Public kohat

Public kohat news

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقوم کا آغاز ہوچکا ہے خواتین ضلع کوھاٹ میں در بدر اپنی رقم کے حصول کے لیے سرگرداں ہیں۔موجود...
30/05/2025

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقوم کا آغاز ہوچکا ہے خواتین ضلع کوھاٹ میں در بدر اپنی رقم کے حصول کے لیے سرگرداں ہیں۔موجودہ حکومت کی انتہائی ظالیمانہ پالیسئئ کیوجہ سے۔جب سے یہ رقوم شروع ہیں ہر روز خواتین ایک نئے امتحان سے گزرتی ہیں۔کے پی کے میں یہ نظام اور رقم کی ترسیل الفلاح بنک کی زریعے تقسیم کی جارہی تھیں۔مگر نئئ حکومت کے آتے ہی کچھ اضلاع میں الفلاح سے یہ نظام لیکر ایزئ پیسہ کو یا جاز کیش کو دے دیا گیا۔کیونکہ سب کو کھانے کا حق حاصل ہے جو حکومت میں موجود ہوتے ہیں۔ایزئ پیسہ کو کوھاٹ میں ٹھیکہ دے دیا گیا۔جب کہ ایزئ پیسہ نے ایک نئی کمپنی CBA کو بیچ دیا۔اب نئی کمپنی نے کوھاٹ میں آتے ہی ایجنٹ سسٹم پہ کام چلانا شروع کردیا۔ایجنٹ سے سیکورٹی کے زمرے میں لاکھوں روپے لیکر بیٹھ گئی۔اب ایجنٹ جو کہ اپنی شاپس پہ یہ پیمنٹ کررہے تھے۔انکے پاس نیٹ اور دوسرا کاروبار بھی ساتھ میں رن کرنے کے لیے۔انکو مجبور کیا جارہاہے آپ کیمپ میں آکر بیٹھ جائیں۔جو پورے ضلع کوھاٹ میں پھیلے ایجنٹ تھے انکی تعداد 62 تھی۔ مطلب پورے ضلع کوہاٹ کی خواتین کو اگر ان 62 مختلف شاپس پہ تقسیم کردیا جائے تو ہر شاپ سے آسانی سے پیمنٹ وصول ہوجانی تھی ۔اب تمام خواتین کو جن کو مختلف علاقوں سے اٹھا کر صرف 5 کیمپ میں محدود کردیا گیا کہ یہاں پیمنٹ وصول کریں۔اب ایجنٹ اگر توغ سے یا شاہ پور سے آکر TMA ہال میں بیٹھتا ہے تو اس کے آنے جانے کا خرچہ ۔اس کے نیٹ کا خرچہ اور سب سے بڑھ کر اسکی زندگی کاخطرہ۔
کوئ بھی ایجنٹ کی زندگی اور اسکی رقم کی زمہ دارئ اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔اس سال کے پی کے (kpk)میں ایجنٹ سے رقم چھننے کے 13 واقعات ہوچکے ہیں جسمیں 3 بار ایجنٹ کو گولی مارئ گئی ہے۔کوھاٹ میں پولیو ڈیوٹی شروع ہونے کی وجہ سے سیکورٹی پہلے ہی کم ہے۔
پورے ضلع کوھاٹ کے 62 مختلف پوائنٹس کو ختم کر کے محض 5 کیمپ میں احسن طریقے سے کام نکلوا لینا پتہ نہیں کونسے زرخیز دماغ کی کارستانی ہے ۔خواتین کی عزتوں کا دشمن ہی کوئ ایسافیصلہ کرسکتا ہے کسئ انسان دوست زہین کا کام نہیں۔اب انتظامیہ اور حکومت سے درخواست ہے کہ ہر ٹرانچ کے آتے ہی یہ مسائل اس وجہ سے ہیں کہ جو نچھلے طبقے ایجنٹ کو جو مسائل ہیں اسے ڈسکس نہ کرنے کی وجہ سے یہ مسائل کبھی بھی ختم نہیں ہوسکتے ۔حکومت تو اپنے ٹھیکیدار کو پورئ کی پورئ رقم دے دیتا ہے مگر ٹھیکدار آگے ظلم کرنے کیوجہ سے یہ کام نہیں چلتا۔خود زیادہ کمائ اور نیچے کم اجرت زیادہ کام کیوجہ سے مسائل بڑھتے ہی جارہے ہیں۔

28/05/2025
28/05/2025

ڈی پی او کوہاٹ ڈاکٹر زاہد اللہ خان کی خصوصی ہدایت پر معاشرتی جرائم کے مؤثر انسداد کیلئے پولیس کا ضلع بھر میں نتیجہ خیز کریک ڈاؤن جاری ہے

کوہاٹ تھانہ سٹی پولیس نےمشہور قمارباز وقاص سکنہ گڑھی ڈھڈیوال کی نگرانی میں جاری قمار بازی کی محفل الٹ کر قمار بازوں کو 350000داؤمنی سمیت گرفتار کرلیا ہے

دیگر ملزمان میں گرفتار ملزمان سفیر خان،راج محمد، بابرعلی شامل تھے۔ ملزمان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا ہے

ایس ایچ او سٹی فیاض خان نے پولیس نفری کے ہمراہ کاروائی کرتے ہوئے، قمارباز کے محفل پر چھاپہ مارا جہاں قماربازی کیھلتے ہوئے افراد کو رنگے ہاتھوں گرفتار لیا گیا

گرفتار ملزمان کے خلاف تھانہ سٹی میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔

ملزمان کو جیل بھیج دیاگیا۔

28/05/2025
28/05/2025
28/05/2025

بینظیر انکم سپورٹ کی رقم کیمپ سائیڈ میں جلد سے جلد وصول کرلیں۔عید چھٹیاں ہیں پھر

22/05/2025

حکومت بینظیر انکم سپورٹ جس کو BISP بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی رقوم ہر گاوں میں ایجنٹ کے زریعے ادا کیجاتی تھی۔ جس سے ہر گاوں میں ہر خاتون عزت کیساتھ جا کر رقم حاصل کر لیتی تھی۔ نہ اس کا کرایہ لگتا تھا نہ اس کو پریشانی ہوتی تھی۔ کہ اگر کسی وجہ سے (جیسے نیٹ ورک خراب ۔ رقم کی بنک سے عدم دستیابی وغیرہ ) رقم نہیں مل پاتی تھی تو بغیر کسی زیادہ پریشانی کے رقم دوسری بار جاکر وصول کر لیتی تھی۔ مگر کچھ عرصہ قبل حکومت نے کرونا ایمر جنسی کے دور سے کیمپ سائیڈ پہ رقم دینے یا وصول کرنے کا پروگرام بنایا۔

مگر کرونا حالات کے بعد اب اس ادارے بیپ BISP نے اپنے فوٹو سیشن کے لیے ایک ظالیمانہ کام سٹارٹ کیا ہوا ہے ۔ کہ ایجنٹ کو اور رقم لینے والی خاتون کو ایک جگہ سے اٹھا کر کیمپ سائیڈ/یونین کونسل جو کہ بیس پچیسں کلو میٹر دور پیسہ وصول کرنے کا کام شروع کیا ہوا ہے جو کہ ایجنٹ اور خاتون دونوں کے ساتھ ظلم ہے۔ نمبر ا؛ خاتون اپنے گاوں یا ساتھ والے گاوں کے بجائے ہیں کلومیٹر دور سے پیسے کیوں وصول کرے۔ نمبر ۲؛ اتنی دور کیمپ سائیڈ پہ وہ دوسرے بندے کے علاوہ کیسے جائے۔ اگر دو بندے جائیں تو کرایہ ہزار سے کم خرچہ نہیں ہوتا۔ تو وہ جو کام ۱۰۰ روپے میں ہو سکتا ہے اس پہ یہ خرچہ صرف فوٹو سیشن کے لیے کیوں ؟

نمبر ۳؛ ایجنٹ کو اپنی شاپ سے اٹھا کر کیمپ میں بیٹھانے کے بیچے مقصد کیا ہے۔؟؟

نمبر ۳؛ جس ظالم اور کافر نے ایجنٹ کی شاپ اور اس کے کاروبار کی رازداری کو سر بازار کر دیا ہے ۔ اس ظالم اور کافر کو یہ نہیں معلوم کہ اس کی اس حرکت سے پچھلے سالوں میں ایجنٹوں کے کتنے بچے یتیم اور عورتیں بیوائیں ہو گئیں۔

نمبر ۴؛ ایجنٹ بیچارہ کیمپ آتے جاتے کسی نہ کسی ڈاکو کی گولی کا نشانہ بن جاتا ہے یا اس کی اپنی رقم سے ہاتھ دھو دیتا ہے۔ کیا اس ایجنٹ کی انشورنس ہوتی ہے۔ کسی ظالم یا کافر نے کبھی

سوچا۔

نمبر ۵؛ سب سے زیادہ کرپٹ Bisp ادارہ خود ہے جسکا ایک ایک ایمپلای کم از کم ماہانہ ایک لاکھ سے زائد تنخواہ لیتا ہے مگر ایک شہر سے دوسرے شہر جاتے وہ اپنا ئی اے ۔ ڈی اے وصول کرتا ہے۔ مگر ایجنٹ کو کیمپ جانے کا کچھ بھی اضافی نہیں ملتا؟نمبر ۶۔ اکثر BISP کے کرتہ دھر نہ کہتے ہیں کہ ایجنٹ کٹوتی کرتے ہیں۔ تو ایجنٹ کو 13500 روپے کے ادائیگی پہ ”16 روپے کمیشن ملتا ہے۔ اگر ایک ایجنٹ روز ۵۰ خواتین کو پینٹ دے تو ۵ لاکھ سے زائد روپیہ پہلے اپنا ادا کرے گا۔ تب بنک سے اسے واپس یہ رقم ملے گی۔ اگر کوئی ٹرانزکشن غلطی سے یا نیٹ ورک کی غلطی سے نہ ہو سکی تو نقصان ایجنٹ کا۔ اور پورے دن کی کمائی 800 روپے۔

تو اپنی شاپ سے کیمپ تک کرایہ اسکا 2000 لگ جاتا ہے تو کمائے گا کیا کھائے گا کیا نمبرے؟۔ یہ کیسا زبردست انصاف ہے کہ ایک خاتون کو ایجنٹ کے ۱۰۰ روپے رو۔ کی کٹوتی ۔ کے لیے اس کے اور ایجنٹ کے دونوں کو ہزاروں روپے کا خرچہ کروادیا جائے۔ مگر ۱۰۰ روپے ایجنٹ کو نہ دی جائیں۔ قربان تیرے عقل وانصاف کے۔ سے بچانے

نمبر ۸۔ جیسے کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ BISP خود اپنی کرپشن بچانے اور چھپانے کے لیے اس طرح کے ڈرامے کرتا ہے تاکہ انکی طرف دھیان نہ جائیے۔

نمبر ۔ BISP کے دفاتر میں پچھلے سال موٹر سائیکل دی گئی تھی۔ جو اج انکے بھائی اور بچے گھروں میں اور کالجوں میں استعمال کرتے ہیں۔ ایک لاکھ سے زائد تنخواہ لینے کے باوجود پورے پاکستان میں واٹساپ گروپ بنے ہیں ۔ جس میں یہ لوگ اپنی آئی ڈی سے تمام معلومات بیچتے ہیں اور ایجنٹ کو چور ڈاکو کہتے ہیں۔

نمبر ۹؛ ایجنٹ ایک آئی ڈی مفت نہیں لیتا۔ فرنچائز کو ایک لاکھ سے زائد کی ادایگی کرتا ہے کسی کا نوکر نہیں ۔ کہ شاپ چھوڑ کر کیمپ میں انکے فوٹو سشن کے لیے بیٹھے ۔ اور انکی ٹی اے ۔ ڈی اے بناتا پھرے۔

نمبر ۱۰۔ ہر کیمپ میں انکے فوٹو سیشن سے پہلے سب کچھ ہوتا ہے۔ مگر اس کے بعد خواتین کے لیے کچھ بھی نہیں ہوتا سوائے زلالت کے۔

نمبر ۱۱؛ میری عوام سے بھی درخواست ہے کہ پیسہ بالکل ضروری ہے۔ مگر عزت کیساتھ ۔ اپنی خواتین کو کیمپ میں ذلیل کرنے کی بجائے اپنے گاوں ۔ میں شاپ سے عزت سے وصول کریں۔ کیونکہ ایک گندی مچھلی سارے تالاب کو گندہ کر دیتی ہے (سمجھنے والے سمجھ جائیں ۔ ثبوت موجود ہے)۔

آج مورخہ 19/02/2025 تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن گمبٹ کے انکروچمنٹ افسر محمد اشفاق نے اپنے اسٹاف کے ھمراہ گمبٹ بازار میں ای...
22/02/2025

آج مورخہ 19/02/2025 تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن گمبٹ کے انکروچمنٹ افسر محمد اشفاق نے اپنے اسٹاف کے ھمراہ گمبٹ بازار میں اینٹی انکروچمنٹ اور پرائس چیکنگ آپریشن کیا جس میں موقع پر دوکان داروں اور
ریڑھی بانوں کو گراں فروشی کی بناء پر قانونی کارروائی کرتے ہوئے جرمانہ کیا گیا
تاجر برادری اور عوام الناس نے تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن گمبٹ کے اس اقدام کو سراہا

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے عوامی ایجنڈے کے تحت اور ڈپٹی کمشنر کوہاٹ جناب عبدلاکرم کی ہدایت پر ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر-II نے...
22/02/2025

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے عوامی ایجنڈے کے تحت اور ڈپٹی کمشنر کوہاٹ جناب عبدلاکرم کی ہدایت پر ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر-II نے ڈرگ کنٹرول ٹیم کوہاٹ کے ہمراہ موبائل ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کا معائنہ کیا۔ موبائل ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کا مقصد عوام کو معیاری ادویات ان کی دہلیز پر فراہم کرنا اور جعلی اور غیر معیاری ادویات کا تیزی سے خاتمہ کرنا ہے۔ کیمسٹ/ڈرگ اینالسٹ مرتضیٰ خان کی طرف سے کل 141 ادویات کی جانچ کی گئی اور 122 ادویات معیاری پائی گئیں اور 19 ادویات مشکوک قرار دے کر مزید جانچ پڑتال/تجزیہ کے لیے ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری پشاور ارسال کرنے کی ھدایت کی گئی ۔ ان 19 ادویات کو ڈرگ کنٹرول کوہاٹ نے قانونی کاروائی کے لیے قبضہ میں لے لیا۔ضلعی انتظامیہ کوہاٹ اور عوامی حلقوں نے محکمہ صحت کے اس اقدام کو سراہا اور توقع ظاہر کی کہ اس طرح کی کاروائیوں سے عوام کو معیاری ادویات کی فراہمی بلا تاخیر جاری رہے گی۔

22/02/2025
22/02/2025

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Public kohat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share