31/08/2026
26 اگست 2026 کی صبح نیپال کے ضلع نواکوٹ میں واقع اترگیا پبلک اسکول میں معمول کے مطابق دن شروع ہو رہا تھا۔ کچھ بچے صبح کی ٹیوشن پڑھ چکے تھے، کچھ ناشتے کی طرف جا رہے تھے اور اساتذہ کلاسوں کی تیاری میں مصروف تھے۔ اسکول میں 370 سے زیادہ طلبہ زیرِ تعلیم تھے۔ اسی دوران اچانک شور اٹھا کہ ایک انتہائی تیز اور تباہ کن سیلابی ریلا علاقے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اساتذہ نے بچوں کو فوراً اسکول سے اوپر پہاڑی اور قریبی جنگل کی طرف بھاگنے کی ہدایت کی۔
اسی ہنگامے میں نواراج تمانگ کو خبر ملی کہ سیلاب اسکول کی طرف آ رہا ہے، جہاں اس کا بیٹا آیوش تمانگ جماعت دہم کا طالب علم تھا۔ باپ کے ذہن میں اس وقت اپنی جان بچانے سے زیادہ اپنے بیٹے تک پہنچنا تھا۔ وہ فوراً اترگیا کی طرف دوڑا تاکہ کسی طرح آیوش کو سیلاب آنے سے پہلے وہاں سے نکال سکے۔
نواراج کی والدہ مونگسی تمانگ بھی اس وقت بازار سے جان بچاتے ہوئے گھر کی طرف لوٹ رہی تھیں۔ اسی دوران ان کی اپنے بیٹے نواراج سے بات ہوئی۔ نواراج نے اپنی ماں کو بتایا کہ وہ آیوش کو لینے جا رہا ہے۔ یہ سن کر ایک لمحے کے لیے ماں کو اطمینان ہوا کہ شاید اس کا بیٹا اپنے بچے کو محفوظ نکال لائے گا۔
لیکن یہ اطمینان صرف چند لمحوں کا تھا۔
نواراج ابھی اسکول تک پہنچ بھی نہیں پایا تھا کہ راستے میں آنے والے شدید سیلابی ریلے نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور بہا لے گیا۔ کچھ ہی دیر بعد مونگسی کو اطلاع ملی کہ جس بیٹے کو وہ اپنے پوتے کی حفاظت کے لیے جاتے دیکھ رہی تھیں، اسے خود سیلاب بہا لے گیا ہے۔ روتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کے دو بیٹے تھے اور اب صرف ایک باقی رہ گیا ہے۔
دوسری طرف نواراج کا بیٹا آیوش اس تمام صورتحال سے بے خبر تھا۔ اسے معلوم ہی نہیں تھا کہ اس کا والد اسے بچانے کے لیے اسکول کی طرف آ رہا ہے۔ جب اساتذہ نے طلبہ کو قریبی جنگل کی طرف بھاگنے کا کہا تو آیوش بھی چند ساتھیوں کے ساتھ دوڑ پڑا۔ وہ کیچڑ اور تباہی کے درمیان بلند جگہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا اور اس طرح اس کی جان بچ گئی۔
بعد میں جب آیوش اپنی دادی مونگسی کے پاس پہنچا تو منظر انتہائی دردناک تھا۔ ایک طرف دادی اپنے بیٹے کو سیلاب میں کھو دینے پر رو رہی تھیں اور دوسری طرف وہی پوتا، جسے بچانے کی کوشش میں اس کا باپ بہہ گیا تھا، انہیں تسلی دے رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ وہ نہ روئیں۔
یوں اس سیلاب نے ایک ہی خاندان کے لیے عجیب اور انتہائی المناک صورتحال پیدا کردی: باپ اپنے بیٹے کی جان بچانے کے لیے سیلاب کی طرف دوڑا اور خود اس کے ریلے میں بہہ گیا، جبکہ وہ بیٹا اپنے استاد کی بروقت ہدایت پر جنگل کی طرف بھاگ کر زندہ بچ گیا۔ نواراج اپنے بیٹے تک نہیں پہنچ سکا، لیکن اس کا گھر سے نکلنے کا آخری مقصد صرف ایک تھا—کسی طرح اپنے بچے آیوش کو محفوظ واپس لانا جو کہ پورا ہوا۔