09/07/2026
افغانستان کے سابق فاسٹ بولر شاپور زدران انتقال کر گئے — ایک عظیم کرکٹر کا یادگار سفر
افغانستان کی کرکٹ تاریخ کے درخشاں ستارے، سابق بائیں ہاتھ کے تیز رفتار بولر شاپور زدران انتقال کر گئے۔ ان کی وفات نے نہ صرف افغانستان بلکہ دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کو غمزدہ کر دیا ہے۔ شاپور زدران ان کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہوں نے افغان کرکٹ کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
ابتدائی زندگی
شاپور زدران 8 جولائی 1987ء کو افغانستان کے صوبہ لوگر میں پیدا ہوئے۔ ملک کے مشکل حالات کے باعث انہوں نے زندگی کا ایک حصہ پاکستان میں بھی گزارا، جہاں ان کے کرکٹ کے سفر نے باقاعدہ شکل اختیار کی۔ بچپن ہی سے انہیں تیز رفتار بولنگ کا شوق تھا، اور یہی شوق آگے چل کر ان کی شناخت بن گیا۔
قومی ٹیم تک کا سفر
محنت، لگن اور غیر معمولی صلاحیتوں کی بدولت شاپور زدران نے افغانستان کی قومی کرکٹ ٹیم میں جگہ بنائی۔ وہ بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر تھے اور اپنی رفتار، سوئنگ اور جارحانہ اندازِ بولنگ کی وجہ سے مشہور ہوئے۔
انہوں نے افغانستان کی جانب سے ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی کرکٹ میں نمایاں خدمات انجام دیں اور کئی تاریخی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔ 2015ء کے آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ میں اسکاٹ لینڈ کے خلاف افغانستان کی پہلی تاریخی ورلڈ کپ جیت میں ان کی کارکردگی آج بھی شائقین کو یاد ہے۔
افغان کرکٹ کے لیے خدمات
شاپور زدران ان کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود افغانستان کو عالمی کرکٹ میں ایک مضبوط شناخت دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی محنت اور جذبے نے نوجوان کھلاڑیوں کو بھی آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔
آخری ایام
زندگی کے آخری مہینوں میں وہ ایک نایاب مدافعتی بیماری میں مبتلا تھے اور علاج بھی جاری رہا، لیکن صحت بحال نہ ہو سکی۔ بالآخر وہ 38 برس کی عمر میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
ایک ناقابلِ فراموش میراث
شاپور زدران صرف ایک کرکٹر نہیں تھے بلکہ وہ افغانستان کی کرکٹ کے ابتدائی ہیروز میں سے ایک تھے۔ ان کی خدمات، جذبہ اور قومی ٹیم کے لیے قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے اور اہلِ خانہ، دوستوں اور تمام چاہنے والوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ