Quetta To Chaman

Quetta To Chaman Give Respect Take Respect 🫡 Mijlasona dear brabar die 😜

04/09/2026
02/09/2026

کوئٹہ: تاجر صلاح الدین نورزئی نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق، بیٹا پہلے ہی لاپتہ

کوئٹہ: مسلم آباد کے علاقے میں ممتاز تاجر حاجی صلاح الدین نورزئی کو نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق واقعے کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہوگئے، جبکہ پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کرتے ہوئے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

حاجی صلاح الدین نورزئی کے قتل نے کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ حاجی صلاح الدین نورزئی کا بیٹا بھی کچھ عرصہ قبل مبینہ طور پر اغوا ہوا تھا اور تاحال لاپتہ ہے۔

ایک ہی خاندان کے ایک فرد کا لاپتہ ہونا اور پھر خاندان کے سربراہ کا قتل ہو جانا معمولی واقعہ نہیں۔ اس معاملے نے حکومت بلوچستان اور امن و امان کے ذمہ دار اداروں کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھا دیے ہیں۔

بیٹا لاپتہ، باپ قتل، ریاستی ادارے کہاں ہیں؟

سوال یہ ہے کہ اگر ایک شہری کا بیٹا پہلے ہی لاپتہ ہو اور اس کے بعد اسی خاندان کے سربراہ کو بھی قتل کر دیا جائے تو اس خاندان کے تحفظ کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی حکومت کو جواب دینا ہوگا کہ کوئٹہ میں شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کہاں ہیں؟ پولیس اور دیگر امن و امان کے ذمہ دار ریاستی ادارے آخر کب ایسے واقعات کی روک تھام میں مؤثر ثابت ہوں گے؟

صرف مقدمات درج کرنا، تحقیقات شروع کرنا اور ملزمان کی گرفتاری کی یقین دہانی کافی نہیں۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ قاتل کب گرفتار ہوں گے اور ان کے خلاف کب عملی کارروائی ہوگی۔

اگر ایک خاندان پہلے اپنے بیٹے کے لاپتہ ہونے کا دکھ برداشت کرے اور پھر اسی خاندان کے سربراہ کو بھی قتل کر دیا جائے تو یہ صورتحال حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے ایک انتہائی سنجیدہ لمحۂ فکریہ ہے۔

کوئٹہ کے شہریوں کا سوال واضح ہے: آخر شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کون کرے گا؟ اور اگر ریاستی ادارے بھی ایسے واقعات کو روکنے میں ناکام رہیں تو عام شہری انصاف اور تحفظ کے لیے کہاں جائے؟

حکومت بلوچستان اور تمام متعلقہ اداروں کو حاجی صلاح الدین نورزئی کے قتل کے ملزمان کی فوری گرفتاری، شفاف تحقیقات اور ان کے لاپتہ بیٹے کے معاملے میں بھی مؤثر پیش رفت یقینی بنانا ہوگی۔

02/09/2026

کوئٹہ کی سڑکوں کی کبھی پہچان رہنے والا ’’اٹلی رکشہ‘‘ آج بھی یادوں میں زندہ ہے🛺
کہا جاتا ہے کہ ’’اٹلی رکشہ‘‘ غالباً 1970 کی دہائی میں کوئٹہ آیا۔ پہاڑی شہر ہونے کی وجہ سے اس کا طاقتور انجن، کم ایندھن خرچ اور تنگ گلیوں میں آسانی سے چلنے کی صلاحیت نے اسے جلد ہی مقبول بنا دیا۔
اٹلی سے منسوب ڈیزائن کے باعث عوام نے اسے ’’اٹلی رکشہ‘‘ کہنا شروع کیا، اور یہ کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں عام سواری بن گیا۔
2010 کے بعد دھواں چھوڑنے والے رکشوں کے خلاف پابندیوں کے باعث پرانے اٹلی رکشوں کا چلن تقریباً ختم ہوگیا۔ تاہم آج بھی کوئٹہ میں ایک ایسا منفرد رکشہ موجود ہے جو پرانے اٹلی رکشے کے طرز پر تیار کیا گیا ہے اور سڑکوں پر لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔ 🛺❤️

31/08/2026

Address

Down Town
Al Ajman
00000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Quetta To Chaman posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Quetta To Chaman:

Shortcuts

Share