this is a news and update page. about district khyber
24/09/2025
04/09/2025
31/08/2025
13/08/2025
باڑہ ضلع خیبر
سوشل میڈیا پر کچھ لوگ اپنی زمہ داریوں اور اختیار سے بے خبر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے اور زیر کرنے کی کوشش کیجا رھی ھے ۔تیراہ اور باڑہ کے مسائل میں کوئی بھی سنجیدہ نہیں ھے صرف اپنے آپ کو سیاسی طور پر زندہ رکھنے کیلئے امن ،تیراہ کے کشیدہ صورتحال پر لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کررھے ہیں ۔
تیراہ کے کشیدہ حالات سے تیراہ کے باسی متاثر ھو رھے ہیں ۔(زائے ھغہ سوزی چہ اور پہ بلیگی ) جو لوگ وہاں رہتے ہیں ان لوگوں کو ہر فیصلے اور بات چیت سے پہلے اعتماد میں لینا چاھیئے ۔تیراہ کے مشران نے میڈیا بیان کے زریعے تیراہ کے بارے میں کسی بھی جرگے یا فیصلے سے پہلے ان کو اعتماد میں لئے بغیر قبول کرنے سے انکار کیا ھے ۔تیراہ میں دھشت گردی کیخلاف اپریشن یا ڈرؤن حملوں یا دیگر کارروائیوں کے نتیجے میں شہریوں کی اموات زخمی یا اثاثہ جات کی شکل میں کافی نقصان پہنچاھے ۔اور آئےدن پہنچ رھا ہیں۔
مختلف قسم کے خود ساختہ سیاسی اتحاد و گروپ بندی یا اپنی سیاسی پارٹی کی جائز اور ناجائز طور پر دفاع اور بیانئے نے تیراہ اور باڑہ کے علاقے کو کافی نقصان پہنچایا ۔ان لوگوں کو معلوم ھونا چاھیئے کہ سب سے پہلے اپنا علاقہ اور عوام ہیں ان ہی کے زریعے سیاست ھوتی ھے ۔باڑہ اور تیراہ کے کشیدہ صورتحال کی صوبائی اور وفاقی حکومت برابر کے زمہ دار ھے ۔سانپ اور نیولے کیطرح سیاسی طور پر دونوں حکومتیں اپنی مفاد کیلئے تو آپس میں لڑتے نظر آتے ہیں لیکن قبائیلی اضلاع میں آپریشن ،اور قبائیل پر ہر قسم مظالم ڈھانے ،بنیادی حقوق سے محروم رکھنے کیلئے اندرون خانہ قبائیل دشمنی کیلئے ایک پیج پر نظر آرھے ہیں۔
این ایف سی تین پرسینٹ جو صوبوں نے قبائیلی اضلاع کو انضام کے وقت وعدہ کیا تھا آج تک مطلوبہ وسائیل دینے سے سب صوبائی ،وفاقی حکومتیں اور تمام بڑی سیاسی جماعتیں انکاری ھے ۔جس کیلئے ھم ایک دوسرے کیخلاف لڑتے ہیں ،اور جائز اور ناجائز ز طور پر ان کا دفاع کر رھے ہیں
قبائیلی ضلع خیبر کے وہ مشران جو تنازعات کو حکمت اور جرگہ کے زریعے حل کرتے تھے وہ سامنے نہیں آرھے جس کی وجہ سے بننے والے خلا کو سیاسی اور قومی سوچ سے عاری لوگ پورا کر رھے ہیں ۔جس سے بہت بڑا نقصان ھو رھا ھے ۔تیراہ میں آفریدی اقوام کے مشران خاص کر قمبرخیل کے مشران نے اھم کردار ادا کیا اور کچھ نہ کچھ فائدہ تیراہ کے عوام کو ان کے دانشمندانہ کردار کی وجہ سے ملا ۔بلکہ یہاں تک کہ ہر محاذ پر دانشمندی سے لڑے ہیں جس سے تیراہ کے عوام کی تکالیف میں خاطرخواہ کمی آئی ۔ اس کے برعکس کچھ سیاسی لوگوں کی نمائیندگی اور ان کے بیانئیے کی وجہ سے دنیا کے سامنے علاقے کا صحیح تصویر پیش نہیں ھو رھا ھے ۔
باڑہ اور تیراہ کے لوگوں کو ایک عجیب صورتحال کا سامنا ھے ۔باڑہ سے ہر بندہ اپنی سیاسی قد ایک دو فٹ بڑھانے کیلئے تیراہ میں جاری مظالم اور نقصانات پر نوحہ کناں تو ھوتے ھے لیکن سنجیدگی اور سیاسی سوج بوجھ نہ ھونے کی وجہ سے فائدے کی بجائے نقصان ہی پہنچا رھے ہیں۔
باڑہ کے سیاسی اور قومی مشران کا ایک گرینڈ جرگہ منعقد ھونا چاھیئے ۔
جس میں قومی مشران کی حکمت اور دانشمندی کو استعمال میں لاتے ھوئے تیراہ میں امن و امان کی ابتر صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے ایک مشترکہ اور متفقہ لائحہ عمل اپنانا چاھیئے ۔امن و امان کو برقرار رکھنے کی زمہ دار وفاقی اور صوبائی حکومت اور اس کے ماتحت سیکورٹی ادارے ہیں ۔آج تک کوئی بھی امن وامان کی زمہ داری کیلئے تیار نہیں ھے ۔
حکومتی نمائیندگان کو عوام نے اپنے علاقے کی تعمیر و ترقی اور اپنے اثاثہ جات کو محفوظ بنانے کیلئے ووٹ کے زریعے
اختیار دیا ھے اور ان پر مکمل اعتماد کیا گیا ھے ۔ مضحکہ خیز صورتحال تب دیکھنے کو ملتی ھے کہ جب بھی باڑہ اور تیراہ کے عوام کو کوئی بھی مسلہ درپیش ھوا ھے یا ظلم و جبر کیخلاف سراپا احتجاج ھوتے ہیں تو یہ بھی جا کر ان کیساتھ سٹیج پر بیٹھ جاتے ہیں ۔اور کہتے ہیں کہ ھم اس اختجاج میں آپ لوگوں کیساتھ ہیں ۔
منتخب نمائیندوں کو عوام نے جو اختیار دیا ھے وہ احتجاج کیلئے ہر گز نہیں ھے ۔ان کو احتجاج والوں کی مطالبات اور فریاد سن کر حکومتی ایوانوں کو پہنچانا اور اس مسلے کے حل کیلئے حکومت کو مجبور کرنے کیلئے کردار آدا کرنا ھوتا ھے ۔اس کے برعکس وفاقی اور صوبائی حکومت کے نمائیندے احتجاج کرتے ہیں اور جزباتی تقاریر پر سادہ لوح لوگوں کو دھوکہ دینے کی ناکام کوشش کرتے ہیں ۔
روز روشن کیطرح واضح اور عیاں ھے کہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے دستخط کے بغیر آپریشن نہیں کیا جاسکتا ۔دونوں حکومتیں برابر کے زمہ دار ہیں ۔حکومت پالیسی بناتی ھے اور خودمختار خارجہ اور داخلہ پالیسی کے زریعے ملک اور علاقے کیلئے جان و مال کی تحفظ کو یقینی بنایا جاتا ھے۔
میری تجویز یہ ھے کہ تیراہ اور باڑہ سے تعلق رکھنے والے قومی مشران ،سیاسی ،سماجی اور ہر طبقہ فکر کے لوگ ممبر اور محراب والے سب کا ایک گرینڈ جرگہ کا انعقاد ضروری ھے تاکہ اس جرگہ میں بحث مباحثہ کے زریعے چارٹرڈ آف ڈیمانڈ تجویز کریں اور صوبائی حکومت کے نمائیندوں اور وفاقی حکومت کے مقامی نمائیندوں کے ہاتھ میں تھما دیں اور ان کے حل کیلئے دو ٹوک بات کرنے کی ٹائیم فریم دیدیں اور اگر یہ اپنے علاقے کیلئے حکومتی پارٹی کا حصہ ھوتے ھوئے بھی کوئی کردار ادا نہیں کرسکتے پہر ان لوگوں کو وہاں فضول بھیٹنے کا کوئی حق نہیں بنتا ان لوگوں کو حکومت اور وفاق میں حکومتی پارٹیوں سے مستعفی ھونا چاھیئے ۔
بطور اپوزیشن ایم این اے اقبال آفریدی نے اسمبلی کے فلور پر جو کردار ادا کیا ھے یا کر رھا ھے وہ قابل ستائیش ھے ۔اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ھے ۔باڑہ اور خاص کر تیراہ کے لوگوں کی صحیح ترجمانی کی ھے ۔
اجتماعی نقصان افراد، املاک، یاماحول کو جو فوجی کارروائیوں یا دیگر کارروائیوں کے نتیجے میں ہورہا ھے ۔اس کو بند کرنا چاھیئے ۔خاص کر ڈرؤن اٹیک سے بہت زیادہ بے گناہ افراد شھید ھو رھے ہیں ۔حکومت اپنے بے گناہ شھریوں پر ڈرؤن اٹیک بندکریں ۔
سابقہ ایم پی اے شفیق آفریدی
Be the first to know and let us send you an email when Khyber Updates and News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.