13/09/2026
اسسٹنٹ کمشنر ناواگئی کے اختیارات کا غیر قانونی استعمال کسی صورت قبول نہیں، حاجی میاں خان و حاجی امیر خان
باجوڑ: حاجی میاں خان اور حاجی امیر خان نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر ناواگئی کی جانب سے ان کی 30 کنال اراضی کی نیلامی کے مبینہ احکامات نے انہیں شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے خلاف وہ اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا اراضی کا تنازعہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، اس لیے زیرِ تنازع جائیداد سے متعلق کسی بھی انتظامی اقدام سے پہلے عدالتی کارروائی اور قانونی حیثیت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
حاجی میاں خان اور حاجی امیر خان کا کہنا تھا کہ ان کے مخالفین گل رحمان، اقبال اور ایاز پسران حاجی بہرام خان، ساکنان چینار، چارمنگ نے مبینہ طور پر مقامی افراد قادر اور شیر اعظم کو ان کے خلاف بھڑکایا ہے، جبکہ ان کے مطابق اس معاملے سے متعلق ایک تنازعہ باجوڑ کی عدالت میں پہلے ہی طے ہو چکا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس کے باوجود اسسٹنٹ کمشنر ناواگئی کی جانب سے ان کی 30 کنال اراضی کی نیلامی کے احکامات جاری کرنا اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کے مترادف ہے، جس سے نہ صرف ان کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں بلکہ علاقے کے قبائلی ماحول میں بھی کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ "ہمارے ساتھ غیر قانونی اور ناجائز اختیارات کا استعمال نہ کیا جائے۔ ہم قانون اور عدالتوں کا احترام کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہمارے معاملے کو بھی قانون کے مطابق حل کیا جائے۔"
حاجی میاں خان اور حاجی امیر خان نے کہا کہ کسی بھی متنازع اراضی پر ایسا اقدام علاقے میں مزید تنازع اور کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے انتظامیہ معاملے کو سنجیدگی سے لے اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کرے جس سے امن و امان متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔
انہوں نے ڈپٹی کمشنر باجوڑ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، عدالتی کارروائی اور متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے اور اگر کسی سرکاری افسر کی جانب سے اختیارات کا ناجائز استعمال ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے عدالتوں اور دیگر قانونی فورمز سے رجوع کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔