26/04/2026
تاریخی واقع
bara) پاکستان کی تاریخ کا ایک نہایت افسوسناک باب ہے۔
اس واقعے کی مکمل معلومات درج ذیل ہیں:
پسِ منظر اور تاریخ
تاریخ اور مقام: یہ واقعہ 12 اگست 1948 کو ضلع چارسدہ کے علاقے بابڑہ کے میدان میں پیش آیا۔
محرک: یہ لوگ خدائی خدمت گار تحریک (سرخ پوش) کے کارکن تھے، جس کی قیادت خان عبدالغفار خان (باچا خان) کر رہے تھے۔ وہ اپنے رہنماؤں کی گرفتاری اور حکومت کے نافذ کردہ سخت قوانین کے خلاف پرامن احتجاج کر رہے تھے۔
واقعے کی تفصیلات
حکمِ فائرنگ: اس وقت کے صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کے وزیر اعلیٰ عبدالقیوم خان نے نہتے مظاہرین پر گولی چلانے کا حکم دیا۔
جانی نقصان:
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتیں کم بتائی گئیں،ضلع لیکن عوامی اور تاریخی ذرائع کے مطابق اس دن 600 سے زائد افراد شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے۔
عینی شاہدین کے مطابق، خواتین نے سروں پر قرآن پاک رکھ کر فائرنگ رکوانے کی کوشش کی، لیکن ان پر بھی رحم نہیں کیا گیا۔
ظلم کی انتہا: کہا جاتا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے ان گولیوں کی قیمت بھی وصول کی گئی جو ان کے پیاروں کو مارنے کے لیے استعمال ہوئی تھیں۔
تاریخی اہمیت
اس واقعے کو "پشتونوں کی کربلا" بھی کہا جاتا ہے۔
آج بھی ہر سال 12 اگست کو اس واقعے کی یاد میں برسی منائی جاتی ہے اور اسے ایک سیاہ دن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔