Digital Dawah Network

Digital Dawah Network Digital Dawah Network is an organization that develops educational and community services.

لبیک یا رب۔۔جب مسجد الحرام میں صفیں اور دعائیں آپس میں ملتی ہیں،اور ضیوفِ رحمان کے دل سفرِ حج میں سکون اور اطمینان سے بھ...
17/05/2026

لبیک یا رب۔۔
جب مسجد الحرام میں صفیں اور دعائیں آپس میں ملتی ہیں،
اور ضیوفِ رحمان کے دل سفرِ حج میں سکون اور اطمینان سے بھر جاتے ہیں۔
#الحج

دور سے دیکھا تو انڈے ابل رہے تھے،قریب جا کے دیکھا تو گنجے اچھل رہے تھے۔اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا،ایران نے جواب میں عر...
17/05/2026

دور سے دیکھا تو انڈے ابل رہے تھے،
قریب جا کے دیکھا تو گنجے اچھل رہے تھے۔

اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا،
ایران نے جواب میں عرب ممالک، خاص کر متحدہ عرب امارات پر حملے کیے اور کہا کہ متحدہ عرب امارات اسرائیل کو مدد فراہم کر رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے حالیہ جنگ کے بعد پاکستان اور سعودیہ سے تعلقات کشیدہ کرکے بھارت سے راہ و رسم بڑھا لیے۔ ایرانی وزیر خارجہ بھارت کے دورے پر اور مودی متحدہ عرب امارات کے دورے پر ایک ہی وقت میں رہے۔

بھارت نے گذشتہ سال پاکستان پر حملہ کیا، پاکستان نے بھارتیوں کو دھول چٹا دی، عین انہی دنوں ایرانی وزیر خارجہ بھارت میں موجود تھے اور کچھ معاشی اور ترقیاتی منصوبوں پر بات چیت جاری تھی۔

بھارتی وزیر اعظم نے اسرائیل کو فادر لینڈ کہا لیکن ایرانی وزیر خارجہ آج کل برکس کی کچھ میٹنگز میں شرکت کے لیے بھارت میں موجود ہیں اور ان کی تعریف میں رطب اللسان بھی ہیں۔

اسرائیل کے بعد یہودیوں کی محفوظ ترین پناہ گاہ امریکہ و بھارت ہیں، اور خاص کر اسرائیل کی ڈرون تیار کرنے والی ایک فیکٹری بھارتی شہر حیدرآباد میں ڈرون بنا رہی ہے جن کے ذریعے گذشتہ سال پاکستان پر حملے بھی کیے گئے، لیکن ایرانی وزیر خارجہ کو اس بات میں کوئی مضائقہ نظر نہیں آتا۔

پاکستان نے دن رات کوششیں کرکے ایران اور اس کی قیادت کو مارے جانے سے بچایا، جبکہ عربوں کو بھی جوابی حملوں سے روک کر پوری خلیج کو بڑی تباہی سے بچایا۔ اور جواب میں اب ان حالات میں بھی دوستیاں پاکستان کے بدترین دشمن اور اسرائیل کے اول نمبر یار بھارت سے، اور ساری پیشکشیں بھی اسی کے لیے ہیں۔

مودی نے امارات سے دفاعی معاہدہ کیا ہے، اور ایران نے امارات کو تو کہا کہ اسرائیل سے تعلقات بہت مہنگے پڑیں گے اور یہ ناقابلِ برداشت ہوگا، لیکن بھارت کے لیے سب شانتی شانتی ہے۔

یہ جو آپ کو ہر چیز میں مذہبی چورن نظر آتا ہے، یہ دراصل دور سے دیکھنے میں انڈے ابل رہے ہوتے ہیں جبکہ قریب جاؤ تو گنجے اچھل رہے ہوتے ہیں۔ یہ صرف آپ کی آنکھوں کا حسن ہے، دنیا اس کو فائدے کے تناظر میں دیکھتی ہے۔

دو ملک نہ کبھی دوست ہوتے ہیں نہ ہی دشمن، صرف مفادات کا چکر ہوتا ہے۔ جب تک مفادات ہیں تو دوستی ہے، نہیں ہیں تو دوستی بھی ختم۔

پاکستان کو بھی چاہیے کہ ناجائز ریاست کے علاوہ دنیا میں موجود تمام ممالک سے اپنے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلقات بنائے، اپنا فائدہ دیکھے، یہی وقت کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو بھی اب اپنے مفادات دیکھ کر معاملات طے کرنے ہوں گے۔

'یہ شادی نہیں ہوسکتی کیونکہ حدیقہ 53 سال کی بوڑھی خاتون ہیں' سوال یہ ہے کہ آخر کس عمر کے بعد ایک عورت محبت، تعلق یا پسند...
16/05/2026

'یہ شادی نہیں ہوسکتی کیونکہ حدیقہ 53 سال کی بوڑھی خاتون ہیں' سوال یہ ہے کہ آخر کس عمر کے بعد ایک عورت محبت، تعلق یا پسند کیے جانے کے حق سے محروم ہو جاتی ہے؟ اور یہ قانون صرف عورت پر ہی کیوں لاگو ہوتا ہے؟ ہمارے ہاں 60 سالہ مرد اگر 20 سال چھوٹی لڑکی سے شادی کرے تو اس کا دل جوان ہے، بتایا جاتا ہے لیکن 50 سالہ خاتون کا ذکر آتے ہی بوڑھی خاتون اور جھریوں پر بحث شروع ہوجاتی ہے۔۔
ایک سوشل میڈیائی دانشگرد کی تحریر پڑھی۔ وہ گلوکارہ و سماجی کارکن حدیقہ کیانی پر نہایت منفی تبصرہ کر رہے تھے۔ تبصرہ اتنا واہیات تھا کہ ہر جملہ پڑھنے کے بعد دانشگرد صاحب کی ذہنیت پر ماتم کرنے کا دل کر رہا تھا۔
اصل مسئلہ ہماری سوچ کا ہے۔ ہم اب بھی عورت کو پروجیکٹ سمجھتے ہیں۔ پہلے اس کی عمر ناپتے ہیں، پھر چہرہ، پھر جلد، پھر جسم، پھر 'پیکنگ کھولنے' کے فقرے مار کر اسے ایک چیز میں بدل دیتے ہیں۔ اس تحریر پر غور کیا تو پوری تحریر میں عورت کہیں نہیں ملی۔ یعنی ان جیسوں کے لیے صرف عورت کا جسم ہے، اس کی جھریاں ہیں، اس کی عمر ہے۔۔ اس کی مارکیٹ ویلیو ہے۔
صاحب اپنے تبصرے میں لکھتے ہیں کہ سائنس نے ایسا دارو بنا لیا ہے جس سے عورت جوان لگتی ہے۔ کیا ہی دوہرا معیار ہے ہمارا۔۔ یعنی عورت اگر خود کو سنوارے تو وہ بھی جرم۔۔۔اگر بڑھاپا نظر آئے تو مذاق۔ گویا عورت ہر صورت میں کٹہرے میں ہی کھڑی رہے گی۔
اور اس تحریر کا سب سے گھٹیا جملہ ملاحظہ کیجیے۔ 'پیکنگ کھولئے گا تو جھریوں کے سوا کچھ نہ پائیے گا' کیا عجیب ذہنیت ہے!!! پوری چلتی پھرتی کام کرتی شخصیت کے لیے پیکنگ کا لفظ یوز کیا۔ اس کے تجربات، دکھ، کامیابیاں، ذہانت، فن، محبت، سب غائب۔۔۔صرف جلد باقی رہ گئی۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہی لوگ ماں کے چہرے کی جھریوں کو محبت اور قربانی سمجھتے ہیں لیکن بیک وقت انہیں دوسری عورتوں کی 'پیکنگ کھولنی' ہوتی ہے۔
دانشگرد صاحب فرماتے ہیں کہ 'ایسی عورت رومانس کے نام پر رونا دھونا کرتی ہے'۔۔۔ سوچیں۔۔ ہمیں صرف وہ عورت پسند ہے جو ہر وقت ہنسے، شوخ ہو، دل بہلائے۔۔۔ وہ عورت کسی صورت نہیں پسند جو زندگی کے دکھ، تنہائی، صدمے یا تجربات کے ساتھ آئے۔۔۔تفریح ہی تو چاہیے!!!
دراصل ہم عورت کو انسان ماننے پر تیار ہی نہیں ہیں۔۔۔ ل ہمیں وہ ہر صورت میں خوبصورت چاہیے، جوان چاہیے، ہنس مکھ چاہیے، جسمانی طور پر پرفیکٹ چاہیے اور اگر اس کے چہرے پر زندگی کے آثار نمایاں ہوں تو ہم اسے ناکارہ سمجھ لیتے ہیں۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں عورت کے بارے میں گفتگو چہرے سے شروع ہو کر جسم پر ختم ہوجاتی ہے۔ ہم 'عورت' لفظ سنتے ہی اس کا جسم اپنے ذہن میں بنا لیتے ہیں۔۔۔
اور پھر موصود کی جانب سے تحریر میں مذہب کو درمیان میں لایا گیا کہ قرآن نے اس عمر کی عورت کے لیے حجاب میں نرمی دی ہے، اس لیے اب وہ 'گیسٹ ہاؤس' نہیں بلکہ 'چائے خانے'کے قابل رہ گئی ہے۔ یہ وہی ملائیت زدہ ذہنیت ہے جو مذہب کو اخلاق اور وقار کی بجائے عورت کی جسمانی حیثیت ناپنے کے لیے استعمال کرتی ہے حالانکہ قرآن نے کہیں نہیں کہا کہ عمر کے ایک حصے کے بعد عورت کی سماجی، جذباتی یا انسانی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔۔
ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ عورت کو ہر وقت مرد کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اگر وہ sexually desirable نہیں رہی تو گویا اس کی اہمیت کم ہوگئی۔ یہی سوچ خطرناک ہے۔۔۔۔ اور ایسی سوچ والے پتھر اٹھائیں ہزار مل جائیں گے۔۔۔
ادیب یوسفزئی Adeeb Yousufzai

بدبختی کی انتہا  دیکھیے۔۔ 3 بیٹے اور 3 بیٹیاں مگر اولاد نے باپ کو ہسپتال میں مرنے کے لیے اکیلا چھوڑ دیا  ۔  اور وہ خود غ...
12/05/2026

بدبختی کی انتہا دیکھیے۔۔

3 بیٹے اور 3 بیٹیاں مگر اولاد نے باپ کو ہسپتال میں مرنے کے لیے اکیلا چھوڑ دیا ۔

اور وہ خود غائب ہو گئے دو دن تک بیٹوں کا انتظار کیا اور جب وہ خیریت پوچھنے نہ اے تو ہسپتال سے چوری جا کر دریاے راوی پر اسی حالت میں کہ یورین بیگ لگا ہوا دریامیں چھلانگ لگا دی ۔۔

دریائے راوی پر ڈیوٹی کرنے والے محکمہ شہری دفاع کے کارکنوں نے بزرگ کو دریا میں گرتے دیکھ لیا ، فوری کارروائی کی گئی اور اس بزرگ کو گہرے پانی سے بحفاظت نکال لیا گیا ۔ بزرگ والد نے صرف اتنا پوچھا مجھے بچا تو لیا ہے اب یہ بتا دو میں جاوں کہاں ؟

ڈوب مرنے کا مقام ہے جو والدین اللہ سے دعائیں کرکے اولاد پاتے ہیں انکی خاطر سردی گرمی میں مزدوریاں کرتے ہیں انہیں پالتے بڑا کرتے اور پڑھاتے لکھاتے ہیں پھر انکی شادیاں کرتے ہیں وہی اولاد بوڑھا ہونے پر والدین کو بے سہارا چھوڑ د۔

دو وقت کا کھانا بھی نہ دے سکے ۔۔ کیا فائدہ ایسی بدبخت اولاد کا ۔ کتنی محبت سے والدین اپنی اولاد کو جوان کرتے ہیں ۔۔ اور اگے سے اولاد ایسی نکل اے ۔۔

اللہ تعالی سب کی اولاد کو ماں باپ کا فرماں بردار بنائے اور نیک بنائے آمین ثم آمین

وہ عورت جسکا بھری پنجائیت کے سامنے ریپ کیا گیا ۔ درندگی یہاں ختم نہی ہوتی بلکہ برہنہ حالت میں اسے گھسیٹتے رہے ۔ اسکو مار...
12/05/2026

وہ عورت جسکا بھری پنجائیت کے سامنے ریپ کیا گیا ۔ درندگی یہاں ختم نہی ہوتی بلکہ برہنہ حالت میں اسے گھسیٹتے رہے ۔ اسکو مارنا چاہتے تھے مگر وہ دنیا کی تمام مظلوم عورتوں کی اواز بن گی ۔۔

اور پھر ایسی طاقتور عورت بنی مشرف جیسا ڈیکٹیٹر بھی اس سے خوف کھاتا تھا ۔ سیاست دان جاگیردار مقامی وڈیرے سب اس سے دور بھاگتے تھے ۔۔

جون 2002 کی ایک جلتی ہوئی دوپہر تھی۔

ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل جتوئی کا ایک چھوٹا سا گاؤں میر والا اپنی گلیوں میں دھوپ سمیٹے خاموش پڑا تھا اور اس خاموشی میں ایک ایسا ظلم ہوا جس نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

مختار مائی کے بارہ سالہ بھائی شکور پر الزام لگایا گیا کہ اس کا تعلق مستوئی قبیلے کی ایک لڑکی کے ساتھ ہے اور یہ الزام بھی اس طاقتور قبیلے نے گھڑا تھا جس کے ہاتھ میں اس دیہات کی زمین بھی تھی اور ضمیر بھی۔

جرگہ بیٹھایا گیا

وہی جرگہ جسے گاؤں والے انصاف کا نام دیتے ہیں
مستوئی قبیلے کے سرداروں نے فیصلہ سنایا کہ مختار مائی کو معافی مانگنے کے لیے بلایا جائے اور جب وہ آئیں تو انہیں ایک کمرے میں گھسیٹ کر چار مردوں نے اجتماعی زیادتی کی جبکہ دس افراد باہر کھڑے رہے
اور یہ سب ہوتا رہا
اور کوئی نہ روکا
اس کے بعد انہیں برہنہ حالت میں گاؤں کی گلیوں میں پریڈ کرایا گیا۔

سوچیں ایک لمحے کے لیے
ایک عورت جس نے کچھ نہیں کیا تھا
جس کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ اس گھر میں پیدا ہوئی
اسے اس طرح توڑا گیا
اس طرح ذلیل کیا گیا۔

کہ معاشرہ چاہتا تھا وہ گھر جائے اور خاموشی سے مر جائے۔رواج یہی کہتا تھا کہ ایسی عورت کو خودکشی کر لینی چاہیے ۔

لیکن مختار مائی نے یہ نہیں کیا
انہوں نے پولیس رپورٹ درج کرائی
عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا
اور پوری دنیا کو بتایا کہ یہ ظلم ہوا ہے
یہ وہ لمحہ تھا جب ایک غریب ان پڑھ عورت نے پورے نظام کو للکارا۔

یکم ستمبر 2002 کو انسداد دہشت گردی عدالت نے چھ ملزمان کو موت کی سزا سنائی ۔لگا شاید انصاف ہوگا۔

لیکن پھر وہی ہوا جو اس ملک میں طاقتوروں کے ساتھ ہمیشہ ہوتا ہے۔

2005 میں لاہور ہائی کورٹ نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر پانچ ملزمان کو بری کر دیا اور چھٹے کی سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا
اور پھر اس سے بھی بڑا ظلم ہوا

اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے مختار مائی کو ملک سے باہر جانے سے روکا کیونکہ وہ پاکستان کی بدنامی نہیں چاہتے تھے ۔

یعنی سچ کو دبانا ضروری تھا
عزت اس ملک کی بچانی تھی
اس عورت کی نہیں جو مٹی میں رولی گئی تھی
وزیر کا پیغام آیا کہ مختار مائی ملزمان کے خلاف مقدمہ واپس لے لیں ورنہ سپریم کورٹ میں فیصلہ ان کے حق میں نہیں ہوگا 
یہ ہے ہمارا نظام
یہ ہے ہماری انصاف کی حقیقت
لیکن مختار مائی نے ہار نہیں مانی۔

انہوں نے حکومت سے ملنے والے معاوضے کو اپنے گاؤں میں لڑکوں اور لڑکیوں کے اسکول بنانے پر لگا دیا کیونکہ انہیں یقین تھا کہ تعلیم ہی اس ظلم کا علاج ہے ۔

وہ عورت جو خود کبھی اسکول نہیں گئی
اس نے دوسروں کے لیے اسکول کھولے
وہ عورت جسے توڑا گیا تھا۔اس نے دوسروں کو جوڑنا شروع کر دیا۔

مختار مائی نے خود کہا کہ ان کی کہانی نے گاؤں کی دوسری عورتوں کو بھی اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہونے کی ہمت دی

آج ضلع مظفرگڑھ کی اس بیٹی کو دنیا جانتی ہے
گلیمر میگزین نے انہیں سال کی بہترین خاتون کا اعزاز دیا
اقوام متحدہ نے انہیں بلایا
امریکہ نے انہیں سنا
لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے
کہ میر والا کی ایک عام عورت نے ثابت کر دیا
کہ اگر ارادہ ہو تو ایک اکیلا انسان پورے نظام کو آئینہ دکھا سکتا ہے
مختار مائی صرف ایک واقعے کا نام نہیں۔

وہ ہر اس عورت کی آواز ہیں جو خاموش کر دی گئی
وہ ہر اس انسان کی امید ہیں جسے لگتا ہے کہ اکیلا لڑنا بے کار ہے۔

اور وہ ہر اس سوال کا جواب ہیں جو ہم سے پوچھتا ہے کہ کیا ظلم کے سامنے سر جھکانا ضروری ہے
نہیں
بالکل نہیں
مختار مائی نے بھی نہیں جھکایا

اطالوی جج نے سزائے موت سنانے سے پہلے عمر مختار سے پوچھا:— کیا تم نے اطالوی ریاست کے خلاف جنگ کی؟عمر مختار: ہاں۔— کیا تم ...
12/05/2026

اطالوی جج نے سزائے موت سنانے سے پہلے عمر مختار سے پوچھا:
— کیا تم نے اطالوی ریاست کے خلاف جنگ کی؟
عمر مختار: ہاں۔
— کیا تم نے لوگوں کو اطالوی ریاست کے خلاف لڑنے پر اُکسایا؟
عمر مختار: ہاں۔
— تم نے اٹلی کے خلاف کتنے سال جنگ لڑی؟
عمر مختار: تقریباً 20 سال۔
— کیا تمہیں اپنے کیے پر افسوس ہے؟
عمر مختار: نہیں۔
— کیا تم جانتے ہو کہ تمہیں پھانسی دی جائے گی؟
عمر مختار: ہاں۔
جج حیرت سے بولا:
— تم جیسے شخص کے لیے ایسا انجام بہت افسوسناک ہے...
یہ سن کر عمر مختار نے جواب دیا:
— اس کے برعکس! یہ تو میری زندگی کے اختتام کا سب سے خوبصورت طریقہ ہے۔
جج نے کہا کہ اگر وہ ایک تحریری اعلان لکھ دیں جس میں مجاہدین کو جہاد روکنے کا حکم ہو، تو اسے معاف کرکے جلا وطن کر دیا جائے گا۔ اس پر عمر مختار نے اپنے مشہور الفاظ کہے:
"یہ انگلیاں، جو ہر نماز میں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، کبھی کوئی جھوٹی بات نہیں لکھ سکتیں! ہم ہتھیار نہیں ڈالتے؛ یا تو ہم کامیاب ہوتے ہیں یا شہید۔ اور اگر ہم شہید بھی ہو جائیں تو بھی ہم جیت جاتے ہیں اور تم ہار جاتے ہو۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ تم یہ حقیقت صرف اپنی موت کے وقت سمجھو گے، اور اُس وقت سمجھنا تمہارے کسی کام نہیں آئے گا!"

امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کے لطائف میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ ان کی ایک بیوی تھی جن کا نام "نسیم الصبا" تھا؛انہوں نے انہی...
07/05/2026

امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کے لطائف میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ ان کی ایک بیوی تھی جن کا نام "نسیم الصبا" تھا؛
انہوں نے انہیں طلاق دے دی، مگر اس کے بعد انہیں اس قدر ندامت اور عشق کا غلبہ ہوا کہ ان کی جان پر بن آئی۔
​ایک دن وہ ان کی مجلسِ وعظ میں حاضر ہوئی، جیسے ہی امام کی نظر ان پر پڑی، وہ انہیں پہچان گئے؛
اتنے میں دو عورتیں آئیں اور ان کے سامنے بیٹھ گئیں جس سے وہ امام کی نظروں سے چھپ گئیں؛
امام نے فوراً یہ شعر پڑھا:
​"اے نعمان کے دو پہاڑو! اللہ کے لیے راستہ چھوڑ دو،
تاکہ نسیمِ صبا کی ٹھنڈی ہوا مجھ تک پہنچ سکے!"
​وہ خاتون سمجھ گئیں کہ امام کی مراد وہی ہیں، ان کا دل پسیج گیا،
اور یہی واقعہ ان کی دوبارہ واپسی کا سبب بنا!

____________________________
​مِنْ لَطَائِفِ مَا وَقَعَ لِابْنِ الْجَوْزِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ زَوْجَةٌ اسْمُهَا: "نَسِيمُ الصَّبَا" قَدْ طَلَّقَهَا؛
​فَحَصَلَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ نَدَمٌ وَهِيَامٌ أَشْرَفَ بِهِ عَلَى التَّلَفِ۔
​فَحَضَرَتْ فِي بَعْضِ الْأَيَّامِ مَجْلِسَ وَعْظِهِ فَحِينَ رَآهَا عَرَفَهَا،
​ثُمَّ جَاءَتِ امْرَأَتَانِ وَجَلَسَتَا أَمَامَهُ فَحَجَبَتَاهَا عَنْهُ؛ فَأَنْشَدَ فِي الْحَالِ:
​أَيَا جَبَلَيْ نُعْمَانَ بِاللَّهِ خَلِّيَا
​نَسِيمَ الصَّبَا يَخْلُصْ إِلَيَّ نَسِيمُهَا
​فَعَلِمَتْ أَنَّهُ عَنَاهَا، وَرَقَّ قَلْبُهَا، وَكَانَ ذَلِكَ سَبَبَ عَوْدَتِهَا إِلَيْهِ۔
​[ثَمَرَاتُ الْأَوْرَاقِ فِي الْمُحَاضَرَاتِ لِلْحَمَوِيِّ]

27/04/2026

No Ban on Photos & Videos in Hajj & Umrah

Alhumdulillah 9,00,000 Subscribers On Youtube
27/04/2026

Alhumdulillah 9,00,000 Subscribers On Youtube

25/04/2026

لاہور کی ظالم ترین ماں CCTV فوٹیج سے کیسے پکڑی گئی

23/04/2026

لودھران دلہن کا وقعہ کیسے ہم ٹی وی ڈرامہ کا سکرپٹ حقیقت بن گیا


Address

Al Karamah Street
Abu Dhabi
25314

Telephone

+923204047320

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Digital Dawah Network posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share