History O Clock

History O Clock Hello Respected History'O Clock Family. My Name is Sir Syed Ammar. Thanks alot
' O Clock
Admin
Muhammad Waqas

History 'O Clock is about
√Islamic History
√World History
√Science History
&
History Related Topics.

25/01/2024

::::::اسلامی دنیا کی سب سے عظیم سلطنت بنانے والا سلطان:::::::

عثمان غازی کی تمام فتوحات اور لڑائیاں تاریخی طور پر:

1- تل الارمان کی جنگ (عثمان کی پہلی جنگ اور وہ شکست کھا گئے اور ان کا بھتیجا بخیوجہ شہید ہوا)

2- قلعہ کولجا حصار کی فتح جو کہ عثمان کی پہلی فتح ہے۔

3- ڈومینک کی جنگ (عثمان نے جیت لیا، لیکن اپنے بڑے بھائی کو کھو دیا صفجیی )

4- قرجہ حصار قلعہ کا افتتاح (سیریز میں دکھایا گیا کہ ارطغرل نے اسے فتح کیا لیکن سچ یہ ہے کہ عثمان ہی نے اسے تاریخی طور پر فتح کیا)

ان پے در پے فتوحات اور فتوحات کے بعد سلجوق سلطان نے انہیں "بک" کا لقب دیا

اور ایک اور لقب دیا جو کہ "حضرت عثمان غازی المرزبان، سرحدی محافظ اعلیٰ عثمان شاہ" ہے

"سنہری جنگی خنجر اور طغ (شہزادوں کے سر پر پہنی جانے والی ٹوپی)، تلوار اور گلٹ، ایک چاندی کی زین، اور ایک لاکھ درہم، جو سلجوق وزیر عبدالعزیز نے اس کے پاس لے گئے تھے

فرمان میں یہ بھی شامل تھا

عثمان کے سلجوق سلطان نے اپنے زیر انتظام علاقوں میں جمعہ کے خطبہ میں عثمان غازی کا تذکرہ کیا جائے

سلجوق سلطان عثمان غازی کو اپنے نام کے سکے جاری کرنے کی اجازت بھی دی اور اسے Eskişehir نامی قلعہ تحفے میں دیا

اس سے عثمان کو بڑی طاقت ملی اور اس نے اپنی فتوحات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا:

6- گوینوک قلعہ فتح کیا

7- تراکلی قلعہ کی فتح

اس کے بعد سلجوقیوں کو کوسہ کوہ کی لڑائی میں

عبرتناک شکست ہوئی جس کی وجہ سے ان کی ریاست پر قبضہ ہو گیا

اور منگول گورنر "بیگو نویان" کو اناطولیہ کا گورنر مقرر کیا گیا (نویان نے بھی اس سلسلے کو دکھایا کہ وہ ارطغرل کا دشمن لیکن وہ تاریخی طور پر اس سے کبھی نہیں ملا)

اس کے بعد سلطان عثمان نے تین لشکر قلعوں کی طرف بھیجے:

8- پیلاجک، عبدالرحمن غازی کی قیادت میں

9- یار حصار کی قیادت غازی عثمان نے کی۔

10- اناگول کیسل جس کی قیادت ترگت غازی نے کی۔

انہوں نے اسی وقت انہیں فتح کر لیا اور اس کے بعد عثمان نے سلجوقی ریاست سے علیحدگی کا فیصلہ کیا

اور سلطنت عثمانیہ قائم کی اور پھر عثمان نے مزید فتوحات کین

11- کبروا حصار کا قلعہ فتح کیا

12- Yenişehir کیسل کا افتتاح (اپنا دارالحکومت اس میں منتقل کیا)

13- شہنشاہ اینڈرونیکوس دوم کی بھیجی ہوئی فوج کے خلاف باویوس کی جنگ، اور عثمان فتح یاب ہوا

14- ڈیمبوس کی جنگ دوبارہ شہنشاہ کی فوج سے ہوئی اور عثمان نے اسے جیت لیا۔

15- کیتا شہر فتح کیا
16- کسٹل شہر کی فتح
17- Loblog کا شہر کھولیں۔
18- لیفکا شہر کا افتتاح
19- مکجہ شہر کی فتح
20- جیوا شہر کی فتح
21- یاموکووا کی فتح
22- قلعہ اخیسر کی فتح

23- حرمانیکا قلعہ اس کے رہنما میخائل کوسس کے اسلام قبول کرنے کے بعد فتح کیا گیا

اور 30 ​​سال کی دشمنی کے بعد کوسس عثمان کے طاقتور ترین دوستوں میں سے ایک بن گیا

24- اورخان غازی نے سلطان عثمان کے حکم سے قلعہ قراغش کو فتح کیا

25- مدنیا شہر بھی عثمان کے حکم سے اورخان نے فتح کیا۔

26 - عثمان کے حکم سے اورخان کے ذریعہ اردنوس شہر کی فتح

27- اک یازی کیسل کا افتتاح
28- اکجاکوجا کیسل کا افتتاح
29- یالووا کی فتح

30- برسہ شہر کو 9 سال تک جاری رہنے والے محاصرے کے بعد عثمان کے حکم سے اورخان غازی نے فتح کیا

برسا عثمان غازی کی آخری فتح تھی

غازی عثمان نے طویل عرصے تک کائی قبیلے اور سلطنت عثمانیہ پر حکومت کی
اور لڑائیوں اور فتوحات میں طویل وقت گزارا

اللہ تعالیٰ سلطان عثمان غازی کے گناہ معاف کرے اور درجات بلند کرے،،،
✍️

ترک کون ہیں اور ترک لفظ کے کیا معانی ہیں!لفظ ترک کے معانی:"ترکستان کے ایک قبیلے کا نام ہے جس کی بڑی شاخیں تاتار و مغل ہی...
25/01/2024

ترک کون ہیں اور ترک لفظ کے کیا معانی ہیں!

لفظ ترک کے معانی:
"ترکستان کے ایک قبیلے کا نام ہے جس کی بڑی شاخیں تاتار و مغل ہیں اور ان کی زبان معین ہے (انجمن آرا)"

"ترک ایک قوم کا نام ہے جو کہ ترک نامی شخص سے منسوب ہے جو حضرت نوح کی نسل میں سے تھا" (غیاث اللغات)
"کہتے ہیں کہ ترک قوم یافث بن نوح کی اولاد سے ہیں" (برھان)

لفظ ترک کے نام پر تاریخ میں پہلی سلطنت چھٹی صدی عیسوی میں "گوک ترک حکومت" کے نام سے ملتی ہے جس میں بدوی ترکوں نے ایک مضبوط و عظیم سلطنت قائم کی جو مغلستان اور شمالی چین کی سرحد سے بحر اسود تک مشتمل تھی" (تاریخ طبری جلد 1 صفحہ 895-896)
لفظ ترک کے لغوی معنی خود ٹوپی کے ہیں (لوہے کی ٹوپی جو ھنگام جنگ میں پہنی جاتی ہے) (فرھنگ رشیدی) (فرھنگ جھانگیری)

ترکستان میں ایک دریا کا نام بھی ہے جو کہ سیحون میں بہتا ہے (سرزمین ہائے خلافت شرقی)

ترک دنیا کی بڑی اور قدیم اقوام میں سے ایک ہیں جن کا مرکز سنٹرل ایشیا اور منگولیا تھا. موجودہ زمانے میں ترک اقوام ایشیا, یورپ, امریکا اور افریقا کے مختلف حصوں میں آباد ہیں جن میں سے چند ممالک درج زیل ہیں
ترکمنستان,مغولستان، چین، روس ,قرقیزستان، قزاقستان، ازبکستان، تاجیکستان،پاکستان, افغانستان، ایران، جمهوری آذربایجان، عراق، ترکی، قبرس، یونان، بلغاریہ, رومانیہ, سوریہ, لیبیا, مصر, امریکا وغیرہ..

ترکوں کے بارے میں احادیث:

اتْرُکُوا التُّرْکَ مَا تَرَکُوکُمْ (حدیث ابوداود )
ترکوں کو نہ چھیڑو جب تک وہ تمہیں نہ چھیڑیں.."
حضرت محمود قاشغری رقم طراز ہیں کہ
"میں نے بخارا کے ایک ثقہ عالم اور نیشاپور کے امامان وقت سے سنا ہے جو کہ دونوں سلسلہ روایت سند کے ساتھ رسول اللہ ص سے ایک حدیث روایت کرتے ہیں جس میں اوغوز ترکوں کے خروج کا زکر ہے .. یوں بیان کرتے ہیں
" ترکوں کی زبان سیکھو کیونکہ ان کی قسمت میں مدت دراز کی حکمرانی لکھ دی گئی ہے" (دیوان اللغت الترک)

امام شیخ زاھد حسین بن خلف کاشغری متعدد واسطوں سے رسول اللہ ص سے روایت کرتے ہیں کہ
"اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہ میرا ایک لشکر ہے جس کا نام ترک رکھا ہے ان کا مسکن مشرق کی زمین ہے اور جس قوم پر خشمگین ہوتا ہوں ان پر یہ لشکر مسلط کر دیتا ہوں"

خلافت عباسیہ کے وجود میں آنے میں بھی خراسانی ترکوں کا ہی مرکزی کردار تھا, یہی وجہ تھی کہ مامون الرشید نے دارالخلافہ خراسان کے مرو ( merv) شہر منتقل کیا, بعد ازاں عباسیوں نے ترک سپاہیوں کے لیے سامرا کے نام سے بغداد کے قریب الگ شہر بسایا اور تخت سلطنت بھی وہیں منتقل کیا..
ایک روز خلیفہ معتصم باللہ نے از رہ مزاح درباری نجومیوں سے سوال کیا کہ "میری موت کب اور کس وقت ہوگی, پیشنگویی کرو!!"
درباریوں نے کہا "جس وقت ترک سپاہی چاہیں"

یہ وہی ترک قوم ہے جس نے دائرہ اسلام میں آنے کے ساتھ ہیں عظیم ترین اسلامی سلطنتوں کی بنیاد ڈالی جو کہ ہزاروں سال اسلام کا جھنڈا عالم میں لہراتی رہیں, چند ترک سلطنتیں
سلطنت غزنویہ
سلجوقی.
سلطنت و خلافت عثمانیہ
تیموری
خوازرم شاھی
سلطنت بابری ھندوستان
دہلی سلطنت
اور ایسے ہیں سینکڑوں ...

تحقیق : از قلم رحمت اللہ ترکمن.

 #خانخان ترک زبان کا لفظ ھے اور ترک قوم کا لقب ھے !!! اور یہ خان کا لفظ ہزاروں سال سے ترک قوم کی ہر شاخ میں استعمال ہوتا...
25/01/2024

#خان
خان ترک زبان کا لفظ ھے اور ترک قوم کا لقب ھے !!!

اور یہ خان کا لفظ ہزاروں سال سے ترک قوم کی ہر شاخ میں استعمال ہوتا آرہا ہے..
لیکن آجکل جس کسی کے پاس بھی چار پیسے آجایں وہ اپنے آپ کو خان کہنے لگتا ہے اور عام لوگ کسی بھی راہ چلتے انسان کو بغیر سوچے سمجھے "خان صاحب" کہہ کر مخاطب کرلیتے ہیں...
خان کا لفظ کسی زمانے میں بہت عظمت اور بلندی کی نشانی ہوتی تھی اور یہ منصب صرف سلطان , رووساء یا فوج میں کوی خاص کام سرانجام دینے والوں کے لیے مختص تھا ( جیسے ہمایون کے زمانے میں سپہ سالار "بیرم ترکمن" کو بیرم خان کا لقب دیا گیا اور اکبر کے زمانے میں جسطرح اس نے مغلیہ سلطنت کی حفاظت کی , اسے "خان خانان" کہا جانے لگا) الغرض یہ لقب حاصل کرنے کے لیے بہت محنت کی ضرورت ہوتی تھی ..لیکن جسطرح خان لفظ کا لاپرواہی سے ہر جگہ استعمال ہورہا ہے اور خالص ترکوں کے لقب کو افغان, پٹھان و دیگر قومیں کثرت کے ساتھ استعمال کر رہی ہیں , یہ لمحہ فکریہ ہے , اپنے لقب کو عزت دیں اس کی حفاظت کریں اور یہ پیغام سب کے ساتھ share, کریں..

از قلم ; رحمت اللہ ترکمن....

25/01/2024

محمد بن قاسم: (Muhammad Bin Qasim)
{حصہ اول ~ تمہید}

"محمد بن قاسم" اسلامی تاریخ کا کم عمر ترین جرنیل ہے جس نے ہندوستان پر پہلا کامیاب حملہ کیا. ہندوستان پر حملہ کرتے وقت آپ کی عمر سترہ (17) سال تھی. اور آپ نے اس کم سنی میں بھی کوئی جنگ نہیں ہاری. وہ ایک ایسا ستارہ تھا جو کچھ دیر کے لیئے اتنا چمکتا ہے کہ ساری دنیا کی نظریں اپنی طرف موہ لیتا ہے. اس نے ہندوستان کو اسلام کے نور سے روشن کیا. پھر وہ بہت اپنوں کے ظلم کی بھینٹ چڑھ گیا. محمد بن قاسم کی کہانی جتنی شاندار ہے. آخر میں اتنی ہی دردناک بھی ہے.

طائف شہر:
اگر آپ رسول ﷲ ﷺ کی زندگی کے مشہور واقعات پڑھ چکے ہیں تو آپ کو یاد ہو گا کہ جب نبی کریم ﷺ نے تبلیغِ اسلام کے سلسلے میں طائف کا سفر کیا تو طائف والوں نے بہت برا سلوک کیا. آپﷺ پر پتھر برسائے. حضرت جبرائیل علیہ السلام پہاڑوں کے فرشتے کے ساتھ تشریف لائے. آپ ﷺ سے کہا گیا کہ اگر حکم ہو تو ہم اس بستی والوں کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس دیا جائے. ہمارے آقا ﷺ تو رحمت اللعالمین بن کر آئے تھے. آپﷺ نے بد دعا نہیں دی. حضورﷺ نے فرمایا: جس کا مفہوم کچھ یوں ہے, "کہ یہ لوگ مجھے نہیں جانتے مگر ان کی نسلیں اسلام کا نام روشن کریں گی".
حضورﷺ کی بات کیسے غلط ہو سکتی تھی.
18 شوال 8 ہجری (بمطابق 5 فروری 630ء) میں جب نبی کریم ﷺ نے طائف کا محاصرہ کیا تو طائف ناقابل فتح بن گیا. مسلمان حنین اور اوطاس کے خون ریز معرکے لڑنے کے بعد طائف کے محاصرے کے لیئے آئے تھے. مالک بن عوف جو کہ قبیلہ ثقیف کا سردار تھا. اس نے اس فتح کو ناممکن بنا دیا. مگر جب مسلمان طائف کا محاصرہ اٹھا کر واپس جانے لگے تو مالک بن عوف نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا. یوں طائف میں اسلام کی جھلک نمودار ہوئی. اور اسی طائف شہر میں محمد بن قاسم پیدا ہوا جس نے ہندوستان میں اسلام کی شمع روشن کر دی.

خلافتِ بنو امیہ اور حضرت عبدﷲ بن زبیر:
یہ اس دور کا ذکر ہے کہ جب مسلمان خانہ جنگی کا شکار تھے اور یہاں تک کہ خلافت کے دو حصے تھے. ایک بنو امیہ کی خلافت تھے. جس کے خلیفہ اس وقت عبدالملک بن مروان تھے. اور ادھر حضرت عبدﷲ بن زبیر رضی ﷲ تعالی عنه نے اپنی خود مختار حکومت عراق اور حجاز میں قائم کر لی تھی. اور آپ نے اموی خلافت کو ماننے سے انکار کیا تھا. آپ نے یزید کی خلافت کو بھی تسلیم نہیں کیا تھا. حضرت عبدﷲ بن زبیر رضیﷲ عنه کے بارے میں بتاتا چلوں کہ آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ تعالی عنه کے نواسے تھے. اور ان کی بڑی بیٹی (حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا کی بڑی بہن) حضرت اسماء رضی ﷲ عنہا کے بیٹے تھے.

حجاج بن یوسف:
حجاج اور قاسم دو بھائی تھے. حجاج بن یوسف اور قاسم بن یوسف. دونوں پہلے اموی فوج میں سپاہی تھے. حجاج کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اسے فوج کی کمان دی گئی. حجاج نے پہلے عراق اور پھر حجاز پر حملہ کیا. حجاج اپنی سختی اور بے رحمی کی وجہ سے مشہور ہوا. اس نے حضرت عبدﷲ بن زبیر کے خلاف جنگ لڑی. مکہ کے محاصرہ کے دوران اس نے منجنیق سے سنگ باری کروائی. اور کچھ پتھر یہاں تک کہ خانہ کعبہ کو بھی لگے. اور اس کی عمارت کو نقصان پہنچا. بہرحال خون ریز جنگ کے بعد حجاج نے مکہ فتح کیا. حضرت عبدﷲ بن زبیر رضی ﷲ عنه نے مقصد کی خاطر لڑتے ہوئے جان دے دی. حجاج نے ظلم کی انتہا یہ کی کہ ان کی لاش کی بے حرمتی کی اور اس کے حصے کر کے چوراہے میں لٹکائی.
اس جنگ میں حجاج بن یوسف کے بھائی قاسم بن یوسف بھی لڑتے ہوئے مارے گئے. بہرحال حجاج کو اس فتح کے بعد حجاز کا گورنر بنا دیا گیا. (کچھ عرصہ بعد عراق, مکران کا گورنر بھی بنا). حجاج ایک عام سپاہی سے خلیفہ کی نظروں میں کیسے آیا یہ ایک علیحدہ قصہ ہے. پھر کبھی کیا جائے گا. حجاج کو اعلی عہدہ ملنے کے بعد یہ اس کے ظلم و ستم کی ابتداء تھی. اس نے ظلم کی ایک وہ تاریخ رقم کی کہ اس کا ظلم ضرب المثل بن گیا. اس میں کوئی شک نہیں کہ حجاج بے حد ذہین اور جنگجو انسان تھا. وہ کرادر کا مضبوط اور رویے میں بہت سخت تھا.

محمد بن قاسم کی پیدائش:
محمد بن قاسم 695ء بمطابق 73 ہجری کو طائف کے شہر میں پیدا ہوا. آپ کے والد کا نام قاسم بن یوسف تھا. قاسم بن یوسف فوح میں ایک معمولی سپاہی تھا. قاسم کا ایک بھائی حجاج بن یوسف تھا. یوں کہنا چاہیئے کہ حجاج بن یوسف, محمد بن قاسم کا چچا تھا.
محمد بن قاسم کی پیدائش سے کچھ دن پہلے ان کے والد قاسم بن یوسف اس جنگ میں مارے گئے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے. یوں محمد بن قاسم یتیم پیدا ہوئے. آپ کا نام محمد رکھا گیا. اس وقت عرب لوگ باپ کا نام ساتھ لگاتے تھے اسے نسبت سے آپ کو محمد بن قاسم کہا جاتا ہے.
محمد بن قاسم کی پیدائش کے وقت غم کے بادل چھائے تھے کہ بچہ یتیم پیدا ہوا ہے. حجاج کو اطلاع ملی تو وہ فوراً طائف پہنچا. اس نے محمد کو دیکھ کر کہا: "اس کا باپ دنیا سے چلا گیا ہے مگر اسے کبھی یتیم نہ سمجھنا, میں زندہ ہوں". بعد میں حجاج نے محمد کی تعلیم و تربیت کا بہت عمدہ انتظام کیا. جنگی تربیت بچپن سے دی جانے لگی.

راجہ داہر اور سندھ کی صورتحال:
سندھ کی راج دھانی پر ایک ہندو راجہ تخت نشین ہوا. اس کا نام داہر تھا. اس وقت سندھ دو حصوں میں بٹا تھا. ایک اروڑ تھی اس پر راجہ داہر کی حکومت تھی اور دیبل (موجودہ شہر کراچی) بھی اسی میں آتا تھا. سندھ کا دوسرا حصہ برہمن آباد تھا. یہاں پر راجہ داہر کے چھوٹے بھائی دہر سینہ کا قبضہ تھا.
کہا جاتا ہے کہ راجا داہر نے اپنی بہن سے شادی کر رکھی تھی. اس کی بہن کا نام مائیں رانی تھا. اس شادی کے پیچھے اسباب اس طرح سے ہیں کہ راجہ داہر جب تخت نشین ہوا تو کچھ پنڈتوں نے اسے کہا کہ تمہاری بہن کی شادی جس سے ہو گی وہ تمہارے تخت پر قبضہ کر لے گا. اس کے علاوہ مائیں رانی کے نام بے شمار دولت اور جائیداد تھی جو اس کے شوہر کو ملنے والی تھی. راجہ داہر نے اسی خوف سے اپنی بہن سے شادی کی.
سندھ کے علاقے میں اس وقت مسلمان موجود تھے. پانچ سو مسلمان سندھ میں پناہ گزین تھے. یہ وہ مسلمان تھے جو باغی قرار پانے کے بعد سندھ بھاگ آئے تھے.
اس کے علاوہ مسلمان جہاز ران تجارت کی غرض سے سفر کرتے تھے. رسول ﷲ ﷺ کی زندگی میں اسلام مالا بار تک پہنچ چکا تھا. مالا بار سے آگے سرا مدیپ (موجودہ سری لنکا) تھا. وہاں مسلمان تاجر اور جہاز ران پہنچے. وہاں کے لوگ مسلمانوں کے سلوک سے متاثر ہوئے. پھر جب مسلمانوں نے تبلیغ شروع کی تو کافی لوگ مسلمان بھی ہوئے. یہاں تک کے سرا مدیپ کے راجہ نے بھی اسلام قبول کیا. کچھ عرب مسلمان وہیں آباد ہو گئے.
اس کے علاوہ 500 مسلمان جو کہ بھاگ کر راجا داہر کی پناہ میں آئے. ان کا تذکرہ پچھلی پوسٹ میں کیا جا چکا ہے.

خاتون کی فریاد اور سندھ پر حملے کی اصل وجہ:
حجاج کی اصل میں پہلے بھی خواہش رہی تھی کے مرنے سے پہلے سندھ فتح ہو. ایک تو وہاں کا سمندری راستہ محفوظ نہیں تھا. مسلمانوں کے قافلے اور بحری جہاز لوٹے جاتے تھے. اسے محفظ بنانا چاہتا تھا. لیکن خلیفہ ولید بن عبدالملک حجاج کو حملے کی بالکل اجازت نہیں دے رہا تھا. پھر ایک واقعہ ہوا جس نے حجاج کو مجبور کیا کہ وہ خلیفہ کو حملے کے لیئے ہر صورت آمادہ کرے.
ایک شخص حجاج کے محل کے بار فریاد کرتا ہوا آیا. حجاج نے شور سن کر اندر بلا لیا. اس شخص کے مطابق وہ سرا مدیپ (موجودہ سری لنکا) کے علاقے سے آیا ہے. وہ کہنے لگا کہ "یا حجاج سندھ کے قزاقوں نے قافلے لو لوٹ لیا ہے. وہ قزاق قیدی مسافروں کو راجہ کے محل لے گئے ہیں. میں عرب کی ایک مسلمان بیٹی کی فریاد لایا ہوں".
یہ واقعہ کچھ یوں ہوا تھا کہ سرا مذیپ میں مسلمانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی. وہاں کا راجہ مسلمانوں کے اخلاق و کرادر سے متاثر تھا اور وہ چاہتا تھا کہ مسلمانوں کے خلیفہ سے دوستی کرنی چاہیئے. اس نے آٹھ بحری جہاز روانہ کیئے جن پر خلیفہ کے لیئے تحفے وغیرہ تھے. ان جہازوں میں گھوڑے اور جانور وغیرہ بھی تھے. یہ جہاز اصل میں قافلوں کے ساتھ جا رہے تھے. اس میں مسلمان تھے جو سرامذیپ سے عرب جا رہے تھے. ان میں تاجر تھے جو عرب سے ان علاقوں میں جاتے رہتے تھے. اور ان میں کچھ عمرہ حج کی نیت سے سفر کر رہے تھے. اور بہت سے مسافروں کے ساتھ ان کا خاندان بھی تھا. بیویاں اور بچے موجود تھے. جب جہاز سندھ کے ساحل سے بہت پیچھے تھے کہ موسم بگڑ گیا اور خراب موسم کے باعث جہاز سندھ کے ساحل کے پاس پہنچ گئے حالانکہ وہاں سے گزرنا مقصود نہیں تھا. ابھی موسمی طوفان سے نبٹے تھے کہ قزاقوں نے حملہ کیا. سب کچھ لوٹ لیا. سامان تو قیمتی تھا. ساتھ میں مسافروں کو بھی قید کیا گیا. کچھ قتل ہوئے. قیدیوں میں خواتین اور بچے بھی تھے. سب قیدیوں کو دیبل راجہ داہر کےطقید خانے لے جایا گیا. تو اصل میں راجہ داہر قزاقوں کی پشت پناہی کرتا تھا.
اس خستہ حال مسافر نے حجاج کو سارا حال سنایا اور کہا:
"وہ عرب کی ایک جوان بیٹی ہے حجاج..! میں اس کا نام نہیں جانتا وہ بنی یربوعہ (قبیلے) کی خاتون ہے. جب مسافروں پر کوڑے برسائے جا رہے تھے اور قیدیوں کو ہانک کر لے جایا جا رہا تھا تو وہ خاتون رک گئی اور ہاتھ اٹھا کر زور زور چلائی.. 'یا حجاج, اغثنی..! یا حجاج اغثنی..!' (اے حجاج میری مدد کو پہنچو, اے حجاج میری مدد کو پہنچو)" .
حجاج جیسا بھی تھا. اس نے یہ الفاظ سنے تو اپنی نشست سے اٹھ کھڑا ہوا. اور بلند آواز میں بولا.. "لبیک.. لبیک".. یعنی میں حاضر ہوں. میں حاضر ہوں.
مؤرخ بلازری نے اس عورت کا نام نہیں لکھا. صرف اتنا لکھا ہے کہ وہ یربوعہ قبیلے کی تھی. لیکن ہمارے ہاں مشہور ہے اور ناول نگاروں نے اس خاتون کا ایک نام "ناہید" لکھا ہے لیکن یہ ناہید نام تاریخی کتب میں نہیں ملتا.

حجاج کا راجہ داہر کو خط:
ہم جیسا کہ پچھلی پوسٹ میں بتا چکے ہیں کہ مکران اس وقت تک اسلامی سلطنت کا حصہ تھا. جب یہ واقعہ ہوا تو اس وقت "محمد بن ہارون بن زاری نمری" مکران کا گورنر تھا. جسے حجاج نے ہی گورنر بنا کر بھیجا تھا.
حجاج نے ایک خط راجہ داہر کے نام لکھا. اس نے لکھا کہ اس نے عرب جو مسافر قید کیئے ہیں انہیں باعزت آزاد کرے اور انہی جہازوں میں واپس بھیجے. جن عورتوں اور بچوں کو تکلیف دی گئی ہے اس کا تاوان ادا کرے.
حجاج نے اس خط پر خلیفہ کی مہر لگوانے کی بجائے خط اپنی مہر سے ہی روانہ کیا. خط پہلے مکران کے گورنر تک بھیجا. مکران کے حاکم محمد بن ہارون کو کہا اپنے کسی اعلی افسر کے ہاتھ خط باحفاظت داہر کے پاس بھیجے. اور راجہ کو رہائی کی درخواست نہیں کرنی بلکہ اسے کہنا ہے اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ مسافر سامان سمیت آزاد کر دے ورنہ اس کے لیئے اچھا نہیں ہو گا.
حجاج کو راجہ داہر کا جواب کچھ عرصے بعد آ گیا. اس نے کہا کہ مسافروں کو سندھ کے بحری قزاقوں نے لوٹا ہے. ان پر اس کا کوئی اختیار نہیں. ان پر اس کا کوئی قانون نہیں چلتا.
مشہور مؤرخ محمد قاسم فرشتہ لکھتا ہے کہ راجہ نے دراصل یہ کہا تھا کہ جس قوم نے تمہارے مال کو لوٹا ہے وہ قوت اور طاقت رکھنے والی قوم ہے. تم سوچو بھی مت کہ تم ان سے اپنا مال اورسافر واپس لے سکو گے. فرشتہ لکھتا تھا کہ راجہ داہر کے ان الفاظ کا صاف مطلب تھا کہ تمہارے جہاز ہم نے لوٹے ہیں. اور تم ہمارہ کچھ نہیں بگاڑ سکتے.

حجاج اب سندھ پر حملے کے لیئے بہت بے چین تھا. اس نے خلیفہ کو حملے کا کہا مگر اجازت نہ ملی. حجاج نے کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اتنی دور حملے میں اخراجات آئیں گے تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ سندھ پر حملے کے بعد جتنی رقم لگے گی. اس سے دوگنی خزانے میں جمع کرواؤں گا. خلیفہ نے حملے کی اجازت دے دی.

سندھ پر پہلہ حملہ:
خلیفہ کی اجازت ملتے ہی حجاج نے اس فوج کو کوچ کا حکم دیا جو اصل میں پہلے سے تیار تھی. اس فوج کا سپہ سالار عبد ﷲ بن نہان تھا. کوچ بہت تیز تھا. عبدﷲ بن نہان کا لشکر جلد ہی دیبل پہنچ گیا. لیکن اس لشکر کو شکست ہو گئی. اس کی وجہ یہ تھی کہ دیبل کی جنگی طاقت کا اندازہ ہی نہیں کیا مسلمانوں نے اور جلد بازی کا مظاہرہ کیا. دوسری بات سپہ سالار عبدﷲ بن نہان پہلے ہی دن شہید ہو گئے. لشکر میں کھلبلی مچ گئی اور اس سے راجہ داہر کی فوج نے فائدہ اٹھایا اور قلعے سے باہر آ کر لڑی. مسلمان پسپا ہو گئے. مؤرخین لکھتے ہیں کہ عبدﷲ بن نہان بہت بے جگری اور بہادری سے لڑے. لیکن آپ جلد شہید ہو گئے.

سندھ پر دوسرا حملہ:
حجاج نے یہ چوٹ برداشت کی اور فوری طور پر دوسرا لشکر تیار کرنا شروع کیا. اس دفعہ حجاج نے بدیل بن طہفہ کی قیادت میں لشکر بھیجا. اس لشکر کو دو جنگیں لڑنا پڑیں. ایک دیبل سے کچھ فاصلے پر لڑی. وہاں پر اتنی شدید جنگ ہوئی. مسلمان لشکر بے حد تھک گیا. مگر یہاں وہ جیتے ابھی وہ دیبل کی طرف بڑھ ہی رہے تھے کہ ایک دوسرا لشکر جس کی کمان راجہ داہر کا بیٹا کر رہا تھا, اس سے ٹکراؤ ہو گیا. مسلمان لشکر بہت بے جگری سے لڑا. مگر ہندو فوج زیادہ ہونے کےساتھ اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار تھی. اور اس لشکر میں ہاتھی بھی تھے. مسلمانوں کو بری شکست ہوئی اور سپہ سالار بدیل بن طہفہ بھی شہید ہو گئے.

جاری ہے.....!

25/01/2024

قرنطیہ(Quarantine) مسلمان سائنسدان کی ایجاد اور مسلمان سائنسدانوں کے دیگر کارنامے:

آج کے دور میں کورونا کے مریضوں کی علیحدگی(Isolation) اور قرنطیہ(Quarantine) جیسی اصطلاحات کو ہم لوگ روزانہ کی بنیاد پر سن رہے ہیں. اگر تاریخ کو اٹھا کر دیکھا جائے تو سب سے پہلے یہ کام مسلمان ماہرِ طب اور سائنسدان "ابنِ سینا" نے کیا.

ابنِ سینا کو "بو علی سینا" بھی کہا جاتا ہے. آپ انگریزی زبان میں "Avicenna" کے نام سے بھی مشہور ہیں. آپ نے طب پر بے شمار کتب لکھی ہیں.

ابن سینا نے گیارویں صدی میں ایک پھیلنے والی بیماری سے بچنے کے لئے ایک طریقہ نامزد کیا۔ انہوں نے اس میں 40 دن کے لیئے سماجی فاصلے (Social Distance) کو فروغ دیا. جس میں چالیس دن کے لیئے لوگ محدود اور مریض علیحدہ کیئے گئے.

اس طریقہ کو ابنِ سینا نے "العربینیہ" (چالیسواں) کہا ، ابتدائی وینیشیا کی زبان میں اس کا ترجمہ "Quarantine" کیا گیا.

"جذام" کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے تمام مسلمان ممالک کے اسپتالوں میں قرنطیہ ایک لازمی عمل تھا، یہ ایک متعدی بیماری ہے جو جلد کے زخموں کو بدنما کرنے کا سبب بنتی ہے۔

بیماریوں کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لئے قرنطین کے استعمال کے لئے پہلے دلائل ابن سینا کی کتاب "قانون فی الطب" (Canon of Medicine) میں شائع ہوئے، جس میں ایک پانچ جلدوں کا طبی انسائیکلوپیڈیا مرتب کیا گیا تھا.

چودہویں اور پندرھویں صدیوں میں "کالی موت طاعون" (Black Death Plauge) کے دوران اور اس کے بعد، خاص طور پر وینس کے مقامات میں اور یورپ میں قرنطیہ کا رواج عام ہوگیا۔ اصطلاح "قرنطینا" نے چالیس دن کی مدت متعین کی تھی کہ مسافروں اور عملے کے ساحل جانے سے پہلے ہی تمام جہازوں کو الگ تھلگ کیا جاتا تھا.

اسلامی دنیا میں صابن کا استعمال:

عالمی سطح پر COVID-19 پھیلنے کے آغاز سے ہی صابن کو ایک نجات دہندہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے، اور ماہرینِ صحت اینٹی بیکٹیریل صابن سے باقاعدگی سے ہاتھ دھونے کی اہمیت پر زور دے رہے ہیں.

اگرچہ 2800 قبل مسیح میں صابن جیسے مادے کے استعمال کی موجودگی کے ثبوت موجود ہیں، لیکن باتھ روم کے صابن کی ٹکیا جو آج ہم جانتے ہیں کہ پہلی بار دسویں صدی عیسوی کے دوران مشرقِ وسطی میں تیار کیا گیا تھا، ہمارے عروج کے ابتدائی ایام, جس کو عام طور پر اسلامی دنیا کا سنہری دور کہا جاتا ہے۔

مسلمان معالج، کیمیا دان ، اور فلاسفر "ابوبکر محمد بن زکریا الرازی" (854-925)، جو مغرب میں Rhazes یا Resis کے نام سے مشہور ہیں، آپ نے صابن سازی کی متعدد ترکیبیں بیان کیں۔

ترکیبیں سب سے پہلے شام میں استعمال ہوئیں جو کہ عالم اسلام کے دوسرے حصوں اور یورپ میں صابن کے ایک بڑے برآمد کنندہ کے طور پر مشہور تھا۔ تیرہویں صدی تک، صابن کی پیداوار مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے خطے میں پھیل گئی.

25/01/2024

کیا آپ جانتے ہیں کہ تصویر میں نظر آنے والی کمان کن ہستی سے منسوب ہے؟
یہ کمان حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے.
یہ مدینہ منورہ کے حجاز ریلوے میوزیم میں رکھی گئی ہے
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا اصلی نام سعد بن مالک تھا.
آپ رضی اللہ عنہ 595ء میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے،اور آپ رضی اللہ عنہ آنخضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ننھیالی رشتہ دار تھے.
بچپن ہی سے آپ رضی اللہ عنہ بتوں سے بیزار تھے، نزول وحی کے ساتویں روز حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ کے ترغیب دلانے پر سترہ سال کی عمر میں آپ رضی اللہ عنہ مشرف بااسلام ہوئے اور پھر عمر بھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے محافظ کے خصوصی فرائض سرانجام دئیے، آپ رضی اللہ عنہ کا شمار عشرہ مبشرہ کے صحابہ میں ہوتا ہے.

آپ رضی اللہ عنہ ایک مالدار اور اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور اپنے ماں باپ خاص طور پر اپنی والدہ کے بہت قریب تھے، آپ رضی اللہ عنہ کا ذیادہ وقت تیر اور کمان بنانے اور اس کی مرمت میں گزرتا تھا، آپ رضی اللہ عنہ پستہ قد ہونے کے باوجود ایک مضبوط جسم کے مالک تھے اور تیر اندازی میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے، اسلام کی خاطر سب سے پہلے کسی کافر کا خون بہانے کا شرف آپ رضی اللہ عنہ ہی کو حاصل ہے.

آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر، احد، احزاب، خیبر اور حنین میں اپنی بہادری کے جوہر دکھائے، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِخلافت میں آپ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں قادسیہ کے مقام پر مسلم اور ایرانی لشکر کا ٹکڑاو ہوا سلطنتِ فارس کو شکست ہوئی جوکہ سلطنتِ فارس کے دائمی زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوئی اور آپ رضی اللہ عنہ کو فاتح ایران کا لقب دیا گیا.
خلیفہ وقت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو چین میں اپنا سفیر بنا کر بھیجا اور چین میں اسلام کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا، چین کی سب سے قدیم مسجد ہوائ شینگ مسجد(Huaisheng Mosque) کی تعمیر آپ رضی اللہ عنہ سے منسوب کی جاتی ہے، تاہم جدید تاریخ دانوں کو آپ رضی اللہ عنہ کے دورہ چین کے بارے میں اختلاف ہے.

674ء میں اسی سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا اور آپ رضی اللہ عنہ کو جنت البقیع میں سپرد خاک کیا گیا...

حوالہ جات :
The story of a man who accepted Islam in its early days and
A history of Muslims in northwest China by Lipman, Jonathan Neaman 1997

25/01/2024

کیا آپ کو معلوم ہے کہ,
سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں رمضان کے مقدس مہینے کی شروعات بیت المقدس کے مینار سے توپ کی سلامی سے کی جاتی تھی.

ذیرنظر تصویر سلطنتِ عثمانیہ کے آخری خلیفہ سلطان عبدالحمید خان دوم کے دور میں اِسی روایت پر عملدرآمد کی ایک یادگار ہے.

Source: Lost Islamic History O Clock

25/01/2024

سلطنتِ عثمانیہ میں یافا کلاک ٹاور (Yafa Clock Tower) سلطان عبد الحمید دوم کے دور کی یاد دلانے کے لئے 1900ء میں فلسطین میں تعمیر کیا گیا۔

اگرچہ یہ 1948ء میں اسرائیلی کنٹرول میں آگیا ، لیکن سلطان عبد الحمید دوم کا تغرہ اب بھی ٹاور کی دوسری کھڑکی کے اوپر دیکھا جاسکتا ہے۔

25/01/2024

کیا آپ رِباط کے بارے میں جانتے ہیں؟؟

رباط سے مراد ایسے چھوٹے چھوٹے مضبوط قلعے ہیں جو شمالی افریقہ میں مسلمانوں کی فتح کے چند سالوں میں سرحد کے ساتھ ان فوجیوں اور رضاکاروں کے رہنے کے لئیے تعمیر کیے گئے جو شمالی افریقہ میں جہاد میں سرگرم تھے اور ان رباط میں رہنے والوں کو مرابِطون کہا جاتا تھا

اگرچہ یہ قلعے سرحدوں کی حفاظت کے لیے استعمال ہوتے تھے لیکن آہستہ آہستہ یہ تجارتی راستوں کی حفاظت اور دور دراز کی مسلم آبادیوں کی حفاظت کے لیے استعمال ہونے لگے

سب سے پہلا رباط آٹھویں صدی میں تعمیر کیا گیا اور یہ ان مجاہدوں اور رضاکاروں کے لیے تعمیر کیا گیا جنہوں نے خود کو دارالسلام کی حفاظت کے لیے وقف کر دیا
مشرقِ وسطی میں رباط کو خانقاہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ رباط سرائے اور ہاسٹل کے طور پر استعمال ہونے لگے جہاں مسافر سستانے کے لیے رکتے
پھر ان رُبُط کا ایک بہت بڑا مقصد تصوف کے تعارف کے ساتھ ذیادہ پُرامن استعمال کی طرف مبذول ہو گیا. صوفی حضرات رباط کو ذکر اور اسلام کے علم کے پھیلاؤ کے لیے استعمال کرنے لگے اور دوردراز سے لوگ شیخ حضرات سے اسلام کا علم حاصل کرنے کے لیے آنے لگے
لہذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ افریقہ میں اسلام کے پھیلاؤ کا موقع انہی رُبُط کی وجہ سے ملا

تصاویر میں مشہور رباطِ مالک اور رباطِ شرف دیکھے جا سکتے ہیں

دنیا کی سب سے قدیم یونیورسٹی :کئی سو سال پہلے جب یورپ میں جہالت کا دور دورہ تھا تب مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ علم کی ر...
25/01/2024

دنیا کی سب سے قدیم یونیورسٹی :

کئی سو سال پہلے جب یورپ میں جہالت کا دور دورہ تھا تب مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ علم کی روشنی سے جگمگا رہے تھے. خلافتِ عباسیہ (750-1258) کے ماتحت مراکش کے ساحلوں تک یہ پورہ خطہ مختلف ثقافتوں اور روایات کا گھر رہا ہے..
اِسی دور میں جسے اسلام کا سنہری دور کہا جاتا ہے ایک نوجوان لڑکی فاطمہ الفحری نے کروئین یونیورسٹی (Karueein University) قائم کی. اقوامِ متحدہ، گینز ورلڈ ریکارڈ، مانچسٹر یونیورسٹی پریس اور دیگر بااعتماد ذرائع کے مطابق مراکش کے شہر فیز (Fez) میں قائم کروئین یونیورسٹی دنیا کی سب سے قدیم یونیورسٹی ہے جو آج بھی زیر استعمال ہے

آکسفورڈ، کیمبرج، بولونہ اور کولمبیا یونیورسٹی جیسے معتبر ادارے بھی اس کے کم از کم آٹھ سو سال بعد وجود میں آئے
فاطمہ الفحری 800ء میں تیونس میں پیدا ہوئیں. وہ ایک دولت مند خاندان کی وارث تھیں. جو سائنس، منطق اور استدلال کی طاقت پر یقین رکھتی تھیں.وہ اپنے والد کی وفات کے بعد ایک بہت بڑی جائیداد کی وارث بنیں اور اس زمانے کے مشہور شہر فیز چلی گئیں جہاں انہوں نے اپنی دولت کا بڑا حصہ مسجد اور یونیورسٹی کی تعمیر پر لگایا. الفحری نے اس یونیورسٹی کی تعمیر کا آغاز 859ء میں کیا اور رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اس کا سنگِ بنیاد رکھا

آج کی جدید یونیورسٹیوں کی طرح کروئین یونیورسٹی نے بھی وقتاً فوقتاً مباحثوں کی میزبانی کی اور مرکزی اور بیرونی احاطوں میں کئی لائبریریاں رکھیں
یہ تاریخی لائبریری آج بھی عام عوام کے لئے کھلی ہے اور فاطمہ الفحری کا اصلی ڈپلومہ ایک لکڑی کے تحتے کے اوپر اس لائبریری میں آویزاں کیا گیا ہے
چودھویں صدی کے مشہور تاریخ دان ابنِ خلدون کا لکھا گیا مشہور متن "المقدمہ" بھی اسی لائیبریری میں رکھا گیا ہے
بیسویں صدی کے آخر تک اس یونیورسٹی کا زوال شروع ہو چکا تھا اور حالیہ برسوں میں کسی نے بھی اسے بچانے کے لیے کام نہیں کیا. لیکن چند برس قبل مراکش کی حکومت نے اسے اس کی اصل حالت میں لانے کا کام شروع کیا ہے
فاطمہ الفحری کی یہ کاوش اب بھی لوگوں کو متاثر کرتی ہے. عبدالمجید المادری کے مطابق جو اس کمپاؤنڈ کی قدیم جامعہ کے امام ہیں

"فاطمہ الفحری ایک وژنری تھی. اس نے ایک بہت بڑی میراث چھوڑی ہے. یہ عمارت سائنس کے ایک نظارے کی حیثیت سے کھڑی ہے. اس یونیورسٹی نے مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں پر بہت ذیادہ اثر ڈالا ہے"

بہت سے لوگ نہیں جانتے لیکن 29 مئی 1453ء کا دن اسلامی تاریخ میں ایک روشن باب کی حیثیت سے درج ہے. یہ ایک واقعہ ہے. اسلامی ...
25/01/2024

بہت سے لوگ نہیں جانتے لیکن 29 مئی 1453ء کا دن اسلامی تاریخ میں ایک روشن باب کی حیثیت سے درج ہے.
یہ ایک واقعہ ہے. اسلامی تاریخی واقعات میں سے ایک دلچسپ واقعہ:
اس کی شروعات ہوتی ہے اس اونٹنی سے جو ایک گھر کے آگے رکتی ہے وہ گھر ہے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا اور اونٹنی کے سوار ہیں حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم،

حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے ہیں اور ابھی ان کے وہاں رہنے کی جگہ طے نہیں. ہر کوئی یہ چاہ رہا ہے کہ حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم ان کے پاس ان کے گھر رہیں. ظاہر ہے کون نہیں چاہے گا. حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس آپ کے گھر رکیں، ذرا آنکھیں بند کر کے اس کا تصور کریں،
لیکن یہ گھر حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ہے جہاں حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم اگلے چھ ماہ قیام کریں گے تب تک جب تک پہلی مسجد اور اس کے ساتھ ان کا حجرہ تعمیر نہ ہو جائے.
لیکن آج کا موضوع بحث واقعہ اس دور کا نہیں، آپ جانتے ہیں کہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اللہ تعالیٰ نے لمبی عمر عطا فرمائی تھی. انہوں نے اسلام کے شروعاتی دن دیکھے. انہوں نے بدر اور احد کا میدان دیکھا. انہوں نے غزوہ خندق کا محاصرہ بھی دیکھا.
غزوہ خندق میں مسلمانوں کے لیے حالات بہت مشکل تھے،لیکن حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم پرامید تھے. مسلمان قریش کے خلاف ایک بہت بڑی خندق کھود رہے تھے اور ایک پتھر آ گیا تھا جو ٹوٹ نہیں رہا تھا.
حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم آئے اور اپنی کدال سے اس پتھر کو ایک ضرب لگائی اور فرمایا،
"اللہ اکبر، اللہ تعالیٰ نے مجھے شام کی چابیاں دی ہیں، میں یہاں سے اس کے سرخ محل دیکھ سکتا ہوں"
پھر آپ صل اللہ علیہ وسلم نے اس پتھر کو ایک اور ضرب لگائی، پتھر ایک تہائی ٹوٹا اور فرمایا،
"اللہ اکبر، اللہ تعالیٰ نے مجھے فارس کی چابیاں دی ہیں،میں یہاں سے مدیان کے سفید محل دیکھ سکتا ہوں"
جب انہوں نے تیسری بار ضرب لگائی تو پتھر مکمل ٹوٹ گیا اور فرمایا،
" اللہ اکبر، اللہ تعالیٰ نے مجھے یمن کی چابیاں دی ہیں،میں یہاں سے صنعاء کے دروازے دیکھ سکتا ہوں"
یہ ناممکن لگتا تھا، غزوہ خندق کی سختی میں مسلمان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے اور انہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ وہ آنے والا کل بھی دیکھ سکیں گے یا نہیں اور حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم انہیں آنے والی فتوحات کے بارے میں بتا رہے تھے.
جن کے دل میں شک تھا وہ تو ان الفاظ پر ہنس پڑے مگر جن کے دل میں ایمان تھا انہیں یقین ہو گیا کہ آج نہیں تو کل یہ فتوحات ضرور ہوں گی.
غزوہ خندق آئی اور اللہ کے اِذن سے گزر گئ. مسلمان ثابت قدم رہے.
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی زندگی میں فارس، شام اور یمن کی فتوحات دیکھیں.
لیکن ایک اور فتح کے بارے میں حدیث جو بہت سال پہلے انہوں نے حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی وہ ان کے دل میں گھر کر گئی تھی.اور وہ فتح تھی قسطنطنیہ کی.
"بےشک تم ضرور قسطنطنیہ فتح کرو گے،کیا ہی بہترین امیر ہو گا وہ اور کیا ہی بہترین لشکر ہو گا وہ"
بہت سال بعد، جب حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ بہت بوڑھے ہو چکے تھے، نوے سال سے اوپر عمر میں وہ اس فوج کا حصہ تھے جو قسطنطنیہ فتح کرنا چاہ رہی تھی.
قسطنطنیہ ایک بہت بڑا شہر تھا، وہ شہر جو آج تک فتح نہیں ہو سکا تھا. اس کے اطراف میں سمندر اور زمینی رقبہ تھا، زمینی طرف تین تہوں پہ مشتمل دیوار تھی، جو توڑی نہیں جا سکتی تھی اور سمندر کی طرف، رومیوں نے سمندر میں دشمن کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے زیر سمندر ایک بہت بڑی زنجیر رکھی تھی مختصراً یہ کہ قسطنطنیہ نا قابلِ فتح تھا.
اسی محاصرے کے دوران حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ بیمار پڑ گئے، نوجوان ان کے اردگرد جمع ہو گئے، کسی نے پوچھا "آپ کو کچھ چاہیے ابو ایوب؟"
انہوں نے کہا "مسلم فوج کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ مجھے اٹھا کر دشمن کے علاقے میں وہ جتنا آگے ہو سکے جائیں اور قسطنطنیہ کی دیوار کے ساتھ مجھے دفن کر دینا"
یہ کہہ کر وہ رحلت فرما گئے،مسلم فوج نے ان کی خواہش پوری کی اور قسطنطنیہ کی دیوار کے ساتھ انہیں دفن کر دیا.لیکن قسطنطنیہ فتح نہیں ہو سکا.
یہ 49 ہجری /674ء کا زمانہ تھا.
اس کے بعد بہت سے مسلم امیر آئے جنہوں نے قسطنطنیہ فتح کرنے کی کوشش کی.
اس دوران مسلم امہ بیت المقدس کے چھن جانے اور بغداد کے تاراج ہونے جیسے بہت سے سانحات سے گزری.
لیکن مسلم امہ پھر سے اپنے پیروں پر کھڑی ہوئی، صلا ح الدین ایوبی رح نے بیت المقدس واپس لیا،دوسری طرف سلطان بائبارس کے ہاتھوں منگولوں کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا اور عثمانیوں نے ایک نئ مسلم سلطنت کی بنیاد رکھی.
وہ عثمانی سلطنت کے ساتویں سلطان تھے محمد دوم جنہیں رہتی دنیا تک محمد فاتح کے نام سے جانا جانا تھا، انہی کے نصیب میں وہ عظیم اور شاندار امیر بننا لکھا تھا. بچپن سے ہی انہوں نے اپنی نظریں قسطنطنیہ پر رکھی تھیں.وہ سات زبانوں کے ماہر تھے اور بچپن ہی میں وہ قسطنطنیہ کو اتنا جان گئے تھے جتنا خود بازنطینی بھی نہیں جانتے تھے.
ان کی فوج بہت ہی غیرمعمولی اور منظم تھی، کہا جاتا ہے کہ ہزار عثمانی فوجی سو رومن فوجیوں کی طرح ایک ہی آواز اٹھاتے.
بالآخر حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ کی وفات کے 800 سال بعد یعنی 1453ء میں وہ مبارک دن آپہنچا.
سلطان محمد فاتح نے 21 سال کی عمر میں اپنی بحری اور بری فوج جمع کی. انہوں نے حالات کا اندازہ لگا کر پہلے سے ہی رومیوں کی بحری آمدورفت کنٹرول کرنے کے لیے باسفورس کے کنارے پر قلعہ بنا رکھا تھا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ سرد موسم میں قسطنطنیہ کا محاصرہ بہت سخت اور طویل ہونے والا ہے.
تاہم ان کی سیڑھیوں اور توپوں کا قسطنطنیہ کی دیواروں پر کوئی اثر نہ ہوا. لیکن محمد فاتح ہار ماننے والے نہیں تھے، انہوں نے ہنگری کے ایک انجینئر اوربان کے بارے میں سنا تھا جس نے ایک نئی طرح کی توپ ڈیزائن کی تھی، جو لمحوں میں جنگ کی کایہ پلٹ سکتی تھی.
محاصرے سے ایک سال قبل اوربان کے پروجیکٹ کو رومی شہنشاہ نے مسترد کر دیا تھا، لیکن محمد فاتح نے اسے اپنی سلطنت میں خوش آمدید کہا اور اس کی حوصلہ افزائی کی، اوربان کے پروجیکٹ کی مالی معاونت کی، اوربان کی سربراہی میں دیوہیکل توپیں بنائی گئیں،یہاں تک کہ ایک توپ کو حرکت دینے کے لیے 60 بیلوں کا سہارا لینا پڑتا تھا،
ان توپوں کی مدد سے قلعے کی دیواروں میں شگاف ہوئے لیکن وہ اپنی جگہ پر قائم رہیں،
محاصرہ بدستور قائم رہا، محمد فاتح کے کچھ وزیر کمزور پڑ گئے، لیکن وہ ثابت قدم رہے، انہوں نے اس آیت پر اپنی توجہ مرکوز رکھی

القرآن - سورۃ نمبر 8 الأنفال
آیت نمبر 30
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَيَمۡكُرُوۡنَ وَيَمۡكُرُ اللّٰهُ‌ؕ وَاللّٰهُ خَيۡرُ الۡمٰكِرِيۡنَ
تو وہ چال چل رہے تھے اور اللہ چال چل رہا تھا. اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے.

تخلیقی صلاحیتوں کے مالک محمد فاتح نے اس دفعہ بھی کچھ نیا سوچا، ان کی کشتیاں رومن کشتیوں سے ہلکی تھیں، ،انہوں نے درخت کاٹے, اس پر چربی کی تہہ لگائی اور راتوں رات ان تنوں پر اپنی کشتیاں رکھ کر زمینی راستے سے رومیوں کی ذنجیر کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں باسفورس کے دوسری طرف لے گئے، رومن نیوی اس بات سے بےخبر تھی،اور اسے اس عثمانی بیڑے نے تباہ کر دیا..
اپنے بیڑے کی تباہی اور قلعے کی دیواروں میں شگاف ہوتے دیکھ کر رومی ہمت ہار بیٹھے.
آخرکار 59 دنوں کے محاصرے کے بعد وہ دن آ پہنچا، سلطان فاتح قسطنطنیہ کے دروازے سے اندر داخل ہوئے اور سب سے پہلا کام جو انہوں نے کیا وہ سجدہ شکر تھا، بےشک اللہ ہی ہے جو کامیابی عطا فرماتا ہے... اللہ اکبر
قسطنطنیہ اب عثمانی دارالحکومت استنبول کے نام سے جانا جانے لگا..
انہوں نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ کی قبر مبارک دریافت کی، آج بھی آپ استنبول جا کر حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مزار دیکھ سکتے ہیں..
آخر کار طاقتور بازنطینی رومن سلطنت کا خاتمہ ہوا، اور حدیث میں بتائی گئی ایک اور پیشگوئی پوری ہوئی..
ہماری تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے، وہ واقعات جو ہر نسل کو متاثر کریں، وہ واقعات جو ہمیں بتلائیں کہ ہم کیا تھے، ہماری کامیابیاں کیا کیا تھیں اور اگر آج پھر سے ہم اپنے سامنے ایک وژن رکھیں تو ہم کیا کچھ حاصل کر سکتے ہیں.
کیونکہ احادیث کے مطابق ابھی بھی بہت سی کامیابیاں ہیں جو ہمیں حاصل کرنی ہیں..

القرآن - سورۃ نمبر 5 المائدة
آیت نمبر 56
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَمَنۡ يَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوۡلَهٗ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فَاِنَّ حِزۡبَ اللّٰهِ هُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ 

ترجمہ:
اور جو شخص اللہ اور اس کے پیغمبر اور مومنوں سے دوستی کرے گا تو (وہ اللہ کی جماعت میں داخل ہوگا اور) اللہ کی جماعت ہی غلبہ پانے والی ہے..

Address

Abu Dhabi
0000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when History O Clock posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to History O Clock:

Share

Category