22/06/2026
Yadey Mazi
چہرے کے خد و خال میں اپنے جڑے ہیں
ہم عمر گریزاں کے مقابل میں کھڑے ہیں
ہر سال نیا سال ہے ہر سال گیا سال ہے
ہم اڑتے ہوئے لمحوں کی چوکھٹ پہ پڑے ہیں
دیکھ ہے یہ پرچھایں کی دنیا میں کے اکثر
اپنے قدو قامت سے بھی کچھ لوگ بڑے ہیں
شاید کہ ملے ذات کے زندان سے رہائی
دیواروں کو چاٹا ہے ہواؤں سے لڑے ہیں
اڑتے ہیں پرندے تو یہاں جھیل بھی ہوگی
تپتا ہے بیابان بدن کوس کھڑے ہیں
شاید کوئی ایسا نفس ائے انہیں پوچھے
یہ لفظ جو بے جان سے کاغذ پہ پڑے ہیں
اس بات کا مفہوم میں سمجھا نہیں اختر
تصویر میں ساحل پہ کئی کچے گھڑے ہیں
(اختر ہوشیار پوری)