The Explainer

  • Home
  • The Explainer

The Explainer An obliged native, aimed to educate public and rectify rumors about public issues and events.

پیٹرولیم لیوی کیا ہے؟دوستو! آپ نے آج کل خبروں میں اور سوشل میڈیا پر ایک لفظ "پٹرولیم لیوی" کے بارے میں بہت سنا ہوگا۔ چلی...
04/04/2026

پیٹرولیم لیوی کیا ہے؟
دوستو! آپ نے آج کل خبروں میں اور سوشل میڈیا پر ایک لفظ "پٹرولیم لیوی" کے بارے میں بہت سنا ہوگا۔ چلیں آج اس کو تفصیل سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پٹرولیم لیوی کیا ہے ؟
پیٹرولیم لیوی ایک غیر واپس ہونے والا محصول (Non-refundable levy) ہے جو حکومت پاکستان پیٹرولیم مصنوعات (پٹرول، ڈیزل، مٹی کا تیل، طیارہ ایندھن وغیرہ) پر عائد کرتی ہے۔ یہ جنرل سیلز ٹیکس (GST) سے بالکل مختلف ہے۔
(جنرل سیلز ٹیکس (GST): ایک فیصد کی شرح سے لگنے والا ٹیکس ہے۔ یہ صوبائی حکومت کو جاتا ہے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اسے وصول کرتی ہیں۔ آج کل اس کی شرح 18فیصد ہے۔)
»»پیٹرولیم لیوی ایک مقررہ رقم فی لیٹر ہوتا ہے نا کہ کوئی خاص فیصد میں۔ اور اس کی یہ خاص رقم براہ راست وفاقی حکومت کو جاتی ہے۔
»»یہ ایکٹ 1961 کے آرڈیننس کے تحت لگائی جاتی ہے۔
»»اس کا براہِ راست اثر ہر اس چیز پر پڑتا ہے جو ٹرانسپورٹ یا مشینری پر چلتی ہے۔

یہ کیسے کام کرتی ہے؟
فرض کریں کہ حکومت نے فیصلہ کیا کہ پٹرول پر پیٹرولیم لیوی 60 روپے فی لیٹر ہوگی۔ تو جو آئل کمپنیاں ہوتی ہیں جو کہ پٹرول تیار یا درآمد کرتی ہے۔ جب وہ یہ پٹرول ڈیلرز کو فروخت کرتی ہے، تو وہ پہلے سے طے شدہ قیمت میں یہ 60 روپے فی لیٹر شامل کرتی ہے۔ اب یہ رقم آئل کمپنی سے براہ راست حکومت کے خزانے میں جمع کرائی جاتی ہے۔ جبکہ ڈیلر اور پمپ یہ اضافی بوجھ صارفین (آپ) کو منتقل کر دیتے ہیں۔
نتیجہ: جب آپ پٹرول ڈلواتے ہیں، تو آپ جو کل قیمت ادا کرتے ہیں، اس کا ایک حصہ صرف پیٹرولیم لیوی ہوتا ہے اور اس کا پٹرولیم کی بین الاقوامی قیمت سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ہے چاہے بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر جائے یا بڑھ جائے۔

حکومت یہ لیوی کیوں لگاتی ہے؟
حکومت کے پٹرولیم لیوی عائد کرنے کے کچھ اہم مقاصد ہوتے ہیں جیسے:
1. خالص محصول (Revenue Generation):
یہ حکومت کے لیے آمدنی کا سب سے بڑا، آسان اور مستحکم ذریعہ ہے کیونکہ اسے کچھ کمپنیوں سے ہی وصول کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر جب پاکستان کو بجٹ خسارہ (Budget Deficit) پورا کرنا ہو یا آئی ایم ایف (IMF) کے شرائط پوری کرنی ہوں تو یہ سب سے آسان زریعہ آمدنی ہے۔ یاد رہے پاکستان میں اکثر پیٹرولیم لیوی سے اربوں روپے سالانہ جمع ہوتے ہیں۔

2. قیمتوں کو کنٹرول کرنا (Price Regulation):
بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمت کم ہو تو حکومت لیوی بڑھا کر قیمت کو مستحکم رکھ سکتی ہے (تاکہ صارفین کو فوری فائدہ نہ ہو اور حکومت محصول بچا سکے)۔ اس کے برعکس، اگر قیمت بہت بڑھ جائے تو حکومت لیوی کم کرکے صارفین کو ریلیف دے سکتی ہے۔ لیکن اکثر یہ دوسری صورت میں حکومت غفلت برتتی ہے کیونکہ اس سے حکومت کی آمدنی کم ہو جاتی ہے۔

3. وسائل کی منتقلی (Resource Transfer):
یہ لیوی صوبوں میں پیدا ہونے والے وسائل (تیل اور گیس) سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ وفاقی حکومت کو منتقل کرنے کا بھی ایک طریقہ ہے

اہم باتیں جو آپ کو معلوم ہونا ضروری ہے:

»»قانونی حد:
پاکستان میں حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی کی زیادہ سے زیادہ حد مقرر ہے۔ مثلاً پٹرول پر زیادہ سے زیادہ 50 روپے فی لیٹر لیوی لگ سکتی ہے (قانون کے مطابق)۔ تاہم اکثر حکومتیں اس حد کو بڑھانے کے لیے قوانین میں ترامیم کرتی رہتی ہیں۔

»»صارف پر اثر:
یہ لیوی عوام پر براہِ راست بوجھ ڈالتی ہے کیونکہ اس سے اشیائے خور و نوش، ٹرانسپورٹ، اور مینوفیکچرنگ سبھی مہنگی ہو جاتی ہیں۔ اس لیے اس کو ہم چھپی ہوئی مہنگائی بھی کہ سکتے ہیں۔

»»آئی ایم ایف کا کردار:
اکثر جب پاکستان آئی ایم ایف سے قرض لیتا ہے، تو آئی ایم ایف شرط رکھتا ہے کہ حکومت پیٹرولیم لیوی بڑھا کر مزید محصول جمع کرے (بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے)۔

موجودہ پٹرولیم لیوی:
پچھلے دن جب حکومت پاکستان نے پٹرول کی قیمت 458 روپے کی تو اس وقت پٹرولیم لیوی 160 روپے تھی، اسے بعد میں گھٹا کر ابھی 80 روپے کردی، جب پٹرول کی قیمت 378 روپے ہیں۔

دوستو! آپ نے آج کل خبروں میں سمندری سرنگوں کے بارے میں سنا ہوگا۔ اور ہر کوئی یہ بات کررہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں...
03/04/2026

دوستو! آپ نے آج کل خبروں میں سمندری سرنگوں کے بارے میں سنا ہوگا۔ اور ہر کوئی یہ بات کررہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں سمندری سرنگیں بچھائی ہوئی ہیں۔
چلیں آج سمجھتے ہیں کہ سمندری سرنگیں کیا ہوتی ہیں، کیسے کام کرتی ہیں، ان کی تاریخ کیا ہے اور کسی بھی ملک کے لیے کتنی اہم ہوتی ہیں۔

سمندری سرنگیں کیا ہیں ؟
سمندری بارودی سرنگیں (Ocean/Naval Mines):
سمندری بارودی سرنگ ایک خودکار دھماکہ خیز نظام ہے جو پانی کے اندر رکھا جاتا ہے۔ ان کا مقصد دشمن کی آبدوزوں یا جنگی جہازوں کو تباہ کرنا یا انھیں کسی خاص جگہ جانے سے روکنا ہوتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر دفاعی یا جارحانہ مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ بہت خطرناک ہوتی ہیں اور جنگ ختم ہونے کے بعد بھی سمندری نقل و حمل کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ ان کا استعمال بین الاقوامی قوانین کے تحت محدود ہے، کیونکہ یہ اکثر غیر فوجی جہازوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔

سمندری سرنگوں کی اقسام:
1. لنگر والی (Moored Mine):
یہ سطح کے قریب لنگر سے بندھی ہوتی ہے۔ جہاز جب اس سے ٹکراتا ہے تو یہ پھٹتی ہے۔

2. نیچے رکھی (Bottom Mine):
یہ سمندر کی تہہ پر رکھی جاتی ہے۔ یہ آبدوزوں یا بڑے جہازوں کے اوپر سے گزرنے پر مقناطیسی، آواز یا دباؤ محسوس کر کے پھٹتی ہے۔

3. بہتی ہوئی (Drifting Mine):
یہ پانی کی روانی کے ساتھ بہتی ہے، لیکن یہ غیر قانونی ہے کیونکہ یہ دوست اور دشمن دونوں کے لیے اندھا دھند خطرہ ہے۔

سمندری سرنگیں کیسے کام کرتی ہے؟
۔ یہ عام طور پر جنگی حالات میں استعمال کی جاتی ہیں اور ان میں قربت (پروکسیمٹی)، رابطے (کونٹیکٹ) یا مقناطیسی فیوز لگے ہوتے ہیں جو جہاز کے قریب آنے پر پھٹ جاتے ہیں۔ان میں لگے فیوز تین طریقوں سے فعال ہو سکتے ہیں:
»»مقناطیسی:
جہاز کا لوہا ایک مقناطیسی مرکب(mixture ) ہوتا ہے اس لیے اس مقناطیسیت کی وجہ سے پھٹ سکتے ہیں۔
»»صوتی:
جہاز کے انجن کی آواز سن کر بھی پھٹ سکتے ہیں۔
»»دباؤ والا:
جہاز کے نیچے پانی کا دباؤ تبدیل ہونے پر پھٹ سکتے ہیں۔

لیکن یاد رکھیئے جدید سرنگیں بہت سمارٹ ہوتی ہیں جو مخصوص قسم کے جہاز کو پہچان کر صرف اُسی کو نشانہ بناتی ہیں۔ جنگ کے بعد یہ دہائیوں تک زیرِ آب چھپی رہتی ہیں، جس سے ماہی گیروں اور تجارتی جہازوں کو شدید خطرہ لاحق رہتا ہے۔ ان کا صفایا ایک مشکل اور مہنگا عمل ہوتا ہے۔

سمندری سرنگوں کی تاریخ کیا ہے؟
سمندری بارودی سرنگوں کی تاریخ کافی پرانی اور دلچسپ ہے۔ یہ جدید بحری جنگ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ سب سے پہلے چینیوں نے 14ویں صدی میں بارود سے بھرے لکڑی کے ڈبوں کو تیرنے والی سرنگیں (ڈرفٹنگ مائنز) کے طور پر استعمال کیا۔

پہلی جدید سرنگیں (امریکی خانہ جنگی، 1861-65):
پہلی مؤثر، جدید سمندری سرنگیں امریکی خانہ جنگی میں استعمال ہوئیں۔ انہیں کنفیڈریٹ فوج نے شمالی جہازوں کو ڈبونے کے لیے بنایا تھا۔ اس کے علاوہ ان کا استعمال روس-جاپان جنگ (1904-1905)، پہلی جنگ عظیم (1914-18)، دوسری جنگ عظیم (1939-45) میں بھی ہوا۔

کسی بھی ملک کے لیے کتنی اہم ہوتی ہیں؟
سمندری بارودی سرنگیں خاص طور پر ان ممالک کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہیں جن کی سمندری سرحدیں طویل ہوں، بحری دفاع کمزور ہو، یا ممکنہ دشمن کے پاس طاقتور بحری بیڑا موجود ہو۔ یہ ایک سستا لیکن مؤثر ہتھیار ہے کیونکہ ایک طیارہ بردار جہاز کی قیمت میں تقریباً ہزاروں سمندری سرنگیں آ سکتی ہیں۔ کم بجٹ والی بحریہ بھی ان سے بڑی بحریہ کو روک سکتی ہے۔

مختصراً، یہ درج ذیل ممالک کے لیے بہت اہم ہیں:
1. ساحلی دفاع والے ممالک
(مثلاً پاکستان، ایران، شمالی کوریا):
یہ ممالک ان سرنگوں کو اپنے سمندری علاقے کو بند کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً پاکستان بھارت کی بحری یلغار روکنے کے لیے اپنی بندرگاہوں کے قریب سرنگیں بچھا سکتا ہے۔
2. آبنائے اور ناکہ بندی والے ممالک
(مثلاً ترکی، ایران):
آبنائے ہرمز (ایران) میں یہ سرنگیں خلیج فارس سے نکلنے والی دنیا کی ایک تہائی تیل کی سپلائی روک سکتی ہیں۔
مختصر یہ کہ خاص طور پر ایران، شمالی کوریا، پاکستان، ترکی اور روس جیسے ممالک کے لیے یہ بہت اہم ہیں، جو اپنے پانیوں کو سستے اور موثر طریقے سے کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔

آبنائے ہرمز کیا ہے؟دوستو! آپ نے دیکھا ہوگا کہ آج کل ہر کوئی آبنائے ہرمز کے بارے میں بات کر رہا ہے۔ چلیں آج اس پر کچھ تفص...
01/04/2026

آبنائے ہرمز کیا ہے؟
دوستو! آپ نے دیکھا ہوگا کہ آج کل ہر کوئی آبنائے ہرمز کے بارے میں بات کر رہا ہے۔ چلیں آج اس پر کچھ تفصیلی تذکرہ کرتے ہیں۔

آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) ایک تنگ مگر انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ یہ دنیا کی تیل کی ترسیل کے لیے سب سے اہم ترین راہداری ہے۔
»»اسے اس طرح سمجھیں کہ یہ ایک قدرتی، تنگ راستہ ہے جس سے ہر وہ ٹینکر (تیل بردار جہاز) گزرنے پر مجبور ہے جو خلیج فارس میں داخل ہونا یا اس سے باہر نکلنا چاہتا ہے۔ اس کے شمال میں ایران جبکہ جنوب میں عمان اور متحدہ عرب امارات (UAE) واقع ہیں۔

اہم جغرافیائی حقائق:
»»مقام: ایران (شمالی ساحل) اور عمان (جنوبی ساحل) کے درمیان، خلیج فارس کو کھلے سمندر سے منسلک کرتی ہے۔
»»چوڑائی: تنگ ترین مقام پر تقریباً 21 سمندری میل (39 کلومیٹر)۔
»»گہرائی: اتنی گہری ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے تیل بردار جہاز (VLCCs) آسانی سے گزر سکتے ہیں۔

یہ اتنی اہم کیوں ہے؟
(جیو پولیٹیکل اور معاشی اہمیت)
اس کی اہمیت کو دو لفظوں میں سمجھا جا سکتا ہے:

1. تیل کی عالمی راہداری:
امریکی ادارہ برائے توانائی معلومات (EIA) کے مطابق:
»»دنیا کی روزانہ کی مجموعی تیل کی کھپت کا تقریباً 20 سے 25 فیصد آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے جس میں سے تقریباً 85 فیصد ایشیائی مارکیٹ میں جاتا ہے۔
»»تقریباً 20 سے 21 ملین بیرل خام تیل اور پیٹرولیم روزانہ یہاں سے گزرتا ہے۔
»»اوسطاً روزانہ 100 سے 138 بڑے سمندری جہاز اس راستے سے خلیج فارس سے باہر تیل لے کر جاتے ہیں۔

2. تیل پیدا کرنے والے ممالک:
خلیج فارس کے ممالک جو اس آبنائے پر انحصار کرتے ہیں، ان میں شامل ہیں:
»»سعودی عرب (دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ)
»»عراق
»»کویت
»»متحدہ عرب امارات
»»قطر (جو قدرتی گیس بھی بھیجتا ہے)
»»ایران (خود بھی برآمد کرتا ہے اور راستے کا کنٹرول کرتا ہے)

چونکہ دنیا میں تیل اور گیس پیدا کرنے والے سب سے اہم ممالک کی یہ ایک مشترکہ گزرگاہ ہے اس لیے اگر یہ راستہ کسی وجہ سے بند ہو جائے (جنگ، بحری ناکہ بندی، یا حادثہ)، تو تیل کی قیمتیں عالمی سطح پر تیزی سے بڑھ سکتی ہیں، جس سے پوری دنیا کی معیشت متاثر ہوتی ہے۔

جغرافیائی سیاسی تنازعات:
(کیوں یہ ہمیشہ خبروں میں رہتا ہے)
یہ آبنائے دنیا کے سب سے زیادہ حساس اور متنازع آبی راستوں میں سے ایک ہے۔

1. ایران کا کنٹرول:
چونکہ ایران اس کے شمالی حصے پر مکمل کنٹرول رکھتا ہےاور اس خطے میں سب سے طاقتور ملک ہے۔ امریکی اور مغربی مخالفت کی وجہ سے ایران پر عالمی پابندیاں ہیں۔ اس لیے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ایران بار بار دھمکی دیتا رہا ہے کہ "اگر ہم پر حملہ ہوا یا ہماری تیل کی برآمدات روکی گئیں، تو ہم آبنائے ہرمز کو بند کر دیں گے۔" ایران کے پاس چھوٹی تیز رفتار کشتیوں، بحری بارودی سرنگوں (مائنز) اور میزائلوں کی مدد سے اس راستے کو مسدود کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

2. امریکی اور مغربی بحری بیڑے:
امریکہ اور اس کے اتحادی (جیسے برطانیہ) ہمیشہ خلیج فارس میں بحری بیڑا رکھتے ہیں تاکہ اس راستے پر آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہاں اکثر امریکہ اور ایران کے درمیان "کھینچا تانی" (ٹینشن) رہتی ہے۔

3. حالیہ واقعات: ماضی قریب میں (2019ء کے بعد سے) یہاں کئی بار تیل بردار جہازوں پر حملے ہوئے، برطانوی جہاز کو ایران نے پکڑا، اور امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی جھڑپوں کے قریب پہنچ گئے تھے۔حالیہ امریکہ-اسر×ل-ایران جنگ کی وجہ سے ایران نے آبنائے ہرمز کو مخالف ممالک کے لیے مکمل طور پر بند کیا ہوا ہے۔

خلاصہ:
آبنائے ہرمز صرف ایک آبی راستہ نہیں ہے؛ یہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ اس کی دیواروں پر ایران جبکہ دوسری جانب عرب ممالک ہیں۔ جب تک دنیا تیل اور گیس پر چلتی ہے، یہ تنگ آبنائے عالمی سیاست، معیشت اور فوجی حکمت عملی کا مرکز بنا رہے گا۔

آبنائے (Aabnaya) کسے کہتے ہیں؟آبنائے پانی کا ایک تنگ راستہ ہوتا ہے جو دو بڑے آبی ذخائر (مثلاً دو سمندر، یا سمندر اور بحی...
31/03/2026

آبنائے (Aabnaya) کسے کہتے ہیں؟

آبنائے پانی کا ایک تنگ راستہ ہوتا ہے جو دو بڑے آبی ذخائر (مثلاً دو سمندر، یا سمندر اور بحیرہ) کو آپس میں ملاتا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ دو خشکیوں (براعظموں، جزائر یا زمین کے بڑے ٹکڑوں) کو الگ کرتا ہے۔
یعنی آسان الفاظ میں یہ ایک قدرتی آبی گزرگاہ ہوتی ہے۔

آبنائے اور خلیج میں فرق:
· آبنائے (Strait): پانی کا تنگ راستہ جو دو بڑے پانیوں کو جوڑتا ہے۔
· خلیج (Gulf/Bay): سمندر کا وہ حصہ جو تین طرف سے خشکی سے گھرا ہو، لیکن ایک طرف کھلا ہو۔

مشہور آبنائے:

1. آبنائے جبل الطارق (Strait of Gibraltar): جو بحر اوقیانوس (Atlantic Ocean) اور بحیرہ روم (Mediterranean Sea) کو ملاتی ہے، اور اسپین کو مراکش سے الگ کرتی ہے۔
2. آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz): جو خلیج فارس (Persian Gulf) اور خلیج عمان (Gulf of Oman) کو ملاتی ہے۔ یہ تیل کی ترسیل کے لیے دنیا کی سب سے اہم آبنائے ہے۔ آج کل یہ بہت ٹرینڈ میں ہے۔
3. آبنائے مالاکا (Strait of Malacca): جو جزیرہ نما ملائیشیا اور انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا کے درمیان واقع ہے۔ یہ مشرق اور مغرب کے درمیان تجارت کی اہم شاہراہ ہے۔

خلاصہ:
اگر آپ دیکھیں کہ نقشے میں دو زمینوں کے درمیان پانی کا ایک تنگ سا حصہ دو بڑے سمندروں کو ملا رہا ہے، تو اسے آبنائے کہتے ہیں۔
زیر نظر تصویر میں آبنائے ہرمز دکھائی دے رہا ہے جو ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے

سوات مدرسہ تشدد واقعے کی وضاحت ۔۔۔۔۔🚨🚨🚨سوات کے علاقے خوازخیلہ میں ایک 14 سال کا بچہ جس کا نام فرحان ہے مدرسے کے قارئین ک...
23/07/2025

سوات مدرسہ تشدد واقعے کی وضاحت ۔۔۔۔۔🚨🚨🚨
سوات کے علاقے خوازخیلہ میں ایک 14 سال کا بچہ جس کا نام فرحان ہے مدرسے کے قارئین کے تشدد سے جان کی بازی ہارگیا 😭😭😭۔
اسی مدرسے کے ایک اور طالب علم کی زبانی واقع کچھ اس طرح ہوا کہ قاری جس کا نام فضل امین ہے اس نے فرحان نامی طالب علم کو دن کے 2 بجے مرغا بنا کر سزا دینا شروع کیا کچھ دیر بعد دوسرا قاری آیا جس کا نام عمر فاروق ہے۔ پھر یہ دونوں قارئین اس بچے کو ایک الگ کمرے میں لے گئے اور مار پیٹ میں اصافہ کیا۔ یوں کرتے کرتے ان ظالم درندوں کا تشدد شام تک جاری رہا اور اور آخر میں فرحان کے جسم نے ان درندوں کے ظلم کو جواب دیتے ہوئے ان کے سامنے اپنی روح خالق حقیقی کے حوالے کیا۔ موت سے چند لمحے قبل پانی مانگا اور پھر جان کی بازی ہارگیا۔
اطلاعات کے مطابق مدرسے کو سیل کیا گیا ہے اور قاری کو گرفتار کیا گیا ہے۔ قانون سے گزارش ہے کہ ان ظالم درندوں عبرت کا نشان بنایا جائے کیونکہ یہ نہ صرف ان کی بے رحمی ظاہر کرتی ہے بلکہ ایسے واقعات اسلام کی ایمیج کو دنیا میں خراب کرنے کا سبب بنتی ہیں۔
اس واقعے سے والدین کو ایک سبق ملتا ہے کہ ہر وقت اپنے بچوّں کی خبر لیا کریں چاہے وہ کسی سکول، مدرسہ یا یونیورسٹی میں کیوں نہ ہوں۔

22/07/2025

بلوچستان قتل واقعے کے اصل حقائق سامنے آگئے🚨 ۔۔۔🚨
ایک بار ضرور پڑھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اطلاعات ک مطابق عورت جس کا نام بانو بی بی عمر 40سے50سال کے درمیان ہے اور پانچ بچوں (ایک بیٹی اور چار بیٹوں) کی ماں تھی۔ بڑے بیٹے کی عمر قریبا 17 سال تھی ۔ مرد جس کا نام احسان، بھی 40 سے 50 سال کا تھا۔
یاد رہے یہ دونوں شادی شدہ تھے۔
اطلاعات کےمطابق قریبا 4 سے 5 مہینے قبل ایک ساتھ بھاگ گئے تھے اور ڈیڈھ مہینہ ساتھ گزارنے کے بعد احسان نے بانو بی بی کو دھوکہ دیا اور اسے اکیلا چھوڑ کر بھاگ گیا ۔ پھر بانو بی بی نے اپنےشوہر کے ساتھ رابطہ کیا کہ وہ گھر واپس آنا چاہتی ہے ۔ شوہر ایک شرط پر مان گیا کہ اگر وہ اسے احسان کا پتہ بتا دے تو وہ اسے قبول کرے گا ۔ لیکن اصل میں یہ ماننا شوہر اور بانو بی بی کے بھائیوں کی چال تھی تاکہ وہ ان دونوں کو ایک ساتھ مار سکیں ۔ بانو بی بی اپنے شوہر کی یہ شرط بخوشی مان گئی ۔ پھر تقریباً ایک مہینہ بانو بی بی اپنے شوہر کے ساتھ رہی اور ایک دن احسان کی کال آئی کہ وہ اس سے ملنا چاہتا ہے اور بانو بی بی کو ملنے کی جگہ بتائی ۔ جب احسان مقررہ جگہ پہنچا تو وہاں بانو کے بجائے اس کا شوہر اور بھائی لوگ موجود تھے ۔ پھر احسان کو باندھ کر گھر لایا گیا اور قبیلے کے سردار نے فیصلہ سنایا کہ دونوں کو گولی ماری جائے ۔ چنانچہ فیصلے کے مطابق دونوں کو گولیاں ماری گئیں ۔ بانو بی بی کے بھائی نے احسان کی آنکھوں میں گولیاں ماری اور پھر اس کے خون سے ہاتھ بھی دھوئے۔
واقعے سے منسلک ایک جملہ بڑا وائرل ہو رہا ہے کہ " مجھے صرف گولی ماری جائے" اکثر لوگ اس کو بانو کی پاک دامنی سے جوڑتے ہیں لیکن اصل میں بانو بی بی لوگوں کو یہ بتا رہی تھی کہ سردار کے فیصلے پر عمل کیا جائے تاکہ وہ سنگسار جیسی اذیت ناک موت سے بچے۔ آ پ کی جانکاری کیلئے بتا دیں کہ ان کی موت کا یہ واقع عیدالاضحی سے قبل کا ہے ۔ یہ ویڈیو ان لوگوں نے خود بنایا اور پھر سوشل میڈیا پر ڈالا تھا لیکن وائرل ابھی ہو رہی ہے۔
یہ وضاحت ان لوگوں کے منہ پر کھلا تمانچہ ہے جو بنا کسی معلومات کہ ان کو میاں بیوی سمجھ رہے تھے اور اتنا واویلا کررہے تھے ۔ انسانی قتل پھر بھی ناقابل برداشت ہے لیکن مقتولین کو بھی بے گناہ نہیں کہا جا سکتا ہے ۔ لہذٰا کوئی بھی واقعے پر بات کرنے اور واویلا مچانے سے قبل خبر کو کنفرم کر لیا کریں ۔
!شکریہ

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Explainer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share