25/09/2026
سے انکار اور مکہ دفاعی معاہدہ:
سعودی بصیرت، بدلتی جیو پولیٹکس اور نیا مسلم بلاک
علاقائی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران جو تلاطم برپا ہوا ہے، اس نے مشرق وسطیٰ کے روایتی اتحادوں اور تزویراتی نقشے کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایک طرف جہاں 2020 سے مسلسل یہ کوشش کی جا رہی تھی کہ خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کو "ابراہیمی معاہدوں" (Abraham Accords) کے شکنجے میں جکڑ کر اسرائیل کے ساتھ سفارتی و عسکری صف بندی پر مجبور کیا جائے، وہیں دوسری طرف مملکتِ سعودی عرب نے کمالِ بصیرت اور سیاسی تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس دباؤ کو مسترد کر دیا۔ اس کے برعکس، پاکستان اور ترکیہ جیسے برادر اور ہَم عقیدہ ممالک کے ساتھ "مکہ دفاعی معاہدے" کی بنیاد رکھ کر سعودی قیادت نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ کسی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے امتِ مسلمہ کے اجتماعی مفادات کو ترجیح دیتی ہے۔
سال 2020 سے امریکی حکومت اور مغربی تزویراتی ادارے مسلسل یہ کوشش کرتے رہے کہ سعودی عرب کو کسی نہ کسی طرح ابراہیمی معاہدوں کا حصہ بنایا جائے۔ اگر خدانخواستہ سعودی عرب متحدہ عرب امارات کی طرح اس جال میں پھنس جاتا، تو اس سے وہ دیرینہ فریبانہ پروپیگنڈا سچ ثابت ہو جاتا جو ایک مخصوص طبقہ "آلِ سعود اور آلِ یہود" کے نام پر ہمیشہ سے چلاتا آیا ہے۔ ان عناصر کی ہمیشہ سے یہ دلی تمنا رہی ہے کہ سعودی قیادت کو اس نہج پر لا کھڑا کیا جائے جہاں وہ مسلم دنیا کی نگاہوں میں اپنی ساکھ کھو بیٹھے۔
امریکہ اور اسرائیل کا اصل مقصد ایک ایسے نام نہاد "سنی بلاک" کی تشکیل تھا جو ان کے خطے میں عزائم کی تکمیل کر سکے۔ لیکن سعودی عرب کے عاقلانہ اور دور اندیش فیصلوں نے اس پورے پلان کو ناکام بنا دیا۔ سعودی قیادت نے یہ بخوبی سمجھ لیا کہ صیہونی ریاست اور اس کے سرپرستوں کے ساتھ گٹھ جوڑ دراصل خطے کی خودمختاری کا سودا کرنے کے مترادف ہے۔
مغرب کی تلملاہٹ اور خطے کا بدلتا منظرنامہ
سعودی عرب کی اس جرات مندانہ "نہیں" نے مغربی دارالحکومتوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل اس بات پر تلملا اٹھے ہیں کہ خطے کے روایتی "بدو" اب ان کے اشاروں پر ناچنے کے بجائے اپنی خودمختار خارجہ پالیسی تشکیل دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب پر دباؤ بڑھانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
دوسری طرف، حالیہ مہینوں میں ایران پر حملوں اور خطے کی جنگی صورتحال نے تمام نقاب الٹ دیے ہیں ایک بار پھر سعودی عرب برادر اسلامی ملک ایران کے خلاف جنگ کا حصہ بننے سے صاف انکار کردیا۔ آبنائے ہرمز کی بندش، باب المندب کی طرف پیش قدمی اور یمنی حوثیوں کا یہ اعلان کہ "باب المندب سے صرف سعودی جہاز نہیں گزریں گے، باقی امریکہ سے ہمارا تنازعہ نہیں ہے"، اس بات کا غماز ہے کہ گیم اب کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ ان تمام صورتحال میں اصل دباؤ صرف اور صرف سعودی عرب کو جھکانے اور اسے امریکی-اسرائیلی مقاصد کا آلۂ کار بنانے کے لیے ہے تاکہ وہ مغربی ہندسیات کے مطابق اپنے فیصلے کرے۔
یہود و نصاریٰ!
تاریخ گواہ ہے اور قرآنِ حکیم کا صریح فرمان ہے کہ یہود و نصاریٰ کبھی بھی مسلمانوں کے مخلص دوست نہیں ہو سکتے۔ مغربی دنیا کی اس عداوت کو بھانپتے ہوئے، آلِ سعود نے کمالِ حکمت سے
مغرب، روس یا چین پر مکمل تکیہ کرنے کے بجائے اپنے حقیقی بازو—اپنے ہم مذہب اور ہم عقیدہ بھائیوں، پاکستان اور ترکیہ کا انتخاب کیا۔
پاکستان کا دفاعی تجربہ اور ایٹمی طاقت ہونا، ترکیہ کی جدید ڈرون و عسکری ٹیکنالوجی اور سعودی عرب کے مالی و سیاسی اثر و رسوخ کا یہ امتزاج (مکہ دفاعی معاہدہ) مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر ایک ناقابلِ تسخیر حصار قائم کر رہا ہے۔
یہ جرات مندانہ اور ایمانی فیصلہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی نصرت و مدد سے امریکہ، اسرائیل اور ان کے پروردہ عناصر کی ذلت اور خواری کا سبب بنے گا۔ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ امتِ مسلمہ کے فیصلے بیرونی آقاؤں کے ایوانوں میں نہیں، بلکہ مکہ اور مدینہ کے قرب و جوار میں بیٹھ کر ہی طے ہونے چاہئیں، اور یہی اصل کامیابی کا راستہ ہے۔
رضاالحق مدنی