16/04/2026
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی کمزور اپنے گھر کے فیصلے کسی "چوہدری" کے اشارے پر کرنا شروع کر دے، تو اس کے اپنے صحن میں سکون کے بجائے بے چینی ہی جنم لیتی ہے۔ ہم نے برسوں ایک ایسی دہلیز پر سر جھکائے رکھا جہاں سے ہمیں سودی قرض والی روٹی تو ملتی تھی، لیکن اس روٹی کی قیمت ہمارے گھر والوں کی خوشیاں اور ہماری خود مختاری تھی۔ ہم نے یہ سوچ کر اپنی نسلوں کا مستقبل داؤ پر لگا دیا کہ اس بڑے گھر کے سائے کے بغیر ہمارا چولہا نہیں جلے گا۔ اسی "مصلحت" کے نام پر ہم نے وہ فیصلے بھی قبول کیے جن کی وجہ سے ہمارے اپنوں کی زندگیاں بکھر کر رہ گئیں۔ آج جب گھر والے طعنہ دیتے ہیں کہ ہم اپنی مرضی کھو چکے ہیں، تو حقیقت کے آئینے میں وہ عکس دھندلا نظر نہیں آتا۔
وہ طاقتور جس کے ایک اشارے پر ہم نے اپنے گھر اور پڑوس میں لڑائیاں مول لیں، آج خود مشکل میں ہے۔ اس کی "مچھیروں" سے ایسی ٹھنی ہے کہ اسے لینے کے دینے پڑ گئے ہیں۔ اس مار پیٹ اور نقصان نے چوہدری کے تکبر کو تو ٹھیس پہنچائی ہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے کمالِ ہوشیاری سے اپنا دامن جھاڑ لیا ہے۔
اس کا یہ کہنا کہ "اب میرا نام نہ آئے، تم خود ہی یہ سب حل کرو"، اس کی پرانی عادت کا حصہ ہے۔ جب فائدہ ہوتا ہے تو وہ سامنے ہوتا ہے، اور جب ملبہ گرنے کا وقت آتا ہے تو وہ پیٹھ دکھا کر غائب ہو جاتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم اسکی کی ہوئی غلطیوں کا بوجھ بھی اپنے کندھوں پر اٹھائیں اور دنیا کے سامنے یہ تاثر دیں کہ چوہدری کی بات مانو نہیں تو تمہاری خیر نہیں ہمارے لیے اس میں سیکھنا ہے
کسی دوسرے کی طاقت پر بھروسہ کر کے اپنے گھر کی بنیادیں ہلانا کبھی بھی دانش مندی نہیں رہی۔ آج جب وہ بڑے گھر والا مشکل میں پڑ کر ہمیں ہمیشہ اکیلا چھوڑ جاتا ہے، تو اب یہ بہترین وقت ہے کہ ہم اپنے فیصلے خود کرنا سیکھیں۔ اگر نقصان ہو ہی چکا ہے، تو اب کم از کم اپنی عزتِ نفس کو بچانے کی فکر کرنی چاہیے۔ یاد رکھیے، جو ہاتھ آپ کو روٹی دیتا ہے، وہی ہاتھ بوقتِ ضرورت آپ کا گلا بھی دبا سکتا ہے، اگر آپ اس کے حکم کے بغیر سانس لینا بھول جائیں۔
میرا چوہدری اور میرا گھر کی کہانی۔۔۔