ALSaeed TV

ALSaeed TV History and useful information all around the world �

28/02/2026

Misile attack on Bahrain

28/02/2026
28/02/2026
28/02/2026
Iran named ( WADA-e-SADIQ 4 )the attack against US and Israel
28/02/2026

Iran named ( WADA-e-SADIQ 4 )the attack against US and Israel

28/02/2026

Israeli attack on iranian girl school around 40 dead report

28/02/2026

Situation in Bahrain after iran attack

28/02/2026

Balistic missile attack on bahrain

28/02/2026
28/02/2026

Iran missile attack on US military base in Bahrain

غربت کی حیران کن 15 وجوہات۔۔۱۔ "سرکاری نوکری" کا نشہ:پاکستانی جوان کی جوانی کےبہترین ۱۰سال "سرکاری نوکری" کے انتظار میں ...
26/12/2025

غربت کی حیران کن 15 وجوہات۔۔

۱۔ "سرکاری نوکری" کا نشہ:
پاکستانی جوان کی جوانی کےبہترین ۱۰سال "سرکاری نوکری" کے انتظار میں گل سڑ جاتے ہیں۔۔۔۔وہ 25 ہزار کی پرائیویٹ نوکری یا چھوٹا کاروبار کرنے کو توہین سمجھتےہیں اور۳۰سال کی عمر تک والدین کے ٹکڑوں پر پلتے ہیں۔۔۔۔۔۔جب ہوش آتا ہے تب تک وقت اور عمر دونوں ہاتھ سےنکل چکےہوتےہیں۔۔

۲۔ دکھاوے کی شادیاں:
جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں، مگر شادی پر ۱۰ لاکھ کا کھانا اور۵ لاکھ کاجہیزدینا "ناک"کا مسئلہ ہے۔ یہ قوم اپنی زندگی کی کل جمع پونجی صرف ۴ گھنٹے کی تقریب میں لوگوں کو کھانا کھلا کر برباد کر دیتی ہے، اور پھر اگلے۵سال قرضہ اتارتی رہتی ہے۔۔

۳۔ ڈگری زدہ جاہل:
ہاتھ میں ماسٹرز کی ڈگری ہے،مگر ایک پروفیشنل ای میل لکھنی نہیں آتی۔۔۔۔ہمارے تعلیمی نظام نے صرف "نوکر" پیدا کیے ہیں، ہنر مند نہیں۔ ڈگری کو قابلیت سمجھنا سب سے بڑی بیوقوفی ہے، کیونکہ مارکیٹ ڈگری کو نہیں، Skill کو پیسے دیتی ہے۔۔

۴۔ ایک کمائے، دس کھائیں:
مشترکہ خاندانی نظام(Joint Family)کی یہ کڑوی سچائی ہے کہ اگر ایک بھائی کمانے لگ جائے تو باقی سب "پیر پسار" کر لیٹ جاتے ہیں۔۔۔۔یہاں "Parasite" (مفت خورے) بننے کا رواج ہے۔۔۔۔۔۔جس کی وجہ سے کمانے والا بھی کبھی امیر نہیں ہو پاتا، کیونکہ اس کا پیسہ سرمایہ کاری میں نہیں، دوسروں کا پیٹ بھرنے میں لگ جاتا ہے۔۔

۵۔ کمیٹی کلچر:
پاکستانیوں کو انویسٹمنٹ سے ڈرلگتا ہےمگر "کمیٹی" ڈالنے کا شوق ہے۔ کمیٹی(Dead Money) ہے۔ 2سال بعد جو ایک لاکھ ملے گا، مہنگائی کی وجہ سے اسکی قدر ۶۰ ہزار رہ چکی ہوگی۔ یہ بچت نہیں، اپنے پیسے کی قدر گرانے کا طریقہ ہے۔۔

۶۔ انا کا بت:
"میں چوہدری کا بیٹا ہوں، میں ریڑھی لگاؤں گا؟"اس جھوٹی انا نے لاکھوں گھر اجاڑ دیے۔ یہاں لوگ بھوکے مرجائیں گے لیکن کوئی چھوٹا کام شروع کرنے میں شرم محسوس کریں گے۔ یاد رکھیں، کام چھوٹا نہیں ہوتا، بندے کی سوچ چھوٹی ہوتی ہے۔۔

۷۔ صحت کی تباہی:
ہم وہ قوم ہیں جو ۴۰ سال کی عمر تک تیل اور چینی ٹھونس کر اپنا جسم برباد کرتے ہیں اورپھر۵۰سال کی عمر کے بعد اپنی ساری کمائی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو دے دیتے ہیں۔ صحت کو نظر انداز کرنا غربت کا سیدھا راستہ ہے۔۔

۸۔ شارٹ کٹ کی تلاش:
ہمیں امیر بننا ہے،لیکن محنت کے بغیر۔کبھی ڈبل شاہ، کبھی کرپٹو کے فراڈ اور کبھی لاٹری۔۔۔۔پاکستانی قوم پروسیس(Process)پریقین نہیں رکھتی،اسےمعجزہ چاہیے۔۔۔۔۔۔اور معجزے کے انتظار میں نسلیں غریب رہ جاتی ہیں۔۔

۹۔ الزام تراشی:
"حکومت خراب ہے، نواز شریف کھا گیا، عمران خان نے کیا کر لیا، فوج نہیں چھوڑتی۔۔۔"
یہ وہ چُورن ہےجوناکام لوگ روز بیچتے ہیں۔ یہ ماننے کے بجائے کہ "میں نالائق ہوں"،وہ اپنی ناکامی کا ملبہ سسٹم پر ڈال کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔۔

۱۰۔ ادھار پر عیاشی:
ہم وہ لوگ ہیں جو"آئی فون"قسطوں پرلیتے ہیں، تاکہ ان لوگوں کو متاثر کرسکیں جو ہمیں پسند بھی نہیں کرتے۔ غیر ضروری چیزوں (Liabilities) کیلیے قرض لینا مالی خودکشی ہے، جو یہاں کا ہر دوسرا بندہ کر رہا ہے۔۔

۱۱۔ سیکھنا بند:
ڈگری ملتے ہی کتاب بند۔۔۔۔پاکستانی اوسطاً سال میں ایک کتاب بھی نہیں پڑھتا۔۔۔۔۔۔۔۔جب آپ اپنے دماغ پر انویسٹ کرنا بند کر دیتے ہیں، تو آپ کی جیب خود بخود خالی ہونا شروع ہوجاتی ہے۔۔

۱۲۔ اولاد بطور انشورنس پالیسی:
غربت کی ایک بڑی وجہ "بے تحاشا بچے" ہیں۔ غریب آدمی بچے اس لیے پیداکرتا ہےکہ"یہ بڑے ہوکر کمائیں گے"۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ وسائل کے بغیر پلنے والے بچے "سرمایہ" نہیں، معاشرے اور والدین پر "بوجھ" بنتے ہیں۔۔

۱۳۔ رسک فوبیا:
"پیسہ ڈوب نہ جائے"۔اس ڈر سے لوگ پیسہ بینک میں سڑنے دیتے ہیں یا پلاٹ لےکر چھوڑ دیتے ہیں۔ کاروبار کرنے کا، رسک لینے کاحوصلہ ہی نہیں ہےاور جو رسک نہیں لیتا، وہ کبھی ترقی نہیں کرتا۔۔

۱۴۔ حاسدانہ رویہ:
امیر آدمی کو دیکھ کر یہ سیکھنے کے بجائے کہ "یہ کیسے امیر ہوا؟" ہم کہتے ہیں"ضرور حرام کمایا ہوگا۔" امیروں سے نفرت کرکےآپ کبھی امیر نہیں بن سکتے، کیونکہ لاشعوری طور پر۔۔۔۔آپ وہ بننا ہی نہیں چاہتے جسے آپ برا سمجھتے ہیں۔۔

۱۵۔ وقت کا قتلِ عام:
چائے کے ڈھابوں پر گھنٹوں سیاست پر بحث، ٹک ٹاک پر اسکرولنگ اور فضول محفلیں۔غریب آدمی کےپاس پیسے کے علاوہ سب سے قیمتی چیز "وقت" ہوتی ہے، اور وہ اسی کو سب سے زیادہ بے دردی سے ضائع کرتا ہے۔۔
اپنی بدحالی کاملبہ حکومت یا تقدیر پرڈالنا بندکریں، کیونکہ حقیقت یہ ہےکہ آپ کی جیب خالی نہیں بلکہ آپ کا دماغ بنجر ہے۔۔۔۔جب تک آپ اپنی ”جھوٹی انا“ اور ”سستی“ کا جنازہ نہیں نکالیں گے، غربت آپ کی نسلوں کو اسی طرح چاٹتی رہے گی۔۔


تقریبا دو سَو سال قبل کا بلوچستان ہے۔ اور بلوچستان کے پہاڑوں کے اندر ایک خالص قبائلی علاقہ کوہلو ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ...
21/07/2025

تقریبا دو سَو سال قبل کا بلوچستان ہے۔ اور بلوچستان کے پہاڑوں کے اندر ایک خالص قبائلی علاقہ کوہلو ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سال بھی 1825 ہے۔ یعنی آج سے پورے دو سَو سال قبل۔
کوہلو کے ایک گھر میں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے۔ نام رکھا جاتا ہے "لعل ہان"۔۔ بڑا ہوکر یہ ایک چرواہا بن جاتا ہے۔
مون سون کا مہینہ ہے ( جیسا کہ آج کل)۔۔۔ یہ چرواہا اپنے بھیڑ بکریوں کے ساتھ اپنے علاقے سے باہر ہے۔ طوفانی بارش شروع ہوجاتی ہے۔ انہیں پہاڑوں کے بیچ ایک گھر نظر آتا ہے۔ یہ پناہ لینے اُسی گھر کی طرف چلا جاتا ہے۔ گھر کے مرد وہاں نہیں ہوتے ۔ اُس وقت کے رسم و رواج کے مطابق گھر کی عورت میزبان بن جاتی ہے۔ وہ ایک نئی نویلی دلہن ہے۔ وہ عورت طوفان سے اپنے خیمے کو بچانے کی کوشش کرتی ہے۔ تیز ہوائیں اُس کا دوپٹہ اُڑا لے جاتی ہیں۔ وہ سامان بچانے کی کوشش میں ہے۔ بجلی چمکتی ہے۔ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں لعل ہان کی نظر اُس عورت پر پڑجاتی ہے جس کے بال کھلے ہوئے ہیں اور طوفان اُس کا دوپٹہ اُڑا لے گئی ہے مگر وہ دُنیا سے بےخبر اپنا آشیانہ بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ سیکنڈ کے اس ہزارویں حصے میں لعل ہان کی زندگی بدل جاتی ہے اور وہ "مست توکلی" اور "سمو بیلی " بن جاتا ہے۔ وہ عورت کوئ اور نہیں بلکہ "سمو" تھی۔
تصور کرے کہ آج سے دو سَو سال قبل کا خالص قبائلی زمانہ ہے۔ مست توکلی نہ صرف ایک شادی شدہ عورت کے عشق میں مبتلا ہوجاتا ہے بلکہ اپنی شاعری میں اس کا نام بھی لیتا ہے۔ خود کو "سمو بیلی" یعنی سمو کا دوست بھی کہتا ہے۔
مگر کسی کی "غیرت" نہیں جاگتی کہ جاکر اُس چرواہے کو قتل کرڈالے۔
بلکہ ہوتا یہ ہے کہ اُنہیں "حضرت مست توکلی" کہا جاتا ہے۔ اُن کی موت کے بعد اُن کی قبر پر لوگ انتہائی عزت و احترام کے ساتھ پیش ہوتے ہیں اور اُن کا قبر مرجع الخلائق بن جاتا ہے۔ "سمو" نام کا اصل معنی کیا ہے کسی کو نہیں پتہ لیکن آج بھی بلوچ سماج میں ہزاروں عورتوں کا نام "سمی" ہے۔

چودہ سَو سال قبل کا زمانہ ہے ۔ مکہ میں ایک عورت کاروبار کرتی ہے۔ خودمختار ہے۔ ایک نوجوان کو اپنا سامان دے کر شام بھیجتی ہے۔ اُن کے دیانت داری سے متاثر ہوتی ہے۔ وہ پہل کرتی ہے۔ اپنے غلام کے ہاتھوں رشتہ بھیجتی ہیں۔ جی ہاں چودہ سَو سال پہلے ایک عورت رشتہ بھیج رہی ہے۔ دونوں کی شادی ہوجاتی ہے۔ وہ عورت اُم المومنین حضرت خدیجہ (رضی اللہ تعالی عنہا) ہیں اور نوجوان حضرت محمد (صلی اللہ و علیہ وسلم)۔

ہمارے یہاں ہر سال سینکڑوں خواتین و مرد "غیرت" کے نام پر قتل کردیے جاتے ہیں۔
یہ لوگ اس "نام و نہاد غیرت" کا کانسیپٹ یا تو قبائلی رسم و رواج سے لیتے ہیں یا پھر مذہب سے۔
یہ دونوں واقعات اِس خیال کی نفی کرتے ہیں۔

فاسٹ فاروڑڈ کرتے ہیں۔ دو ہزار پچیس کا ترقی یافتہ زمانہ ہے۔ سوشل میڈیا کا دور ہے۔ ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہے۔ ویڈیو کے زمان و مکان نا معلوم ہیں۔

نام و نہاد غیرت مندوں کی ایک ٹولی ہے۔ ایک "سمو" کو لایا جاتا ہے۔ اُس کے ہاتھ میں قرآن ہے۔ ایک بدبخت اُن کے ہاتھ سے قرآن لے لیتا ہے۔ وہ ڈری نہیں ہے۔ سہمی نہیں ہے۔ منت و سماجت نہیں کر رہی۔ ایک جملہ بولتی ہے ۔ ایک دھماکہ کرتی ہے
"بیرہ سُم نہ اجازت ء نُمے"
(صرف گولی مارنے کی اجازت ہے تمھیں)
یہ ایک جُملہ نہیں ہے۔ ایک فلسفہ ہے، اعلان ہے، بغاوت ہے۔ وہ اجازت مانگ نہیں رہی اجازت دے رہی ہے۔ حکم صادر کر رہی ہے۔ فیصلہ سنا رہی ہے۔وہ اعلان کر رہی ہے کہ میں کسی کی ملکیت نہیں ہوں۔ کسی کا پالتو جانور نہیں۔ ایک جیتا جاگتا انسان ہوں۔ اپنے شرطوں پہ زندگی جینے کا حق ہے مُجھے اور اپنی ہی شرطوں پہ مرنے کا حق بھی۔
وہ سات قدم آگے چلتی ہے ۔ اور پھر وہ آزاد ہوجاتی ہے۔
فضا میں گولیوں کی تڑ تڑاہٹ کے ساتھ ایک جملے کی گونج ہے
"بیرہ سُم نہ اجازت ء نُمے"
یہ ایک جُملہ اس نام و نہاد غیرت کی دیواروں کو پاش پاش کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس پر شاعری ہونی چاہیے، کہانیاں لکھنی چاہیے، کتابیں ترتیب دینی چاہیے ، فلمیں اور ڈرامے بنانی چاہیے۔

بیرہ سُم نہ اجازت ء نُمے۔


Copied

Address

Dubai

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ALSaeed TV posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share