا ہے.
یہ وقت موجود ہیکنگ سسٹم اور تکنیک کو دیکھتے ہوئے فرض کی گیا ہے.
2030 تک کوانٹم کمپیوٹر لانچ ہوں گے جن کی سپیڈ اتنی ہوگی کہ کوانٹم کمپیوٹر جو کام ایک سیکنڈ میں کرے گا وہی کام اج کل کے لیٹیسٹ کمپیوٹر آٹھ سالوں میں کرتے ہیں۔
اسی وجہ سے دنیا کو یہی خطرہ ہے کہ وہ ڈیٹا بہت جلدی ہیک کر لیا کریں گے جس کی وجہ سے لوگوں کی پرائیویسی کو بہت بڑا خطرہ لاحق ہوگا ۔

English Unveiled;
"How long it takes for a hacking system to crack your password?
It depends on the existing hacking system and techniques.
By 2030, quantum computers will be launched, which will be so fast that they can do in one second what the latest computers of today can do in eight years.
That's why the world is facing the danger that they will hack data very quickly, which will pose a huge threat to people's privacy."
writer; Saleem Ullah

The explanations of the above post is given below in Urdu and Englisg both the Languages.Urdu Explanations;انٹرنیٹ پیکجز...
27/04/2024

The explanations of the above post is given below in Urdu and Englisg both the Languages.
Urdu Explanations;
انٹرنیٹ پیکجز، ایم بیز MBs کیسے کام کرتے ہیں؟
جیسےہم جانتے ہیں کہ انٹرنیٹ پورے دنیا کے کمپیوٹروں کو جوڑے رکھنے کا نام ہے۔ اصل میں ہم انٹرنیت کے ذریعے کسی دور کمپیوٹر میں پڑے ڈیٹا کو ایکسس کرتے ہیں۔ یا اس میں اپنا ڈیٹا اپلوڈ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر آگر آپ یوٹیوب پر کوئی ویڈیو دیکھ رہے ہیں تو یہ آپ یوٹیوب کے بڑے کمپیوٹر جس کو ہم سرور کہتے ہیں میں پڑے ویڈیو کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح اگر آپ کوئی ویڈیو یا تصویر وغیرہ فیسبک پر اپلوڈ کرتے ہیں تو حقیقت میں آپ اپنی ویڈیو یا تصویر فیسبک کے سرور پر کاپی کرتے ہیں اور فیسبک ساری دنیا کے لوگوں کے ساتھ کنیکٹ ہیں تو سب اس کو دیکھ پارہے ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں پر سوال یہ آتا ہے کہ اتنا سارہ ڈیٹا اتنے دور دور پڑے کمپیوٹروں میں کیسے آتا جاتا ہے؟
دیکھیے کمیپیوٹرز کئی طریقوں سے ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ پہلا طریقہ تار یعنی کیبل کے زریعے۔ دوسرا طریقہ بغیر تار یعنی وائرلیس سیگنلز کے ذریعے۔
اس وقت دنیا میں دونوں طریقے رائج ہیں۔ بڑے لیول پر کمپیوٹرز تار کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ ان تاروں کو آپٹیکل فائبر کہا جاتا ہے۔ جبکہ چوٹے لیول پر جیسے ہمارے موبائل فونز وغیرہ وائرلیس طریقے سے ملے ہوئے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کیبلز اور وائرلیس سسٹم کو کیسے مینیج کیا جاتا ہیں؟
تو جواب یہ ہیں کہ اس کے پیچھے کئی ساری کمپنیاں کام کررہی ہوتی ہے جو ہمیں انٹرنیٹ کی سہولیات مہیا کرتی ہیں۔ ان کمپنیوں کو آئی ایس پیز ISPs یعنی انٹرنیٹ سروس پرووائڈرز کہا جاتا ہے۔ آئی ایس پیز اصل میں تین حصوں میں تقسیم ہوئے ہیں۔
۔ Tier 1 ISPs
یہ آئی ایس پیز بڑے لیول پر کام کرتی ہیں یعنی یہ ٹاپ لیول پر رہتی ہے۔ یہ ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک بڑے بڑے کیبلز بچاتی ہے ہیں اور ایک Tier1 کو دوسرے 1Tier سے ملاتی ہے۔ جیسے یورپ سے ایشیا تک سمندر کے راستے بڑے بڑے کیبلز آئے ہیں۔ ان کیبلز کے ذریعے ایک براعظم کے کمپیوٹرز دوسرے براعظم کے کمپیوٹروں کے ساتھ کنیکٹ ہوتے ہیں ان بڑے آپٹیکل فائبرز کا نقشہ نیچے تصویر میں دیا گیا ہے۔ ان کمپنیوں میں کچھ کے نام یہ ہیں۔
AT&T
CenturyLink
Version Business
NTT communications
اب جب ایک مرتبہ بڑے لیول پر کنکشن ہوگئی تو اس کے بعد باری آتی ہے کہ ملکوں میں یا شہروں میں انٹرنیٹ یعنی ڈیٹا کو پہنچایا جائے۔ اس مرحلے پر Teir2 کمپیاں آتی ہیں۔
۔ Teir 2 ISPs
یہ آئی ایس پیز Tier1 آئی ایس پیز سے انٹرنیٹ خریدتی ہے اور ملکوں یا شہروں کو ایک دوسرے کے ساتھ کنیکٹ کرتی ہیں۔
۔ Teir3 ISPs
یہ آئی ایس پیز کسٹمرز یعنی اینڈ یوزر صارفین تک اینٹرنیٹ پہنچاتے ہیں۔ یہ چھوٹے اور لوکل سطح پر انٹرنیٹ سروسز مہیا کرتے ہیں۔ یہ کیبل کے ذریعے بھی سروس دیتے ہیں جیسے پی ٹی سی ایل دیتا ہے جیسے ڈی ایس ایل۔ اور وائرلیس بھی جیسے موبائل فونز یا وائی فائی۔
لیکن یہ بات نوٹ کرلینی چاہئے کہ انٹرنیٹ کا یہ Tier والا انفراسٹرکچر کوئی سٹنڈرڈ نہیں ہے بلکہ یہ ایک کمپلیکس چیز ہے اور وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ مختلف آئی ایس پیز مختلف Tier کے شکل میں اپریٹ کرسکتے جو کہ لوکل، ریجنل اور گلوبل سطح پر انٹرنیٹ سروسز مہیا کرتے ہیں۔
ایلان مسک نے سٹارلینک کے نام سے ایک سٹیلائٹ سسٹم لانچ کیا ہے جو کہ آنے والے دور میں انٹرنیٹ کیبلز کی بجائے سٹیلائٹ کے ذرئعے وائرلیس ہوگا۔ سٹیلائٹ کے ذرئعے اب بھی انٹرنیٹ سروسز مہیا کی جاتی ہے لیکن اس میں مسلہ یہ ہے کہ وہ سٹیلائٹس زمین سے بہت دور ہیں جس کی وجہ اسکا انٹرنیٹ سلو چلتا ہے۔
ائی ایس پیز کئی طرح سے انٹرنیٹ پیکجز مہیا کرتا ہے۔ مثال کے طور۔
۔ Time Based Packages
۔ Data Volume Based Packages
۔ Speed Based Packages
۔ Social Media Packages
اور اس طرح کئی اور بھی۔
یہاں ایک بات نوٹ کرلیں کہ آپ جس طرح کا پیکیج سبسکرائیب کرتے ہیں اسی حساب سے آپکو انٹرنیٹ ملے گا۔ آگر آپ نے سوشل میڈیا کا پیکیج سبسکرائیب کیا تو آئی ایس پیز آپ کو صرف سوشل میڈیا کی حد تک محدود رکھے گا اور آپ کسی اور ویبسائٹ کو ایکسس نہیں کر پائیں گے۔ یہ اصل میں ایسے ہوتا ہے کہ آپ جب پیکج لیتے ہیں۔ اس وقت ائی ایس پی اپکے سارے معلومات جسے آپکا فون نمبر، آپکی آئی پی ایڈریس، MAC ایڈریس وغیرہ لیتی ہیں۔ اس کو User Authentication کہتے ہیں۔
پھر جب آپ انٹرنیٹ سے کنیکٹ ہونے کی کوشش کرتے ہیں یعنی کسی ویبسائٹ کیلئے ریکوسٹ بیجھتے ہیں تو پہلے آئی ایس پی آپ کو Authenticate کرتا ہے یعنی آپکی ریکوسٹ فلٹر کردیتا ہے کہ آپ کے پاس کونسا انٹرنیٹ پیکیج موجود ہیں۔ لہذا ایسی حساب سے آپ کے ڈیوائس پر انٹرنیٹ مہیا کیا جاتا ہے۔
اگر آپکا سوشل میڈیا پیکیج ہے تو آپ کو دوسرے ویبسائٹ سے بلاک کیا جاتا ہے۔
کیونکہ آپ کے انٹرنیٹ سروس پرووائڈر کے پاس سارے صارفین اور اسکے متعلقہ پیکیجز کی معلومات ہوتی ہیں۔
English explanations;
"How does internet work?
As we know, the internet connects all computers around the world. Actually, we access data stored on a remote computer through the internet or upload our data to it. For example, when you watch a video on YouTube, you're actually watching the video stored on YouTube's big computer, which we call a server. Similarly, when you upload a video or image to Facebook, you're actually copying it to Facebook's server, and since Facebook is connected to people all over the world, everyone can see it. But the question is, how does so much data travel to distant computers? Computers are connected to each other in many ways. The first method is through cables, and the second is through wireless signals. Currently, both methods are in use worldwide. At a larger level, computers are connected to each other through cables, which are called optical fibers. On the other hand, at a smaller level, like our mobile phones, etc., they are connected wirelessly.

Now, the question arises, how are these cables and wireless systems managed? The answer is that many companies work behind the scenes to provide us with internet facilities. These companies are called Internet Service Providers (ISPs). ISPs are divided into three parts:

1. Tier 1 ISPs: These ISPs work at a larger level, connecting continents and countries.
2. Tier 2 ISPs: These ISPs connect cities and towns within a country.
3. Tier 3 ISPs: These ISPs provide internet services to end-users (us) at a local level.

ISPs offer various packages, such as time-based, data volume-based, speed-based, and social media packages. Note that when you subscribe to a package, your ISP authenticates your device and filters your internet access accordingly. It's like when you subscribe to a package, your ISP gets all your information, like your phone number, IP address, MAC address, etc. This is called User Authentication. Then, when you try to connect to the internet or request a website, your ISP first authenticates you, i.e., filters your request to see which internet package you have. Based on this, internet access is provided to your device. If you have a social media package, you'll be blocked from accessing other websites because your internet service provider has all the information about its users and their packages."
Writer; Saleem Ullah

Address

Par Hoti Mardan

23200

Telephone

+923145792894

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Knowledge Insight Hub posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Knowledge Insight Hub:

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share