Prime Pakistan

Prime Pakistan News And Media Website

14/08/2026
31/07/2026

اداکارہ درفشاں کا کہنا ہے کہ میں سمجھنا چاہتی ہوں کہ میرے ارد گرد کیا ہو رہا ہے، جب تک میرے پاس کچھ کرنے کا موقع ہے، خواہ اس کا مطلب صرف اپنی آواز کا استعمال کرنا ہی کیوں نہ ہو، آپ پرامن احتجاج کے حق کو استعمال کرنے والوں کے خلاف تشدد کر کے اپنے لوگوں کی حفاظت کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔

اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں اداکارہ درفشاں نے لکھا کہ ہاں میں زیادہ سیاسی ہوں اور میں کیوں نہ ہوں، جب میرے ارد گرد ہونے والی ہر بات ہماری زندگیوں سے جڑی ہے؟ یہ سب اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے فیصلوں سے متاثر ہوتے ہیں، امن خوف کے ذریعے حاصل نہیں ہوتا، یہ انصاف، ضبط اور سننے کے حوصلے سے پیدا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں آواز اٹھاتی ہوں کیونکہ میں توجہ دیتی ہوں، میں آواز اٹھاتی ہوں کیونکہ مجھے اپنے ملک اور اس میں رہنے والے لوگوں کی فکر ہے۔ میں یہ دکھاوا نہیں کر سکتی کہ یہ مسائل موجود نہیں ہیں، صرف اس لیے کہ ان پر بات کرنا ناگوار گزرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ باخبر ہونا حد سے زیادہ نہیں ہے، سوالات پوچھنا حد سے زیادہ نہیں، بات کریں، سنیں، مذاکرات کریں، قیادت کریں، تشدد طاقت نہیں، یہ مذاکرات کی ناکامی ہے۔

31/07/2026

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ جس سسٹم میں ہم رہ رہے ہیں آپ مانیں یا نہ مانیں یہ گر چکا ہے۔

پہلی پاکستان اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ میں کوشش کرتا ہوں کہ سیاسی تقریر نہ کروں، آج تھوڑی سی سیاسی تقریر کرنی پڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ، پنجاب، بلوچستان اور کے پی والے اپنے مسائل بتارہے تھے۔ پاکستان کی اس حالت میں جہاں آج ہم ہیں اس کے ذمہ دار سب یہاں بیٹھے ہیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ مجھے سیاست کے ایوانوں میں آئے ساڑھے تین سال ہوگئے۔ میں یہی بتاسکتا ہوں کہ آپ 10 سال بعد بھی یہاں بیٹھے یہی مسائل بتارہے ہوں گے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جس سسٹم میں ہم رہ رہے ہیں یہ سسٹم منہدم ہوچکا ہے۔ جس دن آپ نے فیصلہ کرلیا نظام کو ٹھیک کرنا ہے، یہ نظام ٹھیک ہوجائے گا۔

محسن نقوی نے کہا کہ میں جمہوریت کا سب سے بڑا سپورٹر ہوں لیکن جمہوریت میں بھی کئی قسم کے نظام ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ عام آدمی کو بنیادی سہولت چاہیے جو ہم نہیں دے پاتے ہیں۔ آپ کو ایڈمنسٹریٹو یونٹس کی سطح پر جانا ہوگا۔ اسے صوبے کہہ دیں یا جو بھی بھی نام دے دیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ نوجوانوں کو دو چار ہزار روپے یا ٹیبلٹس دے کر ٹھیک کرلیں گے۔ جب تک ملک کی بنیادی چیزوں کو ٹھیک نہیں کریں گے مسائل رہیں گے۔ سوال یہ ہے کہ ان چیزوں کو کون ٹھیک کرے گا؟


Address

19
Dubai
00000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Prime Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share