ڈی ایچ اے فیز 2، راولپنڈی کے مناظر، جہاں اطلاعات کے مطابق خواجہ سرا افراد ڈی ایچ اے سیکیورٹی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب سیکیورٹی عملے کی جانب سے خواجہ سرا برادری کے بعض افراد کے ساتھ مبینہ طور پر نامناسب رویے کا الزام سامنے آیا۔ بعد ازاں صورتحال تلخ ہوگئی اور مبینہ جھگڑے کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں پر تشدد اور ان کی گاڑی کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ واقعے سے متعلق تمام دعوے تاحال زیرِ گردش اطلاعات پر مبنی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
26/08/2026
Investigation لاہور کے دفتر کی سجاوٹ اور ترتیب ایسی ہے کہ افسر اور عام شہری کے درمیان ایک واضح نفسیاتی اور جسمانی فاصلہ محسوس ہوتا ہے۔
21/07/2026
Who is your most favorite????
21/07/2026
عمران خان ،نواز شریف،آصف زرداری،مولانا فضل الرحمان ،نعیم الرحمان ،علیم خان میں سے کونسا لیڈر پاکستان کیلئے ضروری ہے۔۔۔۔۔؟؟؟
12/07/2026
08/07/2026
نوابوں کی حرکتیں۔
بھاولپور کے نواب کی مسہری۔
پاکستان کے نواب کی شناخت، جس نے یہ عجیب و غریب مسہری بنوای تھا، 1975 تک ایک راز بنی رہی!
1990 کے بعد سے یہ مسہری گمشدہ ھے۔
1882 میں، پیرس کے فرانسیسی سلورسمتھ کرسٹوفل کو ایک گمنام آرڈر موصول ہوا۔ یہ چاندی کے بستر کا آرڈر تھا، مگر اس کی تفصیلات اتنی غیر معمولی تھیں کہ کاریگر حیرت زدہ رہ گئے۔ آرڈر میں کہا گیا تھا کہ بستر ’’گہرے لکڑی کا ہو، جس پر خالص چاندی چڑھی ہو، سنہری حصے ہوں، مونوگرام اور شاہی نشان ہوں، اور چار انسانی جسامت کے کانسی کے مجسمے لگے ہوں جنہیں گوشت کے رنگ میں رنگا جائے، اصلی بال لگائے جائیں، آنکھیں اور بازو حرکت کر سکیں، اور وہ ہاتھوں میں پنکھے اور گھوڑے کی دُمیں تھامے ہوں۔‘‘
چار سال کی مسلسل محنت کے بعد بستر تیار ہوا۔ یہ گہرے شیشم کی لکڑی سے بنا تھا اور اس پر 260 کلوگرام چاندی چڑھی ہوئی تھی۔ چاروں طرف مجسمے نصب تھے جو فرانس، اسپین، اٹلی اور یونان کی خواتین کی نمائندگی کرتے تھے۔ ایک بٹن دبانے پر نہایت چالاک مکینیکل نظام کے ذریعے یہ مجسمے آنکھ مار سکتے تھے اور پنکھا جھل سکتے تھے، جبکہ پس منظر میں گونوڈ کے اوپیرا
فاؤسٹ کا تیس منٹ کا حصہ بجتا تھا
یہ آرڈر خفیہ طور پر دیا گیا تھا اور اس کی ترسیل ایجنٹوں کے ذریعے کی گئی، اس لیے کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ کس کے لیے بنوایا گیا ہے سوائے اس کے کہ یہ کسی ہندوستانی شہزادے کے لیے تھا۔ بہت بعد میں 1975 میں، معلوم ہوا کہ یہ مسہری بہاولپور، پاکستان میں تھی۔
07/07/2026
بھٹو دور میں راشن کارڈ پہ آٹا چینی گھی ملتا تھا۔ اگر کسی کے پاس وہ راشن کارڈ رکھا ہے تو اُس کی تصویر عنایت کر دے۔ شکریہ۔
30/06/2026
فل فرائی کا ریٹ 1 کروڑ اور ہاف فرائی کا ریٹ 15 سے 20 لاکھ شروع ہوتا ہے ۔۔۔۔ !!!صوبائی اسمبلی کے فلور پر جھنگ سے رکن اسمبلی رانا شہباز احمد کے انکشافات ۔۔۔ پولیس میں کر۔پشن کے موضوع پر ایک دبنگ خطاب میں ایم پی اے شہباز احمد نے بتایا کہ پولیس والے دونوں ہاتھوں اور پیروں سے لوٹتے ہیں یہ حکومت سے الگ فنڈ لیتے ہیں اور تھانے آنے والے سرکردہ لوگوں سے روزانہ کی بنیاد پر ہر طرح کی سہولیات لیتے ہیں ، کسی کو کہہ کر گاڑی لیتے ہیں کسی سے پٹرول کسی سے فریج منگوا لی اور کسی سے واٹر ڈسپنسر ، کوئی انہیں پنکھے لگوا دیتا ہے تو کوئی اے سی لیکن اتنی خدمت کے باوجود انکا یہ حال ہے کہ اب انہوں نے مال بنانے کے لیے ایک ترکیب نکالی ہے جو جرائم پیشہ انکی لسٹ میں آجائے اور اسے فل فرائی کرنا ہو تو یہ اس سے زندگی بخشنے کا ایک کروڑ روپیہ لیتے ہیں جسکی بارے میں آرڈر ہو کہ اسکو ہاف فرائی کرنا ہے اسے معاف کرنے کا 15 سے 20 لاکھ یا اس سے بھی زیادہ لے لیتے ہیں ، رانا شہباز احمد کے بقول حیران ہوں کہ یہ لوگ کس طرح چل پڑے ہیں یہ ہماری جان مال کے محافظ ہیں یا دشمن ۔۔۔۔ اوپر سے فنڈز کی کمی کا رونا یہ سب سے زیادہ روتے ہیں ۔۔۔۔
Be the first to know and let us send you an email when Ka-Ka کا-کا posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.