27/02/2026
فروری 2024 کو وادی لیپا کشمیر جانا ہوا توہمارا 3 دن رکنے کا پروگرام تھا۔ شدید برف باری کی وجہ سے راستے بند ہو گئے اور ہمیں تقریبا 13 دن رکنا پڑگیا۔ ہم پریشان تو تھے کیونکہ اکثر یہاں مہینوں بھی راستے بند رہتے تھے اور ہمیں نہیں پتا تھا کب روڑ کھلے۔ پھر 13 دن میں ہم نے پوری وادی کو اچھے سے دیکھا۔ بہت زیادہ ٹھنڈ ہونے باوجود بھی ہم سارا دن گھومتے رہتے تھے ۔ اس دوران ہم نے دیکھا یہاں کے لوگ انتہا کے مہمان نواز لوگ ہیں۔ انہوں نے ہر طرح سے تعاون کیا۔ یہاں تک کے ایک مقامی صحافی نے انٹرویو لیا تو پوری وادی کو پتا چل گیا کہ ہم یہاں پھنسے ہوئے ہیں اور پھر لوگوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جو نہ صرف آ کے پوچھتے کے یہاں کوئی مسئلہ تو نہیں بلکہ کوئی لکڑی لا رہا تو کوئی اخرٹ لا رہا تو کوئی پیسے لے کے آ گیا اور کسی نے رہائش کا کہا تو کہیں بہت سے لوگوں نے دعوت دی۔ یہاں اگر میں تفصیل سے لکھوں تو بہت وقت چاہیے ۔ یہاں میں کچھ لوگوں کے نام لکھوں گا جس میں سب سے پہلے جوہر بھائی جو گیسٹ ہاؤس کے مالک تھے انہوں نے بہت زیادہ ساتھ دیا یہاں تک کے آتے ہوئے 13 دن کے پیسے بھی نہیں لے رہے تھے۔ اور دعا کر رہے تھے کے ہم خیریت سے اپنے گھر پہنچ جائیں ۔ پھر سہیل بھائی جنہوں نے بہت خدمت کی اور مزیدارکھانے کھلائے اور اپنے گھر لے کے گئے اور فیملی میں بٹھایا۔ پھر طارق کی شرارتیں ابھی یاد آتی ہیں۔ اور اسامہ بھائی جس نے بہت سی جگہیں دکھائیں۔ پھر دوکان والے عارف بھائی اور انکا بیٹا۔ سکول کے پرنسپل بشیر صاحب جو کہ بہت اچھے انسان ہیں۔ صحافی بھائی جس نے انٹرویو لیا۔ پھر پانی والی چکی والے انکل جنکا نام میں بھول گیا ہوں۔ اور اخوت والے بھائی۔ پھر کچھ فیملیز جنہوں نے اپنے گھر میں ہمیں اپنی دعوت دی اور پھر اس وادی کا ہر وہ بندہ جس نے ہمیں دعاؤں میں یاد رکھا۔ آپ سب کا میں بے حد مشکور ہوں ۔ آج بھی سب بہت یاد آتے ہیں۔ زندگی رہی تو انشاء اللہ دوبارہ ملاقات ہو گی۔ دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔