ALIF URDU TV

ALIF URDU TV URDU INFORMATION AND TRANSLATION OF QURAN IN URDU

ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوۡبُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالۡحِجَارَۃِ اَوۡ اَشَدُّ قَسۡوَۃً ؕ وَ اِنَّ مِنَ الۡحِجَارَۃِ ...
06/04/2026

ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوۡبُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالۡحِجَارَۃِ اَوۡ اَشَدُّ قَسۡوَۃً ؕ وَ اِنَّ مِنَ الۡحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنۡہُ الۡاَنۡہٰرُ ؕ وَ اِنَّ مِنۡہَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخۡرُجُ مِنۡہُ الۡمَآءُ ؕ وَ اِنَّ مِنۡہَا لَمَا یَہۡبِطُ مِنۡ خَشۡیَۃِ اللّٰہِ ؕوَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۷۴﴾
پھر اس کے بعد تمہارے دل پتھر جیسے بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ہوگئے بعض پتھروں سے تو نہریں بہہ نکلتی ہیں ، اور بعض پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی نکل آتا ہے ، اور بعض اللہ تعالیٰ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں اور تم اللہ تعالٰی کو اپنے اعمال سے غافل نہ جانو ۔

12/12/2025

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُوشِكُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ كَنْزٍ مِنْ ذَهَبٍ فَمَنْ حَضَرَ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قریب ہے کہ فرات اپنے سونے کے خزانے ظاہر کر دے ، اس وقت جو موجود ہو وہ اس سے کچھ نہ لے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

مشکوٰة المصابیح #5442
فتنوں کا بیان

#الرحمن

10/12/2025

باب الْحَيَاءُ مِنَ الإِيمَانِ عبداللہ ابن یوسف نے ہم سے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں مالک ابن انس نے ابن شہاب سے خبر دی ، وہ سالم بن عبداللہ سے نقل کرتے ہیں ، وہ اپنے باپ ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) سے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری شخص کے پاس سے گزرے اس حال میں کہ وہ اپنے ایک بھائی سے کہہ رہے تھے کہ تم اتنی شرم کیوں کرتے ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انصاری سے فرمایا کہ اس کو اس کے حال پر رہنے دو کیونکہ حیاء بھی
ایمان ہی کا ایک حصہ ہے ۔
#الرحمن

10/12/2025

#الرحمن

07/12/2025

Allah's Messenger (ﷺ) said, "A time will soon come when the best property of a Muslim will be sheep which he will take on the top of mountains and the places of rainfall (valleys) so as to flee with his religion from afflictions."

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ وقت قریب ہے جب مسلمان کا ( سب سے ) عمدہ مال ( اس کی ) بکریاں ہوں گی ) ۔ جن کے پیچھے وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور برساتی وادیوں میں اپنے دین کو بچانے کے لیے بھاگ جائے گا ۔

صحیح بخاری #19
کتاب ایمان کے بیان میں

یہ حدیث صحیح بخاری کی ایک اہم روایت ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے مستقبل کے ایک ایسے وقت کی طرف اشارہ کیا ہے جب مسلمانوں کے لیے اپنے دین کی حفاظت کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں اور وادیوں میں پناہ لینا پڑے گا۔ اس حدیث میں بکریوں کا ذکر مسلمانوں کے مال کے حوالے سے ہوا ہے، جو ایک سادہ اور خود کفیل زندگی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فتنوں کے دور میں ایمان کو محفوظ رکھنے کے لیے دنیاوی مال و اسباب سے زیادہ اہم دین کی حفاظت ہے۔ اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایمان کی حفاظت ہر چیز پر مقدم ہے اور بعض اوقات سادگی اور گوشہ نشینی میں پناہ لینے سے دین کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے

#الرحمن

Address

Al Ain

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ALIF URDU TV posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share