08/11/2025
22 سالہ لڑکی نے 11.5 ملین ڈالر بھوکوں کے لیے جمع کیے اور جب اُس نے ارب پتیوں سے نظریں ملائیں، تو پورا ہال خاموش ہو گیا
بلّی آئلش (Billie Eilish) اُس رات وال اسٹریٹ جرنل انوویٹر ایوارڈز کے اسٹیج پر کھڑی تھی جہاں اُسے موسیقی اور ثقافت میں غیر معمولی خدمات پر اعزاز دیا جا رہا تھا۔ وہ چاہتی تو ایک عام سا شکریہ ادا کرنے والا خطاب کر سکتی تھی چند الفاظ، ایک مسکراہٹ، تالیاں، اور پھر رخصت۔ مگر اُس نے وہ نہیں کیا۔
—
بلکہ اُس نے کچھ ایسا کہا جس نے پورے ہال کی فضا بدل دی۔
سب سے پہلے اُس نے اعلان کیا کہ اُس کے "Hit Me Hard and Soft" ٹور نے 11.5 ملین ڈالر جمع کیے ہیں جو کہ "Changemaker Program" کے ذریعے بھوک اور ماحولیاتی تباہی کے خلاف استعمال ہوں گے۔
پھر اُس نے براہِ راست ارب پتی حاضرین کی طرف دیکھا اور ایک جملہ کہا:
"اگر آپ ارب پتی ہیں، تو آخر آپ ارب پتی کیوں ہیں؟"
پوری دنیا جیسے تھم گئی۔ پھر اُس نے نرمی مگر جرات سے کہا:
"نفرت نہیں، مگر اپنا پیسہ بانٹ دو۔"
ہال میں ایک لمحے کے لیے سنّاٹا چھا گیا۔ مہنگے سوٹوں میں ملبوس ارب پتیوں نے نظریں چُرا لیں — جو چاہیں تو ایک چیک سے لاکھوں انسانوں کی زندگی بدل سکتے ہیں۔ مگر اُس رات، ایک 22 سالہ لڑکی نے وہ کر دکھایا جو ان سب کے لیے ایک آئینہ بن گیا۔
یہ کوئی غصے بھری تقریر نہیں تھی بلکہ ایک سادہ، سچّی، اور بیدار ضمیر کی صدا تھی۔ اُس نے دنیا کے سب سے طاقتور انسانوں سے پوچھا:
**"جب انسان بھوکے مر رہے ہیں اور زمین جل رہی ہے، تو دولت جمع کرنے کا مقصد کیا رہ جاتا ہے؟"
بلّی نے "جدت" (Innovation) کی تعریف بدل دی۔ اُس کے مطابق اصل جدت یہ نہیں کہ تم کیا بناتے ہو بلکہ یہ ہے کہ تم کیا لوگوں کے لیے دیتے ہو۔
یہ 11.5 ملین ڈالر صرف ایک عطیہ نہیں، بلکہ ایک پیغام ہیں کہ انسانیت کی خدمت سب سے بڑی کامیابی ہے۔
شاید یہ ایک رات میں دنیا نہ بدلے، مگر اس جیسے لمحات دنیا کا رُخ ضرور موڑ دیتے ہیں۔
بلّی آئلش نے یاد دلایا کہ اصل بہادری نئی چیزیں بنانے میں نہیں، بلکہ اُس سوال میں ہے جو دلوں کو جھنجھوڑ دے:
"ہم اُس چیز کو کیوں سنبھالے بیٹھے ہی جو دوسروں کی زندگی بدل سکتی ہے؟
محقق و مترجم: حسین
#بلّی_آئلش #انسانیت #ہمدردی