15/09/2026
کینیڈا میں اپنے عقائد کو دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش ایک بھارتی ہندو خاتون کو اس قدر مہنگی پڑ گئی کہ اسے سیدھا ملک بدری کا سامنا کرنا پڑا۔ تفصیلات کے مطابق، خاتون نے ایک مقامی کینیڈین شہری کو بیف تکہ بنانے سے زبردستی روکنے کی کوشش کی اور یہ موقف اپنایا کہ گائے ان کی ماں ہے جس کی وہ پوجا کرتی ہیں، اس لیے وہ ان کے سامنے گوشت کھا کر توہین نہیں کر سکتا۔ مقامی شہری کی شکایت پر معاملہ پولیس سے ہوتا ہوا عدالت تک جا پہنچا۔ کینیڈین عدالت نے اس واقعے کو انفرادی آزادی میں سنگین مداخلت قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی فرد کو اپنے ذاتی عقائد کی بنیاد پر معاشرے میں فساد پھیلانے کی ہرگز اجازت نہیں۔
عدالت نے مستقبل کے لیے ایک مضبوط مثال قائم کرتے ہوئے خاتون کو کینیڈا سے نکالنے کا حکم دیا۔ جج نے اپنے ریمارکس میں دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ "اگر گائے واقعی آپ کی ماں ہے، تو یہاں فساد کرنے کے بجائے اپنے اصل ملک واپس جائیں اور وہاں جا کر اس کی خدمت کریں۔" یہ فیصلہ ایک واضح پیغام ہے کہ مہذب معاشروں میں آپ کو وہاں کے قانون کا احترام کرنا پڑتا ہے، آپ دنیا میں کہیں بھی جا کر اپنے عقائد کا ڈنڈا نہیں چلا سک