05/03/2026
دوستو کیا آپ بھی میری طرح 1980ء سے پہلے پیدا ہوئے تھے؟ اگر آپ کا جواب 'ہاں' میں ہے تو آپ اس تحریر کو ضرور پڑھیں
ہم وه آخری لوگ بیں
جنھوں نے مٹی کے بنے گهروں میں بیٹھ کر پریوں کی کہانیاں سنیں۔
جنھوں نے لال ٹین کی روشنی میں پریوں اور جنوں کی کہانیاں پڑهیں۔
جنھوں نے سرکاری سکولوں میں ٹاٹوں پر بیٹھ کر پڑھا بلکہ گھر سے بوری ، توڑا لے کر سکول جاتے اور اس پر بیٹھتے رہے۔
•ہم وه آخری لوگ بیں
جنھوں نے بیلوں کو ہل چلاتے دیکھا۔ جنھوں نے مٹی کے گھڑوں کا پانی پیا بغیر بجلی کے (ڈیزل انجن سے چلنے والے) ٹیوب ویل دیکھے۔ نہروں میں نہائے، درختوں سے آم اور امرود اپنے ہاتھوں سے توڑ کر کھائے۔
پڑوس کے بزرگوں سے ڈانٹ بھی کھائی لیکن پلٹ کر کبھی بدمعاشی نہیں دکھائی۔
•ہم وه آخری لوگ بیں
جنھوں نے عید کا چاند دیکھ کر تالیاں بجائیں۔ اور گھر والوں، دوستوں اور رشتہ داروں کو عید کارڈ بھی اپنے ہاتھوں سے لکھ کر بھیجے۔
بمارے جیسا تو کوئی بھی نہیں ہاں جی
بمارے جیسا اب کوئی بھی دنیا میں نہیں آئے گا کیونکہ
•ہم وه آخری لوگ ہیں
جو ہر خوشی اور غم میں ایک دوسرے سے کندھے سے کندھا ملا کے کھڑے ہوئے۔
•ہم وہ لوگ ہیں۔
جو گلے میں مفلر لٹکا کے خود کو بابو سمجھا کرتے تھے۔ ہم وه دلفریب لوگ بیں جنھوں نے شبنم اور ندیم کی ناکام محبت پہ آنسو بہائے اور انکل سرگم کو دیکھ کے خوش بوئے۔
•ہم وہ آخری لوگ ہیں جنھوں نے چھتوں پر چڑھ چڑھ کر ٹی وی کے انٹینے ٹھیک کیے۔ فلم دیکھنے کے لیے بفتہ بھر انتظار کیا کرتے تھے۔
ہم وه بہترین لوگ ہیں جنھوں نے تختی لکھنے کے لیے سیابی گاڑھی کی۔ جنھوں نے سکول کی گھنٹی ہجانے کو بھی ایک اعزاز سمجها۔
•ہم وه خوش نصیب لوگ بیں جنھوں نے رشتوں کی اصل مٹھاس دیکھی۔ ہم وہ لوگ بیں جو رات کو چاریائی گھر سے باہر لے جا کر کھلی فضا میں زمینوں میں سوئے۔ دن کو اکثر گاؤں والے گرمیوں میں کسی سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھ کر گپیں لگایا کرتے تھے۔ ہاں جی وہ آخری لوگ ہم ہی تھے۔ ہم نے وہ بھی زمانے بھی دیکھے جب سب صحن میں سوتے تھے گرم مٹی پر شام کے وقت پانی کا چهڑكاؤ ہوتا تها اور گھر کے صحن میں ایک سٹينڈ والا پنكها ہوتا تھا۔
بچوں کا لڑنا جهگڑنا اس بات پر ہوتا تھا کہ پنکھے کے سامنے کس کی منجی بچھے گی؟
سورج کے نکلتے ہی آنکھ سب کی کهلتی تھی لیکن ڈهیٹ بن کر پهر بھی دیر تک سوئے رہتے تھے۔
آدهی رات کو کبھی بارش آ جاتی تو پھر اگلے دن بھی منجی گیلی بی رہتی تھی۔
وه صحن میں سونے کے سب دور ہی بیت گئے منجیاں بهی ٹوٹ گئیں رشتے بھی چھوٹ گے۔
بہت خوبصورت خالص رشتوں کا دور تھا جب لوگ کم پڑھے لکھے اور مخلص ہوتے تھے ۔ زمانہ جیسے جیسے پڑھا لکھا ہوتا جارہا ہے ویسے ویسے یے مروتی، مفاد پرستی اور خود غرضی کا شکار ہوتا جا رہا ہے ۔ اچھے دور کی صرف یادیں باقی ہیں۔
,