Raza Ul Haq Madini

Raza Ul Haq  Madini عوامی خدمت، ترقی اور مثبت تبدیلی کے لیے اتحاد اور ترقی کا عزم.
(2)

  سے انکار اور مکہ دفاعی معاہدہ: سعودی بصیرت، بدلتی جیو پولیٹکس اور نیا مسلم بلاکعلاقائی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دو...
25/09/2026

سے انکار اور مکہ دفاعی معاہدہ:
سعودی بصیرت، بدلتی جیو پولیٹکس اور نیا مسلم بلاک
علاقائی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران جو تلاطم برپا ہوا ہے، اس نے مشرق وسطیٰ کے روایتی اتحادوں اور تزویراتی نقشے کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایک طرف جہاں 2020 سے مسلسل یہ کوشش کی جا رہی تھی کہ خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کو "ابراہیمی معاہدوں" (Abraham Accords) کے شکنجے میں جکڑ کر اسرائیل کے ساتھ سفارتی و عسکری صف بندی پر مجبور کیا جائے، وہیں دوسری طرف مملکتِ سعودی عرب نے کمالِ بصیرت اور سیاسی تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس دباؤ کو مسترد کر دیا۔ اس کے برعکس، پاکستان اور ترکیہ جیسے برادر اور ہَم عقیدہ ممالک کے ساتھ "مکہ دفاعی معاہدے" کی بنیاد رکھ کر سعودی قیادت نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ کسی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے امتِ مسلمہ کے اجتماعی مفادات کو ترجیح دیتی ہے۔
سال 2020 سے امریکی حکومت اور مغربی تزویراتی ادارے مسلسل یہ کوشش کرتے رہے کہ سعودی عرب کو کسی نہ کسی طرح ابراہیمی معاہدوں کا حصہ بنایا جائے۔ اگر خدانخواستہ سعودی عرب متحدہ عرب امارات کی طرح اس جال میں پھنس جاتا، تو اس سے وہ دیرینہ فریبانہ پروپیگنڈا سچ ثابت ہو جاتا جو ایک مخصوص طبقہ "آلِ سعود اور آلِ یہود" کے نام پر ہمیشہ سے چلاتا آیا ہے۔ ان عناصر کی ہمیشہ سے یہ دلی تمنا رہی ہے کہ سعودی قیادت کو اس نہج پر لا کھڑا کیا جائے جہاں وہ مسلم دنیا کی نگاہوں میں اپنی ساکھ کھو بیٹھے۔
امریکہ اور اسرائیل کا اصل مقصد ایک ایسے نام نہاد "سنی بلاک" کی تشکیل تھا جو ان کے خطے میں عزائم کی تکمیل کر سکے۔ لیکن سعودی عرب کے عاقلانہ اور دور اندیش فیصلوں نے اس پورے پلان کو ناکام بنا دیا۔ سعودی قیادت نے یہ بخوبی سمجھ لیا کہ صیہونی ریاست اور اس کے سرپرستوں کے ساتھ گٹھ جوڑ دراصل خطے کی خودمختاری کا سودا کرنے کے مترادف ہے۔
مغرب کی تلملاہٹ اور خطے کا بدلتا منظرنامہ
سعودی عرب کی اس جرات مندانہ "نہیں" نے مغربی دارالحکومتوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل اس بات پر تلملا اٹھے ہیں کہ خطے کے روایتی "بدو" اب ان کے اشاروں پر ناچنے کے بجائے اپنی خودمختار خارجہ پالیسی تشکیل دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب پر دباؤ بڑھانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
دوسری طرف، حالیہ مہینوں میں ایران پر حملوں اور خطے کی جنگی صورتحال نے تمام نقاب الٹ دیے ہیں ایک بار پھر سعودی عرب برادر اسلامی ملک ایران کے خلاف جنگ کا حصہ بننے سے صاف انکار کردیا۔ آبنائے ہرمز کی بندش، باب المندب کی طرف پیش قدمی اور یمنی حوثیوں کا یہ اعلان کہ "باب المندب سے صرف سعودی جہاز نہیں گزریں گے، باقی امریکہ سے ہمارا تنازعہ نہیں ہے"، اس بات کا غماز ہے کہ گیم اب کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ ان تمام صورتحال میں اصل دباؤ صرف اور صرف سعودی عرب کو جھکانے اور اسے امریکی-اسرائیلی مقاصد کا آلۂ کار بنانے کے لیے ہے تاکہ وہ مغربی ہندسیات کے مطابق اپنے فیصلے کرے۔
یہود و نصاریٰ!
تاریخ گواہ ہے اور قرآنِ حکیم کا صریح فرمان ہے کہ یہود و نصاریٰ کبھی بھی مسلمانوں کے مخلص دوست نہیں ہو سکتے۔ مغربی دنیا کی اس عداوت کو بھانپتے ہوئے، آلِ سعود نے کمالِ حکمت سے
مغرب، روس یا چین پر مکمل تکیہ کرنے کے بجائے اپنے حقیقی بازو—اپنے ہم مذہب اور ہم عقیدہ بھائیوں، پاکستان اور ترکیہ کا انتخاب کیا۔
پاکستان کا دفاعی تجربہ اور ایٹمی طاقت ہونا، ترکیہ کی جدید ڈرون و عسکری ٹیکنالوجی اور سعودی عرب کے مالی و سیاسی اثر و رسوخ کا یہ امتزاج (مکہ دفاعی معاہدہ) مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر ایک ناقابلِ تسخیر حصار قائم کر رہا ہے۔
یہ جرات مندانہ اور ایمانی فیصلہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی نصرت و مدد سے امریکہ، اسرائیل اور ان کے پروردہ عناصر کی ذلت اور خواری کا سبب بنے گا۔ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ امتِ مسلمہ کے فیصلے بیرونی آقاؤں کے ایوانوں میں نہیں، بلکہ مکہ اور مدینہ کے قرب و جوار میں بیٹھ کر ہی طے ہونے چاہئیں، اور یہی اصل کامیابی کا راستہ ہے۔
رضاالحق مدنی

الجمعہ المبارک!
25/09/2026

الجمعہ المبارک!

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَایک روشن علمی ستارہ اپنی زندگی بھر علم کی روشنی پھیلانے کے بعد آج اپنی ابدی م...
21/09/2026

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

ایک روشن علمی ستارہ اپنی زندگی بھر علم کی روشنی پھیلانے کے بعد آج اپنی ابدی منزل کی طرف روانہ ہوگیا۔

مرحوم حافظ ادریس صاحب ہمارے لیے ہمیشہ ایک آئیڈیل اور قابلِ احترام شخصیت رہے۔ طالب علمی کے زمانے میں منصورہ لاہور میں انکی رفاقت/ شاگردی نصیب ہوئی تھی. ان کی علمی شخصیت، اخلاص اور خدمتِ دین کی یادیں ہمیشہ دل میں زندہ رہیں گی۔

حافظ ادریس صاحب اپنے پیچھے علم و عمل کا ایک ایسا سرمایہ چھوڑ گئے ہیں جس سے بے شمار لوگ آج بھی فیض یاب ہو رہے ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔ ان کے شاگرد، ان کی علمی کاوشیں اور ان سے حاصل کیا ہوا علم، ان شاء اللہ ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنتا رہے گا۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، ان کی تمام علمی و دینی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور ان کے علم کو ان کے لیے ہمیشہ جاری رہنے والا صدقۂ جاریہ بنا دے۔

اللہ تعالیٰ پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔
رضاالحق مدنی

اکنامک ٹرانسفر میٹیو انیشیٹیو گلگت بلتستان{ای ٹی ائی} ایفاد فنڈڈ گورنمنٹ پروجیکٹ پورے گلگت بلتستان میں ویلیو چین ڈیولیپم...
20/09/2026

اکنامک ٹرانسفر میٹیو انیشیٹیو گلگت بلتستان{ای ٹی ائی} ایفاد فنڈڈ گورنمنٹ پروجیکٹ پورے گلگت بلتستان میں ویلیو چین ڈیولیپمنٹ میں فعال کردار ادا کررہا ہے، جو کہ زراعت ڈیری لائیوسٹاک اور اب ایکو ٹورزم میں بھی پروجیکٹس اجرا کررہے ہیں،
بلا شبہ یہ پروگرام ایکنامک گیم چینجر ثابت ہوسکتا ہے، اگر کمیونٹی کواپریٹو ماڈل کو سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہوجاے!
ای ٹی ائی اپنے سکینڈ فیز میں سمال انڈسٹری کینسپ کو لانچ کئیے، اور تقریبا 100 فیصد کامیابی سے پروڈکشن کا اغاز کیا جاچکا ہے،
بلتستان کے 62 کواپریٹو سوسائیٹیز میں غواڑی بھی شامل ہے، جسکی یونٹ فعال ہوکر بقاعدہ پروڈیکشن کا اغاز کرچکی ہے۔
جسکی افتتاح کچھ دن بعد کیا جاے گا!
یہ 3 پروجیکٹس کسان مارکیٹ کے نام سے چلے گا،
1۔ کسان ائل انڈسٹری
2۔ کسان میٹ مارٹ
3 کسان ایگری ڈیری لائیو سٹاک پولٹری شاپ!
اس کواپریٹو کے صدر سابق بلدیہ چیرمین عبدالرحیم صاب ہے، اور منیجر محمد نسیم ہے۔
ہم پوری ٹیم کواپریٹو کو مبارک باد دیتے ہیں۔
رضاالحق مدنی

* وَطَنُ المَلَايِينِ مِنَ البَاكِسْتَانِيِّينَ هُوَ بَاكِسْتَانُ! * وَمُسْتَقَرُّهُمْ وَمُقَامُهُمْ هُوَ المَمْلَكَةُ ا...
19/09/2026

* وَطَنُ المَلَايِينِ مِنَ البَاكِسْتَانِيِّينَ هُوَ بَاكِسْتَانُ!
* وَمُسْتَقَرُّهُمْ وَمُقَامُهُمْ هُوَ المَمْلَكَةُ العَرَبِيَّةُ السُّعُودِيَّةُ!
* أَمْنُ السُّعُودِيَّةِ وَسَلَامَتُهَا غَالٍ عَلَيْنَا كَغَلَاءِ وَطَنِنَا الحَبِيبِ بَاكِسْتَانَ!
* وَالمَمْلَكَةُ العَرَبِيَّةُ السُّعُودِيَّةُ هِيَ مَصْدَرُ رِزْقٍ لِمَلَايِينِ البَاكِسْتَانِيِّينَ، سَوَاءٌ أَكَانَ ذَلِكَ مُبَاشَرَةً أَمْ غَيْرَ مُبَاشَرَةٍ!
* رِضَا الحَقِّ مَدَنِيّ

Sir Yahya Khan visited Budha Rock Skardu! Amazingly he came here first time!
17/09/2026

Sir Yahya Khan visited Budha Rock Skardu! Amazingly he came here first time!

غیروں کے خلاف تو استعمال ہونا ہی تھا،مگر ہنر تو یہ ہے کہ  اپنوں میں بھی استعمال کرنا جانو، بے شک! اس میں صاحبِ عقل و دان...
16/09/2026

غیروں کے خلاف تو استعمال ہونا ہی تھا،
مگر ہنر تو یہ ہے کہ اپنوں میں بھی استعمال کرنا جانو،
بے شک! اس میں صاحبِ عقل و دانش کے لیے گہرے اشارے اور نشانیاں موجود ہیں!"

‏دنیا کے نامور لکھاری کرٹ وونیگٹ (Kurt Vonnegut) نے ایک بار اپنی زندگی کا ایک بظاہر معمولی مگر معنی خیز قصہ سنایا۔ ایک ص...
15/09/2026

‏دنیا کے نامور لکھاری کرٹ وونیگٹ (Kurt Vonnegut) نے ایک بار اپنی زندگی کا ایک بظاہر معمولی مگر معنی خیز قصہ سنایا۔ ایک صبح وہ گھر سے نکلنے لگے تو اہلیہ نے پوچھا، "کہاں جا رہے ہو؟" وونیگٹ نے جواب دیا، "بس مارکیٹ تک جا رہا ہوں، ایک لفافہ خریدنا ہے۔"
اہلیہ مسکرائیں اور ایک مشورہ دیا جو آج کے دور کے ہر 'دانشور' کا مشورہ ہو سکتا ہے۔ وہ بولیں، "تم اتنے بڑے آدمی ہو، اپنا وقت کیوں ضائع کرتے ہو؟ انٹرنیٹ کھولو، سو لفافوں کا آرڈر دو، ڈلیوری والا گھر دے جائے گا، انہیں الماری میں رکھو اور سکون سے بیٹھو۔"
وونیگٹ لکھتا ہے کہ میں نے یہ بات سنی، مگر ان سنی کر دی۔ میں نے جوتے پہنے اور گھر سے باہر نکل گیا۔ کیوں؟ کیا میرے پاس پیسے نہیں تھے؟ یا میں ٹیکنالوجی سے نابلد تھا؟ نہیں۔ اصل وجہ وہ 'لفافہ' نہیں تھا، اصل وجہ وہ 'سفر' تھا جو اس ایک لفافے کی خریداری کے بہانے طے ہونا تھا۔
وہ لکھتا ہے کہ جب میں گلی میں نکلا تو مجھے زندگی ملی۔ میں نے سڑک پار کرتے ہوئے ایک خوبصورت بچے کو دیکھا اور اس کی معصومیت پر مسکرایا۔ میں تھوڑا آگے بڑھا تو فائر بریگیڈ کی ایک گاڑی سائرن بجاتی گزری، میں نے رک کر اسے 'تھمبز اپ' کیا اور ان گمنام ہیروز کی ہمت کو داد دی۔ راستے میں ایک خاتون اپنے کتے کو ٹہلا رہی تھیں، میں رکا، ان سے کتے کی نسل پوچھی، دو باتیں کیں اور آگے بڑھ گیا۔
دوستو! اس چھوٹی سی بات میں کائنات کا سب سے بڑا سبق چھپا ہے۔ ہم اس زمین پر صرف 'پروڈکٹیو' ہونے، بل جمع کرانے یا الماریاں بھرنے نہیں آئے۔ ہم یہاں 'آوارہ گردی' کرنے آئے ہیں۔ ہم یہاں مٹی کی خوشبو سونگھنے، لوگوں سے ہاتھ ملانے اور بلاوجہ مسکرانے آئے ہیں۔
وونیگٹ ایک کمال کی بات کرتا ہے، وہ کہتا ہے: **"ہم رقص کرنے والے جانور ہیں" (Dancing Animals)۔** قدرت نے ہمیں حرکت کے لیے بنایا ہے۔ ہمارے بدن کی مٹی رقص چاہتی ہے، اسے چلنا پھرنا اور دوسروں سے ملنا پسند ہے۔ مگر افسوس! یہ کمپیوٹر، یہ انٹرنیٹ اور یہ ٹیکنالوجی ہمیں اس رقص سے محروم کر رہی ہے۔ یہ ہمیں کمروں میں بند کر رہی ہے۔ یہ ہمیں 'لفافہ' تو گھر پر دے دیتی ہے، مگر وہ 'مسکراہٹ' چھین لیتی ہے جو اس لفافے کو لاتے ہوئے کسی اجنبی سے ملنی تھی۔
آج کا انسان 'اسکرین' کا قیدی بن چکا ہے۔ کمپیوٹر بنانے والوں کو اس سے غرض نہیں کہ آپ کی روح پیاسی ہے، انہیں صرف اس سے مطلب ہے کہ آپ کا وقت کیسے 'سیو' (Save) کیا جائے۔ مگر یاد رکھیے، جو وقت زندگی جینے میں صرف نہ ہو، وہ وقت بچا کر آپ کیا کریں گے؟
وونیگٹ کہتا ہے، "اٹھو! ذرا حرکت کرو، باہر نکلو، یا کم از کم جہاں بیٹھے ہو وہیں تھوڑا سا رقص ہی کر لو۔" کیونکہ اگر تم نے حرکت چھوڑ دی، اگر تم نے بلاوجہ کی آوارہ گردی اور لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیا، تو تم انسان نہیں رہو گے، تم بھی ایک 'سافٹ ویئر' بن جاؤ گے جو صرف کمانڈز پر چلتا ہے۔
خدارا! اپنی الماریاں لفافوں سے نہ بھریں، اپنی زندگی یادوں اور ملاقاتوں سے بھریں۔ جائیے، ایک لفافہ خریدنے کے بہانے پوری دنیا دیکھ آئیے۔ یہی زندگی ہے۔ باقی سب محض ڈیٹا ہے۔

Address

District Ghanche, Gilgit-Baltistan
Khapalu

Telephone

+923465226324

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Raza Ul Haq Madini posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Raza Ul Haq Madini:

Shortcuts

Share