02/09/2026
کوئٹہ: تاجر صلاح الدین نورزئی نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق، بیٹا پہلے ہی لاپتہ
کوئٹہ: مسلم آباد کے علاقے میں ممتاز تاجر حاجی صلاح الدین نورزئی کو نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق واقعے کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہوگئے، جبکہ پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کرتے ہوئے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
حاجی صلاح الدین نورزئی کے قتل نے کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ حاجی صلاح الدین نورزئی کا بیٹا بھی کچھ عرصہ قبل مبینہ طور پر اغوا ہوا تھا اور تاحال لاپتہ ہے۔
ایک ہی خاندان کے ایک فرد کا لاپتہ ہونا اور پھر خاندان کے سربراہ کا قتل ہو جانا معمولی واقعہ نہیں۔ اس معاملے نے حکومت بلوچستان اور امن و امان کے ذمہ دار اداروں کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھا دیے ہیں۔
بیٹا لاپتہ، باپ قتل، ریاستی ادارے کہاں ہیں؟
سوال یہ ہے کہ اگر ایک شہری کا بیٹا پہلے ہی لاپتہ ہو اور اس کے بعد اسی خاندان کے سربراہ کو بھی قتل کر دیا جائے تو اس خاندان کے تحفظ کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی حکومت کو جواب دینا ہوگا کہ کوئٹہ میں شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کہاں ہیں؟ پولیس اور دیگر امن و امان کے ذمہ دار ریاستی ادارے آخر کب ایسے واقعات کی روک تھام میں مؤثر ثابت ہوں گے؟
صرف مقدمات درج کرنا، تحقیقات شروع کرنا اور ملزمان کی گرفتاری کی یقین دہانی کافی نہیں۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ قاتل کب گرفتار ہوں گے اور ان کے خلاف کب عملی کارروائی ہوگی۔
اگر ایک خاندان پہلے اپنے بیٹے کے لاپتہ ہونے کا دکھ برداشت کرے اور پھر اسی خاندان کے سربراہ کو بھی قتل کر دیا جائے تو یہ صورتحال حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے ایک انتہائی سنجیدہ لمحۂ فکریہ ہے۔
کوئٹہ کے شہریوں کا سوال واضح ہے: آخر شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کون کرے گا؟ اور اگر ریاستی ادارے بھی ایسے واقعات کو روکنے میں ناکام رہیں تو عام شہری انصاف اور تحفظ کے لیے کہاں جائے؟
حکومت بلوچستان اور تمام متعلقہ اداروں کو حاجی صلاح الدین نورزئی کے قتل کے ملزمان کی فوری گرفتاری، شفاف تحقیقات اور ان کے لاپتہ بیٹے کے معاملے میں بھی مؤثر پیش رفت یقینی بنانا ہوگی۔