Digital Dawah Network

Digital Dawah Network Digital Dawah Network is an organization that develops educational and community services.

پاکستان کا پہلا پرچم اور اس کے گمنام ہیرو! 🇵🇰پاکستان کا قومی پرچم صرف کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ یہ ہمارے بزرگوں کی قرب...
16/08/2026

پاکستان کا پہلا پرچم اور اس کے گمنام ہیرو! 🇵🇰

پاکستان کا قومی پرچم صرف کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ یہ ہمارے بزرگوں کی قربانیوں، خوابوں اور ایک آزاد وطن کی جدوجہد کی علامت ہے۔ مگر اس پرچم کے پیچھے کچھ ایسے گمنام ہیرو بھی تھے جن کے نام شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں، لیکن جن کی محنت نے پاکستان کی تاریخ کے ایک یادگار باب کو حقیقت کا روپ دیا۔ 🇵🇰

پاکستان کے قومی پرچم کا خوبصورت اور تاریخی ڈیزائن سید امیر الدین قدوائی نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ہدایت پر تیار کیا تھا۔ یہ وہ پرچم تھا جس میں ایک آزاد اور خودمختار پاکستان کا خواب سمٹ آیا تھا۔

لیکن اس تاریخی ڈیزائن کو حقیقت کا روپ دینے والے بھی کوئی عام لوگ نہیں تھے۔ قیامِ پاکستان سے قبل جون 1947ء میں حسین برادرز، یعنی دو درزی بھائیوں، ماسٹر افضال حسین اور ان کے چھوٹے بھائی ماسٹر الطاف حسین نے پاکستان کا پہلا سرکاری قومی پرچم اپنے ہاتھوں سے سیا تھا۔

ذرا تصور کیجیے، جب پاکستان ابھی دنیا کے نقشے پر وجود میں بھی نہیں آیا تھا، جب ہر طرف بے یقینی اور اضطراب تھا، اس وقت کچھ خاموش ہاتھ ایک ایسے پرچم کو تیار کر رہے تھے جو آنے والی نسلوں کے لیے آزادی کی پہچان بننے والا تھا۔ ان بھائیوں نے صرف کپڑا اور دھاگا نہیں جوڑا تھا، بلکہ ایک قوم کے خواب کو حقیقت کے پرچم میں پرویا تھا۔ 🇵🇰

ماسٹر افضال حسین اور ماسٹر الطاف حسین شاید تاریخ کی بڑی کتابوں میں نمایاں کردار نہ بن سکے، مگر ان کے ہاتھوں سے تیار ہونے والا یہ پرچم پاکستان کی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش حصہ بن گیا۔

ان عظیم بھائیوں کی خدمات کو بعد میں حکومتِ پاکستان نے بھی تسلیم کیا۔ ماسٹر افضال حسین کے لیے 1979ء میں صدارتی ایوارڈ کا اعلان کیا گیا، جبکہ ان کے چھوٹے بھائی ماسٹر الطاف حسین کی خدمات کو بھی سرکاری طور پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور انہیں 23 مارچ 2023ء کو بعد از وفات ’’تمغہ حسنِ کارکردگی‘‘ سے نوازا گیا۔

یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قومیں صرف بڑے ناموں سے نہیں بنتیں۔ ان کے پیچھے بے شمار ایسے خاموش کردار ہوتے ہیں جو اپنا حصہ ڈال کر تاریخ کا رخ بدل دیتے ہیں، مگر خود پسِ منظر میں رہ جاتے ہیں۔

آج جب سبز ہلالی پرچم آسمان کی بلندیوں پر لہراتا ہے تو ہمیں ان گمنام ہاتھوں کو بھی یاد کرنا چاہیے جنہوں نے اس پرچم کو پہلی بار سیا تھا۔

یہ صرف ایک پرچم نہیں…
یہ ہمارے بزرگوں کے خواب کی نشانی ہے،
یہ آزادی کی پہچان ہے،
اور یہ ان گمنام ہیروز کی محنت کی داستان بھی ہے جنہوں نے پاکستان کے پہلے پرچم کو اپنے ہاتھوں سے حقیقت بنایا۔ 🇵🇰

**پاکستان زندہ باد!** 🇵🇰

05/08/2026

سعودی عرب ۔ محمد بن سلمان کیخلاف بڑی سازش بے نقاب

04/08/2026

فری عمرے پر جانا مہنگا پڑ گیا!!

عرب ممالک اور خصوصاً سعودی عرب مکمل طور پر جنگ میں اتر چکے ہیں ۔ کل سعودی عرب کی انتہائی اہم بلکہ  سب سے قیمتی آئل ریفائ...
29/07/2026

عرب ممالک اور خصوصاً سعودی عرب مکمل طور پر جنگ میں اتر چکے ہیں ۔ کل سعودی عرب کی انتہائی اہم بلکہ سب سے قیمتی آئل ریفائنری پر عراقی سرزمین سے حملہ ہوا ، اور اچھا خاصا نقصان ہوا ۔۔۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ حوثیوں نے حملے کے فوراً بعد اس کی ذمےداری قبول کر لی ، لیکن ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں آنے والے ڈرونز کی سمت معلوم کرنا بھلا کیسے مشکل ہے ۔ ڈرونز عراقی حدود سے آئے تھے ، سو سعودی عرب نے رات عراق میں الحشد الشعبی کے مختلف شہروں میں پھیلے ہوئے ٹھکانوں پر بمباری کی ۔ اور خبریں ہیں کہ خاصا نقصان ہوا ۔ آٹھ افراد کی ہلاکت کو خود تنظیم نے قبول کیا ہے ۔
گویا سعودی عرب نے حوثیوں کے اس حملے کی ذمے داری کے قبول نامے کو کوئی اہمیت نہیں دی ۔
البتہ یہ بات اس تمام پس منظر میں اہم ہے کہ چند روز قبل یمن سے حوثی قیادت کا ایک نمائندہ وفد الحشد الشعبی کی قیادت سے ملاقات کے لیے آیا تھا ۔
اس حملے کے بعد عراقی وزیراعظم نے ان حملوں کی تحقیقات کا حکم دیا ہے ، یاد رہے کہ عراقی وزیراعظم نے چند ہفتے قبل ہی الحشد الشعبی کو اپنا اسلحہ حکومت کو جمع کروانے کا حکم دیا تھا ، جس کے پیچھے ملک میں موجود پرائیویٹ ملیشیا،ز کو ختم کرنا تھا ۔
اس حملے نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ سعودی عرب نے ایرانی حملوں کو تو نہایت تحمل سے اس " آڑ " میں سہہ لیا تھا کہ ایرانی دعوے تھے کہ وہ امریکی اڈوں پر حملہ آور ہیں ۔۔۔۔ حالانکہ واقفانِ حال کیا ، سب نے دیکھا کہ یہ حملے اڈوں کے علاؤہ بھی ہوئے جیسے آرامکو پر ۔۔۔لیکن وہی سعودی عرب ، یمن و عراق میں ، ایرانی پراکسیز کے حملوں کو کسی صورت برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں ہے ۔
اب عراقی سرزمین سے سعودی عرب پر حملہ ہوا ہے تو اسی ایرانی طے کردہ " اصول " کی بنیاد پر سعودی عرب بھی جواز رکھتا ہے کہ :
" چونکہ سعودی سرزمین پر عراق سے حملہ ہوا ہے تو سعودی عرب اس کا جواب دے رہا ہے " ۔
لیکن صنعاء میں نو فلائی زون معاہدے کی خلاف ورزی اور بعد ازاں سعودی بمباری سے شروع ہو کر عراقی سرزمین سے اس حملے کے بعد سعودی عرب کے باب میں ایرانی جنگی حکمت عملی یہ دکھائی دے رہی ہے کہ وہ سعودی عرب کو ہر صورت جنگ میں لانا چاہتا ہے اور سعودی عرب بھی اب مزید رکنے کو تیار نہیں ہے ۔

وہ حاملہ تھیں لیکن وہ ہجرت کرنا چاہتی تھی۔ انہوں نے گھانا سے سپین کی طرف رخت سفر باندھا اور صحرائے صحارا عبور کرتے ہوئے ...
21/07/2026

وہ حاملہ تھیں لیکن وہ ہجرت کرنا چاہتی تھی۔ انہوں نے گھانا سے سپین کی طرف رخت سفر باندھا اور صحرائے صحارا عبور کرتے ہوئے سپین پہنچیں۔ اس ہجرت کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج ان کے دو بیٹے عالمی سطح پر نام بنا چکے ہیں۔
'میں بہت تیز دوڑتا ہوں لیکن اتنا تیز نہیں جتنا میری ماں دوڑی تھی۔ وہ مو۔ت سے بچ نکلیں اور صحرائے صحارا عبور کر کے سپین پہنچیں۔ آج جو کچھ ہوں ان کی بدولت ہوں' یہ کہنا ہے سپین کے نیکو ولیمز کا جن کے اہم ترین اسسٹ پر ارجنٹینا کے خلاف فائنل میچ میں فیران ٹورس نے شاندار گول سکور کیا۔ یہ جملہ انہوں نے یورپی چیمپئن شپ 2024 کے فائنل کے بعد کہا تھا۔ انہوں نے اس ٹورنمنٹ کے بعد اپنا میڈل اپنی والدہ کو پہنایا تھا۔
نیکو ولیمز آرتھر ایک ایسے فٹبالر ہیں جن کی زندگی تارک وطن خاندان کی جدوجہد، قربانی اور محبت کی مکمل داستان ہے۔ ان کی پیدائش 12 جولائی 2002 کو ہسپانوی شہر پیمپلونا میں ہوئی۔ وہ سپین کے کلب آتھلیٹک بلباؤ کے لیے ونگر کے طور پر کھیلتے ہیں اور سپین کی قومی ٹیم کا اہم ترین حصہ ہیں۔
ان کے والد فیلکس اور والدہ ماریا 90 کی دہائی میں گھانا سے ہجرت کر کے نکلے تھے۔ اس وقت ماریا حاملہ تھیں۔ دونوں نے پیدل صحرائے صحارا عبور کیا جو کہ ایک انتہائی خطرناک اور جان لیوا سفر تھا۔ کئی مشکلات جھیلنے کے بعد وہ افریقہ کے ہسپانوی زیر انتظام علاقے میلیلیا پہنچے اور پھر ہسپانوی سرزمین پر قدم رکھا۔ ابتدا میں کچھ عرصہ ملاگا اور میڈرڈ میں گزارا جس کے بعد ایک فلاحی ادارے نے انہیں بلباؤ منتقل کیا۔ وہاں ایک مشنری راہب سے ان کی ملاقات ہوئی جنہوں نے ریلوے سٹیشن پر انہیں خوش آمدید کہا، رہائش کا بندوبست کیا اور چونکہ حاملہ ماریا کے پاس صحت کارڈ نہیں تھا اس لیے طبی نگرانی کا انتظام بھی کروایا۔ 15 جون کو ماریا نے اپنے پہلے بیٹے کو جنم دیا اور شکریہ کے طور پر اسی راہب کے نام پر بیٹے کا نام رکھا۔ یہی بیٹا آگے چل کر مشہور فٹبالر اناکی ولیمز بنا۔
کچھ عرصے بعد اس خاندان کو ایک قصبے میں روزگار ملا اور بعد میں وہ مستقل طور پر بلباؤ کے قریب آباد ہو گئے جہاں 8 برس بعد نیکو ولیمز کی پیدائش ہوئی۔ نیکو اور اناکی نے اپنا بچپن زیادہ تر پیمپلونا میں گزارا۔ نیکو نے فٹبال کا آغاز 9 برس کی عمر میں اپنے آبائی شہر کے مقامی کلب سے کیا۔ پھر 2012 میں اوساسونا کی اکیڈمی جوائن کی اور بالآخر دو 2013 میں آتھلیٹک بلباؤ کی مشہور زمانہ یوتھ اکیڈمی کا حصہ بن گئے جہاں انہیں سکاؤٹس نے دریافت کیا تھا۔ آج وہ آتھلیٹک بلباؤ کی سینئر ٹیم کے لیے تقریباً 200 کے قریب میچز کھیل چکے ہیں اور 37 گول سکور کرنے کے ساتھ ساتھ 37 بار گول اسسٹ بھی کیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اناکی نے بین الاقوامی سطح پر گھانا کی نمائندگی کا انتخاب کیا جبکہ نیکو نے اپنی جائے پیدائش یعنی سپین کے ساتھ کھیلنا مناسب سمجھا۔
انہیں گراؤنڈ میں نسل پرستانہ سلوک کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ خاص طور پر ایک میچ کے دوران ایتلیتیکو میڈرڈ کے سٹیڈیم میں انہیں نسلی طعنے دیے گئے جس کے بعد ہسپانوی فٹبال فیڈریشن نے متعلقہ سٹینڈ کو دو میچز کے لیے بند کرنے کی سزا دی۔
حال ہی میں فیفا ورلڈ کپ فائنل 2026 میں سپین بمقابلہ ارجنٹینا میں سپین نے ارجنٹینا کو ایک صفر سے شکست دے فتح حاصل کی۔ یہ اس ورلڈ کپ میں کسی ایک بھی میچ میں پلئینگ الیون کا حصہ نہیں تھے جبکہ متبادل کے طور پر ہی آ آتے رہے۔ فائنل میں بھی وہ بینچ پر بیٹھے رہے تاہم دوسرے ہاف میں بطور متبادل میدان میں اترتے ہی انہوں نے فوری اثر دکھایا شروع کیا اور اضافی وقت میں فیران ٹوریس کے فیصلہ کن گول پر اہم پاس دے کر اپنی ٹیم کو فتح دلائی۔
اس تاریخی فتح کے بعد انہوں نے ایک بار پھر وہی کام کیا۔ انہوںننے اپنا میڈل سٹینڈ میں بیٹھی اپنی والدہ کے حوالے کیا اور ان کی اب تک کی محنت اور صبر کو گویا انہیں انعام دیا۔ دیکھا جائے تو نیکو اور ان کے بھائی اناکی کی کامیابیاں تب ممکن ہوئیں جب ان کے والدین نے ہجرت کا فیصلہ کیا۔۔ اور نتائج آپ کے سامنے ہیں۔۔۔ ہجرت میں برکت ہے ❤️ ادیب یوسف زئی
See less

وہ اجنبی جسے میں نے دیکھا نہیںمگر میں جس کیلئے رو پڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کل کی بات ہے، مجھے کہیں پہنچنا تھا، زیادہ دور نہی...
12/07/2026

وہ اجنبی جسے میں نے دیکھا نہیں
مگر میں جس کیلئے رو پڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کل کی بات ہے، مجھے کہیں پہنچنا تھا، زیادہ دور نہیں جانا تھا، اسلئے میں نے ایپ کھولی اور رائڈ منگوا لی۔ چھ منٹ بعد رائڈر پہنچ گیا، میں باہر نکلا تو وہ ایک نوجوان تھا، اچھے سلے ہوئے سیاہ کپڑوں میں ملبوس۔ جونہی باہر نکل کے میں نے اسے سلام کیا، فورا ہی کہنے لگا، سر جی! ٹھنڈے پانی کی بوتل ملے گی؟ مجھے تھوڑا عجیب لگا، ایک تو آدمی نے جہاں جانا ہو، ذہنی اعتبار سے وہاں جلد پہنچنے کی کیفیت میں ہوتا ہے، دوسرے اس نے پانی نہیں مانگا تھا، پانی کی بوتل کہا تھا، جو تھوڑا چونکانے والا تھا، خیرمیں نے گھر سے ٹھنڈے پانی کی بوتل منگوا دی۔وہ غٹا غٹ پوری بوتل پی گیا، مجھے اچھا لگا کہ چلو ایک آدھ منٹ تو لگ گیا لیکن گرمی کے موسم میں اس کی پیاس بجھانے کا ذریعہ بن گیا۔ اس نے پانی پی لیا تو پھر ہم روانہ ہوئے۔ بوتل اس نے پکڑے رکھی اور راہ میں کچرے دان میں پھینکی۔ وہ ایک مؤدب اور سلیقہ مند نوجوان معلوم ہوتا تھا۔ ابھی ہم روانہ نہ ہوئے تھے کہ کہنے لگا، ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں؟ میں نے حیرت سے بتایا سبزہ زار۔ اور جانا کہاں ہے؟ میں نے بتا دیا، پوچھنے لگا ،راستے کا پتہ ہے نا؟ میں نے کہا بے فکر ہو جاؤ،مجھےراستے کا پتہ ہے۔ کہنے لگا، ابھی دو تین ہفتے ہوئے یہ کام شروع کئے، بس مجھے جہاں پہنچنا ہو، اس جگہ کا پتہ نہیں چلتا۔ میں نے حیرت سے پوچھا، مگر آپ کی پروفائل پر تو لکھا ہے، تین سال ہوگئے آپ کو ان ڈرائیو کے ساتھ؟ کہنے لگا، نہیں ،وہ ایسے ہی لکھا ہوگا۔پہلے کیا کرتے تھے؟ میں نے ذرا تجسس سے پوچھ لیا۔ ڈی ایچ اے میں ایک گھر میں ملازم تھا۔ اس نے بتایا۔کام کیا تھا؟ مجھے وہ کچھ مختلف سا لگا تو میں نےبھی پوچھ لیا۔ میں اپنے صاحب کی خدمت کرتا تھا۔ اس نے بتایا۔ صاحب کو ناشتہ بنا دیتا۔ کبھی ڈرائیور نہ ہوتا تو بچے سکول چھوڑ آتا۔ اس طرح کے چھوٹے موٹے سبھی کام میں کر لیا کرتا تھا۔ سب بہت اچھا چل رہا تھا۔پھر جاب کیوں چھوڑ دی؟ سر جی میرے بھائی کو منہ کا کینسر ہوگیا تھا۔ تین ماہ وہ شوکت خانم ہسپتال میں رہا۔ میرا تو بھائی تھا۔ مجھے تین ماہ اس کے ساتھ ہی رہنا پڑا۔ تین ماہ کی غیر حاضری کے بعد جب جاب پر گیا تو انھوں نے جواب دے دیا۔ چلیں ہوسکتا ہے، وہ پھر کسی وقت دوبارہ بلا لیں، ویسے انھیں پتہ نہیں تھا کہ تم بھائی کے ساتھ ہسپتال میں تھے؟ میں نے پوچھ لیا۔ پتہ تھا، میرا سارا وقت وہیں خدمت کرتے گزرا،چھوٹا سا تھا، جب ان کے پاس آگیا۔ وہیں داڑھی مونچھیں آئیں اور اب میں چھ بچوں کو باپ ہوں، لیکن سرجی سچی بات ہے کہ میرے صاحب ویسے ہی اب بڑے خسارے میں جا رہے تھے۔ یہ تو بس ایک بہانہ ہی بنا۔ دراصل ان کا کئی کروڑ کا نقصان ہوگیا۔ ان پر قرض چڑھ گیا۔ ایسی حالت ہوگئی کہ میں نے وہ وہ لوگ آکے انھیں باتیں سناتے دیکھے ،جو ان کے سامنے نظر نہ اٹھا سکتے تھے۔ سر جی میں نے وہاں رشتوں کو بدلتے دئکھا۔ یہاں تک کہ ان بھائیوں کو بھی، جنھیں انھوں نے ڈی ایچ اے میں اپنے سے بڑی کوٹھیاں بنا کے دی تھیں۔ لیکن سر جی میرے صاحب نے میرا بڑا ساتھ دیا۔ میری شادی انھوں نے کروائی۔ میرے بچوں کی ساری فیسیں وہ دیتے تھے۔ مجھے چار مرلے کا گھر انھوں نے بنوا کے دیا۔ اب بھی جب کبھی مجھے بلائیں میں چلا جاتا ہوں۔ سر جی ایک دن میں نے بڑا عجیب منظر دیکھا۔ ایک شخص کے انھوں نے ڈیڑھ کروڑ روپے دینے تھے۔ اس نے بڑا تنگ کر رکھا تھا۔ وہ شریف آدمی تھے۔ انھوں نے کبھی اس طرح کے حالات نہ دیکھے تھے۔ ایک دن وہ اسے اپنی پراپرٹی پر لے گئے۔ یہ کل دو کنال جگہ تھی۔ یہ جگہ انھوں نے اسے دکھائی کہ چاہو تو پیسوں کے بدلے یہ جگہ رکھ لو۔ پیسے تو ابھی نہیں ہیں، اس بات کا پتہ اس کے چھوٹے بھائی کو چل گیا۔ وہ اگلے دن آیا اور بہت بولا۔ کہنے لگا، اس میں آدھی جگہ میری ہے، تم نے میری اجازت کے بغیر یہ جگہ دکھائی کیسے؟ سرجی یہ وہی بھائی تھا، جس کو اس نے ایک کنال کی ڈیفنس میں کوٹھی بنا کے دی تھی۔ حالانکہ میرا صاحب خود دس مرلے کی کوٹھی میں رہتا تھا، اور ڈیڑھ دو کروڑ اس نے اب بھی میرے صاحب کا دینا تھا۔ وہ چلا گیا تو مجھ سے رہا نہ گیا۔ میں نے کہا، صاحب جی، آپ میرا گھر بیچ لو۔ آپ ہی نے تو لیکر دیا ہے۔ اگر آپ کے حالات ٹھیک ہوگئے تو پھر بنا دینا۔ نہیں بھی بنا تو پھر بھی کیا ہے، آپ نے ہی تو بنا کر دیا ہے۔ یہ سن کر میرا صاحب رو پڑا۔ کہنے لگا، آپ کا گھر کتنے کا ہوگا؟ میں نے کہا، پچاس ساٹھ لاکھ کا۔ میرا صاحب آنسوؤں کے ساتھ کہنے لگا۔ نہیں، رہنے دو، اس سے میرا کیا بنے گا۔ تم بھی رہائش سے جاؤ گے۔ پھر وہ اور میں۔۔ ہم دونوں روتے رہے۔ اچھا ایسے اچھے آدمی کے یہ حالات ہوگئے؟ بڑا برا ہوا، میں نے دکھ سے کہا، آپ کی تنخواہ کتنی تھی؟ تنخواہ تو سر جی تیس ہزار تھی، لیکن ساٹھ ستر ہزار ہر ماہ میرے بن جاتے تھے ۔۔ میں نے بتایا نہ کہ میری شادی انھوں نے کروائی،گھر لیکر دیا اور میرے بچوں کی فیسیں بھی ۔۔ ہاں ہاں تم نے مجھے بتایا ہے۔ ۔ تو اب وہ اپنے ملازم کو تیس ہزار تنخواہ دینے کے بھی قابل نہیں رہے؟ نہیں رہے، سرجی! لیکن مجھے دوسری کوئی جاب نہیں مل رہی۔ بس اتنا ہوتا ہے کہ سارا دن لگا کے گھر جاتا ہوں تو بچے بھوکے نہیں سوتے۔ کوئی ہزار روپیہ بچ جاتا ہے۔جس سے گھر میں کھانا بن جاتا ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ میرا بھائی جو منہ کے کینسر سے مر گیا، وہ امپوریم مال میں سپروائزر تھا۔ میں وہاں بھی گیا، لیکن وہ کہتے ہیں،اچھا فون کریں گے، مگر وہ نہیں کرتے۔ تمھاری تعلیم کتنی ہے؟ میں نے ہمدردی سے پوچھا۔
کچھ بھی نہیں سر جی۔ مجھے تو یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ سواری کہاں سے اٹھانی ہے اور کہاں تک لے جانی ہے۔ بس میپ کے ساتھ چلتا رہتا ہوں۔
بھائی کی بیماری کے تذکرے میں کچھ باتیں اس نے شوکت خانم ہسپتال کے متعلق بھی بتائیں۔ کیسے وہاں اس کے بھائی کو بغیر پیسوں کے وی آئی پیز کے برابر پروٹوکول ملتا رہا۔ کیسے کھانے میں وہ کسی فائیو سٹار ہوٹل کی طرح مینیو لا کے مریض سے پوچھتے تھے کہ کیا کھانا ہے۔ کیسے ذرا سی کوتاہی پر نرس سے باز پرس ہوتی تھی اور کیسے ڈاکٹروں نے اس کے بھائی کو بچانے کی سرتوڑ کوشش کی، وغیرہ وغیرہ
منزل پر پہنچ کر میں نے ادائیگی کی، کرائے سے تھوڑی سی زیادہ ، وہ شکریہ ادا کرتا ہوا چلا گیا۔ جاتے ہوئے کہنے لگا،سر جی دعا کرنا، میں نے کہا،مطمئن رہو، اللہ ضرور حالات بدل دے گا۔ وہ بڑا مہربان ہے۔ وہ تو چلا گیا، مگر اپنے صاحب کا مجھے بھی گرویدہ کر گیا۔ نہ جانے اس کا صاحب کون ہے؟ کہاں ہے؟ لیکن کیسا عظیم شخص ہے کہ جس نے ایک ان پڑھ شخص کو ہیرے کی طرح رکھا ہوا تھا۔ یعنی اتنی سیلری اور ایسا اچھا برتاؤ اچھے بھلے پڑھے لکھوں کو دفاتر میں بھی کبھی نہیں ملتا۔ اور آج یہ شخص اس گھر سے نکلا تو اسے پتہ چلا، وہ تو بس ایک بائیک رائیڈر تھا مگر اس کے صاحب نے اسے گویا ہیرا بنا رکھا تھا۔واقعی کچھ لوگ خاک کو بھی یوں رکھتے ہیں کہ ہیرا بنا دیتے ہیں اور کچھ لوگ ہیروں کو بھی یوں رکھتے ہیں کہ خاک میں ملا دیتے ہیں۔ کیسی کڑی دھوپ میں کیسا سائبان تھا،اس کا صاحب! کیسے کیسے لوگ اور کیسی کیسی کہانیاں بکھری پڑی ہیں، رب کی بنائی اس دنیا میں ، میں اس کے صاحب کے بارے میں سوچتا رہا، جسے میں جانتا تک نہیں، لیکن جو شخص میرے دل میں گھر کر گیا، اور میری آنکھ میں آنسو بھرگیا۔ جی چاہتا ہے۔کبھی وہ ملے اور میں اسے مؤدب نگاہوں سے دیکھ سکوں، اسی لاہور کے کسی گھر میں ہی تو وہ رہتا ہوگا۔
ویسے معلوم نہیں،اچھے لوگوں پر ہی ایسے برے حالات کیوں آتے ہیں؟

تحریر: یوسف سراج

06/07/2026

سپین کا پورا خاندان کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا!
پوری مسجد اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اٹھی!

Whole Family Embracing Islam

قربان جاؤں نبی کریم ﷺ پر۔مکہ سے مدینہ کا فاصلہ تقریباً 450 کلومیٹر ہے۔ آج کے دور میں یہی سفر بس کے ذریعے چند گھنٹوں میں ...
06/07/2026

قربان جاؤں نبی کریم ﷺ پر۔
مکہ سے مدینہ کا فاصلہ تقریباً 450 کلومیٹر ہے۔ آج کے دور میں یہی سفر بس کے ذریعے چند گھنٹوں میں طے ہو جاتا ہے، لیکن جب انسان اس راستے کے بیابان، ریگستانی علاقے اور پتھریلے پہاڑ دیکھتا ہے تو ذہن فوراً اس بات کی طرف جاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہجرت کے وقت یہ کٹھن سفر کس طرح صبر اور استقامت کے ساتھ طے فرمایا ہوگا۔ اُس وقت نہ سہولتیں تھیں، نہ آسان راستے، اور سفر بھی اونٹوں پر کیا گیا تھا، سخت گرمی اور دشوار گزار حالات کے ساتھ۔

نبی کریم ﷺ نے مکہ میں تیرہ سال تک اسلام کی دعوت دی، لیکن کفار کی مخالفت دن بدن بڑھتی گئی یہاں تک کہ وہ آپ ﷺ کے سخت دشمن بن گئے۔ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہجرت کا فیصلہ ہوا۔

مدینہ روانگی سے قبل نبی کریم ﷺ نے اپنے قریبی ساتھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ غارِ ثور میں تین راتیں قیام فرمایا۔ اس دوران حضرت عبداللہ بن ابو بکر رضی اللہ عنہ مکہ کی خبریں خفیہ طور پر پہنچاتے رہے، حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا نہایت احتیاط سے کھانا غار تک پہنچاتی رہیں، جبکہ حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ اپنے ریوڑ کے ذریعے قدموں کے نشانات مٹاتے رہے تاکہ دشمنوں کو سراغ نہ مل سکے۔

ایک موقع پر جب دشمن غار کے بالکل قریب پہنچ گئے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ گھبرا گئے، اس پر نبی کریم ﷺ نے اطمینان دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ یہ واقعہ قرآن مجید کی سورۃ التوبہ کی آیت 40 میں بھی ذکر ہوا ہے۔

بعد ازاں ایک ماہر رہنما، عبداللہ بن اریقط، کو راستے کی رہنمائی کے لیے ساتھ لیا گیا، جس نے نبی کریم ﷺ کو ایسے غیر معروف راستوں سے مدینہ کی طرف رہنمائی کی تاکہ قریش کی نظر سے محفوظ رہا جا سکے۔

مدینہ پہنچنے سے پہلے نبی کریم ﷺ کچھ دن قبا میں مقیم رہے، جہاں پہلی مسجد یعنی مسجد قبا کی بنیاد رکھی گئی۔ اس کے بعد آپ ﷺ مدینہ تشریف لائے اور حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر قیام فرمایا، اور پھر وہ مبارک لمحہ آیا جب مسجد نبوی کی بنیاد رکھی گئی، جو آج پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک دینی اور روحانی مرکز ہے۔
اُمت کے لیے ہمارے آقا ﷺ نے کتنی کتنی مشقتیں برداشت کی ہیں ہم کبھی بھی اُن کا حق ادا نہیں کر سکتے 🥺🥺

03/07/2026

علامہ ناصر مدنی جمعہ کے دوران ہارٹ اٹیک
کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے گر پڑے!!

نو محرم... رات کے تقریباً نو بج رہے تھے۔سرجری ایمرجنسی کے دروازے کھلے اور ایک تقریباً تیرہ سالہ بچی کو انتہائی تشویشناک ...
27/06/2026

نو محرم... رات کے تقریباً نو بج رہے تھے۔

سرجری ایمرجنسی کے دروازے کھلے اور ایک تقریباً تیرہ سالہ بچی کو انتہائی تشویشناک حالت میں اندر لایا گیا۔

چہرے پر خون کی رمق نہ تھی...
سانسیں مدھم پڑ چکی تھیں...
آکسیجن کی سطح صرف 38 فیصد...
اور دل کی دھڑکن تقریباً 190 فی منٹ...

ایمرجنسی میں موجود ہر فرد فوراً اپنی ذمہ داری میں مصروف ہوگیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ایک بھاری ریڑھی اس کے سینے کے اوپر سے گزر گئی تھی، جس سے دونوں پھیپھڑے شدید متاثر ہوئے تھے۔

اس وقت کسی کو یہ جاننے کی فرصت نہ تھی کہ حادثہ کیسے پیش آیا۔
ہر دل میں صرف ایک دعا تھی...
کاش یہ بچی بچ جائے۔

میں نے اس کے والد اور بزرگ دادا کو صورتِ حال سے آگاہ کیا۔ حالات سن کر دادا نے خاموشی سے اپنی پوتی کو دیکھا، پھر نظریں جھکا لیں۔ ان کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو کسی بھی لفظ سے زیادہ درد بیان کر رہے تھے۔ اس لمحے احساس ہوا کہ ایک مجبور بزرگ کی بے بسی شاید دنیا کا سب سے بھاری منظر ہوتی ہے۔

پھر وقت نے رفتار پکڑ لی۔

کوئی آکسیجن سنبھال رہا تھا...
کوئی ضروری آلات تیار کر رہا تھا...
کوئی خون کا انتظام کرنے دوڑ رہا تھا...
اور کوئی آئی سی یو میں جگہ تلاش کر رہا تھا۔

جب مریضہ کو آپریشن تھیٹر منتقل کیا جا رہا تھا تو راہداری میں میرے سینئر رجسٹرار بھی بیڈ کے ساتھ تیزی سے چلتے ہوئے موجود تھے۔ نو محرم کی تعطیل کے باوجود، ہماری اطلاع پر اسسٹنٹ پروفیسر بھی فوراً آپریشن تھیٹر پہنچ گئے تاکہ بچی کی حالت کا جائزہ لے سکیں۔

آپریشن کے دوران سینے کے دونوں اطراف ٹیوبیں ڈالی گئیں۔ تقریباً ایک لیٹر خون باہر نکلا، جو پھیپھڑوں پر دباؤ ڈال کر اس کی سانسیں روک رہا تھا۔

چند لمحوں بعد مانیٹر پر اعداد بدلنے لگے۔

38...
پھر 55...
70...
85...
اور آخرکار آکسیجن 92 فیصد تک پہنچ گئی۔

دل کی بے قابو دھڑکن بھی آہستہ آہستہ معمول کی طرف آنے لگی۔

اس وقت آپریشن تھیٹر میں کسی نے خوشی کا اظہار شور سے نہیں کیا۔
بس سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، خاموشی سے شکر ادا کیا اور دلوں سے ایک ہی لفظ نکلا...

الحمدللہ۔

اگلے دن جب وہی بچی آئی سی یو میں مسکراتی ہوئی نظر آئی تو شاید اسے اندازہ بھی نہ تھا کہ گزشتہ چند گھنٹوں میں کتنے لوگ اس کی ہر سانس کو بچانے کے لیے پوری قوت سے کوشش کرتے رہے تھے۔

شاید یہی ایک ڈاکٹر کی اصل کامیابی ہوتی ہے۔

نہ شہرت...
نہ دولت...
بلکہ ایک باپ کی دعا،
ایک دادا کی بھیگی ہوئی آنکھ،
اور ایک معصوم چہرے پر واپس آنے والی مسکراہٹ۔

میرا یقین ہے کہ جس دن کسی ڈاکٹر کے دل سے انسانیت اور احساسِ خدمت ختم ہو جائے، اسی دن اس کی ڈگری صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا رہ جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ تمام مریضوں کو کامل شفا عطا فرمائے، تمام طبی عملے کو اخلاص کے ساتھ خدمت کی توفیق دے، اور ہمیں ہمیشہ کسی کی زندگی میں آسانی اور امید کا ذریعہ بنائے۔

کیونکہ بعض اوقات...
ایک جان بچانا صرف ایک انسان کو نہیں، بلکہ پورے خاندان کو دوبارہ زندگی دینے کے مترادف ہوتا ہے۔

Address

Al Karamah Street
Abu Dhabi
25314

Telephone

+923204047320

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Digital Dawah Network posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share